ریاض ندیم نیازی سے گفتگو

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات سبی ، بلوچستان

ریاض ندیم نیازی ، سبی

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

ریاض ندیم نیازی دنیائے ادب میں ایک خاص اہمیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے فن کی بدولت پاکستان بھر میں اپنا لوہا منوایا ہے ۔ قومی صدارتی ایوارڈ یافتہ ہونے کا اعزاز بھی ان کو حاصل ہے اور ملک بھر میں مختلف ادبی تنظیموں سے میڈلز ،ایوارڈز ، اسناد اور شیلڈز وغیرہ حاصل کرچکے ہیں ۔ ان کے آباؤ اجداد میانوالی کے رہنے والے تھے ۔
دو مرتبہ ہجرت کرکے سبی ، بلوچستان چلے گئے تھے ۔ ریاض ندیم نیازی ان کا مقامِ پیدائش سبی ہے ۔ 13 اگست 1968ء کو شاہ نواز خان نیازی کے گھر میں پیدائش ہوئے آپ نے پرائمری تک نشتر روڈ پر واقع سکول، میٹرک تک گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول جب کہ سال اوّل سالِ دوم تک گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج سبی میں تعلیم حاصل کی۔ چوتھی جماعت سے پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ جس میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا۔ بچپن ہی سے نعتیں پڑھنے کا شوق تھا اور یہی شوق نعت گوئی کی طرف لایا۔ ادب ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے ایک نظم “پاکستان کا مطلب کیا” بلوچستان کے تعلیمی ادارے کی طرف سے پہلی جماعت کی کتاب میں شامل ہے ۔ پسماندہ شہر میں ہونے کے باوجود ان کی ذاتی ملکیت کی لائبریری ہے ۔ شعراء و ادباء اس سے استفادہ کرتے رہتے ہیں ۔ اچھے ہمدرداور شریف النفس ہیں ۔ شعر و شاعری میں جدت طراز اور انفرادیت کے حامل ہیں ۔ ان کا حمدیہ کلام ہو یا نعتیہ کلام ، غزل و نظم ہو صنفِ ادب کے تقاضے پورے کرتے ہوئے انصاف کے ساتھ نظر آتا ہے ۔ چند روز قبل ادبی حوالے سے گفتگو ہوئی ہے وہ نذر قارئین ہے ۔

