میں نئیں بولدی

شاہد اعوان، بلاتامل

اسلاف کی تعلیمات و ارشادات کی افادیت سے کون کافر منکر ہو گا مگر یہ نفس ہے جو خرقہ سالوس پہن کر اپنی من مانیوں کے لئے مکان و زمان تلاش کر لیتا ہے ان چیرہ دستیوں کی توجیہہ تو ہو سکتی ہے تو بیخ نہیں، تعلیل تو ہو سکتی ہے تاویل نہیں اور یہ استخراج و استدراج محض اشتہار بازی کے لئے ہو گا یا اس سے اصابت اور واقعیت کا کوئی دریچہ کھولنا مقصود ہو گا ۔ نفس کشی کو نفس کشی میں بدلنا مشکل، ناممکن اور ادق تو ہے ہی مگر اس کا کر گزرنا کون سا التزام رکھتا ہے ؟ نفس کی اصلاح اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی تربیت اور تمرین ابتلا کے مراحل میں برضا و رغبت نہ ہو۔ ایسے ہی جیسے ایک نماز وہ ہے جو کسی زبردست کے خوف سے پڑھی جاتی ہے اور ایک وہ ہے جو اللہ کی محبت میں از خود ادا ہو جاتی ہے کبھی جائے نماز پر ، کبھی صبر کے مصلے پر، کبھی شکر کی چٹائی پراور کبھی ’’اسے‘‘ یاد رکھنے کی تسبیح پڑھتے ہوئے ، کبھی سانس گنتے ہوئے، کبھی نفس کی آمد وشد کے ساتھ۔۔۔ یہ اچھا ہے، یہ احسن ہے، یہ مقبول نفس ہے بلکہ یہ اختیار کردہ پسندیدہ ہے اور جو اس کے ’ماوریٰ‘ ہے وہ کتابی ہے، وہ دلیلی ہے، وہ رسمی ہے، وہ محض نظری یا عقلی ہے اگر اس کی تسکین کے ذرائع بند کر دئیے جائیں دعوتِ نظارہ مسدود کر دی جائے تو آدھی اصلاح تو نایافت کی بدولت مل جائے گی اور آدھی کے لئے تربیت اور تعلیمات کافی ہیں۔ اس ظالم ووحشی کے ساتھ معاملۂ دھیرج کرنا چاہئے شیر کی طرح اسے بھی اپنی طاقت کا جبلی طور پر اندازہ ہوتا ہے۔
یہ لمبی تمہید اور مفہوم ایک ایسے نوجوان بیوروکریٹ جو اپنی پہلی سیڑھی عبور کر رہا ہے ، کے بارے میں ہے جس کا نامِ نامی عدنان انجم راجہ، اسسٹنٹ کمشنرتلہ گنگ ہے اس پر اللہ کا خاص فضل و کرم اتنا زیادہ اس کم عمری میں ہے جس کے لئے لمبی چلہ کشی اور مراقبے درکار ہوتے ہیں اسے کم عمری میں ہی رومیؒ، اقبالؒ اور اجمیریؒکا فیض آناٌ فاناٌ میسر آیا ہے جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔ دولت و ثروت کے انبار ہوں، دنیاوی آسائشوں کی بھرمار اور منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والے نوجوانوں کی زندگیوں میں بگاڑ تو پیدا ہو سکتا ہے لیکن ایسے نوجوان بچوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے جو عجز و نیاز میں اپنی کمر کو خمیدہ رکھتے ہیں جو سوائے اللہ کے کرم کے اور کیونکر ہو سکتا ہے۔ بیوروکریسی کی پہلی سیڑھی میں تکبر اور عہدے کا ناجائز استعمال انسانی جبلت میں شامل ہے لیکن اس کی تربیت میں اس کے فرشتہ صفت والد بابو جی صاحب اور ان کی والدہ محترمہ کی ممتا نے تریاق کا کام کیا ہے۔ وہ غریبوں اور لاچاروں کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھ کر حل کرنے کی سعی میں لگ جاتا ہے اور جب تک مسئلہ حل نہ ہو جائے اسے چین نہیں آتا۔ میری موصوف سے شناسائی کو زیادہ عرصہ تو نہیں ہوا لیکن ان کے معاملات کو دیکھ کر ان کے ساتھ چند سفر کر کے ان کی گوناگوں صلاحیتوں کا مداح ضرور ہو گیا ہوں۔ وہ صوفی منش سینئر بیوروکریٹ قدرت اللہ شہاب کے قبیلے کا وہ فرد ہے جس پر پروفیسر اشفاق احمد اور ممتاز مفتی کا رنگ چڑھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ابھی ان کی تلہ گنگ پوسٹنگ کو ایک ماہ بھی نہیں ہوا جب گزشتہ روز چشمِ حال سے ان کے ’’کام‘‘ دیکھنے وہاں گیا تو حسبِ عادت بجائے اپنی افسری جھاڑنے کے آتے ہی شہر کو خوبصورت بنانے کے مشن پر لگ گئے، شہر کی صفائی کے لئے مامور عملے کو شہری دیکھ کر اس وقت ششدر رہ گئے جب وہ ان کے گلی محلوں میں الصبح خلافِ توقع نظر آئے، ریڑھی بانوں اور رکشہ والوں کو بلدیہ کی انفورسمنٹ ٹیموں کی چیکنگ اور تجاوزات کے خاتمے کے لئے سڑکوں پر وردیوں میں گشت کرتے دیکھا، شہر کا واحد تفریحی جناح پارک میں چند روز کے اندر رتفریح کے لئے آنے والے شہریوں کو ’’تبدیلی‘‘ محسوس ہونے لگی جہاں کئی کئی ماہ سے گندے پانی، گھاس پھوس نے پارک کا حلیہ بگاڑ رکھا تھا، خواتین اور بچوں کے لئے پرانے لاری اڈے کے قریب پارک بھی بدحالی کا شکار تھا، نالے گندگی سے اٹے پڑے تھے تپتی دوپہر میں صفائی کے عملے کے ہمراہ ان نالوں تک پہنچنا نوجوان بیوروکریٹ کے لئے ایسے ہی ہے جیسے کسی وی آئی پی کو کال کوٹھری میں بند کر دیا جائے لیکن ان کے اندر کا وہ انسان جو ان مشکلات کو اپنے فرضِ منصبی کی ادائیگی میں حائل نہیں ہونے دیتااور سب سے بڑھ کر سائلین کے 24گھنٹے اپنے دروازے وا کر دینا بھی ان کی ’’فقیری‘‘ کی دلیل ہے ۔ صفائی کے عملے نے جب یہ سنا کہ چھٹی کے بعد لنچ ’’صاحب‘‘ کے ساتھ کرنا ہے تو ان کی آنکھیں ایسے مہربان آفیسر کے آگے جھک سی گئیں ۔ اے سی راجہ عدنان شہر میں ایئر مارشل نورخان مرحوم کی یاد میں نصب لڑاکا طیارے کی نئے سرے سے تنصیب کرنا چاہتے ہیں اور موٹروے کی طرف سے آنے والے کلمہ چوک کی تزئین و آرائش اور شہر کو چمکانے کا عزم بھی رکھتے ہیں ۔ اللہ ان کے نیک ارادوں کو جلا بخشے اور ان کا یہ جوش و جذبہ تلہ گنگ کو ضلع بنانے میں بھی معاون ومددگار ثابت ہو۔ محبت و عشق میں دیوانگی ایک ایسی منزل پر لاکھڑا کرتی ہے جہاں بابا بلھے شاہؒ پکار اٹھتے ہیں:
میں نئیں بولدی ، مرے وچ میرا یار بولدا!

Shahid-Bla-Ta-Amul

شاہد اعوان

Next Post

تعلیمِ نسواں وقت کی ضرورت

منگل ستمبر 20 , 2022
ہمارے معاشرے میں مردوں کی تعلیم پر جتنا ابتدا سے ہی زور دیا جاتا رہاہے اُتنا ہی عورت کو اس معاملے میں پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے-
تعلیمِ نسواں وقت کی ضرورت