میرا یار، میرا مان محمد طاہر
کالم نگار: سید حبدار قائم
زندگی کے ہجوم میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں ہوتے بلکہ ایک احساس، ایک روایت اور ایک خوشبو بن کر دلوں میں بس جاتے ہیں میرے عزیز دوست محمد طاہر بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہیں یاد کیا جائے تو دل میں اپنائیت کی روشنی سی پھیل جاتی ہے۔
محمد طاہر نے اپنی عملی زندگی کا بڑا حصہ مسلم کمرشل بینک میں خدمات انجام دیتے ہوئے گزارا۔ اب وہ ریٹائرمنٹ کی پُرسکون زندگی بسر کر رہے ہیں مگر ان کی طبیعت میں وہی چُستی، وہی محبت اور وہی خلوص آج بھی موجزن ہے۔ اٹک شہر میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں، مگر ان کی جڑیں گاؤں تھٹہ کی مٹی سے جڑی ہوئی ہیں، اور یہی سادگی و خلوص ان کی شخصیت کا بنیادی حوالہ ہے
وہ گفتگو کے فن سے بخوبی آشنا ہیں۔ تقریر کریں تو الفاظ میں تاثیر اتر آتی ہے اور نظامت کریں تو محفل کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ مختلف تقریبات میں ان کی نظامت محض اعلان نہیں ہوتی بلکہ ایک فن پارہ محسوس ہوتی ہے۔ ادب سے ان کا تعلق رسمی نہیں بلکہ قلبی ہے۔ ادیبوں کی محفلوں میں جا کر شعر سننا، داد دینا اور حوصلہ افزائی کرنا ان کی فطرت میں شامل ہے۔
محمد طاہر اصولوں کے پکے انسان ہیں۔ جس بات کو حق سمجھ لیں، اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔ ان کی یہی ثابت قدمی کبھی کبھی ضد کا رنگ بھی اختیار کر لیتی ہے، مگر یہی وصف ان کی شخصیت کو ایک مضبوط ستون کی مانند قائم رکھتا ہے۔ وہ سچ کو منہ پر کہنے کے عادی ہیں، اور یہی سچائی انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔
دوستی کے باب میں وہ ایک درخشاں مثال ہیں۔ وہ جہاں بھی جاتے ہیں خالی ہاتھ نہیں جاتے پھل، سموسے، پکوڑے اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں یہ سب محض اشیاء نہیں بلکہ ان کے دل کی مٹھاس اور خلوص کی علامت ہوتے ہیں۔ وہ محبت بانٹتے ہیں اور یہی محبت انہیں لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتی ہے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی وہ پیچھے نہیں رہے مختلف موضوعات پر ولاگز بنا کر معاشرتی شعور اجاگر کرتے ہیں مساجد میں جا کر نعت خوانی سننا، اس کی ویڈیوز بنانا اور دوسروں تک پہنچانا ان کے روحانی ذوق کا مظہر ہے۔ وہ دنیاوی اور روحانی دونوں پہلوؤں کو ساتھ لے کر چلنے والے انسان ہیں۔
شاعری سے بھی شغف رکھتے ہیں اور کبھی کبھی خود بھی اشعار کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کوشش دراصل ان کے اندر چھپے ہوئے احساسات کا اظہار ہے جو لفظوں کا پیرہن اوڑھ کر سامنے آتے ہیں۔
الغرض محمد طاہر ایک مہمان نواز، خوش لباس، سچے، مخلص اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ وہ دوست کم اور ایک نعمت زیادہ ہیں ایسے لوگ زندگی میں بار بار نہیں ملتے اور جب مل جائیں تو انہیں سنبھال کر رکھنا چاہیے کیونکہ یہی لوگ زندگی کو خوبصورت بناتے ہیں۔
میرا یار، واقعی میرا مان ہے۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |