شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ھے

Tomb_of_Tipu_Sultan

شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ھے
یہ الفاظ ہیں برصغیر کے عظیم سپہ سالار , اصلاح و حُرّیت پسند حُکمران , برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں بینُ المذاھب ہم آہنگی کی زندہ و جاوید مثال قائم کرنے والے , اور فوجی راکٹ ,,طغرق,, کے مُوجد سُلطان فتح علی خان ٹیپو کے! انگریزوں کو لوہے کے چنے جبوانے والے برصغیر کے اس عظیم سپوت کا قتل دشمن کے بس کی بات نہیں تھی بلکہ اس کے اپنے ساتھی ہی اُس کے قاتل تھے
ٹیپو سلطان 20 نومبر 1750 کو شیرِ میسور سلطان حیدر علی کے ہاں بنگلور کرناٹک میں پیدا ہوئے , اور آج کے دن یعنی 4 مئی 1799 کو اپنوں کی سازشوں کی بھینٹ چڑھ کر درجہءِ شہادت پر فائز ہوئے، یہ وہ بہادر اور دلیر مجاہد تھا کہ جس کے خوف سے دشمن چَین کی نیند سو نہیں پاتا تھا، اور ٹیپو کے نام سے ڈرا کر بچوں کو سُلاتا تھا
سیماب اکبر آبادی نے ٹیپو سلطان کے لیئے ایک طویل نظم لکھی , جس کے دو اشعار پیشِ خدمت ہیں ,
اے شہیدِ مردِ میدانِ وفا تُجھ پر سلام
تُجھ پہ لاکھوں رحمتیں,لا انتہا تُجھ پر سلام
تُو بدستور اب بھی زندہ ہے حجابِ کور میں
جذب ہو کر رہ گیا ہستیِ پُر شور میں

علامہ اقبال نے 1929 میں ٹیپو سلطان کی قبر پر حاضری دی , اور ایک گھنٹے تک تنہا بیٹھے روتے رہے اور اور فارسی میں شاہکار نظم لکھی جس کا پہلا شعر ہے ,
آں شہیدانِ محبت را امام
آبروئے ہند و چین و روم و شام
اور علامہ نے اپنی ایک نظم ٹیپو سلطان کے نام منسوب کی
تُو راہ نوردِ شوق ہے , منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو منزل نہ کر قبول
اے جُوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تُند و تیز
ساحل تُجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھویا نہ جا صنم کدہءِ کائنات میں
محفل گداز , گرمیِ محفل نہ کر قبول
صُبحِ ازل , یہ مُجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو , وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے , حق لاشریک ہے
شرکت میانہءِ حق و باطل نہ کر قبول

48 سال کی عمر میں جوانمردی سے حق و باطل کی جنگ لڑتے ہوئے درجہءِ شہادت پر فائز ہونے والے اس بطلِ جلیل پر ہمارے لاکھوں سلام
خُدا رحمت کُنَد ایں عاشقانِ پاک طینت را

monis raza

سیّد مونس رضا

مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

Next Post

آس کی" آواز "

جمعرات مئی 6 , 2021
دنیائے سخن میں ہزاروں ستم رسیدہ سخن دان آئے اور صدائے دل سنا کر وحدت کے پردوں میں غائب ہو گئے جن کی صدا ہر کرب اور ہر خوشی میں گونجتی رہیں
اٹک کا کتب خانہ

مزید دلچسپ تحریریں