وہ آخری رات
بارش۔ تیز بارش۔ چمکتی بجلی۔ گرجتے بادل۔
گلی کے سنسان کونے پر ایک لڑکا کھڑا تھا۔ جسم پر پھٹا ہوا کرتا۔ پاؤں ننگے۔ ہاتھ میں ایک پرانا بیگ۔
وہ کانپ رہا تھا۔ سردی سے نہیں… بھوک سے۔
یہ وہ رات تھی… جس کے بعد اس کی زندگی بدلنے والی تھی۔
یہ کہانی شروع ہوتی ہے آج سے دو دن پہلے سے۔
علی نوکری کے لیے گھر سے نکلا۔ راستے میں ٹریفک۔ آدھا گھنٹہ ضائع۔
وہ سانس پھولاتا ہوا آفس پہنچا۔ مینیجر نے کہا: "باس بلا رہے ہیں۔”
علی باس کے کمرے میں گیا۔ "لیٹ کیوں ہوئے؟” علی نے سچ بتایا۔
باس نے غصے سے کہا: "یہ تمہارے روز کے نئے بہانے ہیں۔ اگلے ایک ہفتے میں اگر ایک دن بھی لیٹ ہوئے… استعفی کا خط تمہارے ہاتھ میں ہو گا۔”
علی کے ہاتھ کانپ گئے۔ "نہیں سر۔ کل سے ٹائم پر آؤں گا۔ مہربانی کر کے نوکری سے مت نکالیں۔”
باس نے آخری وارننگ دی۔ علی کام پر لگ گیا۔
لیکن دل میں ایک ہی ڈر تھا۔ دو ماہ بعد بہن کی شادی تھی۔ ماں بیمار تھیں۔ علاج چل رہا تھا۔ گھر کی ساری ذمہ داری اسی پر تھی۔
ماں کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے میں… دوائی لانے میں… وہ اکثر لیٹ ہو جاتا تھا۔
دوسرا دن: علی وقت پر تیار تھا۔ گھڑی دیکھی۔ 8:55۔
تبھی کمرے سے آواز آئی: "بیٹا… پانی”
وہ بھاگا۔ ماں فرش پر گری پڑی تھیں۔ سانس اکھڑی ہوئی۔
گھڑی میں 9:00 بج گئے… آفس 10 بجے پہنچنا تھا۔
کیا یہ ہارٹ اٹیک تھا؟ یا صرف چکر آنے کی وجہ سے بےہوشی؟ اور علی کیا کرے گا… ماں کو بچائے گا یا نوکری؟
جانئے اگلی قسط میں… | جاری ہے…
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں