کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ اس کی سڑکوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ سڑکیں محض راستے نہیں ہوتیں بلکہ یہ معیشت کی دھڑکن اور تہذیب کی آئینہ دار ہوتی ہیں انہی راستوں پر تجارت کے قافلے چلتے ہیں انہی پر خوابوں کی منزلیں آباد ہوتی ہیں اور انہی سے سیاحت کے چراغ روشن ہوتے ہیں مگر جب یہی سڑکیں زخم خوردہ ہو جائیں تو ترقی کے سارے خواب بھی دھندلا جاتے ہیں۔
ضلع اٹک کی سڑکیں آج ایک ایسی ہی کہانی سنا رہی ہیں جو درد سے لبریز ہے اٹک سے فتح جنگ، اٹک سے بسال چوک اور فتح جنگ سے پنڈیگھیب تک کے راستے کسی شکستہ دل کی طرح جگہ جگہ سے ٹوٹے ہوئے ہیں گڑھوں سے بھری یہ سڑکیں یوں محسوس ہوتی ہیں جیسے وقت نے ان پر بے رحمی سے اپنے نشانات ثبت کر دیے ہوں سفر اب سہولت نہیں بلکہ ایک آزمائش بن چکا ہے، جہاں ہر موڑ ایک نئی تکلیف کا پیامبر ہے
گرمی کی جھلسا دینے والی دوپہریں اور خشک ہوائیں اس کرب کو اور بڑھا دیتی ہیں۔ سڑکوں سے اٹھنے والی گرد یوں فضا میں بکھرتی ہے جیسے کسی اداس داستان کا دھواں ہو جو ہر سانس کے ساتھ سینے میں اتر کر بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ دمہ کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس خاموش آلودگی کی گواہ ہے اور جب بادل برستے ہیں تو یہی سڑکیں کیچڑ اور پانی کا دلدل بن کر زندگی کو مزید اجیرن کر دیتی ہیں
عجب تضاد ہے کہ حکومت جدیدیت کے خواب دکھاتی ہے الیکٹرک بسوں کے منصوبوں کے چرچے ہوتے ہیں مگر جن راستوں پر یہ بسیں چلنی ہیں وہی ناپید ہیں یہ ایسے ہی ہے جیسے بغیر بنیاد کے محل تعمیر کرنے کی خواہش کی جائے ترقی کے دعوے تبھی معتبر ہوتے ہیں جب زمین پر ان کے نقوش بھی نظر آئیں
گلگت میں سڑکوں کی زبوں حالی پر افسوس کا اظہار کرنے والے سیاسی رہنما نواز شریف اگر کبھی اٹک کا رخ کریں تو شاید انہیں یہاں کی مٹی میں اٹے ہوئے مسائل بھی دکھائی دیں۔ یہاں کے لوگ بھی توجہ کے منتظر ہیں یہاں کی سڑکیں بھی مرہم کی طالب ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ یہ خاموش چیخ ایوانوں تک پہنچے اور کسی دل کو جھنجھوڑ دے
یہ سڑکیں صرف راستے نہیں عوام کے صبر کا امتحان بن چکی ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان زخموں پر مرہم رکھا جائے ورنہ یہ خاموش چیخ کبھی نہ کبھی ایک بلند صدا میں بدل جائے گی۔
اٹک شہر کی زمین میں پانی کی سطح انتہائی خطرناک درجے تک کم ہو رہی ہے اس کے لیے کچھ کام عوام کو کرنا ہوگا اور کچھ کام حکومت کی مشینری کو کرنا ہوگا اٹک کی انتظامیہ کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اٹک میں بہت ساری سرکاری زمین ہے جس میں اگر تالاب بنا دیے جائیں اور بارش کا پانی ان میں سٹور کیا جاۓ تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں انگریز نے جو کنویں بناۓ تھے جیسے فوارہ چوک میں بنا ہوا ہے اور اب اس کو اوپر سے بند کیا گیا ہے ایسے دوسرے کئی جگہ اور کنویں بھی ہیں اگر ان کو کھول دیا جائے اور بارش کا پانی ان میں گرایا جاۓ تو بھی پانی کی سطح اوپر آ جاۓ گی اگر کسی انسان کے گرنے کا خدشہ ہو تو بچنے کے لیے بے شک اوپر مضبوط جالی لگا دی جاۓ تو اس سے زمین میں پانی کی سطح بلند ہو جائے گی اگر یہ کام نہ کیا گیا تو پانی انتہائی لیول سے نیچے چلا جائے گا اور لوگوں کے لیے مسائل کا موجب بنے گا اس لیے اب بھی وقت ہے کہ حکومت اٹک شہر میں ریلوے اسٹیشن کی زمین پر اور فتح جنگ روڈ کے اوپر سی ایم ایچ کے ساتھ کھلی زمین پر کچے تالاب کھودے ڈھوک فتح کے ایریا کے آگے ہرو کی طرف وسیع زمین ہے ان جگہوں پر بہت بڑے گڑھے کھود کر پانی کو سٹاک کیا جائے تاکہ پانی کی کمی زمین میں نہ ہو ساون میں ہونے والی بارشوں کا پانی ہمیشہ نالوں کے ذریعے دریا میں گر جاتا ہے اور یہ پانی ضائع ہو کر سمندر تک پہنچ جاتا ہے جس سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ اگر اٹک کی انتظامیہ اس مسئلے پر سوچے تو ان دنوں میں ہونے والی بارشوں کا پانی سٹاک ہو جائے گا جس کی وجہ سے زیرِ زمین پانی اوپر آ جائے گا اٹک شہر کا دوسرا مسئلہ سڑکوں کا ہے جو کہ انتہائی شرم ناک حالت میں ہے جو انگریزوں نے سڑکیں بنائی ہیں وہ بہت پہلے بنائی گئی تھیں اس وقت آبادی بہت کم تھی اب آبادی کا تناسب بہت بڑھ گیا ہے اس کے مطابق اٹک شہر کی سڑکوں کے اوپر لنک روڈ اور فلائی اوور بنائے جائیں تا کہ باہر کی ٹریفک شہر میں داخل نہ ہو اور باہر سے ہی نکال دی جائے اور شہر میں ایسے کھلے روڈ بنائے جائیں تاکہ ٹریفک کے حادثات کو کم کیا جا سکے اور شہریوں کو سہولت میسر ہو پورے شہر میں ناجائز تجاوزات کو ختم کیا جائے میں نے دیکھا ہے بہت سارے اٹک کے لوگوں نے اپنے گھر کے باہر گاڑی نکالنے کے لیے گلیوں میں سات سات فٹ لمبی ڈھلانیں بنا رکھی ہیں جس کی وجہ سے اگر 20 فٹ کی گلی ہے تو وہ صرف 12 سے 14 فٹ رہ جاتی ہے جہاں سے دو گاڑیوں کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے ایسے لوگوں کو حکومت وارننگ دے اور ان کی گاڑی اتارنے کی زمین کو دو سے تین فٹ سے زیادہ نہ بننے دیں اس سے زیادہ ان کو گورنمنٹ کی گلیوں پر قبضہ نہیں کرنے دینا چاہیے ان کو سختی سے روکا جائے تاکہ گلیوں کی پوزیشن ٹھیک ہو سکے اور دوسرا میں نے اٹک کے محلے سمندر آباد میں دیکھا ہے کہ اس میں گلیاں بالکل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں گندا نالہ وہاں سے بہتا ہے بارش میں لوگوں کے گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے اس بار بھی ایک خاتون سمندر آباد کے نالے میں بہہ گئی ہے اور اس کی لاش ہرو نالہ کے قریب جا کر ریسکیو کی گئی ہے کیا ایسا کام روکنے کے لیے حکومت کے پاس کوئی حل نہیں ہے شہر کے جتنے لوگ ہیں سارا کچرہ اس نالے کے اندر پھینکتے ہیں جب وہ نالہ اس کچرے سے بھرا ہوا ہوتا ہے تو بارشوں کے پانی کی سطح بلند ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے محلوں اور گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے ساتھ ہی اگر گلیوں کی پوزیشن بہتر نہ بنائی گئی تو گلیاں مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گی تو اس چیز کو حل کرنے کے لیے انتظامیہ کو سخت ایکشن لینا چاہیے ڈھوک فتح اعوان آباد میں سکیورٹی لائٹس نہیں ہیں انتظامیہ نے پانی کی بوتل میں کہیں کہیں بلب لگائے ہوئے ہیں جو کافی عرصے سے ڈس ہیں ان کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے نہ ہی کوئی شخص انہیں آن آف کرنے والا ہے نہ ان کا کہیں سوئچ لگا ہوا ہے کہ کوئی اور ان کو بند کرے یا ان کو آن کرے تو ایسے ماحول میں سیکیورٹی لائٹس کا ہونا بہت ضروری ہے گلیوں محلوں میں بھی سیکیورٹی کیمرے لگائے جائیں تاکہ چوری کم سے کم ہو اور چور کی نشاندہی ہو جائے
تیسرا مسئلہ جو اٹک شہر میں چل رہا ہے وہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں کا مسئلہ ہے پورے شہر میں کسی دن مہینے کے کسی دن کسی لمحے آپ شہر کا چکر لگائیں فوارہ چوک سے نیچے ستار حنیف چوک تک جتنا ایریا ہے اور مدنی چوک سے گیدڑ چوک تک بھی جتنا ایریا ہے اس میں ہر رہڑی والے کا اپنا ریٹ ہے ہر قصاب کا اپنا ریٹ ہے قصابوں نے دوکان کے اوپر تختی 800 روپے کلو کی لگائی ہوتی ہے جبکہ وہ ہزار روپے لیتے ہیں اور ان کو کسی آفیسر نے ابھی تک چیک نہیں کیا اخبارات اور سوشل میڈیا پر سب اچھا کا مسئلہ چل رہا ہے ہمارے شہر میں سب اچھا نہیں ہے بہت سارے معاملات ہیں جن میں حکومت کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے ابھی روڈ جہاں ٹوٹے پھوٹے ہیں وہاں بارش کا پانی کھڑا ہے جس کی وجہ سے ڈینگی بھی پیدا ہو رہا ہے کیوں کہ جگہ جگہ گڑھے ہیں اگر آپ محلوں کی وزٹ کریں گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ گڑھوں میں پانی کھڑا ہے جس سے ڈینگی کے بڑھنے کے اثرات بڑھ رہے ہیں مجھے یہ حکومت سے توقع ہے کہ حکومت جہاں اچھے کام کر رہی ہے وہاں ان مسائل پر بھی غور و فکر کرے مریم نواز صاحبہ کی ٹیم دن رات صفائی کر رہی ہے ان کا کام بہت تسلی بخش ہے لیکن لوگوں میں آگاہی نہیں ہے جب صفائی والے صفائی کر کے چلے جاتے ہیں خصوصاً میرے اپنے محلے میں ڈھوک فتح اعوان آباد میں لوگ صفائی والی ٹیم کے جانے کے بعد اپنے گھر کا کچرہ اور گندگی باہر پھینک دیتے ہیں جس کی وجہ سے تعفن پھیل جاتا ہے اور گندگی پھیل جاتی ہے اگر حکومت کے نمائندے اس چیز پر عمل کریں کہ ایک دفعہ بتائیں کہ اگر صفائی ہو جائے تو اس کے بعد کوئی بندہ گلی میں گندگی نہیں ڈالے گا اور گندگی کے شاپرز اپنے گھروں کے باہر رکھیں حکومت کے نمائندے آ کر اٹھا لیں گے تو صفائی کے معاملات کافی حد تک بہتر ہو جائیں گے مریم نواز صاحبہ کی ٹیم بازار میں بھی صفائی کرتی ہے لیکن جونہی سبزی آتی ہے اور سبزی کے کریٹس اور پھلوں کے کریٹس کھولے جاتے ہیں تو ساری گندگی اسی طریقے سے روڈ پر پھینک دی جاتی ہے اس چیز کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور شہر میں ڈبے رکھے جائیں جو پیکنگ کی چیزیں اورخراب پھل وغیرہ نکلتے ہیں ان کو ڈبوں میں پھینکا جائے اور بازار کو صاف رکھا جائے حکومت تو اپنے طور پر کام کر رہی ہے لیکن عوام کو بھی گندگی پھیلانے سے روکا جائے اور ان کو آگاہی دلائی جائے تاکہ شہر میں صفائی کے مسائل پیدا نہ ہوں اور شہر صاف ستھرا نظر آئے اس کے علاوہ حکومت جب پٹرول کی قیمتیں بڑھاتی ہے اس وقت اٹک شہر میں اور اس کے گرد و نواح میں کرائے اپنی مرضی سے وصول کیے جاتے ہیں اور حکومت کے کسی بھی آرڈر اور انتظامیہ کے کسی بھی حکم کو نہیں مانا جاتا تو ٹریفک پولیس اور دوسری پولیس کو متحرک کیا جائے اور مختلف جگہوں پر کھڑا کر کے چیک کریں اور سواریوں سے پوچھیں کہ انہوں نے آپ سے کرایا کتنا لیا ہے تو اس صورتحال میں زیادہ کرایہ لینے والوں پر جرمانے کیے جائیں تاکہ انتظامیہ اور حکومت کی رٹ قائم ہو
اگر اٹک شہر سے بسال کی طرف جائیں تو سارا روڈ ٹوٹا پھوٹا ہے اور اس کو ٹھیک کرانے والا کوئی مناسب نظام نہیں ہے اتنی سست رفتاری سے کام جاری ہے کہ اگلے پانچ مہینوں تک وہ مکمل نہیں ہو پائے گا یہ دو تین دن کا کام ہے جس کو مکمل ہو جانا چاہیے اور لوگوں کی تکلیف کو دور کیا جانا چاہیے اور اگر اٹک شہر سے فتح جنگ کی طرف جائیں تو اس طرف بھی روڈ کی یہی حالت ہے اتنا سست روی سے کام ہو رہا ہے کہ اگلے دو سے تین مہینے تک یہ مکمل نہیں ہوگا اور اگر اس کو دلچسپی سے کیا جائے تو اس روڈ کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور میرے خیال میں یہ روڈ آنے والے وقت کے مطابق ڈبل روڈ ہونا چاہیے آنے والی ٹریفک کا الگ راستہ ہو اور جانے والی ٹریفک کا الگ راستہ ہو اٹک شہر سے پنڈی گھیب اور پنڈیگھیب سے فتح جنگ تک ریلوے ٹریک بچھایا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو ٹرین کی سہولت میسر ہو کیونکہ اس علاقے میں ٹرین کی پٹڑی نہیں ہے نہ اسٹیشنز ہیں صرف اٹک سے بسال تک ریلوے ٹرین چلتی ہے لیکن اس کے آگے یہ نظام نہیں ہے بسال سے آگے پنڈی گھیب اور پنڈی گھیب سے آگے فتح جنگ اور راولپنڈی تک ریلوے ٹریک بچھا دیا جاۓ تو عوام خوش حال ہو جائیں گے اس کے علاوہ ٹریفک کے نظام میں میٹرو سٹیشنز بنا دیے جائیں تو سونے پہ سہاگہ ہے اٹک شہر سے پنڈی گھیب تک بذریعہ بسال اور بذریعہ فتح جنگ اگر میٹرو ٹریک بنا دیا جائے اور میٹرو بسیں چلا دی جائیں تو پنڈی گھیب کے لوگوں کے مسائل حل ہو جائیں گے اور چھوٹی گاڑیاں جو ان کو ان راستوں پر اذیت دیتی ہیں ان سے لوگوں کی جان چھوٹ جائے گی اور کرائے بھی مناسب ہو جائیں گے حکومت کے اس اقدام سے اٹک میں بھی ترقی کی راہیں کھل جائیں گی اور بہت سارے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اٹک کی وسیع زمینوں پر موٹروے کا سسٹم بنایا جائے تاکہ اٹک کے لوگ بھی سکھ کا سانس لے سکیں اٹک کے سیاست دان مکمل طور پر اس مسئلے میں فیل ہو گئے ہیں کہ انہوں نے اٹک کے لیے اب تک کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کو قدر و قیمت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور اس کی پذیرائی کی جا سکے اس لیے میری ان چھوٹی چھوٹی گزارشوں پر حکومت پاکستان سے عمل کی درخواست ہے تا کہ اٹک کے عوام کو بھی جینے کا حق ملے
پنڈی گھیب کے شاعرعبد الرحمن عبد کی کتاب اردو شاعری میں اچھا اضافہ ہے ، طاہر اسیر
اٹک (ہشام خان اعوان سے/نیوز ایڈیٹر) اردو زبان کے معروف شاعر، ادیب،محقق،شاعروں کی پہلی ضلع اٹک رجسٹرڈ تنظیم اکادمی ادبیاتِ کیمبل پور کے کے ضلعی جنرل سیکرٹری اور ضلع اٹک کی تاریخی کتاب”جب کیمبل پور جل رہا تھا“ کے مصنف طاہر اسیرنے ضلع اٹک کی پسماندہ تحصیل پنڈی گھیب سے تعلق رکھنے والے شاعر عبد الرحمن عبد کو ان کی کتاب”نوائے خیال“ کی بہترین اشاعت پر شاندار طریقے سے مبارک باد دیتے ہوئے کہا ہے کہ کتاب”نوائے خیال“ اردو شاعری میں بہترین اضافے کا موجب بنے گی،جبکہ تحصیل پنڈی گھیب کے اردو زبان کے معروف شاعرعبد الرحمن عبد کی نئی کتاب اردو شاعری میں اچھا اضافہ ہے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلعی دفتر اکادمی ادبیات کیمبل پور بمقام میونسپل کمیٹی اٹک کے لائبریری ہال میں ضلع اٹک کی پسماندہ تحصیل پنڈی گھیب سے خصوصی طور پر تشریف لائے ہوئے اردو زبان کے معروف شاعر عبد الرحمن عبدسے ملاقات کے موقع پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے،اس موقع پر دنیا کی سب سے بڑی ویب سائیڈ ”وکی پیڈیا“ کے اردو پیج کے سابق مدیر اور ضلع اٹک کی 121سالہ تاریخ میں پہلے انگلش اور اردو 2زبانوں میں آن لائن میگزین ”آئی اٹک“ کے بانی مدیر، معروف ادیب،خطاط اور مصور آغا سید جہانگیر علی بخاری اور معروف تجزیہ نگار و اینکر پرسن ضلعی سیکرٹری اطلاعات ونشریات پاکستان جرنلسٹ ایسوسی ایشن اٹک،موسٹ سینئر صحافی ممبرا کادمی ادبیات کیمبل پور ہشام خان اعوان بھی موجود تھے،
تحصیل پنڈی گھیب سے تشریف لائے ہوئے اردو زبان کے معروف شاعر عبد الرحمن عبدجو کہ اردو کے سنیئر سبجیکٹ سپیشلسٹ ہیں اور آج کل تحصیل پنڈی گھیب کے ہائی سکول میں تدریسی فرائض سر انجام دے رہے ہیں،جبکہ ان کی شاعری کی نئی کتاب ”نوائے خیال“ سے قبل بھی عبد الرحمن عبد کی اردو شاعری کی2کتابیں ”لہر در لہر اور اشک خنداں“ بھی قارئین میں بے حد مقبول رہی ہیں، عبد الرحمن عبد نے اپنے دورہ اٹک کے دوران اٹک کے مختلف معروف شعراء کرام اور ادیبوں سے خصوصی ملاقاتیں کیں ہیں،اس موقع پر معروف ادیب،خطاط اور مصور آغا سید جہانگیر علی بخاری نے پنڈی گھیب کے معروف شاعر عبد الرحمن عبد کی نئی کتاب”نوائے خیال“ میں شامل گھیبی لہجے کی خصوصی شمولیت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور اس شعری مجموعے کو اردو زبان کے ساتھ ساتھ پنجابی زبان ا ور ادب کی خدمت پر محمول کیا ہے۔
اٹک(سٹی رپورٹر )مرکز اسلام جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ کا سالانہ 26واں تقسیم اسناد و محفل ختم قرآن مجید استاذ العلماء مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی بانی و مہتمم جامعہ ھذا کی زیر صدارت اختتام پذیر ہو گیا ۔ جامعہ کے ناظم اعلیٰ انجینئر مفتی محمد طیب میلادی گولڈمیڈلسٹ نے سالانہ تعلیمی کارکردگی بتاتے ہوئے کہا کہ جامعہ کی ذیلی شاخیں بولیانوال مفتی محمد اللہ دتہ صدیقی، ملاں منصور میں صاحبزادہ اسرار احمد ہاشمی، پنڈی گھیب میں مولانا قاری داؤد احمد رضوی، آزاد کشمیر مظفرآباد ٹمبی سمیت بارہ سو کے لگ بھگ طلباء کرام قرآن وحدیث کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دینی مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں اس پر فتن دور میں انکی مالی امداد کر کے صدقہ جاریہ میں شامل ہوں ۔تقریب میں مفتی ابن مفتی علامہ عبدالرشید چشتی تبسم نقیبی نے مختصر اور جامع الفاظ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فتنوں کے دور میں آخر الزمان نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور انکے اھل بیت ؑ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے وابستہ رہ کر بچا جا سکتا ہے۔کاروان حقانیہ کے چیئرمین صاحبزادہ ڈاکٹر محمد شعبان حقانی نے ترنم میں قرآن اور صاحب قرآن کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمات مصطفیؐ میں ہی عمل کرنے میں فلاح ہے۔
علامہ ڈاکٹر محمد یاسر اعوان نے جامعہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔تقریب میں حافظ لال محمد فاروقی۔ مہمان خصوصی سیاسی سماجی نوجوان رہنما سردار رحمت علی خان ۔حافظ محمد شیر افضل۔ڈاکٹر نذیر احمد راولپنڈی، واے ایس او کے چیئرمین فیصل نیاز ۔ماسٹر جاوید اقبال ماڑی، ماسٹر عتیق احمد، حاجی محمد صبغت اللہ بابر۔صوفی فیصل محمود نقشبندی خلیفہ مجاز سالک آباد شریف، ملک اورنگزیب سروالہ کے پوتے ملک احمد حسن، حاجی محمد تنویر، ٹھیکیدار شمیم خان، نور محمد ضیاء میروی ضلعی آفیسر جی پی او ریٹائرڈ، حاجی گلزار احمد، حاجی محمد رفیق وجملہ معززین علاقہ علماء کرام سادات کرام ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
حافظ محمد رمضان عرف جانی اعوان اور ملک رجب علی حقانی اعوان چیئرمین نوجوان الفلاح نے شرکاء مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور میڈیا کو بتایا کہ مرکزاسلام جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ میں عیدالفطر کی نماز 8 بجے استاذ العلماء مفتی ابوطیب رفاقت علی حقانی کی اقتداء میں ادا کی جائے گی۔
7 اپریل 1953 کو پنڈیگھیب میں حوالدار کرم داد خان کے گھر پیدا ہوۓ آپ 1978 سے لے کر 2012 تک نواۓ وقت سے منسلک رہے اور 34 سال صحافت کی بے لوث خدمت کی آپ ہمیشہ مظلوموں کی آواز بنے اور مظلوم کا درد ایوانوں تک پہنچایا پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے اس سماجی خدمت پر انہیں دو مرتبہ گولڈ میڈل سے بھی نوازا۔
1987 یا اس سے ایک سال قبل کی بات ہے جب خان بہادر عزیز المعروف ”کے بی عزیز“ روزنامہ نوائے وقت کے نامہ نگار تھے اس وقت ان کی بہت زیادہ شہرت تھی وہ بہت لطیف طبیعت کے مالک تھے ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ رکھنا ان کا شعار تھا بلا کے تحمل مزاج خوش لباس اور مہمان نواز تھے اس دور میں وہ چاہتے تھے کہ پنڈی گھیب میں کوئی ایسی ادبی تنظیم بنائی جائے جس میں ادب کے فروغ کے لیے کام کیا جا سکے تو اس مقصد کے لیے انہوں نے شعیب ہمیش کو دعوت پر بلایا جو کہ اس وقت کے مشہور شاعر اور نثر نگار تھے اور واہ کینٹ میں ملازمت کرتے تھے ان کو ادبی تنظیم بنانےکی تجویز پیش کی جس پر شعیب ہمیش نے آمین کہا اور ایک ادبی تنظیم حلقہ ارباب شاد کے نام سے بنائ۔
کے بی عزیز نے اپنے دفتر کے ساتھ ہی حلقہ ارباب شاد کا دفتر قائم کیا اور ماہانہ بنیادوں پر مشاعرے کروائے اور دور دور سے ادیبوں کو بلوایا جن میں اس وقت کے بہت نامی گرامی لوگ بھی تھے جن میں میجر ضمیر جعفری، انور مسعود ، نثار ترابی ، نعت خواں منظور الکونین، شعیب ہمیش، قیوم طاہر شامل ہیں ایسے شعرا آۓ اور کلام سنا کر ڈھیروں داد پائ
شوکت کمال رانا احمدال سے سید حبدار قائم غریب وال سے اور معروف کہانی کار علی احمد تبسم غریبوال سے اس تنظیم میں شامل ہوۓ تھے علی احمد تبسم نے جنرل سیکرٹری کے فرائض سر انجام دیے اور شعیب ہمیش تنظیم کے کنوینیئر تھے اس کے بعد توکل سائل اس ادبی تنظیم کے روح رواں پنڈیگھیب سے تھے ان کی موجودگی سے یہ تنظیم بہت عرصہ تک چلتی رہی ہے اور عبداللہ صحرائی، لیاقت صاحب اور شوکت صاحب بھی اس میں آتے تھے نوجوان شاعر طارق وفا کی شاعری اس وقت بہت مشہور تھی وہ بھی آتے تھے اس طرح پنڈیگھیب کے یہ سارے شعرا ادب کا نام زندہ رکھے ہوۓ تھے اور اس میں کام کرتے تھے دو تین نام ایسے بھی ہیں کہ جو مجھے یاد نہیں رہے لیکن کے بھی عزیز صاحب باقاعدگی سے مشاعرے منعقد کرواتے تھے شعرا کی خدمت کرتے تھے اور اس کی خبریں نوائے وقت میں بھی شائع کراتے تھے میرے خیال میں اس وقت یہ پنڈی گھیب کی واحد ادبی تنظیم تھی جو مسلسل اخبارات کی زینت بن رہی تھی اور اس میں کے بی عزیز صاحب تنظیم کے اجلاسوں کی خبریں بھجوا رہے تھے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ کے بی عزیز نے اس تنظیم کے لیے بہت زیادہ محنت کی اس لیے ادب کی ترویج میں ان کا نام ہمیشہ زندہ رکھا جائے گا میں نے بھی شعر لکھنے کی وہاں سے ہی ابتدا کی پہلے میں مختلف رسائل میں کہانیاں لکھتا تھا اس کے بعد جب کے بی عزیز صاحب نے یہ تنظیم بنائی تو میں نے بھی شاعری شروع کر دی اور توکل سائل سے اصلاح لینا شروع کر دی یہ تنظیم ہمارے پنڈی گھیب کے ملحقہ گاؤں دندی کے رہنے والے کرنل شیر محمد شاد مرحوم کے نام پر قائم کی گئی جو اس علاقے کا فخر تھے اور ایک عظیم لکھاری تھے جن کی میرے خیال میں کوئی کتاب بھی آئی ہوگی لیکن میں نے ان کی کتاب کا تذکرہ کہیں نہیں سنا ان شعرا اور ادیبوں نے اس چراغ میں اپنا لہو ڈالا اور یہ چراغ روشن تر ہوتا گیا جنرل سیکرٹری علی احمد تبسم کا اس تنظیم میں بہت عمل دخل تھا کیونکہ وہ غریب وال گاؤں کے ایسے کہانی کار تھے کہ جن کے دور دور تک چرچے تھے وقت نے انہیں زیادہ دیر زندہ نہ رہنے دیا اور وہ اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے اور ایک کہانیوں والا سلسلہ ختم ہو گیا ہمارے غریبوال کے سب سے پہلے وہی رائٹر تھے اور ان کے بعد پھر میں نے لکھنا شروع کیا اور ابھی تک میں لکھ رہا ہوں اور میری آٹھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں مجھے اس بات کے کہنے میں کوئ عار نہیں ہے کہ ”کے بی عزیز“ صاحب اگر پنڈیگھیب میں نہ ہوتے تو یہ تنظیم کبھی منظم اور قائم نہیں رہ سکتی تھی اور آج تک جو ادب تخلیق ہو رہا ہے یہ کے بی عزیز کے لگائے ہوئے چراغ ہیں جن کی روشنی ابھی تک جاری ہے اور جاری رہے گی کے بی عزیز نے اپنی بے باک صحافت کے ساتھ ساتھ ادب کا ساتھ دیا اور ادیبوں کی خدمت بھی کی ہر مشاعرے کے اختتام پر کھانے اور چاۓ کا انتظام کرانا ان کا معمول تھا حقیقی معنوں میں وہ بہت اعلٰی درجے کے مہمان نواز تھے اگر صحیح معنوں میں ان کے دفتر کو ادبی بیٹھک نہ کہا جاۓ تو ان کی خدمات کا حق ادا نہیں ہو سکتا پنڈیگھیب کی جب بھی ادبی تاریخ لکھی جاۓ گی کے بی عزیز کے نام کے بغیر نامکمل ہو گی کیوں کہ وہ پنڈیگھیب کا درخشاں ستارا تھے ادب اور صحافت کی خدمت پر ان کا دفتر مَلَک گردی کا بھی شکار ہوا اور بدمعاشوں نے اسے جلا دیا لیکن کے بی عزیز کا نام آج بھی دلوں میں زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا جسے کوئی نہیں مٹا سکتا
کے بی عزیز کے پاس میں جب بھی گیا وہاں کوئ نہ کوئ ادیب ملا جن میں توکل سائل علی احمد تبسم لیاقت علی لیاقت طارق وفا اور دیگر شعرا میں سے اکا دکا بھی ملتے چاۓ کا دور چلتا تو کے بی عزیز صاحب کی مسکراہٹ دیدنی ہوتی خدمت کر کے بہت خوش ہوتے ان کی ادب پروری کا دور دور تک شہرہ تھا
کے بی عزیز 24 جنوری 2016 کو انتقال کر گۓ اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرماۓ ۔آمین
وہ جنون کے اولین دن تھے ۔ نیلی روشنائی پپوٹوں سے ہوتی ذہن کو منور کرتی تھی ۔ کتب کے اوراق کی خوشبو نتھنوں میں گھسے جاتی تھی۔یہ ہماری تعلیم کے آغاز کے دن تھے ۔ ٹپکتے چھت والا ایک کمرہ ، دیواروں سے اکھڑتا مٹی کا لیپ ، حبس زدہ ماحول _ یہ ہمارا مکتب تھا جس میں میرے سمیت میرے کئی بچے زیر تعلیم تھے ۔ اسکول کی کوئی باقاعدہ عمارت نہ تھی سو ان کھنڈروں سے ہی ہمارے خوبیداہ خیالوں کی بیداری کا آغاز ہوا ۔ کبھی اگر سحاب آسمان کو لپیٹ میں لیتے تو ہماری استانی صاحبہ سوچنے لگ جاتیں تھیں کہ اگر باران رحمت کا نزول ہوا تو اس جابجا ٹپکتی چھت کا کیا درماں کروں گی ؟ کڑکتی گرم دوپہریں اور لو ، ہم اور ہمارے اساتذہ ایک چھپر میں گزارتے تھے ۔میرے ذہن میں اب تک میری استانی کے ماتھے سے ٹپکتے پسینے کے قطرے ویسے ہی تروتازہ ہیں گویا کل کی بات ہو ۔ اس عمارت کا ہمارے اساتذہ کرایہ دیا کرتے تھے جو کسی کو مفت میں بھی عنایت کی جائے تو کوئی ایک دن نہ گزارے ۔ تعلیمی سفر میں بہت سی ہجرتیں ہمارا مقدر تھیں ۔ کبھی ایک چھپر سے دوسرے میں تو کبھی دوسرے کھنڈر سے تیسرے میں ۔ ان ہجرتوں کا پس منظر گاوں کے باسیوں کا وہ لسانی تطاول ہوتا تھا جو ہمارے اساتذہ کا سہنا پڑتا تھا ۔ لیکن
♡یہ ہجوم زندگی ہے ، کنکریاں بھی آئیں گی
ہنس کے خون پی جانا ، ظرف کو بڑا رکھنا
چار پانچ جگہ کی نقل مکانی کے بعد بالآخر گاوں کے ایک بزرگ نے اسکول کی عمارت کے لیے زمین عطیہ کی ۔ اسکول کی عمارت تو تعمیر ہوگئی مگر جنون کے اس دو آتشے سفر میں ابھی بہت سی سنگ باری ہونی تھی ۔ بہ ہمراہ اساتذہ جب ہم اپنے اسکول میں پہنچے تو مٹی کے اونچے ٹیکوں نے ہمارا استقبال کیا اور پانی کی قلت نے ہمارا ماتھا چوما ۔ نہ پینے کا پانی دستیاب تھا ، نہ سایہ دار درخت ، نہ دیواروں پہ بیل بوٹےاور نہ جھولے جو ہم سب نے اپنے تصوراتی اسکول میں سوچ رکھے تھے ۔ پھر ہمارے اساتذہ نے دوڑ دھوپ کی ۔ صنف نازک ہوتے ہوئے ہماری استانی نے سر پہ پگڑی باندھی ۔ معاشرے کے مغلوب کردار یعنی کے مرد کا روپ دھار کر عملی میدان میں نکلیں کیوں کہ ابھی ہمارے طفلانہ ذہن کو مزید درشتیوں سے ہم کنار کرنا باقی تھا ۔ وہ ہمارے جوتوں پہ پڑی دھول کو شفقت سے دیکھا کرتی تھیں ۔ جب ہم تفریح کے بعد ہانپتے ہوئے ایک دوسرے سے پانی مانگتے تو ان کی نظر پانی کی گرم بوتلوں میں ابلتے پانی سے آر پار ہو رہی ہوتی تھی۔ اس جدوجہد میں ہم سب ساتھ تھے ۔ وہ ہماری مسیحا تھیں اور ہم ان کے خضر ۔ جیسے تیسے کر کے سرکار سے فنڈز کی رقم لی گئی ۔ صحن کو پختہ کرایا گیا۔ ہماری استانی نے اپنے ہاتھوں سے کیاریاں بنائیں پھر ان میں پودے لگائے ۔ صحن کو گملوں سے مزین کیا گیا ۔ ٹاٹ کی جگہ ہمارے بیٹھنے لیے کرسیاں اور بینچ لائے گئے ۔ دیواروں پہ خوبصوت نقش نفاری کی گئی ۔ جھولوں کا انتظام کیا گیا ۔ صاف پانی کا انتظام ہوا ۔زیادہ کام ہمارے اساتذہ نے خود کیا ۔ کچھ کاموں میں ہم اور سرکار کا فنڈ آٹے میں نمک برابر شامل تھے ۔اپنی اجرت سے زیادہ خرچ انہوں نے اسکول کے درودیوار پہ کیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسکول دیکھنے والوں کو دم بخود کرنے کگا ۔ لیکن یہ کوئی آسان سفر نہ تھا ۔ یہ ایک دو دن کی محنت نہ تھی ۔ یہ سالوں پہ محیط ایک داستان ہے ۔ یہ مراحل ہیں ۔ بہت طویل مراحل ۔
کتنی ہی دفعہ ہماری استانی نے خود کو خود تھپکی لگائی ہو گی ۔ کتنی ہی دفعہ انہوں نے اپنے کندھوں پہ خود سر رکھا ہو گا ۔ کتنی ہی ایسی خندقیں ہونگیں کہ آنکھ بند کر کےبس قدم دھر دیا ہو گا ۔ کئی ایسے مناظر ہونگے جو ان کے ذہن کے پردوں میں اب تک ابھرتے ہونگے ۔ کتنی ہی دفعہ ان کی آنکھیں چھلکی ہونگیں ۔ کتنے ہی ایسے لمحے ہونگے جب اپنی انگشت سے رخساروں کی جانب آتے قطرے صاف کیے ہونگے ۔ کئی دفعہ ہمت ٹوٹی ہوں گی تو ہمارے ننھے ہاتھوں سے بیس روپے فیس وصول کرتے ہوئے دوبارہ ہمت مجتمع کہ ہوگی ۔ قارئین کو شاید یہ لفاظی لگے لیکن
* بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم سنائیں تو کیا تماشہ ہو ؟
ابھی ان اسکولوں کی نجکاری ہو رہی ہے ۔ یہ ایک اسکول کی کہانی نہیں ، کم و بیش بہت سے مکاتب اور اساتذہ کی آپ بیتی ہے ۔ حکومت کے ایوانوں میں تو بس درودیوار کا ٹھیکہ لگ رہا ہے لیکن اسمبلی میں براجمان بیوروکریٹس کو کیا معلوم کہ یہ عمارتیں نہیں داستانیں ہیں ۔ سیمنٹ اینٹ کی دیواریں نہیں ہمارے اساتذہ کی جوانیاں ہیں ۔ انہوں نے فقط اقتدار کی بدبودار ہولی کھیلی ہے مگر کچے صحن سے اڑتی گرد کا انہیں کیا ادراک ؟ ان کے ہاتھ میں الہ دین کا چراغ ہے مگرانہوں نے کسی صنف نازک کو الہ دین بنتےنہیں دیکھا ۔ ہم نے دیکھا ہے ہماری طفلانہ آنکھوں اور کچے حافظے میں سب محفوظ ہے ۔
بجائے اس کے کہ ان مکاتب میں نئے اساتذہ تعینات کیے جاتے ، مزید مرمت کی جاتی ، بقا کے لیے فنڈز دیے جاتے ۔ ان کی بھی سستے داموں بولیاں لگائی جا رہی ہیں ۔ سونے پہ سہاگہ یہ بات ہے کہ "یہ نجکاری ملک کے بجٹ پہ پڑتے بوجھ کو کم کرے گی ” مگر *من خوب می شناسم پیران پارسارا*
کھیری مورت ، کالا چٹا اور مکھڈ کے پہاڑوں میں اڑیال wild sheepہوتا ہے یہ مینڈھے سے ملتا جلتا ہے سر پر مڑے ہوئے دو مضبوط سینگ ہوتے ہیں۔
سیہہ porcupine ضلع اٹک کے جنگلات میں عام ہے اس کے بدن پر لمبے لمبے نوکدار کانٹے ہوتے ہیں ۔ جنگلات میں بھیڑیئے بھی ہوتے ہیں۔چیتا کبھی کبھی کالا چٹا پہاڑ میں آنکلتا ہے۔
مچھلیاں پکڑنے کے لیے لوگ حسن ابدال اور اٹک جاتے ہیں۔دریا ہرو کی رہو مچھلی بہت اچھی ہے دریائےسندھ میں میاشیر پائی جاتی ہے ۔سندھ ، ھرو اور سواں میں مچھلی کا شکار کرنے کے لئے لائیسنس حاصل کرنا پڑتا ہے۔
اس ضلع میں پانچ لاکھ مسلمان ،ستر ہزار سکھ اور بیس ہزار ہندو بستے ہی۔ ہندوؤں اور سکھوں میں برہمن ، کھتری ،اروڑے اور سنار ہیں ۔کھتری اروڑے دکانداری کرتے ہیں۔
مسلمانوں میں سیّد ، پٹھان۔جودڑے ،گھیبے ،کھٹڑ،آوان پراچے اور ملیار ہیں ۔ضلع اٹک میں بائیس گاؤں سادات کے ہیں ۔پیر مکھڈ بڑے مذہبی پیشوا ہیں ۔
پٹھانوں کی آبادی آوانوں سے دوسرے نمبر ہے یہ اٹک اور مکھڈ نرڑہ میں آباد ہیں ۔اٹک کے پٹھان زیادہ تر علی زئی قوم کے ہیں اٹک تحصیل کا تیسرا حصہ ان کی ملکیت ہے ۔کاشتکاری اور مویشیوں کی تجارت کرتے ہیں ۔بحری جہازوں کی نوکری اور غیر ممالک کی تجارت کو فوجی ملازمت پر ترجیح دیتے ہیں ۔امریکہ،افریقہ ، آسٹریلیا اور چین جاکر ملازمت اور تجارت کرتے ہیں۔
ساغری خٹک مکھڈ اور نرڑہ میں آباد ہیں ۔سب فوج کی ملازمت کرتے ہیں ہر گاوں میں کئی پنشن یافتہ فوجی صوبیدار ہیں۔جنگ عظیم میں بہت بھرتی ہوئے ۔یہ لوگ چائے کے شیدائی ہیں۔
پنڈی گھیب کا تیسرا حصہ جودڈا راجپوتوں کی ملکیت ہے نواب صاحب پنڈی گھیب اسی قوم کے بڑے زمیندار ہیں۔
گھیبے سب فتح جنگ میں آباد ہیں اکثر مغل کہلاتے ہین۔سردارنواز کوٹ فتح خان کا تعلق اسی قوم سے ہے۔
کھٹڑ کالا چٹا پہاڑ کے آس پاس آباد ہیں ۔تحصیل اٹک ،پنڈی گھیب اور فتح جنگ میں بہتر 72 گاؤں ان کی ملکیت ہیں۔اس علاقے کو کھاٹڑی کہتے ہیں ۔سر سکندر حیات خان اسی قوم سے ہیں۔
آوان ضلع اٹک کی آبادی کا ایک تہائی ہیں ۔تلہ گنگ کی کل تحصیل انہی کی ملکیت ہے اور آوان کاری کہلاتی ہے۔
پراچے مسلمانوں کی سوداگر قوم ھے یہ زیادہ تر دریائے سندھ کے کنارے اٹک ، ملاحی ٹولہ اور مکھڈ میں پائے جاتے ہیں ۔افغانستان اور ترکستان سے تجارت کرتے ہیں۔
چھچھ میں تمباکو کاشت ہوتا ہے اس سے حضرو میں منوں نسوار تیار کی جاتی ہے جو کشمیر اور پشاور بھیجی جاتی ہے ۔فتح جنگ اور پنڈی گھیب میں بھیڑیں پالی جاتی ہیں ان کی اون سے یہاں کمبل تیار کئے جاتے ہیں۔
چھچھ اور علاقہ سواں میں روئی کاشت ہوتی ہے اس سے ادھوال میں سوتی کپڑا بنتا ہے ۔حضرو ،نڑتوپہ اور مرزا میں لنگیاں بنتی ہیں۔
باہتر ، حسن ابدال اور اخلاص میں چاقو چھری عمدہ تیار ہوتے ہیں ۔کئو کی لکڑی سے فتح جنگ میں کنگھیاں بنائی جاتی ہیں جو بڑے بڑے شہروں کو بھیجی جاتی ہیں۔
فتح جنگ میں تارا میرا عام ہوتا ہے اس سے تیل نکالنے کے کولھو ہیں۔ حضرو میں جوتیوں پر زردوزی کا کام بہت اچھا ہوتا ہے۔
ضلع اٹک میں حضرو ،انجرا،جنڈ ،حسن ابدال اور مکھڈ مشہور منڈیاں ہیں ان میں کپڑا،کھانڈ ، چاول، نمک باہر سے بکنے آتا ہے ۔ہر ہفتے گوندل ،حسن ابدال،کیمبلپور اور پنڈی گھیب میں مویشیوں کی منڈی لگتی ہے۔
جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔برائے جماعت سوم کے سو صفحات ہیں اس کو منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز لاہور نے ایک ہزار کی تعداد میں چھاپا اس کی قیمت چار آنے ہے ۔ اس نایاب کتاب کی پی ڈی ایف کے لئے ھم ڈاکٹر ناشاد صاحب ( علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ) کے شکر گزار ہیں ۔ اس کتاب کی تلخیص پیش خدمت ہے ۔
200 گاؤں ملا کر اٹک تحصیل بنائی گئی ھے اس کا تحصیلدار کیمبلپور میں رہتا ہے۔فتح جنگ تحصیل میں 209 گاؤں اور پنڈی گھیب تحصیل میں 148 گاؤں ہیں۔ 102 گاؤں ملا کر تلہ گنگ تحصیل بنی ہے۔ تحصیلدار کے ماتحت کئی ذیلدار ہوتے ہیں جن کی انعام خوار مدد کرتے ہیں ذیلدار کے ماتحت ہر گاوں میں نمبردار ہوتے ہیں۔ ضلع کا رقبہ چار ہزار مربع میل ہے اس میں 659 گاؤں آباد ہیں اور پانچ لاکھ آدمی بستے ہیں۔
اٹک ضلع میں بہت سے پہاڑ ہیں۔کالا چٹا پہاڑ ،گندگر، کھیڑی مار،کوا گاڑ،کھیری مورت ، ڈونگی ( یہاں 2024 میں تھانہ چونترہ علاقے میں جاوا ڈیم ہے )اور کوہستان نمک۔
کالا چٹا پہاڑ 45 میل لمبا ہے یہ دریائے سندھ سے مارگلہ تک شرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے ۔دریائے سندھ کے پاس اس کی۔ چوڑائی 12 میل ہے اس کی بلند ترین چوٹی رانی کوٹ ساڑھے تین ہزار فٹ بلند ہے یہ سوجنڈا باٹا کے قریب ہے۔اس پہاڑ کے دو سلسلے ہیں۔شمالی پہاڑ دریائے سندھ سے مارگلہ تک پھیلا ہوا ہے اس کے پتھروں کی رنگت لائم سٹون کی وجہ سے سفید ہے اس نسبت سے اس کا نام چٹا پہاڑ ہے۔ جنوبی پہاڑ دریائے سندھ سے گگن تک ہے اس کے پتھر سینڈ سٹون ہیں جو بادو باراں سے سیاہ پڑ گئے ہیں اس لئے اس کو کالا پہاڑ بولتے ہیں ۔
گندگر پہاڑ چھچھ کے مشرق میں ضلع ہزارہ کا پہاڑ ہے ۔گندگر اور کالا چٹا پہاڑ کے درمیان شرقاً غرباً دو پہاڑ اور ہیں۔بڑا پہاڑ 8 میل لمبا اور 2 میل چوڑا ہے اس کا نام کھیڑی مار ہے اس کا سخت پتھر کھیڑی چپل کو بھی کاٹ دیتا ہے ۔کھیڑی مار اور گندگر کے درمیان حسن ابدال اور برہان کے زرخیز علاقے ہیں ۔دوسرا پہاڑ کواگاڑ ہے ۔( گاڑ چھوٹی پہاڑی کو کہتے ہیں ۔حسن ابدال کے پاس چھوئی گاڑ نام کا گاؤں ہے )۔اٹک قلعہ کے پاس اٹک کی پہاڑیاں ہیں جن سے سلیٹ پتھر نکلتا ہے ۔
کالا چٹا پہاڑ کے جنوب میں مکھڈ کی پہاڑیاں شرقاً غرباً ہیں نرڑہ علاقہ ان کے قریب ہے ( چھب سے جنڈ تک ان پہاڑیوں میں چار ریلوے ٹنل ہیں )۔فتح جنگ کے جنوب میں 24 میل لمبا کھیری مورت پہاڑ ہے ۔
کوہستان نمک تلہ گنگ کے جنوب میں ھے یہ ضلع اٹک سے باہر ہے اس کا سرد مقام سکیسر ہے اٹک ،میانوالی اور شاہ پور تینوں ضلعوں کے صاحبان ڈپٹی کمشنر بہادر گرمی کے موسم میں یہاں رہتے ہیں
سندھ ، ہرو،سواں ، سیل ، نندنہ اور گھبیر یہاں کے دریا اور نالے ہیں۔
دریائے سندھ شملل سے آتا ہے اور ہزارہ ضلع سے ہوتا ہوا غازی کے مقام پر ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے چھچھ اور یوسف زئی کے علاقوں کو چیرتا ہوا جنوب کی طرف بہتا ہے ۔یہاں اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔بیچ میں بہت سے ٹاپو ہیں۔ اٹک قلعہ کے پاس اس کا اس کا پاٹ تنگ ہوگیا ہے کیونکہ دو طرفہ سلیٹ کے پتھر کا پہاڑ ہے ۔ اٹک سے نیچے اس کا پانی شفاف نیلگوں ہے اس لیے نیلاب کہلاتا ہے ۔اس سے نیچے ہاٹ اور بھی تنگ ہو جاتا ہے ۔سوجنڈہ کے قریب اس کی چوڑائی صرف ساٹھ فٹ رہ گئی ہے یہ نام گھوڑا ترپ کہلاتا ہے مکھڈ میں اس دریا پر کشتیوں کا بڑا پتن ہے ۔
1841 میں ایک بڑا سیلاب آیا تھا جس میں یاسین اور سرکہ کے درمیان سارے گاؤں ڈوب گئے تھے ۔اٹک قلعہ سے تین میل نیچے لوہے کا پل ہے اوپر سے ریل جاتی ہے بیچ سے لاریاں گزرتی ہیں پل پون میل لمبا ہے ۔ خوشحال گڑھ کے قریب ایک اور پل بنایا گیا ھے ۔
ھرو دریا خانپور سے گندگر کے پہاڑوں کی طرف بہتا ہے یہ دریا اٹک قلعہ سے بارہ میل نیچے گھڑیالہ کے مقام پر دریائے سندھ میں گرتا ہے ۔حسن ابدال کے پاس زراعت کے لئے اس سے نالیاں نکالی گئی ہیں ان کو کٹھہ بولتے ہیں ۔اسی سبب اس علاقے کو پنج کٹھہ کہتے ہیں اس میں سترہ گاؤں آباد ہیں ۔اکثر مقامات پر اس کے پانی سے پن چکیاں چلتی ہیں۔
دریائے سواں مری سے نکلتا ہے اور چونترہ تحصیل فتح جنگ کے پاس ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے ۔یہ مکھڈ سے دس میل نیچے دریائے سندھ میں جا ملتا ہے ۔
اکثر برسات میں نہایت چڑھاؤ پر ہوتا ہے سرکاری ڈاک بھی کئی روز تک رک جاتی ہے اور مسافر بھی عبور نہیں کرسکتے ۔ان دنوں ڈسٹرکٹ بورڈ کی طرف سے مسافروں کو رسد بہم پہنچانے کے لیے ایک دکان متصل بنگلہ ڈھوک پٹھان کھولی جاتی ہے
کھرسا میں سواں ہمیشہ پایاب ہوتا ہے اس کے قریب بعض مقامات پر اتنی ریت ( Quicksand) ہوتی ہے کہ اس میں ہاتھی بھی غائب ہو جاتے ہیں ۔1850 میں حضور لاٹ صاحب جس وقت کالا باغ جا رہے تھے ان کا ایک ہاتھی اس ریت میں دھنس کر غائب ہوگیا۔ سواں کے کنارے چونترہ ,ادھوال , چکری ،ڈھڈھمبر،گنڈاکس،ڈھوک پٹھان،جبی ( شاہ دلاور) اور تراپ مشہور گاؤں ہیں۔
پنڈی گھیب والی سیل ۔یہ نالہ کھیری مورت سے نکل کر مغرب کو بہتا ہوا پنڈی گھیب کے پاس سے گزرتا ہے اور سواں میں جا گرتا ہے ۔ پنڈی گھیب کے پاس اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔اس نالے کے پہلے حصے کا نام ٹوتھل ہے ۔پنڈی گھیب کے پاس اس کا نام سیل Seel ہو گیا ہے ۔اس کے کنارے اخلاص ،پنڈی گھیب اور دندی کے قصبے ہیں ۔
فتح جنگ والی سیل کا پنڈی گھیب والی سیل سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ دونوں مختلف نالے ہیں۔یہ نالہ کھیری مورت سے جنوب کی طرف بہتا ہے اور سواں میں ( چکری کے پاس) جا ملتا ہے ۔
نندنہ نالہ کھیری مورت سے شمال کی طرف سے نکل کر کالا چٹا پہاڑ کو چیرتا ہوا اکھوڑی پہنچ جاتا ہے ۔یہ کنجور کے قریب دریا ھرو سے جا ملتا ہے ۔
نالہ چیل بیس میل لمبا ہے یہ ھٹی ( ھٹیاں) کی دلدل ( اب خشک ہو گئی ) سے نکل کر شمس آباد سے گزرتا ہوامانسر کے قریب سندھ میں جا ملتا ہے ۔ھٹی کے مقام پر چھ سو ایکڑ رقبہ پر جھیل تھی اس کو ڈپٹی کمشنر گاربٹ صاحب نے خشک کرا کر آباد کر دیا ہے ۔
حضرت سید رحمت اللہ شاہ بُخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا زیارت بیلے جنڈ اٹک(ولادت 1503 ء -وفات 1604 ء)
