چڑیا خواب اور گھر
تحریر اظہر سجاد
گھر میں داخل ہوا تو شدید دھوپ تھی۔ میں نے برآمدے کی چِک کو کھول کر پھیلا دیا۔ میر ی نظر کونے پر پڑے تنکوں کے چھوٹے سے ڈھیر پر پڑی:
”یہ کیا ہے، کل تک تو نہ تھے یہ تنکے۔“ دوسرے دن پھر ایسا ہی ہوا۔ اب میں نے گھر والوں سے کہا کہ چِک کو کھول کر رکھا کریں، چڑیا روزانہ گھونسلہ بناتی ہے اور ہم سے گر جاتا ہے۔ میں نے یہ اس لیے کہا تھا تاکہ اب چڑیا گھونسلہ نہ بنا سکے۔
رات خواب میں ایک چڑیا آئی اور بولی:
” تم کتنے ظالم ہو, کسی کا گھر مسمار کرتے ہوئے تمھیں شرم نہیں آتی۔ ۔ ۔ میں بہت دور سے آتی ہوں۔ ۔ ۔ مجھے گھر بنانے دو۔“
دوسرے دن میں نے خود ہی چِک باندھ دی اور ہدایت کی کہ اب اسے نہ کھولنا، میں دھوپ روکنے کے لیے کچھ اور بندوبست کردوں گا۔ اب ایک سال ہو گیا وہ چڑیا واپس نہیں آئی۔ نہ میرے گھر نہ میرےخواب میں۔

اظہر سجاد کا تعلق کھوڑ کمپنی، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ "تیسری دیوار” شائع ہو چکا ہے، جسے قارئین اور ناقدین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کھوڑ کے سابقہ سیکریٹری رہ چکے ہیں اور طویل عرصے سے ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایم اے (انگریزی ادب) کیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) سے وابستہ رہے، جبکہ اس وقت شعبۂ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ ادب، معاشرتی مسائل اور انسانی نفسیات ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
Thanks