استقبال رمضان المبارک

آنے والا ہے پھر ماہ رمضان کا

سر پہ چھانے لگی رحمتوں کی گھٹا

کس قدر مہرباں ہم پہ رب ہو گیا

دیکھ لو بابِ ریان کھلنے لگا

دن ہمیں دیں گے ایثار صبر و رضا

رات دے گی ہمیں اک مقدس فضا

ہو گی ہر ایک مومن کی پوری دعا

دیکھ لو بابِ ریان کھلنے لگا

اس کی برکات سے مہک اٹھیں گے گھر

تیس دن صبر سے اپنے ہوں گے بسر

ہوں گے آپس میں سب لوگ شیر و شکر

دیکھ لو بابِ ریان کھلنے لگا

جو ہیں نادار پائیں گے رب سے غذا

جو ہیں بیمار ان کو ملے گی شفا

ہر کوئی رب سے پائے گا اچھا صلہ

دیکھ لو بابِ ریان کھلنے لگا

روز گزریں گے سارے عبادات میں

آئے گا لطف رب کی مناجات میں

بھیگتے رہنا رحمت کی برسات میں

دیکھ لو بابِ ریان کھلنے لگا

ہاتھ مت روکنا اپنا خیرات سے

سیپیاں چننا رحمت کی برسات سے

جھولیاں بھرنا رب کی عنایات سے

دیکھ لو بابِ ریان کھلنے لگا

اس کے صدقے ہر اک بات پوری ہوئی

اس کے بن تھی ادھوری پڑی زندگی

لائے معراج سے آس تحفہ بنی

دیکھ لو بابِ ریان کھلنے لگا

سعادت حسن آس آف اٹک

سعادت حسن آسؔ

Next Post

بہرائچ اردو ادب میں - 2

اتوار اپریل 11 , 2021
بہرائچ کو شاعر عظیم مرزااسد اللہ خاں غالبؔ کے شاگرد بے صبرؔ کاٹھوی کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔
bahraich-in-urdu-literature-2