سرمائے کے ساتھ انسانیت کا بھی خیال رکھیں
ایلون مسک کے دنیا میں پہلے کھرب پتی بننے سے ایک کڑوا قول یاد آیا ہے: "سو ارب ڈالر کمائے نہیں جاتے، ہتھیائے جاتے ہیں”۔ ٹھیک ہے ایلون مسک نے اتنے سارے پیسے جمع کرنے کے لیئے کوئی ڈاکہ نہیں ڈالا ہو گا لیکن اب دنیا میں مادیت اور دولت پرستی مزید بڑھے گی۔ ہر طرف پہلے ہی نفسا نفسی، لالچ اور خودغرضی کا عالم ہے۔ دولت اور شہرت خودپسندی پیدا کرتی ہیں۔ ایلون مسک میں ذاتی قابلیتیں بھی ہوں گی، مگر دنیا کی ریت ہے کہ وہ دوسروں کو ان کے ذرائع اور آمدن سے ناپتی ہے۔
شاید انسانی تاریخ میں ایلون مسک سے زیادہ دولت کسی ایک فرد نے جمع نہ کی ہو۔ جون 2026 میں ان کے اثاثے تقریباً 1.1 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ یہ رقم اتنی بڑی ہے کہ اگر وہ روزانہ ایک ملین ڈالر خرچ کریں، یعنی پاکستانی 27 کروڑ 87 لاکھ روپے، تب بھی اس ایک ٹریلین ڈالر کو ختم کرنے میں 3 ہزار سال سے زیادہ عرصہ لگے گا۔
ان کی دولت اب کئی ممالک کی سالانہ جی ڈی پی سے زیادہ ہے۔ ایشیا کے سب سے امیر مکیش امبانی کو اگر 10 بار جمع کر دیا جائے تب بھی ایلون مسک کے خزانے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دنیا کے کئی ارب پتیوں کی مشترکہ دولت بھی ان کے ایک اثاثے کے آگے چھوٹی پڑ جاتی ہے۔ اگر مسک کی دولت کو ایک الگ ملک مان لیا جائے تو وہ دنیا کی بڑی معیشتوں کی صف میں کھڑا ہو گا، حالانکہ وہ ساری دولت صرف ایک فرد کے کنٹرول میں ہے۔
ایک ٹریلین ڈالر کا مطلب ایک ہزار بلین ڈالر ہے۔ آٹھ ارب کی دنیا میں ایک شخص کے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ وہ کروڑوں زندگیاں بدل سکتا ہے۔ جہاں لاکھوں لوگ ایک وقت کی روٹی کو ترستے ہیں، وہیں مسک سو سال تک اربوں لوگوں کو تین وقت کا بہترین کھانا کھلا سکتا ہے۔ اگر وہ اپنی ساری دولت پاکستان جیسے کسی ترقی پذیر ملک کو دے دیں تو وہ دنیا کا چوتھا امیر ترین ملک بن جائے گا۔ مگر مسک یہ دولت "خیرات” میں نہیں لگائیں گے، کیونکہ سرمایہ داری کا مزاج ہی دولت کو ہر جائز و ناجائز ذریعے سے جمع کرنا ہے، جسے واشگاف الفاظ میں "ہتھیانا” کہتے ہیں۔
ایلون مسک پہلے ہی شہرت کی چوٹی پر ہیں۔ وہ کسی کو کچھ دیں یا نہ دیں، دنیا انہیں حسرت سے پڑھتی اور سنتی ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جو ہمارے پاس نہ مگر دوسرے کے پاس اس کی بہتات ہو تو اسے دیکھ کر دل جلنا ہے۔ آٹھ ارب کی آبادی میں ایسے کتنے لوگ ہوں گے جو حسد سے پاک ہیں؟
تصویر کا دوسرا رخ زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ایک مزدور سارا دن دھوپ میں جلتا ہے، پسینہ بہاتا ہے، مگر بچوں کی روٹی پوری نہیں کر پاتا۔ دوسری طرف مسک ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر اپنی خلائی کمپنی "سپیس ایکس” کی بات کرتے ہیں اور تاریخ کی بڑی اسٹاک لسٹنگ کے بعد ان کے شیئر آسمان کو چھونے لگتے ہیں۔ کمپنی نے شیئر 135 ڈالر پر رکھا تھا، ٹریڈنگ کے آغاز پر وہ 150 ڈالر تک گیا اور پھر 176.50 ڈالر پر جا پہنچا۔ ماہرین اسے سرمایہ کاروں کے خلائی کاروبار پر اعتماد کا نتیجہ کہتے ہیں۔ ایک دن میں سپیس ایکس سرمایہ کاروں سے 75 ارب ڈالر سمیٹ لیتی ہے، جبکہ وہی مزدور دن بھر خون پسینہ بہا کر بھی 100 ڈالر نہیں کما پاتا۔
سرمائے کی یہ بے پناہ تفاوت انسانوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔ امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ صرف دولت کا نہیں، سوچ اور موقع کا بھی ہے۔ یہ وہ منافقت ہے جسے آج کی سرمایہ داری پروان چڑھا رہی ہے۔
دولت بری چیز نہیں، مگر جب وہ انصاف کے ترازو کو جھکا دے تو سوال اٹھنا لازم ہے۔ سرمایہ اور دولت اکٹھی کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر اس کے ساتھ انسانیت کا بھی خیال رکھنا چایئے۔ ایلوس مسک کی ایکس سپیس کمپنی خلا یا کسی اور سیارے پر آبادیاں قائم کرنے کی کوشش میں ہے مگر زمین پر لاکھوں کروڑوں گھر اور ایک وقت کی روٹی نہیں۔ کسی نئے سیارے پر بھی انہی فسادی انسانوں کا "ڈی این اے” جانا ہے۔ پر جا کر بھی انہی ایسے کھرب پتی کا جشن منانے سے پہلے اس بڑھتی خلیج پر بھی آنکھ رکھنی ہو گی، ورنہ دنیا دولت کی بلندیوں پر تو پہنچ جائے گی، مگر انسانیت نیچے رہ جائے گی۔
ایلون مسک سے متوسط اور غریب طبقے کے وہ ہزاروں لاکھوں لوگ بہتر ہیں جو انسان دوست ہیں اور دوسروں کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ دولت صرف اسی صورت میں کام آتی ہے جب اسے دوسروں کو خوشیاں دینے پر صرف کیا جائے۔ آدھی سے زیادہ دنیا فتح کرنے والا سکندر خالی ہاتھ گیا تھا تو ہم نے دولت و ذرائع کونسے ساتھ لے کر جانے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |