آٹے اور گڑ کا حلوہ

دیہاتی زندگی میں کوشش ہوتی تھی کہ کوئی چیز دکان سے نہ منگانی پڑے ۔ حلوہ کھانے کو دل کرتا تو گھر کے آٹے اور گڑ کا حلوہ بنا لیا جاتا۔ زیادہ گنجائش ہوئی تو سوجی اور چینی کا بھونواں حلوہ پکا لیتے تھے ۔اس حلوے میں کم وقت لگتا اور کم محنت کرني پڑتی۔ مکھڈی حلوہ محنت طلب تھا اور اس کے لئے زور بازو کی ضرورت ہوتی تھی۔
پرانی سوکھی باسی روٹیوں کو پانی میں ابال کر نرم کیاجاتا۔پھر ان پر گھی اور شکر ڈالی جاتی اس کا نام تھا “ان” (Unn)۔۔..اس کو حلوہ رجمنٹ کا رنگروٹ سمجھ لیں ۔

آٹے اور گڑ کا حلوہ


ملہووالا کے حافظ غلام محمد صاحب راولپنڈی میں امام مسجد تھے۔ محلے والے جمعرات کے دن حافظ صاحب کی خدمت میں حلوہ پیش کرتے ۔یہ حلوہ بس کے ذریعے گنڈاکس پہنچتا۔ ان کے بچے آکر وصول کرلیتے ۔ کچھ حلوہ گھر والے کھاتے اور باقی چھت پر سکھا لیتے، خدا کی شان ! کچھ لوگ سوکھی روٹیوں کا حلوہ نما ان بناتے اور کچھ لوگ حلوہ سکھاتے۔
مکھن کا گھی بنانے کے لئے اس کو گرم کرتے ہیں ۔امپوریٹیز (impurities) کو دور کرنے کے لیے اس میں آٹا ڈالتے ہیں جو دیگچے کی تہہ میں بیٹھ جاتا ہے۔اس آٹے کا حلوہ “وسلن ” کہلاتا ہے۔ اس کا ہلکا سا کھٹا زائقہ اس کی لذت کو بڑھا دیتا تھا ۔۔مدت ہوئی کھانے کا موقعہ نہیں ملا۔

سلسلہ خوراکاں کادوسرا مضمون

ڈاکٹر عبدالسلام

Next Post

میکوں ہر خواب وچ ہک مدینہ ڈِسے

جمعہ اکتوبر 7 , 2022
میکوں ہر خواب وچ ہک مدینہ ڈِسے اٹھیں بیٹھیں فقط ہک خزینہ ڈِسے
میکوں ہر خواب وچ ہک مدینہ ڈِسے