برائی Evil کا بیج نہ اگنے دیں
دین اسلام قانون سے بھی آگے بڑھ کر انسان پر اخلاقی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ نیک لوگوں کے نامہ اعمال میں نیکی کے ارادے کا تو ثواب لکھ دیا جاتا ہے لیکن برائی (evil) کا گناہ تب تک نہیں لکھا جاتا ہے جب تک اس پر عمل نہ کر لیا جائے۔ یہ برائی (evil) کے خطرے سے واپس پلٹنے کی ایک مثالی ترغیب ہے۔ برائی (evil) سے بچنے کے لیئے اسلام تقوی اور پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کسی نیک عمل کی حسرت پوری زندگی رہے مگر اس پر عمل کرنے کا موقعہ نہ ملے تو اس کا اجر تب بھی ملتا رہتا ہے۔ اگر برائی (evil)کے بارے سوچنے پر قانون سرے سے کوئی سزا یا حد ہی مقرر نہیں کرتا ہے تو یہ انسانی اخلاقیات کے نظام میں ایک سقم ہے کیونکہ (evil) برائی کے بارے سوچنے پر پابندی نہیں ہو گی تو بری سوچ ایک دن انسان کو برے اعمال کرنے پر مجبور کر دے گی۔ انسانی نفسیات کا یہ بنیادی خاصہ ہے کہ ایک فرد کی بری سوچ ہی اسے برائی پر اکساتی ہے۔ اسلام میں پرہیزگاری اور تزکیہ نفس پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے تاکہ کوئی مسلمان گناہ sin کرنا تو دور کی بات ہے وہ گناہ کرنے کا ارادہ ہی نہ کر سکے۔
ایک حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ، "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔” ایک مسلمان muslim کو برائی evil کی نیت کرنے سے منع کر دیا گیا ہے کیونکہ نیت ایک قسم کا ارادہ ہے جو موقعہ ملنے پر عمل پر اکساتا ہے۔ بری نیت گناہ کی ایک قسم کی تحریک ہے جو بلآخر اپنا کام دکھا کر ہی سانس لیتی ہے جبکہ زہنی پاکیزگی اور طہارت ایک عام مسلمان کو بھی پسندیدہ اور صالح انسان بناتی ہے۔ نیت کی خرابی دوسرے انسانوں کی حدود اور حقوق میں دراندازی کرنے کے برابر ہے۔ برائی (evil) کی نیت سے دوسرے انسان ہمیشہ بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ حد درجہ خطرناک اور منافقانہ سوچ ہے کہ آپ سوچ کچھ اور رہے ہوتے ہیں اور ظاہر کچھ اور کرتے ہیں۔ اسلام تو پھر اسلام ہے دنیا کا کوئی غیرالہامی مذہب بھی بری نیت اور اعمال کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتا ہے۔ منفی خیالات جذبات کو برانگیختہ کرتے ہیں اور برائی (evil) پر اکساتے ہیں۔ دنیا کا کوئی برے سے برا کلچر بھی اس سوچ کی ترجمانی نہیں کر سکتا ہے کیونکہ ایسی بری نیت ناپائدار، قابل نفرت اور گھناؤنی ہوتی ہے۔
دین اسلام عالمگیر اور پائیدار انسانی بقا کی علامت ہے جو انسانی معاشرے میں زندہ رہنے کی خواہش wish میں توازن پیدا کرتا ہے تاکہ کوئی کسی کے بارے سرے سے برا سوچ ہی نہ سکے۔ فطرت سلیم پر قائم رہنے والے مسلمانوں میں آپ کو یہی سوچ ملے گی جو دوسروں کے بارے نیک تمناؤں کی حامل ہو گی۔ کسی بھی حقیقی الہامی دین Divine-religion جیسا کہ اسلام ہے اس کا یہ خاصہ ہے کہ وہ معاشرے کے تمام افراد کو اس گہرائی اور گیرائی کے ساتھ متاثر کرے۔ یہ زندگی کے کامیاب اور وسیع تر نقطۂ نظر کی ترجمانی ہے جو انسان کی روح تک کو متاثر کرتی ہے۔ انسان کی باقی زندگی جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ انسان کی اسی نیت Intention اور اس کے بنیادی خیالات سے پھوٹتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ، مذہب یا عقیدہ اس وقت تک اپنی بقا کی جنگ نہیں جیت سکتا ہے جب تک اس کے افراد کی نیت اور اعمال اصلی اور پاکیزہ نہ ہوں۔ خیالات کو ظاہر اور باطن کے جس پہلو سے بھی دیکھا اور پرکھا جائے وہ مکمل طور پر شفاف اور خالص نظر آنے چایئے۔ انسان کے اندر کی دنیا مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہوتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک قول ہے، جس کا مفہوم ہے کہ، "ماؤں mothers نے انسانوں کو آزاد جنا تھا تم نے کب سے ان کو غلام بنانا شروع کیا ہے؟” دنیا کی کوئی طاقت انسان کو سوچنے سے محروم نہیں کر سکتی ہے۔ سوچنا ہر انسان کا فطری اور بنیادی حق ہے۔ یہ انسان کی واحد آزادی ہے جو ہرکس و ناکس کو حاصل ہے۔ انسان اتنی آزادی رکھنے کے باوجود خود کو برے خیالات سے بچا لے اور اپنی نیت اور خیالات کو پاکیزہ اور صاف رکھے تو اس کا درجہ خدا کے نزدیک دوبالا ہو جاتا ہے کیونکہ نیتوں کا حال خود انسان جانتا ہے یا اس کا خدا جانتا ہے۔
دینی لحاظ سے نیک نیتی بقائے تہذیب کے لئے جدوجہد کرتی ہے۔ خالص اسلامی تہذیب کے قیام کے لیئے صرف یہی ایک صورت ہے کہ اچھی نیت اور خیالات برقرار رکھے جائیں تاکہ اعمال کے مثبت اور تعمیری نتائج برآمد ہوں۔ اچھی اور صالح نیت اعلی انسانی تہذیب کا جز ہے اور وہی تہذیب اسلامی کہلانے کی حق دار ٹھہرتی ہے جس کے تمام افراد نیک نیت ہوں۔ کسی مسلمان کے صالح اور پاک خیالات ہی دیرپا اسلامی تہذیب Islamic-civilization کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
بنی نوع انسان جبلتوں کا اسیر ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر گوناگوں جذبات پنپتے اور ابلتے رہتے ہیں جن کا بعض اوقات عام انسان کھل کر اظہار بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ انسان اندر سے جتنا بھی محض خیال آرائیوں اور شخصی تصورات پر مبنی ہو وہ اپنا سارا کچا چٹھا ہر انسان سے شیئر نہیں کر سکتا ہے۔ یہ کشمکش انسان کو اندر ہی اندر توڑ دیتی ہے۔ انسان خود کو ہلکا کرنے کے لیئے برے خیالات پر عمل کر لیتا ہے یا انہیں جھٹک دیتا ہے۔ برے خیالات پر عمل کرنے سے انسان عموما تسکین محسوس کرتا ہے اور یا پھر پچھتاتا ہے۔ وہ ایسا نہ کرے تو وہ اپنے ہی برے خیالات میں کڑھ کڑھ کر مرنے لگتا ہے۔ اس ضمن میں نیت کی پاکیزگی اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہاں کسی کے انفرادی اعمال سے لامحالہ طور پر معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ کسی برے عمل کا تعلق فرد کے ساتھ جماعت سے بھی ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ ایک بدنیت انسان کی معاشرے میں کیا حیثیت ہے۔ جیسے سمندر پانی کے قطروں سے تشکیل پاتا ہے ایسے ہی معاشرہ بھی انفرادی انسانوں کے اکٹھے رہنے اور برتاو’ کرنے سے بنتا ہے۔ انفرادی خیالات اور خواہشات کسی قوم یا ملک کے مجموعی تصوراتی ڈھانچے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ کسی کی نیت دل چیر کر دیکھی نہیں جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں خود کی عزت نفس بچانے کا ایک ہی ذریعہ بچتا ہے کہ خود کو لازمی طور پر بری صحبت اور نقصان دہ خیالات سے ہمیشہ دور رکھا جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان کے سچے اور اعلی پائے کے معاشرتی وجود کی تعلیم و تربیت کے بعد ساری ذمہ داری خود انسان کی ہوتی ہے۔ انسان کے اس تشخص کا بڑا حصہ فرد کی کاوش فکر کا نتیجہ ہوتا ہے جس سے انسان کی شخصیت کا نمایاں تخلیقی ظہور ہوتا ہے۔ اگر انسان اس نکتے کو نظر انداز کرے اور برے خیالات کو اندر آنے سے نہ روکے تو پھر اس کا برے اعمال سے بچنا محال ہو جاتا ہے۔ ذہن میں کوئی بھی برا خیال آئے تو اسے فوری طور پر رد کرنا چایئے اس سے پہلے کہ وہ جڑ پکڑ لے اور بلآخر آپ کو عمل کرنے پر مجبور کر دے۔ کوئی بھی برا خیال انسان کا دوست نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ نقصان کی صورت ہی میں نکلتا ہے۔ ایک پرہیزگار اور متقی انسان برے خیالات کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کرتا جس سے اس کے دماغ میں عمل کرنے کی الجھن پیدا ہو۔
چنانچہ ہم میں سے ہر انسان کو اپنی تحلیل نفسی Psychoanalysis کرتے رہنا چایئے کہ کوئی بھی برا اور بد خیال ہمیں عمل پر مجبور نہ کر سکے۔ جب ایک بار دماغ میں کوئی برا خیال پیدا ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے جڑ بھی پکڑ لیتا ہے تو پھر برے عمل سے بچنا تقریبا نامممکن ہو جاتا ہے کیونکہ ایک برا خیال دوسرے کئی برے خیالات تک لے جاتا ہے۔ برے خیالات کا یہ ایسا تانتا بندھتا ہے کہ ان سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ حیوانی خیالات عموما لذت آمیز بھی ہوتے ہیں۔ انسانوں کی اکثریت جبلی عادات سے مجبور ہو کر برائی (evil) کرتی ہے۔ کسی بھی برے خیال کو اپنی جبلت نہیں بننے دینا چایئے۔ انسانی فطرت کو بعض جبلتوں کا مجموعہ قرار دیا جاتا ہے جو بدل نہیں سکتی ہیں۔ یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بعض سماجی نظاموں میں افراد کو بہ حیثیت فرد مسرت حاصل کرنے اور اپنی جائز خواہشات کو پوری کرنے کے مواقع نہیں ملتے ہیں۔ نہ تو انسانی فطرت غیرتغیرپذیر ہے اور نہ سماج فرد کا دشمن ہے۔ یہ ہر اہل عقل پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر اور کس طریقے سے خود کو ان برے خیالات اور اعمال سے بچاتا ہے۔
قرآن پاک کے مطابق "اسلام میں جبر نہیں ہے۔” اس کا اطلاق خود انسانی سوچ اور فکر پر بھی ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خود کو ان برے خیالات سے قبل از وقت نہیں بچائے گا تو وہ اکٹھے ہو کر انسان کو جبر کی حد تک عمل کرنے پر مجبور کریں گے۔ برائی (evil) کو ابتداء ہی میں مسل دیا جانا چایئے۔ برے خیالات کے بیج کو اگنے نہیں دینا چایئے۔ برے خیالات اگ آئیں تو پھر ان کے کانٹوں سے خود کو بچانا ممکن نہیں رہتا ہے۔ برائی (evil) سے بچنے کا واحد راستہ path یہی ہے کہ خود کو برے خیالات اور اعمال سے بچانے کے لیئے ان کا ابتداء ہی میں قلع قمع کر دیا جائے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |