تعلیمِ نسواں وقت کی ضرورت

از قلم
بینش احمد اٹک

تعلیمِ نسواں وقت کی ضرورت


تعلیم ہر انسان کے لئے بہت ضروری ہے- اس کی اہمیت سے بالکل انکار نہیں کیا جا سکتا -حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
”علم حاصل کرنا مرد و عورت دونوں پر فرض ہے۔‘‘
ہمارے معاشرے میں مردوں کی تعلیم پر جتنا ابتدا سے ہی زور دیا جاتا رہاہے اُتنا ہی عورت کو اس معاملے میں پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے- عورت اور مرد ہمارے معاشرے کے اہم ستون ہیں- ان ہی کی بنیادوں پر ہمارا معاشرہ قائم ہے۔ یہ دونوں معاشرے کا لازم حصہ ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے بغیر یہ معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ اس معاشرے کی بہتری کیلئے دونوں کا کردار بہت ذیادہ اہم ہے ۔جس طرح کسی معاشرے کے افراد کی ترقی کیلئے تعلیم لازمی ہے اسی طرح یہ تعلیم مرد و عورت دونوں کے لئے لازم ہے-
تعلیم حاصل کرنا صرف مردوں کا ہی حق نہیں ہے بلکہ عورت بھی برابر حقدار ہے- کیونکہ عورت انسانی معاشرہ کا ایک اہم حصہ ہے- عورت ہی آئندہ نسلوں کی تعلیم و تربیت کرتی ہے۔
اسلام نے عورت کو معاشرے میں عزت کا مقام دیا ہے اور عورتوں کی دینی ودنیاوی تعلیم کے حصول پر زور دیا ہے-
لیکن ہمارے معاشرے میں عورت کو ہمیشہ سے ہی کم تر سمجھا جاتا رہاہے- تعلیم حاصل کرنا عورت کا بنیادی حق ہے لیکن اُسے ہمیشہ محروم رکھا گیا ہے- بچیاں پیدا ہوتی ہیں کہ نہیں اُس کی تعلیم کی فکر کرنے کی بجائے اُس کی شادی کی فکر کرنے لگتے ہیں-
لوگ اکثر کہتے ہیں لڑکیوں کو تعلیم دلوا کر کرنا ہی کیا ہے-جب انہوں نے آگے جا کر ہانڈی روٹی ہی کرنی ہے اور گھر سنبھالنا ہے ۔جو خرچہ اِس کی پڑھائی لکھائی پر ہونا ہے- اُسی میں اِس کو بیاہ دیں گے-
میں یہ نہیں کہتی کہ عورت گھر نہ سنبھالے- گھر کی وجہ سے عورت کی عزت ہوتی ہے گھر تو اُسے سنبھالنا ہی ہوتا ہے- لیکن اِس کے ساتھ ساتھ تعلیم بھی تو عورت کے کیے ضروری ہے-اگر معاشرے میں خواتین تعلیم یافتہ ہوں گی تو اس سے سب سے زیادہ بھلا معاشرے کا ہوگا۔ کیوں کہ ایک تعلیم یافتہ خاتون پورے خاندان کو تعلیم یافتہ بناسکتی ہے۔ تعلیم کی وجہ سے عورت اپنے گھر کے ساتھ ساتھ اپنی نسلوں کو بھی اچھے سے سنبھال سکتی ہے ۔ اب جس نے نئی نسل کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ آگے چل کر اس معاشرے کو سنبھال سکیں جو اس ملک و قوم کی خدمت کر سکیں جب وہ خود کسی قابل نہ ہو گی تو وہ نئی نسل کی تربیت عمدہ انداز میں کیسے کرے گی-

Girl 
تعلیمِ نسواں وقت کی ضرورت
Image by StockSnap from Pixabay

تعلیم نسواں کے لئے ایک اور رکاوٹ یہ بھی ہے کہ لوگ سوچتے ہیں لڑکی کو پڑھا دیا تو وہ باغی ہو جائے گی، آزاد خیال ہو جائے گی- باہر نکلے گی زمانے کی ہوا کھائے گی تو بہت سی مشکلات پیدا کرے گی- اس سے اچھا ہے اسے بیاہ کر اپنی ذمہ داری پوری کر دیں- اور ایسے خیالات وہیں ہوتے ہیں جہاں کے لوگوں کو خود بھی تعلیم کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہوتا، اور وہ اپنی بچیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کرتے ہیں ۔لیکن وہ کیا جانیں کہ تعلیم تو ذہن کے بند دریچوں کو کھولتی ہے اور اسے روشنی عطا کرتی ہے تاکہ وہ درست سمت تلاش کی جا سکے۔ کوئی معاشرہ تعلیم کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور نہ ہی ترقی کی منزلوں کو چھو سکتا ہے ۔
ذیادہ تر لوگ جو اپنی بیٹیوں کو پڑھاتے بھی ہیں- لیکن اُن کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ بس میٹرک کر لے کافی ہے- اِس سے ذیادہ پڑھ کر کیا کرے گی- ہم نے کون سا نوکری کروانی ہے اِس سے-پتا نہیں کیوں ہمارے معاشرے میں یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ فلاں کی بیٹی اتنا پڑھ چُکی ہے یہ ضرور کہیں نوکری کرے گی- بہت سى لڑکیاں اپنے دل میں ڈھیر سارے ارمان لے کر سسرال رخصت ہو جاتی ہیں- اور ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں حسرت بن کر رہ جاتی ہیں- کتنی ہی ایسی لڑکیاں ہیں جو اسکول تک پہنچنے میں تو کامیاب ہو جاتی ہیں- لیکن کالج اور یونیورسٹی کی شکل بھی نہیں دیکھ پاتی کبھی- کتنی ہی لڑکیاں ایسی ہیں جو بہت ہو نہار اور لائق ہوتی ہیں- اُن کے بہت سے خواب ہوتے ہیں- کوئی ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں ، کوئی انجینئر بننا چاہتی ہیں- کسی کا خواب ہوتا ہے کہ وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے- لیکن افسوس کہ یہ خواب خواب ہی رہ جاتا ہے-
کتنی عجیب بات ہے نا کہ والدین جب بھی اپنے لڑکے کے لیے رشتہ تلاش کرتے ہیں،یہ بات لازمی کہتے ہیں کہ لڑکی پڑھی ہونی چاہیے- لیکن وہی والدین اپنی بیٹیوں کو تعلیم یافتہ نہیں بناتے ہیں۔ بیٹی آپ کی ہو یا کسی اور کی، تعلیم تو ہر ایک کے لیے ضروری ہے اور اس کا بنیادی حق ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ لڑکی جو آپ کو اپنے لڑکے کے لیے چاہیے، تعلیم اس کے لیے ضروری ہو لیکن آپ کی اپنی لڑکی جو کسی اور کے گھر کی بہو بنے گی، کسی شخص کی بیوی بنے گی، کسی کی ماں بنے گی، تعلیم اس کے لیے ضروری نہ ہو—؟
تعلیم ایک عورت کا بنیادی حق ہے- خدارا اس بات کو سمجھیں-
یہ خوشی کی بات ہے کہ اب پہلے کی نسبت حالات کچھ بہتر ہو رہے ہیں- لوگوں کے نظریے میں تبدیلی آرہی ہے اُن کی سوچ بدل رہی ہے- لوگ لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم پر یکساں توجہ دے رہے ہیں- اپنی بچیوں کو اسکول کالج اور یونیورسٹی کی تعلیم دے رہے ہیں- لیکن بہت سے ایسے علاقے اب بھی ہیں جہاں کی لڑکیوں کا اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا-
لہٰذا ان تمام مشکلات کا حل یہ ہے کہ عورتوں کو تعلیم دی جائے تاکہ اُن میں شعور پیدا ہو- وہ اپنی اولاد کی بہتر نشونما اور تربیت کر سکیں – کسی کی مدد اور مشورے کی محتاج نہ ہوں۔
یہ بات مردوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی گھر اور خاندان سے لے کر سماج تک کو بدل سکتی ہے اور اسے بہتر بنا سکتی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ملک میں لڑکیوں کی تعلیم کے ادارے زیادہ تعداد میں قائم کرے- اور تعلیم نسواں پر خاص زور دیا جائے ۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تب جا کر معاشرہ بدلے گا، اور آگے چل کر یہی بچیاں اپنی قوم اور اپنے ملک کا نام روشن کریں گی-

beenish

بینش احمد

Next Post

جو مری شبوں کے چراغ تھے

منگل ستمبر 20 , 2022
ہماری دادی جان کا نام نور جہان تھا۔ ان کے تین بھائی اور دو بہنیں تھیں
جو مری شبوں کے چراغ تھے