کرتے ہو پنجہ آزمائی آفتاب سے
بے فائدہ عمل ہے اُلجھنا سراب سے
شاید اسی لئے تو تمہیں کر دیا ہے رد
نا مطمئن تھے سارے تمھارے جواب سے
اس میں نہیں ہے دوش کسی اور کا کوئی
تم خود قصوروار ہو ہر حساب سے
یہ مانتے نہیں ہو تمہارا بھی ہے قصور
لیتے ہو انتقام وفا کی کتاب سے
َپل کی خبر نہیں ہے کسی کو حیات کی
فرصت ملے جو، پوچھ ، کسی پَل حباب سے
حرف آۓ جس سے محکماتِ دین پر کوئ
وہ باب ہی نکال دیا ہے نصاب سے
لاکھوں جتن کئے ہیں اسؔد پھر بھی دہر کو
مرعوب کر سکے نہ کبھی رُعب داب سے
کلام عمران اسدؔ
اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