میلہ بیساکھی گوردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال

تحریر : راجہ نور محمد نظامی

سہ ماہی مجلہ ذوق 4

آج سے نصف صدی قبل کی بات ہے ،ہمارا بچپن تھا،یکم بیساکھ کو دیسی گھی گرم کر کے انسانوں اور حیوانوں کو پلایا جاتا تھا اور بڑے بوڑھے بتاتے تھے کہ اس دن گھی کھانا سارا سال جسم میں طاقت رکھتا ہے۔اس کا کوئی فائدہ ہو نہ ہو لیکن اس سے یہ بات  معلوم ہو تی تھی کہ اس دن کے بارے میں برصغیر کی تاریخ میں کوئی اہمیت ضرور ہے۔تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آئی کہ آج سے ہزاروں سال قبل برصغیر پاک و ہند میں آباد آریا قبائل نے گندم کی فصل پکنے کی خوشی میںیکم بیساکھ کو میلہ بیساکھی منانا شروع کیا۔اس دن قربانیاں دیتے ،پوجا پاٹ کرتے۔رقص و سرور کی محافل سجاتےاور شراب پیتے۔ہندو میلہ بیساکھی ہزاروں سال سے مناتے چلے آ رہے ہیں۔بدھ بھی میلہ بیساکھی مناتے ہیں۔سکھ مذہب کے بانی بابا گورونانک جی کا جنم دن بھی یکم بیساکھ ہے۔اس لیے سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے اس دن کی اہمیت زیادہ ہے اور وہ یکم بیساکھ کو مزید جوش و جذبہ سے میلہ بیساکھی مناتے ہیں۔سکھ مذہب کے بانی گورونانک جی یکم بیساکھ۱۵۲۵بکرمی بمطابق1468عیسوی کو سلطان بہلول لودھی کے عہد میں کالو کھتری بیدی کے گھر موضع تلونڈی رائی بہوابھٹی واقع حال ننکانہ صاحب ضلع شیخو پورہ میں پیدا ہوئے۔گورو نانک جی اصل میں ایک مصلح تھے انھوں نے اپنے اردگرد ہندوئوں کی ذات پات میں بٹا ہوا دیکھا۔ان میں برہمن،ویش،کشتری اور شودر ذاتیں تھیں ۔ان میں اونچ نیچ بہت زیادہ تھی۔برہمن افضل تھے اور باقی نیچ ذات اور کم تراور یہ لوگ بتوں کے ساتھ ساتھ سورج،سانپ اور بیل وغیرہ کی پوجا کرتے تھے۔گورونانک جی ہندو سادھو سنتو کے علاوہ مسلمان مشائخ عظام کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔جس کی وجہ سے انھوں نے اپنی قوم کو واحدانیت کاپیغام دیا۔انھوں نے کہا کہ صرف ایک ذات کے سامنے جھکوجو سب کا پیدا کرنے والا ہے ۔خدا کے ہاں کوئی بڑا چھوٹا  اور اونچا نیچانہیں۔خدا کے ہاں وہ اچھا ہے جس کے عمل اچھے ہیں۔1596بکرمی بمطابق 1538عیسوی میں گورونانک جی اس جہانِ فانی سے سفر کر گئے۔ان کے بعد دسویں گوروگوبند رائے نے 1699میںگوردوارہ انند صاحب میں ایک بڑے اجتماع میں سکھ مذہب کی باضابطہ بنیاد رکھی اور سکھوں کے لیے پانچ مذہبی نشانات کرپان،کیس،کنگا،کچھا اورکڑا مقرر کیے اور حکم دیا کہ جو بھی سکھ دھرم میں شامل ہو گا اس کے لیے یہ پانچ لازمی ہیں۔ اور کہا کہ آج سے ہمارے خالصہ کا نام سنگھ ہو گا۔سنگھ کا مطلب ہے شیر۔پھر اپنا نام گوبند رائے کی بجائے گوبند سنگھ رکھا۔پراتن جنم ساکھی بھائی بالا مترجم گیانی سوہن سنگھ وڈالوی مطبوعہ امرتسر میں گورونانک جی ،بابا ولی قندھاری وجہ تسمیہ گوردوارہ پنجہ صاحب کا واقعہ بڑی تفصیل سے لکھا ہوا ہے جس کی اس مضمون میں گنجائش نہیں۔ایچ۔اے روز نے گلاسری آف ٹرائبز پنجاب اینڈنارتھ ویسٹ فرنٹیئر میں لکھا ہے کہ گورو اپنے تیسرے سفر سے جو رشیا اور ترکستان کا تھا سے واپسی پر 1520  کو حسن ابدال آئے۔یہاں پہاڑ کی چوٹی پرپانی کا چشمہ تھاولی قندھاری نام کے ایک بزرگ نے وہاں ڈیرہ لگا رکھا تھا۔ولی قندھاری نے مردانہ کو پانی کے بغیر واپس کر دیا۔مردانہ نے واپس آکر یہ بات گورو کو بتائی۔گورو نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا جہاں سے چشمہ جاری ہو گیا اور پہاڑ کے اوپر والا خشک ہو گیا۔ولی قندھاری نے اوپر سے چٹان نیچے پھینکی جوگورو نے ہاتھ بڑھا کرپہاڑی کے دامن میں روک دی۔اس چٹان پر گوروکے ہاتھ کا نشان بن گیا۔میلہ بیساکھی پنجہ صاحب میری معلومات کے مطابق گذشتہ دو صدیوں سے منایا جا رہا ہے۔گوردوارہ پنجہ صاحب کی موجودہ عمارت کا سنگ بنیاد 14۔اکتوبر 1932کو سرداریاوندر سنگھ مہاراجہ پٹیالہ نے رکھا اور دس سال میں مکمل ہوئی۔بےشمار سکھوں نے تعمیر کے لیے چندہ دیا۔جن کے نام تالاب کے ارد گرد فرشی ٹائلوں میں کندہ ہیں۔چاروں طرف دو منزلہ کمروں کے درمیان پنجہ صاحب،شری ہری ہر مندر،سروور(تالاب)،پونہ مائیاں اور غسل والاکٹھہ۔گوردوارہ میں رہائشی کمرے،ریسٹ ہائوس،استقبالیہ،ریکارڈ روم،دفتر،لائبریری اور لنگر خانہ وغیرہ ہیں۔پہلے گوردوارہ میں کسی بھی مذہب کے فرد کے جانے پر پابندی نہیں تھی۔لنگر تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے تھا۔قیام پاکستان سے پہلے لنگر تیار ہونے پر ایک گھنٹی بجائی جاتی تھی جو اب بھی شمال کی جانب دوسری منزل کےاوپر لٹک رہی ہے۔بیساکھی میلہ میں شریک یاتری سروور میں نہاتے ہیں۔اور پنجہ صاحب کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں۔اس کے علاوہ تمام مذہبی رسومات ہری ہر مندرمیں ادا کی جاتی ہیں۔عبادت کا آغاز ارداسا(عرض داشت)سے کیا جاتا ہے۔یہ ارداسا منظوم شعروں کی صورت میں پڑھی جاتی ہے۔اس کے بعد اکھنڈ پاٹھ شروع کیا جاتا ہے۔’’اکھنڈ‘‘سارے یا مسلسل کو کہتے ہیں اور ــ’’پاٹھ‘‘پڑھنے کو۔اکھنڈ پاٹھ کا مطلب ہے گرنتھ صاحب کو مسلسل پڑھنا۔اس کے بعد گرنتھ صاحب کو کھول کر اگلے سال کے لیے شگون(فال)لیا جاتا ہےکہ اگلا سال کیسا ہو گا ۔گرنتھ صاحب کو کھولنے سے پہلےآج کل گرنتھی کلبیر سنگھ بیدی صاحب مندرجہ ذیل شعر پڑھ کر فال نکالتے ہیں۔ڈنڈت بندنا انک بار سرو کلہ سمرتھ ڈولن نے راکہوپربھو نانک دے کر ہتھترجمہ:ہم ہاتھ باندھ کر بہت مرتبہ بندگی کرتے ہیں کہ اے خدا تواس کائنات کو خود ہی اپنے ہاتھ سے راۂ راست سے منحرف ہوجانے سے محفوظ رکھ۔اگر فال میں شبد اچھا نکل آئے تو سمجھتے ہیں اگلا سال اچھا ہو گا اور اگر برا نکل آئے تو یہ اعمال درست کرنے کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔اس کے ساتھ ہی مذہبی رسومات ختم ہو جاتی ہیں۔
(ذوق،اٹک 4 میں شایع ہوا۔)

راجہ نور محمد نظامی صاحب

روبالہ تخلیق

Next Post

آگئے تم

منگل دسمبر 22 , 2020
ایک عجیب سی کیفیت تھی جیسے خواب میں کسی مانوس سی طلسماتی دنیا میں آگیا ہوں اور اس کیفیت میں بہتا چلا جا رہا ہوں ۔
شاندار بخاری