سر زمین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اولیاء کی درخشاں و تاباں ہستیاں نعمت کبریٰ سے کم نہیں ہیں ۔اولیاء اللہ نے انسان کو انسان سے محبت کا درس دیا ہے۔دکھی انسانیت آج پھر اُن جسے مقدس لوگوں کہ انتظار میں ہے کیوں کہ زمین سے عدل و انصاف اٹھتا جا رہا ہے اور ہم لوگ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔آج پھر کوئی اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ اٹھے ہماری ہوس پرستی کو ختم کرکے ہمارے دل و روح کو محبت سے بھر دے کیوں کہ اب وقت کا یہی تقاضا ہے۔ ماضی میں بھی جب اٹک کی سر زمین ظلم و جبر سے بھر گئی تھی تو حضرت سید عبدالوہاب بُخاریؒ نے اپنے مریدین کو ان کی عبادتوں اور ریاضتوں کے بدلے میں ولایتِ کے مقام تک پہنچایا اور ظلم و ستم کی سرکوبی کے لیے اٹک کے مختلف علاقوں میں بھیجا ان میں ایک بزرگ حضرت رحمت اللہ بخاری ؒتھے۔
مختصر تعارف
حضرت سید رحمت اللہ شاہ بُخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا بخارا سے اُچ شریف آنے والے سادات کا فخر ہیں۔آپ کا سلسلہ نسب 26 ویں پشت میں جدّ ائمہ طاہرین اور جدّ اولیاء حضرت علی علیہ السّلام سے جا ملتا ہے۔آپ ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے ساتھ ملحقہ گاؤں زیارت میں 1568 عیسوی میں اوچ شریف سے ہجرت کرکے آئے آپ کے والد حضرت احمد شاہؒ بڈھا المعروف زندہ پیر تھے آپ کی ولادت 1503 عیسوی میں ہوئی۔ جو کہ مشہور بادشاہ ابرہیم لودھی کا دور بنتا ہے آپ نے 1604 میں دنیا سے پردہ کیا اور خالق حقیقی سے جا ملے۔آپ کی زندگی میں ابرہیم لودھی،ظہیر الدین بابر،نصیر الدین محمد ہمایوں،شیر شاہ سوری اور جلال الدین محمد اکبر بادشاہ گزرے۔آپ کے مرشد حضرت شاہ عبد وہاب ؒتھے آپ کا سلسلہ "بخاریہ” تھا مرشد کی بیعت میں مجاہدات و ریاضات میں 38 سال رھے اور سلسہ سہروردی میں بھی کمال حاصل کیا۔آپ حضرت بہاؤالدین کے مدرسے میں بھی پڑھاتے تھے جو کہ علم و حکمت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
چھانگلا ولی موج دریا
حضرت رحمت شاہ بُخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کے پاس ایک عورت آئی کہ میں بے اولاد ہوں اولادِ نرینہ کے لئے دعا کریں۔آپ نے فوراً دعا دی اور کہا کہ اگلے سال اللہ تعالیٰ تمہیں ایک بیٹا دے گا وہ عورت کہنے لگی کہ میں بہت سارے پیروں،فقیروں اور بزرگوں کے پاس دعا کے لئے گئی ہوں یہ کیسے پتا چلے گا کہ میرا پیدا ہونے والا بیٹا آپ کی دعا سے ہوا ہے آپ اس کی کوئی نشانی بتائیں آپ ؒ نے مسکرا کر کہا کہ اگر اس کے ہاتھوں کی چھ اُنگلیاں ہوئیں تو وہ میری دعا سےہو گا اگر اُس کی پانچ اُنگلیاں ہوں تو کسی اور بزرگ کی دعا سے ہو گا۔یہ سن کر وہ عورت چلی گئی اور ایک سال بعد اُس کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے سے سرفراز کیا۔جس کی چھ،چھ اُنگلیاں تھیں جس کی وجہ سے لوگ اس بچے کو چھ انگلا کہنے لگے اُس عورت نے لوگوں کو اس کی وجہ بتا دی تو لوگوں نے آپ کو چھ اُنگلا بچے کے دعا دینے والا ولی مشہور ہونے لگا چھ انگلا کہتے کہتے چھانگلا ولی مشہور ہو گئے۔آپ کو مرشد نے موج دریا کا لقب دیا آپ کے نام کی وجہ تسمیہ اس لیے چھانگلا ولی موج دریا بنی۔
موج دریا
کرامات
آپ کی مشہور کرامات یہ ہیں پرندوں سے ہمکلام ہونا،پتھروں کا بیڑا دریا سندھ میں چلانا،پیر نارا کے سر پر سینگ نکالنا جس کی نشانی اب بھی اُن کی نسل میں موجود ہے،ڈاکوؤں نے مذاق کیا زندہ آدمی کا جنازہ آپ سے پڑھوایا تو جنازہ مکمل ہونے کے بعد بندہ حقیقت میں مر چکا تھا۔جنات کو قرآن مجید پڑھانا،جادو گر بدھو کراڑ سے مقابلہ کرنا جادوگر بدھو کراڑ مقابلے کی غرض سے جب اپنے جادو کے بل بوتے پر ہوا میں اُڑا تو آپ کا اپنے جوتوں کو حکم دینا اور ہوا میں بدھو کراڑ کی پٹائی کر کے زمین پرگرانا اور جادو گر کا تائب ہونا۔ایسا ہی ایک جادوگر باغ نیلاب کے مقام پر تھا جس کی سرکوبی کے لیے آپ کے مرشد پیر عبدالوہاب بُخاری نے حضرت نوری سلطان کو بھیجا جس کا ذکر انگریز مورخ لیبل ایچ گرفن نے اپنی کتاب پنجاب چیفز کے صفحہ 563 پر کیا۔ تربوزوں کو پتھر بنانا ،بہت بڑے سانپ کو پتھر بنانا،آپ کے حکم عدولی پر لوگوں کےگھروں سے کیڑوں کا نکل انا اور جانوروں تک کا بھاگ جانا معافی مانگنے پر دوبارہ کیڑوں کا غائب ہو جانا۔اپنے اخلاق و کردار سے لاکھوں افراد کو کلمہ پڑھایا اور اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔ حضرت چھانگلا ولیؒ موج دریا زیادہ تر فاقہ کی حالت میں رہتے تھے عبادت کے لیے کم سوتے تھے اور بحال قوت کے لیے دودھ پیتے تھے۔۔
اقوال
آپ کے اقوال اج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں اور سونے کے پانی لکھنے کے قابل ہیں وجود کی تاثیر نیت کے خلوصِ سے بنتی ہے۔معرفت والے انسان کا زیادہ کھانا اور سونا اُس کی طاقت پرواز کم کر دیتا ہے۔ نفس کو پھلینے دینا اولیاء کے نزدیک فقر کی موت ہے نفس امارہ ایسا شیطان ھے جو آدم علیہ السلام کے سجدے کی حقیت کو اج بھی جھٹلاتا ہے۔کھانا کھاؤ معرفت خدا کی ریاضت کے لیے اور دودھ پیو قوت بحالی کے لیے۔جنات تک اسلام پہنچانا بزرگان دین پر واجب ہے۔ بندوں کا خیال رکھنا بندوں کی مدد کرنا اور بندوں کو عاجزی سے ملنا مخفی بندگی۔ اج بھی لاکھوں افراد آپ کے دربار پر آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر جاتے ہیں اور ان کی منتیں پوری ہوتی ہیں
کھیڈاں تے کِھڈار ہر مُلکےاِچ ہونِن تے ان ای معاشرے اِچ چنگیاں تے بَھل مانڑُس رَویتاں نیں ایرے رَکھینِن ۔جہڑیاں کھیڈاں ناں ذکر میں کرن لگاں ضروری نیں جے ان پورے ضلعے اِچ کھیڈیاں وینیاں ہووُن اِنہاں وچ کُجھ جاکتِیاں کھیڈنِیان تے کُجھ جاکت شاکت شہراں اِچ تے کجھ گرانواں اِچ کھیڈنِن۔
اج کل نِکے جاکت پلاسٹک نیاں بنڑیاں ویاں تے موبائلاں اِچ کمپیوٹراں اِچ کھیڈاں نال کھیڈنِن جِنہاں نی وجہ توں ان مضبوط وی نئیں ہونِن تے بیمار وی راہنِن ۔جہڑے چُھہر چَھہر مِٹی اِچ ہتھ پیر مرینِن اُنھ تَکڑے وی ہونِن تے اس مٹی نی خوشبو کشید کر کے آپڑیں جُسےاِچ نالے ہی روح وچ وسا گھینِن تے وت سداں مُلکے نی مٹی نال جانی تے کھیڈ کے وفا کرینِن۔اس مٹی نی خشبو انہاں اِچ رچ وس وینی۔ ہر تَرِی تو پَینتی مِیلاں تو بعد جِنج پنجابی کیملپوری زبان لہجہ بدل کے کدرائیں چھاِچھی کدرائیں اٹکی کدرائیں جنڈالوی تے کدرائیں گھیبی بنڑ وینی انجے آونڑ کھیڈاں وچ وی تھوڑی بوہتی تبدیلی آ وینی بہرحال کجھ گھیبی کھیڈاں نا ذکر کریناں جہڑا تساں چنگا ، ودھیا تے نویکلا لگسی:۔
حبدار قائم
گُھرکُنڑ:۔
گُھرکُنڑ لوہے نی پتری ناں بنڑناں ۔جساں اسی لوہے ناں ٹین ڈبہ گول کٹ کے بنڑینیں اَیہاں اس وِچ دو موریاں کر کے سوترے ناں دھاگا پا کے بھکینے ایہاں۔ مزے نی گل ای وے کہ جواری نے گنے تروڑ کے وچ اسی باگُڑ تے تُر پتے اسی گُھرکُنڑ نال ہی چیر چار چھوڑینے ایہاں ۔جواری نے پتراں اِچ جہڑی چٹی لکیر ہونی ایہی اس نا گنا پِھکا ہونا ایہا تے اِساں اٙسی باگڑ گنا آکھنے ایہاں جنہاں پتراں نی درمیانی لکیر ساوی ہونی ایہی او گنا مٹھا ہونا ایہا اِساں اٙسی تُر آکھنے ایہاں ۔جس ویلے تیز گُھرکُنڑ بھیکنا ایہا جواری شواری نے پترے نال رکھڑیں نال ہی گُھرکُنڑ فٹو فٹ کپ چھوڑینا ایہا جہڑا اٙساں بہوں چَس دینا ایہا۔ کئی گُھرکُنڑ اِتنڑیں تیز ہونے اے جے انہاں بِھیکڑیں ناں پتہ ہی نئیں لگنا ایہا۔ تے اسی آکھنے ایاں ای تاں بالکل سیں بُھوک گیا اے۔
گُلی ڈنڈا:۔
گُلی ڈنڈا کسی درختے نی لکڑی ناں ڈنڈا کپ کے بنڑینے ایہاں ایجا درخت جس نی لکڑی پِیڈی ہونی اَیہی ۔جِنج کِکر ، کَوا یا ٹاہلی وغیرہ ۔ گُلی نی لمائی تقریبُن پونڑی گِٹھ اگوں چوماں گھڑ کے تے ڈنڈا سوا یا ڈیڈھ گز ناں عام طور تے ہونا ایہا ۔اس نی لمائی جاکتاں نے قدے بتے نے مطابق ہونی ایہی۔ گراں توں باہر زمیناں وچ ہک گٹھ شُنھ کھٹ کے گلی آں ڈنڈے نال اگاں وگا کے یعنی شُنھ دے کے مقابلہ شروع کرینے ایہاں۔ ڈنڈے تے گُلی نیں پاکے زیادہ لاونڑیں آلا بندہ چنگا کِھڈار مَنا وینا ایہا۔ حریفاں کئی کئی گھنٹے بَجھا بَجھا کے انہاں نی مَت مار دوینی ایہی۔ تھک تُرٹ کے گھر ویناں ایہے آں تے بُھک وی چنگی لگنی ایہی تے جُسہ وی پرسئے نال جھبہ پیا ہوناں ایہا کئی جاکت گلی جھڑَپڑیں اِچ زخمی بھی تھی وینے ایہے لیکن ای تاں ہر کھیڈاں ناں حصہ ہونا وے۔
ڈنڈ پاکی:۔
ڈنڈ پاکی وی گُلی ڈٙنڈے آونڑ ہونی بس گُلی نی جائی تے کھیندو یا گیند وغیرہ ورتنڑیں پونِن۔ ای بھی گراں تو باہر ونج کے کھیڈنی پونی اس وچ زمین تے پِڑی یعنی دارہ مار کے وچ شنھ کھٹنی پونی اگر گالف آلی گیند لبھ ونجے تے وت تے کھیڈڑیں ناں مزہ ای آ وینا کیونکہ اس گینداں ہواو وچ وگا کے ڈنڈ مریسو تے بہوں دور وینی۔ پُگاونڑیں واسے یعنی پِڑی وچ پانوڑیں واسے ترے یا دو واریاں رکھ سکنے او کیوں جے گالف نی گیند بہوں دور وینی تے ہک واری پِڑی تائیں نیں اپڑنی۔ جے پُگ ونجے تے دوئے نی واری تاں آنی ۔گینداں ڈنڈ مارو تے دوآ جھڑپ گھنے تے تاں وی اُو واری چا گھینا۔
کانا گڈی:۔
کانے گڈی نال اسی بڑے کھیڈے آں بڑی سستی تے سوکھی کھیڈ اے۔ اڈیاں گِرانواں اِچ بہوں سرُوٹ ہونِن جنہاں نِیاں چِکاں ، چَھتاں نے کِڑے،چَھج تے پنجرے وغیرہ بنڑنِن تے نالے اگ بھکھاونڑیں واسے چُلّہِی اِچ استمال ہونِن ۔کانیاں نی سَراں نال چھپر وی پونِن۔بہرحال اسی جاکت ہک لماں کانا سروٹے نے مڈھے چوں کپ کے جس نال بُمُل وی ہوناں ایہا اس نی کانا گڈی انج بنڑینے ایہاں جے بُملے آلے پلوں کانا بھن کے ہک تکون جئی بنڑا کے اُتاں بُمُل کر چُھڑینے ایہاں جنج ٹرائینگل یعنی تکون نے سرے تے جھنڈا بالکل 90 ڈگری نے زاویے اُتے لگا پیا ہونا ۔ دُوئے پَلوں کانا صاف کرکے ہتھی لا کے نپ گھینے ایہاں تے ساری دیہاڑ کچے راہاں اُتے نسنے بھجنے راہنے ایہاں ۔
بھمیری بھکاونی:۔
بھمیری بھکاونڑیں نی چس ہر کوئی گھینا ایہا۔ اصل وچ ای بالکل لٹو نی نسل دی کھیڈ اے بس اس وچ ہک کِکرے ناں کنڈا ہٙرملے نیں ساوے بِیں یا ہوائی چپلی نیں تھلوں ودرے نی گول بٹڑیں آوُنڑ ربڑ وچ پا کے بنڑائی وینی ایہی ۔ درمیانی انگلی تے انگوٹھے وچ کنڈے آلے پلو زمین اتے یا فرشے اتے بِھکا کے بڑی چس آنی ایہی ۔ مقابلے وچ جس نی بھمیری زیادہ بِھیکے آ اُوآ جِت وینا ایہا۔
لک ترُٹی:۔
لک تُرُٹی کھیڈ اسی استاداں نے آونڑیں توں پہلے یا سکول وچ تفریح نے ویلے کھیڈنے ایہاں اس وچ ہک گیند یا جالی آلا کھیندو بنڑا کے ہکی دوئے آں لک یا جسم نے کسی حصے اِچ زور نال مارنا ہونا ایہا ۔مانہہ یاد اے کہ ٹھڈی ٹھار پلو وچ جس ویلے کھینڈو سِج وینا ایہا تے او بہوں ڈاڈھا لگنا ایہا جہڑا واقعہ ای لک تروڑ دینا ایہا۔ لک ترٹی اِچ جان بچاون واسے نسنا بھجنا پونا ایہا نالے زور نال سنگیاں کُٹنا ہونا ایہا جس نال بہوں ورزش ہونی ایہی۔
سری گڈِیرن:۔
لوہے نی سری آپڑیں جُسے نے مطابق لمبائی رکھ کے اگو سرے اتوں انگریزی "لیٹر یو” آونڑ موڑ کے دوئے سرے اتے ہتھا لا کے سری بنڑنی ایہی ۔ تے گڈیرن سریے نا ٹہیہ نما بنڑا کے یا گڈی ناں کوئی بیرنگ وغیرہ جہڑا کڑے نی شکل نا ہونا ایہا اُس نی گڈیرن بنڑا کے گلیاں تے راہواں وچ روہڑ کے بڑی چَس آنی ایہی۔ گڈیرڑاں آپےچ بِھڑینے وی ہونے ایہاں۔ جس نی گڈیرن دوئے نا ٹکرا کے بھی نئیں ڈھانی ایہی او جاکت اِس کھیڈاں نا ماسٹر مَنَا وَینا ایہا۔
بارہ گِیٹ:۔
زمین یا فرشے اُتے ہک چوگھٹا یعنی مربع شکل بنڑا کے وچ پَنجی خانے بنڑا کے بارہ گِیٹیاں (گوٹیاں) ہک بندے نیاں تے بارہ گِیٹیاں دوئے بندے نیاں رکھ کے کھیڈنے ائے آں اس کھیڈاں وچ دو ہی کھلاڑی ہونِن جہڑے انتہائی سوچ وچار نال گیٹیاں ٹُرینِن تاں جی گِیٹی دوآ ناں مارے ۔جہڑا کھڈار مدمقابل ہونا اگر اس نے کونے اِچ دُوآ اپنی گِیٹی پہنچا گِھنے تے اس ناں ہک شیر بنڑ وینا ایہا ۔جِساں کوئی گِیٹی مار نہیں سکنی ایہی اور شیرے آں صرف شیر ہی مار سکنا ایہا۔شطرنج نما ای کھیڈ بہوں زبردست ایہی۔
مٹی نی گَڈیاں:۔
مٹی نیاں گَڈیاں بنڑا کے وچ ہک سوترے ناں دھاگا پا کے ریتو اِچ چلاونڑیں نی چَس اَساں بڑی گھدی۔ اڈا سنگی روفی بہوں مہارت نال ان گڈیاں بنڑینا ایہا۔ میں بھی بنڑا گھینا ایہاں لیکن روفی نے ہتھ نی صفائی ناں ہر سنگی معترف ایہا۔ اس واسے اسی مٹی بَنھی توں اَنڑینے ہونے ایہاں جہڑی چنگی چِیکڑیں ہونی ایہی۔ گَڈی نی باڈی پہلے بنڑا کے بعد وچ مٹی نے ٹائر وی اُساں لینے ہونے ایہاں۔ اُو مٹی نی خشبو ہُن وی دل دماغ وچ وسنی۔
ساہنا ریڑھی/جھلو ریڑھا:۔
مٹی نی یا لکڑی نی ریڑھی یا ٹرالی بنڑا کے اُساں ٹائر شائر لینے ایہاں۔ اسی باہر زمیناں اِچ پھاہیاں لا کے ساہنا نپینے ایہاں۔ ساہنے نے گلے چوں سوتر پا کے لکے نال بنھ کے پچھے ریڑھی بنھ کے گلیاں اِچ چھوڑ دینے ایہاں مزے نی گل ای وے کہ جس پاسے ساہنا نسنا ایہا ۔ریڑھی نال نال نسنی بھجنی ایہی۔ اسی پچھے ہانگرے مرینے ایہاں۔ اس کھیڈاں توں کئی وار گھروں مار وی کھاہدی۔
بنٹے:۔
بنٹے ہبڑاں (سارے) جاکت کھیڈ نے ایہے بنٹے کھیڈڑیں نی کئی قِسماں وُن ۔جنہاں وچوں دو تَرَے ناں ذکر کریساں:۔
1۔ پڑی :۔
پڑی زمی اتے ہک گول دارہ مار کے وچ ہک فُٹ نی لَمی لکیر مار کے اتے بنٹے رکھینے ایہاں۔ حصہ گھنڑیں آلیاں نے ٹیخے ہکی کھڈارے نی جھولی اتے مرینے ایہاں جہڑی اس دوہاں ہتھاں نال نپی ویہی ہونی ایہی جس نا ٹیخہ جھولی نال ٹکرا کےاگے وینا ایہا۔ اس نا پہلا لمَر ہونا ایہا۔ انجے آونڑ دوہے نے وی انجے نمبر لگنِن ۔کھڈار آپڑیں لمرے تے پڑی وچ پئے وے بنٹیاں انگلی نال چٹینا ایہا اور بنٹے پڑی وِچوں باہر کڈھینا ایہا۔ جِتڑیں دیر او بنٹے کڈنا راہنا ایہا انھ چِدے او جت گھینا ایہا۔ جس ویلے اُس ناں نشانہ گُھسنا ایہا دوئے جاکتاں نی واری تاں آنی ایہی۔ تے اُنھ وی انج ہی کرینے ایہے۔ اس کھیڈاں نے دو طریقےن۔ ہک اَینٹ رکھ کے تے دُوآ اَینٹ چا کے یعنی زمین اتے انگوٹھا رکھ کے اور زمی اتوں انگوٹھا چا کے۔بنٹے جت کے کئی کھڈار گھرے نے جگ تے ڈولیاں بھر چھوڑینے ایہے۔ جہڑا جِت گھینا ایہا ہرنے آلے آں ہک بنٹا جتلیلی دینا ایہا ۔کئی کھڈار جتلیلی منگنے نے باوجود شُدَھپ کرینے ایہے تے نئیں دینے ایہے۔
2۔ تنگہ:۔
تنگہ زمین وچ ادھی انچ ڈُوہگی تے نال ہی ادھ انچ چاڑی کُھڈ کَھٹ کے بنڑینے ایہاں ۔ جس وچ واری واسے جھولی اتے بنٹے مار کے لمّر لا کے جس نی پیل آنی ایہی او تنگے وچ بنٹا سٹنے توں پہلے دوئے کھڈارے نے ٹیخے آں چُٹ کے آپڑاں چِدا انگلی نال تنگے اِچ پینا ایہا ۔ای کھیڈ اَینٹ رکھ کے نالے اَینٹ چا کے کھیڈی وینی ایہی ۔ جس کھڈارے ناں بنٹا تنگے اِچ نئیں پونا ایہا دوآ کھڈار اس نے بنٹے آں چُٹینا ایہا۔ اگر بنٹے آں بنٹا مار گھنے آ وت تنگے وچ پلا دینا ایہا۔ جھول مارنے توں بعد ٹِیخے اگر نیڑے نیڑے ڈھانے ایہے تے وت ماسٹر کِھڈار اُوآ ہونا ایہا۔ جہڑا بنٹے نے سرے اتے بنٹا انج مرینا ایہا۔ کہ اس ناں آپڑاں بنٹا تنگے نے نیڑے ونج راہنا ایہا۔ جتھوں او آسانی نال تنگے وچ پا گھینا ایہا۔ جتنے بنٹیاں نی بازی لائی وئی ہونی ایہی۔ دوئے کھڈارے کولوں چا گھینا ایہا۔ بنٹے اتوں بنٹا ٹچ کر کے تنگے نے نیڑے پہنچاونڑیں آں "کتکالاں کڈڑاں ” آکھنے ایہے۔ ساری دیہاڑ کھیڈ کھیڈ کے انگلیاں تھک وینیاں ایہاں۔
3۔ گُتھی :۔
