آگئے تم

تحریر : شاندار بخاری

مقیم مسقط

کافی عرصے کے بعد اپنے پرانے محلے سے گزر ہوا اور ان راستوں پر جن پر سے میں اتنی مرتبہ گزرا ہوں کہ اگر کبھی دفتر سے آتے ہوئے دیر ہوجائے اور تھکن کے سبب آنکھیں بند بھی ہوتیں تو گھر تک پہنچ جاتا تھا ایک عجیب سی اپنائیت تھی ان بل کھاتے راستوں میں موڑ پر لگے پرانے لیٹر بکس ، ٹیکسی اسٹینڈ ، اور کافی شاپ سے اٹھتا ہوا بھاپ کا دھواں سبھی مسکراتے ہوئے لگے اور فضا میں ایک عجیب سی سوندھی سی خوشبو تھی جیسے گزرے وقتوں میں گھر لوٹنے پر کچن سے تازہ پکے کھانے کی مہک آتی تھی ۔۔ وہی راستے وہی کھڑکیاں وہی موڑ اور گلیاں اک عجب سا منظر تھا جو بیان کرنے سے عاجز ہوں ۔

ایک عجیب سی کیفیت تھی جیسے خواب میں کسی مانوس سی طلسماتی دنیا میں آگیا ہوں اور اس کیفیت میں بہتا چلا جا رہا ہوں ۔

میں ایک کونے میں دیوار سے لگ کر کھڑا ہو گیا اور اس منظر کو اور اس کیفیت سے لطف اندوز ہونے لگا اور ایسا لگا جیسے ماضی کے دریچے کھل گئے جس میں کئی مانوس چہرے ، مسکراہٹیں ، گلے شکوے اور ایسے کئی لمحے لوٹ آئے اور اچانک کسی نے پیچھے سے میرے کاندھے کو تھپکی دی ! مُڑ کے دیکھا تو دیوار سے جھانکتی بوگن ولا کے پھولوں کی بیل تھی لیکن محسوس یوں ہوا جیسے کسی نے چپکے سے پکارا ہو ۔ ۔ آ گئے تم !

شاندار بخاری

Next Post

لکُوتاں

بدھ دسمبر 23 , 2020
حریم زیست میں تمام تر رنگینی و رعنائی الفاظ کی صوتی ترنگ سے ہے۔ انسانی جزبات کے اظہار میں الفاظ کے عمل دخل سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ انسانی نفسیات، تہذیب اور تخیل کی اڑان سب الفاظ کی صوتی ترنگ سے ہی وابستہ ہے۔
hubdar qaim