عزم و استقلال پر دیکھا مقامِ کربلا
مصطفٰی ؐکے دین کا سارا نظامِ کربلا
خُم کو جو بھولے ہیں وہ دشمن ہوئے ہیں آل کے
اس کو نہ کوئی بھلائے ہے یہ نامِ کربلا
غیر کو جب چھوڑ کر جو آ گئے حق کی طرف
مل گیا حُر کو اسی دن خاص جامِ کربلا
کس طرح آئے تھے آقا ساتھ بچے بیبیاں
نقش ہے مومن کے دل پر وہ قیامِ کربلا
پھول پر شبنم رہے خوشبو بھی اُس کا ساتھ دے
ایک خطبہ سے ملا ہم کو پیامِ کربلا
خون جب ابنِ علیؑ کا ریت میں شامل ہوا
بن گئی وہ تو معلٰی ہو سلامِ کربلا
شش جہت بھی دیکھ کر صلوٰۃ سب پڑھنے لگے
نُور سے شبیرؑ کے چمکے خیامِ کربلا
گھر دیا راہِ خُدا اُف تک نہ شبیرؑ نے
ہیں امامِ دو سرا اور ہیں امامِ کربلا
زیستِ انساں میں مہکتے ہی رہے ہیں ہر گھڑی
یثرب و کعبہ ، نجف اور احترامِ کربلا
دین کی تاریخ میں پہلے کبھی یوں نہ ہوا
ہر بلندی کو ملا تجھ سے دوامِ کربلا
دس محرم سے ہے جاری ایک چشمہ علم کا
سب کے دِل سیراب کرتا ہے کلامِ کربلا
چھ مہینے کا وہ بچہ ہو گیا کیسے شہید ؟
چاند سورج نے کہا ہائے! یہ بامِ کربلا
مہ لقا سب کٹ چکے ، خیمے بھی سارے جل گئے
آنکھ سے دل میں اُترتی دیکھ شامِ کربلا
ہاتفِ غیبی سے آئی ہے صدا شبیرؑ کو
جنگ تو کرنی نہیں ، روکو حسامِ کربلا
ہر گھڑی کرتا رہوں گا ذکر میں شبیرؑ کا
زندگی مل جائے گی میں ہوں غلامِ کربلا
کر بھلا گریہ و زاری بے گناہ اُس خون پر
جس کو دیکھا انبیاء نے اور شامِ کربلا
منتہائے فکر میں تحریر کر مقبول آج
ہے دیا کیسے یہ مولا نے پیامِ کربلا

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |