زندگی نامہ ( از قلم انیل چوہان )
تبصرہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
٫٫ زندگی نامہ ،، شعری مجموعہ انیل چوہان کا شعری مجموعہ ہے ۔ جن کا تعلق منڈی ٹاؤن بھکر شہر سے ہے ۔ عرصہ دراز سے اشعار کہہ رہے ہیں ۔ زیرِ نظر شعری مجموعہ ٫٫ زندگی نامہ ،، جس کا آغاز حسبِ معمول حمد باری تعالیٰ سے ہوتا ہے ۔
کائنات کے مالک و رازق اللّٰہ پاک کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔
نہ کوئی ابتدا تیری ، نہ کوئی انتہا یا ربّ
تیری ہی ذاتِ برحق لائقِ حمد و ثنا یا ربّ
خاتم النبی حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے ذاتِ اقدس کی محبّت میں اللّٰہ پاک نے کائنات کو خلق کیا کائنات میں سب کچھ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی وجہ سے وجود میں آیا خاتم النبی حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی مثال بھلا کون دے سکتا ہے ۔
نعتِ رسولِ مقبول صہ کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں
علامت ہے کوئی ایسی نہ کوئی استعارہ ہے
کمالِ حُسن ہے سیرت بھی ، صورت آپ کی آقاؐ
حضرت امام حسین علیہ السلام حجتِ خدا ۔
یزید کو انکارِ بیعت کر کے اللّٰہ پاک کی کائنات کو غرق ہونے سے بچا لیا ۔ انیل چوہان نے کیا خوب صورت انداز میں سلام پیش کیا ہے ۔ مطلع ملاحظہ فرمائیں ۔
عظمت و کردار کا چہرہ حسینؑ
جرآتِ اظہار کا رستہ حسینؑ
یہ وہ حقائق ہیں جو تھے اور ہیں اور رہیں گے کوئی بھی انسان زندگی میں ان سے انکار نہیں کر سکتا یہ انسانیت کی زندگی میں روشنی پیدا کرتے ہیں ۔ حقیقت ایک آئینہ ہے سب کو دکھائی تو دیتا ہے مگر آنکھیں بند کر لیتے ہیں ۔
فطری جذبے فطری شاعر ہی بیان کر سکتا ہے ۔ انیل چوہان ایک فطری شاعر ہیں ان کے اشعار میں ۔
روانی دریا جیسی
گہرائی سُمندر جیسی
اُمید صبح جیسی
حقیقت سورج جیسی
اصل میں زندگی نامہ میں زندگی کا سفر نامہ نظر آتا ہے جو ہر کسی کو اپنا اپنا سا لگتا ہے ۔ ماضی حال اور مستقبل مگر حال کی صورتِ حال سے کون آگاہ نہیں ؟
اسی پسِ منظر میں ایک شعر ملاحظہ فرمائیں جو کہ اپنے اندر ایک جامع مضمون رکھتا ہے بالکل سورج کی طرح روشن یوں کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ زندگی نامہ ہر ایک کی زندگی کی کہانی پیش کرتا ہے ۔ شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
یہ کہتے ہیں غریبوں کے یہاں جھُلسے ہوئے چہرے
یقیناً کھیلتا ہے زندگی کے جام سے کوئی
ڈاکٹر طارق ہاشمی ( شعبہ اردو ، جی سی یونیورسٹی ، فیصل آباد ) لکھتے ہیں ۔ ان کا تعلق جس سر زمین سے ہے، ترقی پسندی، جدو جہد اور خوئے احتجاج اس کے خمیر میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ یہی وہ صفات ہیں جو ٫٫ زندگی نامہ ،، کے صفحات پر بھی تاباں دکھائی دیتی ہیں ۔ انیل چوہان کی تخلیقات میں زندگی کے متنوع رنگ نظر آتے ہیں جو سماج کے گوناگوں مسائل سے لے کر ایک فرد کے جمالیاتی ذوق تک کا احاطہ کرتے ہیں ۔ وہ جذبوں کی صداقت پر جتنا ایمان رکھتے ہیں، اتنا ہی ان کے اظہار کے سلیقے کا دھیان رکھتے ہیں ۔ ( بیک فلیپ )
اقبال حسین لکھتے ہیں ۔ انیل چوہان کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ مردہ لفظوں کو زیست افزا بناتے ہوئے مشکل سے مشکل خیال کو سہولت اور خوب صورتی سے شعری پیکر عطا کرتا ہے ۔ اس کے ہاں دھیمے آہنگ کی حامل تلخ حقیقتوں کے جلو میں سانس لیتی شاعری جس کے اکثر اشعار پُرطرفیں رکھے ہے ایک سخن چار چار میر والی بات کا گمان گزرتا ہے ۔ تنوع اس کی شاعری کا خاصہ ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ انیل چوہان شعری کائنات ایک وسیع و عریض رقبے پر پھیلا گلشن ہے ۔ جس میں مختلف رنگوں کے انگنت پھول خوشبو بدوش نظارہ زا ہیں ۔ ایک ہی شعری مجموعہ میں اتنا تنوع اور بوقلمونی کسی اعجاز سے کم نہیں ۔ ( بیک ٹائٹل )
انیل چوہان محبّت کے آئینہ میں ایک پُروقار شخصیت کے حامل انسان ہیں ۔ اخلاقیات ، احساسات ، امن سے محبّت ظلم سے نفرت اندر اور باہر ایک جیسی کیفیات نظر آتی ہیں ۔ منفرد لب و لہجے میں کہی گئی نظمیں بھی اپنے اندر بھرپور پیغامات کے ساتھ ساتھ اور پُرکشش نظر آتی ہیں جو قابل ذکر نظمیں ہیں ۔ ان میں نظم ماں جس کو پڑھنے سے قاری پر ایک رکعت طاری ہو جاتی ہے ۔ انتظار ، جھوٹ ، نظم موت یہ تو انسان کو حیرتوں میں ڈال دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور غور و فکر کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ آخر میں انیل چوہان سے مکالمہ وہ بھی ایک خاص اہمیت کا حامل ہے کہ انہوں اپنے اور ادب کے حوالے سے کیا کہا ہے ۔ اس سے بھی قاری بھر پور لطف اندوز ہوتا ہے ۔ دُعا ہے اللّٰہ پاک ادب کی اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |