سپین کی فتح، ایک نسل کی تبدیلی کا اعلان
ورلڈ کپ 2026 کا فائنل محض ایک میچ نہیں تھا، یہ فٹ بال کی تاریخ میں نسل در نسل منتقلی کا لمحہ تھا۔ نیو جرسی میں سپین نے ارجنٹائن کو اضافی وقت میں 1-0 سے شکست دے کر دوسرا عالمی ٹائٹل جیتا۔ فیصلہ کن گول 106ویں منٹ میں فیران ٹوریز نے کیا۔ 2010 میں انیستا کا 116واں منٹ کا گول اور 2026 میں ٹوریز کا 106واں منٹ کا گول، دونوں اضافی وقت میں ہوئے جو ایک تاریخ ساز واقعہ یے۔
لیکن اس فائنل کا اصل مرکز لیونل میسی نہیں، لامین یامال تھے۔ 13 جولائی 2007 کو بارسلونا کے روکافونڈا میں پیدا ہونے والا یہ نوجوان، جسے 6 ماہ کی عمر میں میسی نے گود میں اٹھایا تھا، آج 19 سال کی عمر میں اسی میسی کے خلاف میدان میں کھڑا تھا اور غالب بھی رہا۔ پورے میچ میں یامال نے سپین کے حملوں کو قیادت دی۔ ارجنٹائن کا دفاع اس کی برق رفتاری اور ڈربلنگ کے آگے بے بس نظر آیا۔
اس یادگار میچ میں سپین نے 80 فیصد بال پوزیشن رکھی۔ پورا دوسرا ہاف ارجنٹائن کے نصف میدان میں کھیلا گیا۔ یامال نے ٹورنامنٹ میں 20 کامیاب ڈربلز مکمل کیں۔ یہ صرف صلاحیت یہ نہیں، ایک نوجوان کھلاڑی کے عزم کا ثبوت ہے۔
یامال کی کہانی فٹ بال سے بڑھ کر ہے۔ وہ مراکشی والد اور ایکواٹوریل گنی نژاد والدہ کے گھر پیدا ہوئے۔ یامال ایک پریکٹس کرنے والے مسلمان ہیں۔ 2024 میں وہ پہلے مسلم کھلاڑی بنے جنہوں نے سپین کی قومی ٹیم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے۔ گول کے بعد سجدہ ان کی پہچان بن چکا ہے۔ مارچ 2026 میں جب اسٹیڈیم سے اسلاموفوبک نعرے لگے تو انہوں نے جواب دیا: "الحمد للہ کہ میں مسلمان ہوں”۔ کھیل کے میدان سے اٹھنے والی یہ آواز صرف مذہبی شناخت نہیں، رواداری کا پیغام بھی ہے۔
یامال نے بارسلونا کی چیمپئن شپ پریڈ میں فلسطینی پرچم لہرا کر یہ بھی ثابت کیا تھا کہ کھلاڑی صرف گول نہیں کرتے، وہ موقف بھی رکھتے ہیں۔
فٹ بال میں "اتفاق” کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ 2007 میں میسی کی جرسی 19 نمبر کی تھی، ورلڈ کپ یامال کی بھی 19 تھی۔ فائنل 19 تاریخ کو ہوا۔ یامال نے اپنی 19ویں سالگرہ ابھی منائی۔ یہ محض نمبر نہیں، یہ علامت ہے کہ ایک دور ختم ہو کر دوسرا شروع ہو رہا ہے۔
عالمی شہرت یافتہ مسلم فٹبالرز زیدان، صلاح، بینزیما، کانٹے کے بعد یامال مسلم دنیا کے اگلے "آئیکون” بننے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ 19 سال کی عمر میں ورلڈ کپ کے فائنل میں فیصلہ کن کردار ادا کرنا یہ بڑے بڑے تجربہ کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک خواب ہے۔
سپین کی یہ جیت صرف ٹرافی نہیں۔ یہ اعلان ہے کہ فٹ بال اب نئے چہروں، نئی شناختوں اور نئے بیانیے کے ساتھ آگے بڑھے گا، اور اس بیانیے کا نام "لامین یامال” ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |