آئینہ – Mirror
وہ کئی دنوں سے پریشان تھا۔
پریشانی کی وجہ گھر کا اکلوتا آئینہ تھا جس میں اسے اپنا عکس دھندلا دکھائی دیتا تھا۔
وہ روز بڑی توجہ سے آئینہ صاف کرتا، مگر عکس پھر بھی دھندلا ہی رہتا۔ رفتہ رفتہ اسے یوں محسوس ہونے لگا جیسے خرابی آئینے میں نہیں، شاید اس کے چہرے میں آ گئی ہو۔
آج جب اس نے آئینے پر نگاہ ڈالی تو حیرت سے اچھل پڑا۔
عکس بالکل صاف اور واضح تھا۔
وہ بے اختیار مسکرا دیا۔
دور کچن میں کھڑی اس کی بیوی اپنی پشت پر پرانا آئینہ چھپائے معنی خیز انداز میں مسکرا رہی تھی۔

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |