بہرائچ اردو ادب میں – 2

bahraich-in-urdu-literature-2

جنید احمد نور | بہرائچ

بہرائچ کو شاعر عظیم مرزااسد اللہ خاں غالبؔ کے شاگرد بے صبرؔ کاٹھوی کی آخری آرام گاہ ہونے کا  شرف حاصل ہے۔’تلامذۂ غالب‘ کے مصنف مالک رام نے  میں بے صبرؔکاٹھوی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:                                        بے صبرؔکاٹھوی کا اصل نام عین الحق کاٹھوی تھا۔ضلع میرٹھ کی تحصیل باغپت کے ایک قصبہ کاٹھ میں۱۸۴۶ءمیں پیدا ہوئے تھے۔ ابتدائی عمر سرکاری ملازمت میں بسر کی بعد میں ریاست نانپارہ ضلع بہرائچ کے قریب ایک گاؤں رام پور ٹھیکے پر لے لیا۔یہیں۱۹۲۵ءکے لگ بھگ 80 سال کی عمر میں انتقال کیا۔فارسی کی تعلیم بہت اعلیٰ تھی بلامبالغہ  ہزارہا شعر یاد تھے۔ایک ” تذکرۃالشعرا ء“مرتب کیا  تھا۔ ایک کتاب ”سرقۂ شعری“ کے نام سے لکھی تھی۔دونوں کے مسودے بہرائچ میں حضرت سالار مسعود غازیؒ کی درگاہ کے کتب خانہ میں ہیں۔ (تلامذہ غالبؔ،  مالک رام،۱۹۸۴ء،ص ۱۰۶)

            مولوی ضامن علی خاں انیقؔ بہرائچی بہرائچ کے اس عظیم المرتب شاعر کا نام ہے جو  میر انیسؔ کے صاحبزادے اور شاگرد رشید میر نفیسؔ کے شاگرد تھے ۔ جن کے ذریعہ بہرائچ میں میر انیسؔ کا فیض بہرائچ میں پہونچا ۔ حضرت انیقؔ مشہور استاد شاعر حضرت عبدالرحمٰن خاں وصفیؔکے حقیقی پردادا تھے۔مشہور ادیب اور شاعر ڈاکٹر محمد نعیم اللہ خاں خیالیؔ کے آپ جد نانہالی تھے ۔آپ کی دو مطبوعہ کتابیںہیں: ”مناقب چار یار“ اردو میں اور ایک، ”ماحریفاں “ فارسی میں جو بہ طرز ”مامقیماں“ تصنیف ہے۔اور کچھ قلمی نسخے ہیں۔ “ آپ کے کچھ کلام کو ڈاکٹر نعیم اللہ خاں خیالیؔ نے ’’گلدستٔہ انیقؔ‘‘ کے نام سے مرتب کیا تھا جو آپ کے خانوادے میں محفوظ ہے ۔راقم الحروف نے انیقؔ صاحب کے ہاتھ کے قلمی نسخہ  اور خیالی ؔ صاحب کا مرتب کردہ’’ گلدستہ انیقؔ‘‘ کی کی زیارت کی ہے ۔

            بہرائچ کے تاریخی قصبہ جرول کے شیخ گوہر علی مشیرؔجرولی کا کلام رضا کتب خانہ رام پور میں موجود ہے۔بہرائچ کا قصبہ جرول  دبستان مرزا دبیرؔ کا ایک اہم مرکز تھا۔سید ظفر مہدی اثیمؔ جرولی(شاگرد مرزا دبیرؔ)،سیدحیدر مہدی شمیمؔ جرولی(شاگرد مرزا   اوجؔ)مولوی حکیم سید باقر مہدی بلیغؔ جرولی (شاگرد مرزا دبیرؔ و مرزا اوجؔ)،سید فضل مہدی نسیمؔجرولی و مولوی سید اکبر مہدی سلیمؔ جرولی(شاگرد  مرزا دبیرؔ)  قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ شیخ رحیمؔ جرولی، دلؔ جرولی،سید ریاض علی ریاضؔ جرولی،سید شاکر حسین رضوی شاکرؔ جرولی،حکیم عبد الحفیظ پیکرؔ جرولی نے اردو ادب میں جرول کو منفرد پہچان دلائی۔

            بہرائچ کا تعلق دبستان داغؔ دہلوی سے بھی رہا ۔داغ ؔ کے شاگرد رشید جگرؔ بسوانی کے ذریعہ بہرائچ میں دبستان داغؔ کو فروغ ملا۔جگرؔ بسوانی کے شاگردوں میں حضرت  منشی محمد یار خاں رافتؔ،میرے  پرنانا الحاج شفیع اللہ شفیعؔ بہرائچی،

            تصدق حسین خاں شمسؔ لکھنوی(ولادت 1886ءوفات 14 /15؍دسمبر1962ءلکھنؤ) کا تعلق بھی ضلع بہرائچ سے رہا ہے ۔شمس ؔ لکھنوی صاحب نے ابتدائی غزلیں مایہ ناز شاعر امیرؔ مینائی کو دیکھائیں اور جب آپ کا انتقال ہو گیا تو آپ کے شاگرد خاص مولانا برکت اللہ رضاؔ فرنگی محلی سے مشورہ سخن کیا،اور مولانا موصوف کی وفات کے بعد آپ ان کے جانشین قرار پائے۔مولانا کی زندگی میں ہی آپ صاحب تلامذہ ہوگئے تھے اور مشاہیر ان کی صلاحیتوں سےمتاثر ہو شفقت و محبت کا برتاؤ کرنے لگے تھے۔مولانا عبد الحلیم شررؔ کے ساتھ رہ کر شمس ؔ صاحب نے نثر نگاری میں بھی اپنی ایک جگہ بنا لی تھی اور عرصہ تک ان کے رسائل  ’’سخن سنج‘‘ ، ’’دلگداز‘‘ اور گلدستہ لطیف‘‘ کے مدیر رہے۔1917ءمیں سراجؔ،مستطرؔ،قدیرؔ وغیرہ کے ساتھ لیگ پارٹی کے رکن ہوئے اور شہرت حاصل کی کچھ دن ریاست محمدی میں ملازم اور راجہ اشفاق علی صاحب کے استاد رہے۔اس کے بعد 27 سال تک ریاست نانپارہ ضلع بہرائچ میں ملازمت کی اور نانپارہ کی ادبی فضا کو ایک نئی ضیا بخشی جہاں آپ کے شاگردوں نے آپ سے مشق سخن کیا۔

مورخ اسلام قاضی اطہر مبارکپوریؒ اور بہرائچ کاقیام خود انکی قلم سے

            قیام لاہور کا پورا دور ملک میں سخت انتشار،بے چینی اور فتنہ و فساد سے پْر تھا،ملک کی تقسیم طے ہوچکی تھی،تفصیلات طے ہورہی تھیں،بلکہ15؍اگست1947ءکی تاریخ بھی مقرر ہوچکی تھی، مولانا فارقلیط نے کہاکہ تقسیم کے وقت امرتسراور لاہور میں فسادات کا خطرہ ہے، اس لئے ہم لوگوں کو یہاں سے وطن چلا جانا چاہئے ،جب سکون ہوگا تو واپس آجائیں گے،ان کو اندازہ نہیں تھا کہ تقسیم ملک اس طرح ہو جائے گی کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے،چنانچہ پہلے میں چلا آیا ،بعد میں فارقلیط صاحب بھی گئے ،اس کے بعد وہ اخبار الجمعیتہ سے منسلک ہو گئے اور میں بیکار رہا،جگہ کی تلاش میں مدرسوں کا چکر کاٹا مگر کہیں کام نہیں چلا،اسی میں چار پانچ مہینے گزر گئے،سخت پریشانی تھی،مدرسے والے کہتے تھے کہ وہ باہر رہ چکے ہیں اس لئے جب بھی موقع پائیں گے پڑھانا چھوڑ دیں گے۔                                                                                                           اس دور میں مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؔ مبارک پور آئے ،وہ یو پی کی پہلی کانگریسی حکومتکے پارلیمنٹری سکریٹری بنائے گئے،انھوں نے اپنے وطن بہرائچ سے ہفتہ وار’الانصار ‘جاری کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔اسکی ادارت کے لئے بات طے ہوگئی،مشاہرہ75روپیے طے ہوا،قیام وطعام کا انتظام ان کے گھر تھا،اورمحرم1368ھ(نومبر 1948ء تا رجب 1367ھ 1948ء)بہرائچ میں قیام رہا،اکلیل پریس اور کاتب ان کے گھر کے تھے۔                                                           مولانا عبدالحفیظ بلیاویؒ اس وقت مدرسہ نور العلوم میں مدرس تھے، جس کے ذمہ دار مولانا محفوظ الرحمٰن نامیؒ صاحب تھے۔،وہ نائب اڈیٹر بنائے گئے ان کا قیام بھی مولانا نامیؒ مکان کے ایک حصہ میں تھاوہ خالص علمی آدمی تھے،اس وقت’’مصباح اللغات‘‘ کے مسودّات صاف کرکے ”ندوۃ المصنفین “ دہلی بھیجا کرتے تھے،،بڑے چاک چوبند ،بے تکلف، مخلص اور علمی مزاج کے ہم ذوق آدمی تھے،ان سے خوب بنتی تھی۔                                                                                            یہ زمانہ پورے شمالی ہند خصوصاً پنجاب میں مسلمانوں کے حق میں بڑا پُر آشوب تھا، معلوم ہوتا تھا کہ یہاں سے مسلمانوں کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا،قتل و غارت گری،آتش زنی اور دوسرے طرح طرح کے فسادات تھے،اور میں’’الانصار‘‘ میں ان فرقہ پرستوں، قاتلوں اور مسلمان دشمن جماعتوں کے خلاف تیز وتند انداز میں لکھتا تھا،اور یوپی حکومت کی طرف سے بار بار تنبیہ اور نوٹس آتی تھی۔حتٰی کہ گرفتاری اور سزا کی باری آگئی مگر مولانا نامیؔ نے حکومت کو اطمینان دلایا کہ وہ اخبار پر کنٹرول کریں گے، اور مجھ سے کہا کہ آپ یوپی میں پنجاب کا انداز تحریر اختیار نہ کرین ورنہ اخبار بند ہو جائے گا،میں نے مولانا فارقلیط صاحب کو اس سلسلہ میں لکھا تو انھوں نے بھییہی کہا کہ دہلی کا معاملہ اور ہے ،یوپی کا اور !قلم سنبھال کرکے لکھئے۔! اسی دوران یوپی حکومت کاایک سرکلرتمام عدالتوںمیںپہنچا کہ اخبار’’الانصار‘‘کو کوئی اشتہار نہ دیا جائے ،وہ حکومت کے نزدیک غیر مقبول اخبار ہے،اس لئے کسی طرح سات ماہ جاری رکھ کر اسے بند کر دینا پڑا، میرے مضامین مولانا عبد الماجد صاحب دریابادیؒ’صدق جدید‘‘میں بڑے انشراح سے ایک  ”ایک غیور صحافی“  ”ایک بیباک صحافی“ وغیرہ کے حوالہ سے بلاتبصرہ نقل کرتے تھے،عبد الرزاق ملیح آبادی نے اپنے اخبار ”عصر جدید“میں مولانا دریابادی ے خلاف ایک نہایت گستاخانہ مضمون لکھا میں نے انصار میں اسی انداز کا جواب لکھااور مولانا دریابادی سے وقتی اختلافات کے باوجود ان کی طرف داری کی،اس وجہ سے وہ میری حوصلہ افزائی کرنے لگے،ورنہ اس سے پہلے ’’زمزم‘‘میں ان کے خلاف دو کالم میں لمبا چوڑا مضمون لکھ چکا تھا۔                                                  زندہ دلان پنجاب کے رنگین شہر اور مرکز شعر وادب جیسے بارونق وپُر بہار جگہ کے مقابلہ میں بہرائچ ایک سنسان اور بے کیف و کم مقام تھا،جس کو غازی میاںؒکی وجہ سے شہرت تھی، لاہور کے مقابلہ میںیہاں کا قیام با لکل بے کیف تھا،مگر چونکہ مزاج مدرسہ کا تھا اس لئے یہاںمدرسہ نور العلوم دلچسپی کا مرکز بن رہا،مولانا عبدالحفیظ بلیاوی،مولانا سید حمید الدین صاحب،حافظ محمد نعمان صاحب ،مولانا سلامت اللہ صاحب ،حافظ عبدالعزیز صاحب اور حافظ اعمیٰ صاحب یہاں کے مخلص و بااخلاق اساتذہ تھے،میں بھی بعض کتابیں پڑھاتاتھا،اکثروقت وہیں ،خصوصاً مولانا بلیاوی کی دلچسپ علمی و ادبی مجلس بڑی پُرکشش تھی،طلبہ و مدرسین میں وقت گزرتا تھا،مبارکپور کے کپڑوں کے بعض تاجر بھی آتے جاتے تھے،اخبار کے کاغذ کے سلسلہ میں مولانا نامی کے یہاں لکھنؤ آنا جانا ہوتا تھا،راستہ میں گونڈہ شہر کے مدرسہ فرقانیہ سے تعلق ہو گیا تھا،ابوزکریابن علی خطیب تبریزی کی شرح ’’ دیوان الحماستہ ‘‘ پہلی بار یہیں کے کتب خانہ سے لے کر دیکھی تھی،یہیں کے دوران قیام تقسیم کے بعد مسلمانوں کی پہلی کانفرنس مولانا آزاد کی زیر صدارت لکھنؤ میں ہوئی جس میں مسلم جماعتوں کو سیاسی سرگرمی الگ ہو کر ثقافتی و تہذیبی اور دینی و مذہبی خدمات کا فیصلہ کیا گیا تھا،اور میں اس میں شریک ہوا تھا،اسی دوران گاندھی جی قتل ہوا تھا،اور بہرائچ میں ماتمی جلوس نکلا تھا،جس میں ہم لوگ شریک تھے۔                                                                                                                       یہاں کے خواجہ محمد خلیل(درست نام خواجہ خلیل احمد شاہ  تھا۔)اسمبلی کے ممبر اور درگاہ سالار مسعود غازیؒ کی کمیٹی کے چیرمین تھے، وہ اپنے ذہن و مزاج کے آدمی تھے ،ہم لوگ اکثر درگاہ میں تفریح کے لئے جاتے تھے،اسی کے قریب انارکلی نام کا ایک تالاب ہے اس میں مچھلی کے شکار کے لئے جایا کرتے تھے،ابن بطوطہ نے بہرائچ میں بانس کے جنگل اور اس میں گینڈے کا ذکر کیا ہے،درگاہ کے شمال میں بانسوں کا جنگل تھاوہاں سے میں نے ایک چھڑی کاٹی تھی،یہاں شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒاور بعض دوسرے مشائخ کے مزار ہیں،یہاں ایک معمولی سے کتب خانہ میں ابوالعاءمعری کا دیوان  ”سقط الزند“  تھا  جس کو میں نے 8؍سفر1368ھمیں ڈھائی روپئے میں خریدا ،،جو 1319ھمطابق1901ءمیں مصر میں چھپا تھا۔                                                    تذکرہ مشاہیر اعظم گڑھ ومبارک پور:قیام بہرائچ کے دوران میں نے ’’تذکرہ مشاہیر اعظم گڑھ و مبارک پور ‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھنے کی ابتداء جمادالاولیٰ۱۳۶۷ھ میں کی،اور اچھا خاصا مسودہ تیار ہو گیا ،بعد میں اسی سے’’ تذکرہ علمائے مبارک پور1974ءمیں شائع کیا،یہ پوری بیاض منتشر شکل میں میرے پاس موجو دہے۔(کاروانِ حیات،قاضی اطہر مبارکپوریؒ ،2003ء،ص 105-108)

            بہرائچ کےقصبہ نانپارہ اور جرول کے بیشتر شعرائے کرام کو دبستان لکھنو کے تمام استاذ شعراء سے شرفِ تلمذ حاصل تھا۔پیارے صاحب رشید لکھنوی اورشمسؔ  لکھنوی کے شاگردوں کی ایک بڑی تعداد تھی۔شیخ گوہر علی مشیر جرولی،راجہ جنگ بہادر خاں جاہ (ریاست نانپارہ)، شہنشاہِ طنز و مزاح حضرت شوق بہرائچی،حکیم صفدر علی مہاجن تخلص صفا،بابا جمال، محسن زیدی، اظہار وارثی اور فرحت احساس وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔اسکے علاوہ ہندو شعراء بھی بہت ہوئے ہیں جن میں قدیم شعراء میں بابو سورج نارائن سنگھ آرزو بہرائچی،بابو لاڈلی پرساد حیرت بہرائچی ،پارس ناتھ مشرا بھرمر بہرائچی قابلِ ذکر ہیں۔بابو سورج نارائن سنگھ آرزو بہرائچی کا یہ شعر آج بھی لوگوں کی زبان پر ہے جو کہ بہرائچ کے ادب میں میل کے پتھر کا درجہ رکھتا ہے اور آج بھی نعتیہ مشاعروں و نعتیہ محفل میں سنا جا سکتا ہے۔

            مشہور قانون داں قومی اقلیتی کمیشن کے سابق صدر اور لا کمیشن کے سابق رکن پروفیسر سید طاہر محمود صاحب نے اپنے آبائی وطن بہرائچ کو ان الفاظ میں منظوم خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

مری حیات کا ہر پل عطائے بہرائچ

مرے دکھوں کا مداوا دوائے بہرائچ

اودھ کی شام بنارس کی صبح ہوصدقے

کہ اک جہاں سے جدا ہے ادائے بہرائچ

قدوم  سید سالارؒ کا خزینہ  ہے

ہے نور حق سے منور ضیائے بہرائچ

ہے علم و فن کی روایات کا امیںیہ شہر

ادب نواز ہے کیسی ہوائے بہرائچ

میں راجدھانی میں رہ کر یہیں تو سوتا ہوں

ہے روز لوری سناتی نوائے بہرائچ

پروفیسر طاہر محمود صاحب کا اپنے وطن بہرائچ پر ایک شعر۔یہ شعر محترم طاہر صاحب نے راقم کوبروز جمعرات بتاریخ4؍اپریل2019 ء کوواٹس ایپ پر ارسال کیا تھا۔

لڑکپن جن میں گزرا تھا وہ گلیاں یاد آتی ہیں

بڑی حسرت سے لب پرذکر بہرائچ کا آتا ہے

            پدم شری بیکلؔ اتساہی کا ادبی سفر اسی شہر بہرائچ کی درگاہ شریف حضرت سید سالار مسعود غازی ؒپر منعقد نعتیہ مشاعر سے ہوا تھا۔(بحوالہ روزنامہ انقلاب لکھنؤ بتاریخ4؍دسمبر2016ء)

            بہرائچ کی تاریخ میں کئی نامور استاذ الشعراء ہوئے ہیں  جیسے بابا جمالؔ بہرائچی،شہرتؔ بہرائچی،منشی محمد یار خاں رافتؔ بہرائچی ،طورؔ نانپاوری،دلؔ جرولی،عبد الرحمن خاں وصفیؔ بہرائچی،واصف ؔ القادری خیرآبادی ثم نانپاروی،حضرت اظہار ؔ وارثی،عبرت ؔ بہرائچی،ایمنؔ چغتائی نانپاروی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ان میں  سب سے زیادہ شہرت  حضرت جمال الدین احمد بابا جمالؔ کو حاصل ہوئی ۔                                                                                                                                  بابا جمال ؔ کا پورا نام جمال الدین احمد تھا۔آپ کی ولادت 1901ءمیں شہر بہرائچ کے محلہ بشیر گنج میں ہوئی تھی۔بابا جمالؔ اپنے دور کے بہت مشہور خوش مزاج شاعر تھے۔آپ نے عربی  فارسی کی تعلیم حکیم سید ولایت حسین وصلؔ نانوتوی تلمذ میر نفیسؔ ابن میرانیسؔ سے حاصل کی جو اپنے عہد کے عربی اور فارسی کے قادر الکلام شاعر تھے۔جمالؔ بہرائچی صاحب پورے شہر بہرائچی میں بابا جمالؔ کے نام سے مشہور و معروف تھے۔آج بھی لوگ آپ کو باباجمال کے نام سے ہییاد کرتے ہیں ۔آپ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے عالم بھی تھے۔ آپ لوگوں کو نصیحت خوب کرتے تھے۔  

۔۔۔۔۔جاری

Juned

جنید احمد نور

اردو ویکیپیڈین/ بلاگر

بہرائچ، اتر پردیش

جنید احمد نور

Next Post

اور ملکہ برطانیہ بیوہ ہوگئیں

اتوار اپریل 11 , 2021
انگلستان کی رانی ملکہ الزبتھ کے یونانی نژاد شوھر ، شھزادہ فلپ 21 جون 2021 ء کو اپنی 100 ویں سالگرہ منانے سے قبل ہی 99 برس کی عمر میں اس دار فانی سے کوچ کرگئے
hanged flags beside building

مزید دلچسپ تحریریں