ریاض ندیم نیازی سے گفتگو


سوال : آپ نے اشعار کہنے کی ابتدا کب اور کیسے کی۔؟
جواب: 1981ء میں پہلا شعر کہا ۔ سبی میں ہونے والی ادبی محفلوں اور اسکول میں بزمِ ادب کی تقریبات میں شرکت، اچھے اساتذہ کی تربیت کے باعث ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع ملا ۔
سوال : آپ کی کتنی کتابیں مارکیٹ میں آئی ہیں ۔ ؟ ان کے نام کیا کیا ہیں ۔ ؟
جواب: رب العزت کی مہربانی سے میری شاعری کے تیرہ مجموعے مارکیٹ میں آچکے ہیں ۔
۱۔ ’’کُن فیکون‘‘ حمدیہ مجموعہ 2020ء
۲۔ خوش بو تری جوئے کرم نعتیہ مجموعہ 2010ء
۳۔ ہوے جو حاضر درِ نبیؐ پر نعتیہ مجموعہ 2011ء
۴۔ بحرِ تجلیّات نعتیہ مجموعہ 2012ء
۵۔ جو آقاؐ کا نقشِ قدم دیکھتے ہیں نعتیہ مجموعہ 2015ء
۶۔ چمن زارِ حمد و نعت نعتیہ مجموعہ 2018ء
۷۔ گل زارِ اہلِ بیتؑ گل ہائے مناقب و سلام 2020ء
۸۔ فیضانِ اولیا مناقبِ اولیا 2020ء
۹۔ تمھیں اپنا بنانا ہے غزلوں کا مجموعہ 2012ء
۱۰۔ یادوں کے بھنور غزلوں کا مجموعہ 2017ء
۱۱۔ خوابوں سے بھری آنکھیں غزلوں کا مجموعہ 2022ء
۱۲۔ جب سے بچھڑے ہیں (ہائیکو) 2021ء
۱۳۔ ساوے گنبد دی چھاں پنجابی نعتیہ مجموعہ 2021ء
سوال : آپ کی مرتب کتب کی کتنی تعداد کتنی ہے ۔ ؟
جواب : مرتب کردہ کتابوں کی تعداد 76 ہے جن میں حمد و نعت، غزلوں اور اشعار کے انتخاب شامل ہیں ۔
سوال : آپ کا شعری میدان ۔؟
جواب : میرا شعری میدان حمد و نعت و مناقب اور سلام ہے لیکن غزل ، نظم اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی ہے اور اس کے مجموعے بھی مارکیٹ میں آچکے ہیں ۔
سوال : کہا جاتا ہے کہ شاعری الہام ہے اور اس کا وظیفہ حسنِ بیان ہے درد اور حکایت محبت ہے آپ کیا کہتے ہیں ۔؟
جواب : جی ہاں ذکی صاحب ! آپ نے درست فرمایا، شاعر کو شاعری قدرت کی جانب سے الہام کے ذریعے عطا ہوتی ہے اور وہ اس کا بیان الفاظ میں کرتا اور محبت کی حکایت و حسنِ بیان سے ادا کرتا ہے تو شاعری وجود میں آتی ہے ۔
سوال : صاحب کتاب سے آنے والی نسلوں کو کیا فوائد پہنچتے ہیں ۔؟
جواب : ہر کتاب اپنے دور کی تاریخ مرتب کرتی ہے اور تہذیب و ثقافت کی عکاس اور معاشرے کی ترجمان ہوتی ہے ۔ آنے والی نسلوں کو اس دور کی تاریخ ، تہذیب اور ثقافت کا علم کتاب کے ذریعے ہی ہوتا ہے ۔
سوال : آپ کے گھر والے ادبی کاموں سے کیا خوش ہیں۔؟
جواب: خوش بھی ہیں اور ناخوش بھی ۔
سوال : آپ کے گھر میں کیا آپ کو کوئی آپ کا ادبی جانشین نظر آتا ہے ۔؟
جواب : جانشین تو نظر نہیں آتا البتہ بیٹی بہت اچھی نعت خواں ہے۔پاکستان سطح کے مقابلوں میں شرکت کرتی ہے اور کئی انعامات بھی جیت چکی ہے ۔
سوال : سبی میں ادبی ماحول کیسا ہے ۔؟
جواب : سبی کا ادبی ماحول جمود کا شکار ہے ۔ کبھی کبھی مقامی سطح پر مشاعرہ یا کوئی ادبی تقریب ہو جاتی ہے ۔
سوال : موجودہ ادب کے حوالے سے آپ کی رائے ۔؟
جواب : موجودہ ادب قدیم ادب ہی کی طرح اُردو ادب کا دامن مالا مال کر رہا ہے مگر اس کے قدرشناس ابھی موجود نہیں ہیں جس کی وجہ سے محسوس ہوتا ہے کہ ادب روبہ زوال ہے حالاں کہ ایسا نہیں ہے ۔
سوال : سبی کی آب و ہوا آپ کی شاعری میں محسوس کی جاسکتی ہے ۔ ؟
جواب : جی بالکل محسوس کی جاسکتی ہے ۔
سوال : کیا بلو چستان کی وسعت قدرتی حسن اور نیچر بھی آپ کے اشعار میں پائی جاتی ہے ۔ ؟
جواب : جی ہاں بلوچستان کی وسعت، قدرتی حُسن اور یہاں کے حالات و واقعات میری شاعری میں ملیں گے آپ کو ۔
سوال : ایک زمانہ سبی میں گزر جانے کے باوجود آپ کے لب ولہجہ میں میانوالی زبان اور لب و لہجہ پایا جاتا ہے ۔ اس پر اظہارِ خیال کیجیے گا ۔؟
جواب : اپنی زبان و ثقافت سے محبت کے پیش نظر زبان اور لب و لہجہ اُسی طرح ہے یہ محبت کی علامت ہے ۔
سوال : کیا آپ کو بلوچی زبان بھی آتی ہے ۔؟
جواب : قومی زبان و ادب ، مادری زبان سرائیکی سمیت پنجابی اور سندھی پر تو مکمل عبور حاصل ہے جب کہ پشتو ، بلوچی اور براہوی بھی تھوڑی بہت بول اور سمجھ لیتے ہیں ۔
سوال : کیا آپ بلوچی زبان میں بھی ادب تخلیق کرتے ہیں ۔ ؟
جواب : بلوچی زبان میں کچھ نہیں کہا البتہ سرائیکی میں کچھ غزلیں کہی ہیں۔ پنجابی نعتیہ مجموعہ ’’ساوے گنبد دی چھاں‘‘ کے نام سے مارکیٹ میں آچکا ہے ۔ جسےاسی سال ربع الاول کو حکومت پنجاب محکمہ اوقاف مذہبی/امور کی جانب سے اول صوبائی سیرت ایوارڈ سے نوازا گیا ہے
سوال : آپ نے بلوچستان کی ادبی فضا کو کیسا پایا ۔؟
جواب : بلوچستان کی ادبی فضا نوے کی دہائی تک تو بہت خوش گوار تھی ۔ اس کے بعد سے اب تک مشاعرے اور ادبی تقریبات تو ہوتی ہیں مگر پہلے جیسی سرگرمیاں نہیں ہیں ۔
سوال : نئے لکھنے والوں کو شعر گوئی کے بارے کیا کہیں گے ۔ ؟
جواب : نئے لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنا تخلیقی کام دیانت داری سے کرتے رہیں اور نمود و نمائش کے پیچھے نہ بھاگیں ، کام کریں گے تو نام خود بہ خود ہوگا اور سستی شہرت کے بجائے نیک نامی ملے گی ۔

مقبول ذکی مقبول

بھکر پنجاب پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

جاگدیاں اکھیں کی تقریبِ رونمائی

جمعہ اکتوبر 28 , 2022
سرائیکی شاعر سئیں صادق حسنی کے پہلے مجموعہء کلام “جاگدیاں اکھیں” کی تقریبِ رونمائی اور شاندار مشاعرہ گزشتہ دنوں میونسپل کمیٹی ہال لیہ میں منعقد ہوا ۔
جاگدیاں اکھیں کی تقریبِ رونمائی