جاگدیاں اکھیں کی تقریبِ رونمائی

( رپورٹ : مقبول ذکی مقبول بھکر )
معروف صاحبِ طرز سرائیکی شاعر صادق حسنی کے مجموعہء کلام “جاگدیاں اکھیں” کی تقریبِ رونمائی اور مشاعرہ
معروف اردو سرائیکی شاعر سئیں صادق حسنی کے پہلے مجموعہء کلام “جاگدیاں اکھیں” کی تقریبِ رونمائی اور شاندار مشاعرہ گزشتہ دنوں میونسپل کمیٹی ہال لیہ میں منعقد ہوا ۔ زیر اہتمام بزمِ صادق حسنی انٹر نیشنل (لیہ) پروگرام کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت محمد واجد بزدار نے حاصل کی اور نعت رسول مقبول صلی اللّٰہ وآلہ وسلم پڑھنے کی سعادت قاری عبد الرحمٰن نے حاصل کی زیرِ صدارت پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین نے فرمائی ، مہمانِ خصوصی محترم ملک اسد علی بدھ ،اسسٹنٹ کمشنر مہمانِ اعزاز صاحبِ تقریب سئیں صادق حسنی اور مہمانِ محتشم ملک فخر جمیل سوئیہ تھے ۔ تقریب کی دو نشستیں تھیں پہلی نشست کی نظامت معروف دانشور شاعر سئں شمشاد حسین سرائی نے کی ۔ جبکہ دوسری نشست”محفلِ مشاعرہ” پر مبنی تھی جس کی نظامت لطیف قمر نے کی ۔پہلی نشست میں سئیں صادق حسنی کتاب “جاگدیاں اکھیں” اور صادق حسنی کے فن اور شاعری پر مقالاجات پیش کئے گئے ۔ جن میں پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے مجموعہ جاگدیاں اکھیں کو سرائیکی ادب میں ایک حسین اضافہ قرار دیا ۔اور صادق حسنی نے اپنی شاعری میں سرائیکی ریت روایت اور دکھوں کو بڑی چابکدستی سے بیان کیا۔

جاگدیاں اکھیں کی تقریبِ رونمائی

ان کے مجموعہ میں ہر صنف پر طبع آزمائی کی گئی ہے ۔ ڈاکٹر حمید الفت ملغانی ، پروفیسر طاہر مسعود مہار ،ملک محمد اسد علی بدھ اور میاں شمشاد حسین سرائی نے اظہارِ خیال فرمایا ۔ پہلی نشست کے اختتام پر لیہ ادبی و ثقافتی فورم لیہ کی طرف سے “فنونِ لطیفہ ادبی ایوارڈ” بدست پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین اور میاں شمشاد حسین سرائی دیا گیا۔”لیہ لٹریری ایوارڈ” بدست محمد اسد علی بدھ اسسٹنٹ کمشنر لیہ دیا گیا ، “تھل ادبی ایوارڈ” بدست شفقت بزدار ادبی سنگت لیہ کی طرف سے شفقت عابد نے دیا ، “ہینڈ آوٹ ادبی ایوارڈ” ہینڈ آوٹ ادبی سنگت لیہ کی طرف سے بدست یونس بزدار صادق حسنی کو پیش کیا گیا۔ سرائیکی اجرک پہنائی گئی اور ملک فخر جمیل سوئیہ نے “شانِ وسیب پگ” پہنائی ۔ دوسری نشست خوبصورت محفلِ مشاعرہ کی تھی جس کی صدارت بزرگ شاعر سئیں منظور حسین بھٹہ نے فرمائی مہمانِانِ خصوصی ڈاکٹر حمید الفت ملغانی پروفیسر ریاض راہی، مہمانانِ محتشم پروفیسر طاہر مسعود مہار اور میاں شمشاد حسین سرائی تھے ۔ یاد رہے اس پروگرام میں محترم جناب ملک فخر جمیل سوئیہ کی خصوصی آمد نے پروگرام کو چار چاند لگا دیئے ۔ جن شعراء و شاعرات نے اپنا خوبصورت کلام پیش کیا ان میں پروفیسر ریاض راہی ، پروفیسر طاہر مسعود مہار ، منظور حسین بھٹہ ، میاں شمشاد حسین سرائی ، قمبر نقوی ، خادم حسین کھوکھر ، عرفان حیدر، سعید احمد رازی ، بلال بھٹی ،شہباز بھٹی ، اقبال حسین دانش ، ریاض ناطق، نعمان اشتیاق ، منیر شوق ، لطیف قمر، قاسم عارض ،سلیم اخترندیم ،مونس نوشیروی ،مشال ملک ،یونس بزدار ، اشرف درپن، حبیب مظہر، پرنم وٹو، مہرنوید لوہانچ ، راول بلوچ، شفقت عابد ، موسیٰ کلیم ، اور قمر جعفری نے اپنا کلام پیش کیا۔محمد اکرم نے صادق حسنی کے کلام کو ترنم کےساتھ پیش کیا ناظرین کے دل موہ لیئے اور ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا ۔ محفلِ صدر منظور حسین بھٹہ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کتاب کی تقریب رونمائی کے ساتھ محفلِ مشاعرہ سونے پہ سہاگا والی بات ہے ۔ مزید انہوں نے کہا ایسی محافل لوگوں کے شعور و فکر کو جلا بخشتی ہیں ۔ یہ پروقار پروگرام رات گئے تک رہا آخر میں سئیں صادق حسنی صاحبِ کتاب نے سب دیگر مہمانان ادیب و شعراء اور محفل میں آئے ہوئے دوستوں کا شکریہ ادا کیا ۔ اس کے بعد تمام شرکاء کو چائے اور مٹھائی پیش کی گئی۔

maqbool

مقبول ذکی مقبول

بھکر, پنجاب ,پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

سالانہ میلاد مصطفیؐ ڈھوک پشاوری

اتوار اکتوبر 30 , 2022
میلاد مصطفی منانے کے ساتھ پیغام مصطفی پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے موجودہ ڈینگی سمیت بیماروں کی کثرت ہمارے لیئے لمحہ فکریہ ہے قوم اجتماعی توبہ کرے ۔
سالانہ میلاد مصطفیؐ ڈھوک پشاوری