خان پو ر…تاریخی پسِ منظر

خان پو ر…تاریخی پسِ منظر

تحریر : سعدیہ وحید

(معاون مدیرہ: شعوروادراک خان پور)

khanpur railway

                                                ایک روایت کے مطابق اس شہر کی باقاعدہ بنیاد سابق والی ٔ ریاست بہاول پور نواب بہاول خان عباسی نے 1906ء میں رکھی،جب انہوں نے ایک ذیلی ریاست گڑھی اختیار خان کو اپنی ریاست میں شامل کیا اور اس کانام بھی اپنے نام کی نسبت سے خان پور رکھا۔محل وقوع کے لحاظ سے شہر کافی اہمیت کاحامل ہے۔ لاہور اور کراچی کے وسط میں ہونے سے ریلوے لائن اس شہر کے اندر سے گزرتی ہے جو 1908ء کی دہائی میں بچھائی گئی تھی یہاں پر کافی عرصہ تک (1905ء سے لے کر 1985ء تک)ریلوے جنکشن رہا ہے جو بعد میں ختم کردیا گیا۔یہاں ایک ریلوے لائن چاچڑاں شریف کوجاتی تھی جو سرائیکی کے معروف صوفی شاعر خواجہ غلام فرید کا مسکن رہاہے۔ خان پور تحصیل کی آبادی 1998ء کی مردم شماری کے مطابق6,73,631نفوس پرمشتمل ہے جس میں اب تک کافی حد تک اضافہ ہو چکا ہے جبکہ 1998ء کی مردم شماری کے ہی مطابق خانپور شہر کی آبادی تقریباً 1,09,000افراد پر مشتمل تھی جو اَب بڑھ کر اندازاً1300,000افرادتک پہنچ چکی ہے۔

deenpur chowk
feilds

                                                خان پور شہر کی تاریخی حیثیت:

                                                خان پور شہر کو تاریخی اعتبار سے دیکھاجائے تو ایک خاص اہمیت رکھتاہے۔ خان پور کے نزدیک قصبہ دین پور شریف تحریکِ آزادی کے حوالے سے بہت مشہوررہا ہے، یہ قصبہ تحریکِ ریشمی رومال کا گڑھ تھا اورمولانا عبیداللہ سندھی اس کا خاص کردار تھے۔مولانا عبیداللہ سندھی کامدفن بھی دین پورشریف میں ہے،جہاں معروف عالمِ دین خلیفہ غلام محمد، صوفی بزرگ میاں عبد الہادی، حافظ الحدیث حضرت مولانا عبداللہ درخواستی،شیخ الحدیث مولانا شفیق الرحمن درخواستی، مرزائیت سے تائب ہونے والے مولانا لال حسین اَختر، مولانا لقمان علی پوری اور دیگر نامور جید علمی اَدبی اور مذہبی شخصیات کے مزارات ہیں۔

masjid
lake

اس کے ساتھ ساتھ قصبہ چاچڑاں شریف معروف سرائیکی شاعر و بزرگ حضرت خواجہ غلام فریدکا مسکن رہا ہے(آپ کا مزار اب کوٹ مٹھن شریف میں ہے)۔چاچڑاں شریف دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ جہاں پر تمام دریا آکر ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ تاریخی قصبہ گڑھی اختیار خان میں معروف شاعر اور بزرگ خواجہ محمد یار فریدی،خواجہ نازک کریم اور معروف محقق، مترجم، راس المحققین سیدّ محمد فارو ق القادری ؒ کے مزارات مرجع خلائقِ عام ہیں۔ اس کے علاوہ قرب و جوار میں باغ وبہار، ظاہرپیر،نواں کوٹ، سہجا کے قصبات خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔خان پورمیں کچھ سال قبل BTM(بہاول پور ٹیکسٹائل ملز)تھی جو کئی سال پہلے بند ہوچکی ہے۔جیٹھہ بھٹہ کے مقام پر ایک شوگرملز ہے جو آج کل حمزہ شوگر ملز کے نام سے چل رہی ہے،تحصیل کی آبادی کا دارومدار زراعت پر ہے ا وریہ تحصیل کپاس (سفید سونا) کے حوالے سے کافی مشہورہے جبکہ آج کل گنا،کپاس،دھان، مکئی،دیگراجناس کے سا تھ ساتھ تمام تر سبزیات خاص فصلیں ہیں۔ یہ علاقہ آم کے باغات کیلئے بہت موزوں ہے اور یہاں آم بہت رسیلا اور میٹھاہوتاہے۔جغرافیائی لحاظ سیاس کے مشرق میں تحصیل لیاقت پور اور مغرب میں رحیم یارخان شمال میں ضلع راجن پور دریائے سندھ اورجنوب میں معرو ف  چولستان’روہی‘ ہے جوہندوستان کی سرحد سے جاملتی ہے۔

city park
town

                                                خان پور شہر میں اگست 1973ء میں ایک خوفناک سیلاب آیا۔ جس نے شہرکوبہت نقصان پہنچایا۔بہت سے مکانات زمین بوس ہوگئے اوربہت سے رہنے کے قابل نہ رہے، معیشت بہت متاثرہوئی اور اسے دوبارہ آبادہوتے ہوتے ایک عرصہ لگا۔ یہاں کے لوگ خوش مزاج اورسماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں۔ خان پور میں سید الطاف آئی ہسپتال جو6 ایکڑرقبہ پر قائم ہے،رضاکارانہ طورپر گورنمنٹ کو دیا گیا ہے۔خان پور میں انجمن ترقی تعلیم کے تحت ایک ڈگری کالج اورایک بوائزہائی سکول 1968ء میں قائم کئے گئے حوبعد میں 1972ء میں پراویشلائزڈہوگئے۔اب ایک خان پور ایجوکیشنل ٹرسٹ کے تحت پبلک سکول جو 1994ء میں قائم کیا گیا خانپورسنٹرل پبلک سکول کے نام سے قائم ہے۔اس کے علاوہ بھی خان پور میں سینکڑوں تعلیمی ادارے اور درس گاہیں موجود ہیں جو علمی اورتعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں خدمات سر اَنجام دے رہے ہیں۔

school khanpur
around railway

                                                تحصیل بھر میں نصف علاقہ میں زیرِزمین پانی میٹھااور نصف علاقہ ریلوے لائن کے جنوبی جانب کڑوا پانی ہے جوانسانی،حیوانی اورزرعی استعمال کے قابل نہیں اسی وجہ سے نہری نظام میں نصف تحصیل مستقل اور نصف تحصیل غیر مستقل یعنی ششماہی ہے۔

                                                خان پور کٹورہ کی وجہ تسمیہ:

                                                خان پور کو کٹورہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کی دو روایات ہیں ایک یہ کہ ماضی میں یہاں  کے بنائے ہوئے کٹورے پورے برصغیر میں مشہور تھے۔ دوسرا یہ کہ جغرافیائی لحاظ سے شہر کٹورہ کی مانند ہے اور سیلابی پانی کٹورہ کی طرح جمع ہوجاتا تھا۔1927ء میں ہیڈپنجندشروع ہونے کے بعدسیلابی پانی بند ہوگیا ہے۔1973ء کے سیلاب میں پانی سیدھا خان پور میں کٹورے کی طرح جمع ہوگیاتھا۔

station

                                                خان پور کی مشہور سوغات اور مقامات:

                                                کچاکھویایہاں کی مشہورسوغات رہی ہے۔ججہ عباسیاں کی کجھور بہت مشہورہے اور کہا جاتاہے کہ’بیربل‘ججہ عباسیاں میں پیدا ہوا تھا یہ ایک معروف قصبہ بھی ہے۔ نواب آف بہاول پور نے خان پور شہر کے ساتھ ہوائی اڈا بھی تعمیر کرایا تھا جہاں فوجی جہاز اُترتے تھے۔ اب یہ غیر فعال ہے۔ ہاکی یہاں کا مشہور کھیل ہے،خان پو ر کے مزارات میں مزار دین پور شریف، مزار سیدکمال شاہ جمال شاہ بستی جٹکی اور پیر بلند شاہ بخاری، پیر جیٹھہ بھٹہ بہت مشہور ہیں۔

مضمون سہ ماہی’’’ بچے من کے سچے ‘‘ خان پور۔ (جنوری تا مارچ 2012ء)۔ خان پور نمبر

                                                (بحوالہ کتاب : خان پور کا اَدب ، تحقیق و تدوین : محمد یوسف وحید ، ناشر : الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، 2021ء )

sports complax
model town

سعدیہ وحید

Next Post

خوش بخت ہوں کہ لب پہ محمدﷺ کا نام ہے

منگل دسمبر 21 , 2021
خوش بخت ہوں کہ لب پہ محمدﷺ کا نام ہے اس واسطے لبوں پہ ثنا صبح و شام ہے
muhammad-pbuh

مزید دلچسپ تحریریں