گُتھی زمی اِچ دو انچا ڈُوگا تے دو انچ چاڑا گولائی اِچ کھڈا لا کے کھڈِینا ایہا۔ جتنے بنٹیاں نی بازی لاونڑی ہونی ایہی اتنے بنٹے مد مقابل آں دے کے تے او آپڑیں وی اتنے ہی بنٹے پا کے گُتھی وچ سٹینا ایہا جہڑے بنٹے گُتھی وچ پے وینے ایہے اُس سٹنے آلے نے ہو وینے ایہے۔ جہڑے گُتھی توں باہر ہونے ایہے انہاں کھڈار ٹیخے نال چُٹ کے یعنی نشانہ مار کے جتینا ایہا۔ جس ویلے اُس ناں نشانہ گُھسنا ایہا تاں دُوجے ناں لمر آنا ایہا دوآ کھڈار وی ایہا کاروائی کر کے بنٹے جتنے نی کوشش کرینا ایہا۔اس کھیڈاں اِچ بنٹیاں نی جائی تے سِکلے ( بیٹری سیل چوں نکلی ویہی کالی دھات) ، چھوہارے ، اکھوڑ اور دھریکاں نے دِھرکانڑو وی پونے ایہے۔
تاش:۔
تاش کھیڈڑیں واسے کم توں کم دو بندے تے زیادہ توں زیادہ چار پنج بندے لوڑ پونے ایہے ۔ اسی سگریٹ نیاں ڈبیاں نی دوئیں سیڈاں پاڑ کے تاش بنڑا گھینے ایہاں۔ اڈے ویلے اِچ ڈبیاں اتے بگلے تے رنگ رنگ نیاں چیزیاں بنڑیاں ویہاں ہونیاں ایہاں۔ جہڑیاں اساں چنگیاں لگنی ایہاں ۔ہونا اِنج ایہا ۔ جے دوہیں کِھڈار پہلے تاش آں ترتیب دے گھینے اے کھیڈ شروع کرنے توں بعد ترتیب ہلاونڑیں نی اجازت نئیں ہونی ایہی ۔ ترتیب دیونڑیں توں بعد پہلا کھڈار تاش ناں ہک پتا تھلے زِمّیِ اتے سَٹینا ایہا۔ دُوآ کِھڈار اس نے اُتے آپڑاں پتا سَٹینا ایہا ۔ہِنجے پتے سٹینے راہنے اے جس ویلے ہِکا جیا پتے اتے پتا آ وینا ایہا ۔جس کھڈارے ناں پتا ہونا ایہا او سارے تاش جت وینا ایہا۔ تے زِمّیِ آلے سارے تاش نے پتے چاہ گھینا ایہا۔ آخر چے جس کول پتے مک وینے ایہے او ہِر وینا ایہا ۔
ڈِھنگر بَھیڑ :۔
زمراتی آلے دیہاڑے پی ٹی وی اُتے ہِک اردو فیچر فلم لگنی ایہی۔ جس وچ بھیڑ شیڑ ہونا ایہا۔ فلم راتی لیٹ ختم تھینی ایہی۔ فَدری اُٹھ کے اَسی سنگی کسی درختے توں ٹیانڑ بھن کے ہِکی دوئے آں مرینے ایہاں ۔جِنج فلماں اِچ لڑائی ہونی ایہی اسی وی اُنجے بِھڑنے ایہاں۔ تے ہِکی دُوئے آں ٹہڑیں نال رُمھ رٙمھ چھوڑینے ایہاں۔ جہڑا دوآں چوں جتنا ایہا اُوآ ہیرو ہونا ایہا۔ اس کھیڈاں اِچ کئی واری ہتھاں تے جُسے اتے جٙھرِیٹاں پے وینیاں ایہاں ۔لیکن لڑائی نی چس بڑی آنی ایہی۔ کئی کمزور جنہاں اسی تھن تُرُٹ ( جس ماؤُ نا ددھ نہ پیتا ہووے ) آکھنے ایہاں۔ گھر ونج کے اُن دَسینے ایہے تے وت اَساں بَھلی مار پَونی ایہی۔ کیونکہ ما پیو گلہ برداشت نئیں کرینے ایہے۔
کوکلے :۔
کوکلے نی تاریخ بہوں پرانی ایہی مانہہ آپڑیں والد صوبیدار میجر ریٹائرڈ سید کرم حسین شاہ نقوی مرحوم اراں دسا ایہا کہ اُنھ سن 1950 نے لگ بھگ ساری سنگی کوکلے کھیڈن گراں توں باہر وینے ایہے۔ تے ای کھیڈ انہاں توں وی پہلے نی ایہی ۔اس نی وٙلگُت اِنج ایہی۔ جے پَنجاں چھیاں جاکتاں نیاں دو ٹیماں بنڑ وینیاں ایہاں ۔جہڑیاں گرائیں توں دور ونج کے طرفین نی ٹاس کرینیاں ایہاں جے لاہنا چڑھنا تے دکھن وغیرہ کَینڈے ہوسُن۔ یعنی مشرق مغرب شمال جنوب ٹاس نال کڈ کھینے ایہے۔ وت ویلہ رکھ کے کہ کوکلے نیاں لیکاں کتنے وقت وچ پانوڑیاں۔ وقت ختم ہوونڑیں توں بعد نس کے ٹاس آلی جائی اتے آ وینے ایہے۔ وت لیکاں یا کوکلے ڈھوڈڑیں ناں وقت طے کر کے تلاش شروع تھی وینی ایہی۔ جساں کوکلے وٹیاں، ٹھیکریاں یا پڑاں توں لبھ وینے ایہے او انہاں اُتے کانٹا مار دینا ایہا۔ جہڑے کوکلے نئیں ڈھوڈ سکنے ایہے دوآں ٹیماں نے امپائر گنتی کر کے لکھنے اے جس ٹیماں نے زیادہ کوکلے کانٹے تو بچ وینے ایہے او جِت وینی ایہی ہِرڑیں آلی ٹیم وت کوئی دوپرا کر کے کوئی شے جس ناں وعدہ کیتا ویہا ہونا ایہا جتڑیں آلیاں جاکتاں پکا کے کھواونڑاں پونا ایہا۔ دوپرے کھانوڑیں آلا کم ہِس کھیڈاں اِچ اڈے ویلے اِچ نئیں ہویا۔ نالے اسی گراں وچ ہی کداں شداں یا وٹے ٹھیکریاں اتے ہی کوکلے پا کے کھیڈنے رئے آں۔
کھنڈُوری :۔
کھنڈُوری بنڑاونڑیں واسے ہک چادراں یا مفلر آں چوکھے وٹ پا کے رسی آونڑ وٹ گھنینی ایہی۔ جے بہوں سخت وڈے جاکتاں واسے بنڑاونڑیں ہووے آ ۔ تے وَت وِچ گَڈاں مار کے وَٹینی ایہی۔ جہڑی چنگی پِیڈی لگنی ایہی تے لک دوہرا کر دینی ایہی۔ وت کھیڈنڑیں واسے سارے جاکت ہِک دارے اِچ اٙجھ وینے ایہے ۔ ہِک کِھڈار کھنڈوری چا کے دارے ناں چکر لینے ایہا تے نال ہی آکھنا ایہا:۔
کوکلے چھپاکی زمرات آئی اے
جہڑا اگاں پچھاں تَکیسی اُس نی شامت آئی اے
ہنجے چکر لینے آں لینے آں کٙھنڈُوری کیں جاکتے نی کَنڈی پِچھے رکھ کے پورا چکر مکمل کرینا ایہا جے اگر او نئیں اٹھا جس نے پچھے کٙھنڈُوری زِمّیِ اتے پئی ویہی ہونی ایہی ۔ اور اُساں پتہ ناں لگے آ ۔ تے چکر مکمل کرنے توں بعد کٙھنڈُوری آلا کھڈار کٙھنڈُوری چا کے زورے نال اُساں لکے اِچ مرینا ایہا ۔اگر ایٹھے وئے آں پتہ لگ ونجے آ تے او چا کے پچھے رکھنے آلے کھڈارے آں مرینا ایہا۔ ہِنج ساریاں نے پچھے کٙھنڈُوری چلنی راہنی ایہی تے جاکت مرینے راہنے اے ۔جہڑے زہنی طور تے حاضر باش جاکت ہونے ایہے اُنھ ماراں تو بچ وینے ایہے۔ تے جہڑے ڈِھلے تے گِھیچُڑ ہونے ایہے انھ کوٹِینے راہنے ایہے۔ کٙھنڈُوری کھیڈنڑیں آلے جاکت بہوں تیز ، شاطر تے تِرِکھے ہونے ایہے۔ اِس کھیڈاں اِچ گھڑی گھڑی اُٹھڑیں اٙجنڑیں نال ڈِھلُڑ تے کوچَجے جاکت وی فٹ ہو وینے ایہے۔ جِتڑیں کھڈار زیادہ ہونے ایہے دارہ وڈا بنڑنا ایہا تے کھیڈاں نی چَس ودھنی ایہی۔ نَس نَس کے پَرسیو آنا ایہا۔
پیٹُو گرم :۔
پیٹُو گرم واسے کم تو کم دو تے زیادہ تو زیادہ چھ سَت جاکت ہِکی ٹیماں اِچ ہونے ایہے ۔گھڑے،ڈَولے،ٹاساں، کُوزیاں تے بھجے وے مَٹاں نے ٹکڑے نِکے نِکے کر کے ٹھیکریاں بنڑا گھینے ایہاں ۔ چھ چھ ست ست ٹھیکریاں ہکی دوئے اُتے جوڑ کے گیند یا جالی آلا کھینو یا کھیندو مارنے واسے ہکی لائنڑاں اُتے کھلو راہنے ایہاں تے دوئی ٹیم کھیندو جَھڑَپنڑیں واسے ہِکی لائنڑاں اِچ کھل وینی ایہی جہڑی گیند جَھڑَپی وینی ایہی کِھڈارے نی واری ختم ہو وینی ایہی۔ جہڑا زور نال ٹھیکریاں چُٹ کے ڈھا گھینا ایہا کھینڈو نپڑیں آلے مارڑیں آلیاں جاکتاں جوڑن نئیں دینے ایہے بلکہ کھیندو اے نال مرینے ایہے اگر کسی آں کھیندو لگ ونجے آ۔ تے دوئی ٹیماں نی واری آ وینی ایہی اس کھیڈاں اِچ وی دوڑ دھپ بہوں کرنی پونی ایہی۔ جہڑی صحت واسے چنگی ہونی ایہی۔
بَھمِیر گھمنڑ :۔
بَھمِیر دو قِسماں نے ہو نے ایہے۔ ہک ساوے پیلے پیلے تھماں آلے تے دُوئے جسامت وچ وڈے رَتےّ بَھمِیر جنہاں نے پَر رٙتے ،سر ساوا تھماں آلا تے تھلو سینہ ساوا سنہری جیہا ہوناں ایہا نیں۔ اِنھ زیادہ بیریاں اتے اَجنے ایہے۔ تے ساوے پتر کھینے ایہے اسی انہاں ڈبیاں اِچ بند کر کے ساوے پتر پَینے ایہاں تے اِنھ وچ انڈے بھی دینے ایہے۔ اسی انہاں پراں تھلوں دھاگا کَڈ کے مَنجاں اِچ پا کے زِمّیِ اُتے ہِک کِلی نال بَنھ کے چھوڑ دینے ایہاں ۔انھ وَت اُڈنے ایہے تے دھاگے نی مناسبت نال ہک گھیرے وچ اڈنے ایہے۔ اَسی تَک تَک کے خوش تھینے ایہے آں ۔ جس ناں بَھمِیر زیادہ اُڈنا ایہا او جِت وینا ایہا ۔رَتّہ بَھمِیر بہوں سونہڑاں ہونا ایہا جہڑا لمی اُڈاری مَرینا ایہا اج کل تاں بَھمِیر نظر ای نئیں آنے۔ پتہ نئیں انہاں نی نسل مُک گئی یا ہنڑ وی ایوے۔
بنڈے نپڑیں:۔
بنڈے ہاڑے نی گرمی اِچ درختاں نے مڈھاں اِچ تے ٹیانڑاں اتے اجنے ایہے۔ تے اِتڑیں چِیکنے ایہے جے بعض دفعہ کَنّاں اِچ بُجے دیونڑے پونے ایہے۔ بنڈے نپڑیں واسے بہوں پُلا جیا ہتھ دور رکھ کے انگلیاں بنڈے دئیں ٹور کے اتے انگلی رکھ گھنینی ایہی۔ وت انہاں نال بہوں شرارتاں کرینے ایہاں مثلاٙ دوئے سنگیاں نے چولے نےگلمے اِچ پا چھوڑینے ایہاں۔ بنڈا جس ویلے چولے نیں اندر ٹُرنا ایہا جاکت گھبرا کے چولا لاہ چھوڑینا ایہا باقی سنگی تک کے ہسنے ایہے تے مذاق اڈینے ایہے۔ بنڈے آں وی دھاگا پا کے اڈینے ایہاں تے وت تھلاں چھک گھینے ایہاں۔ ای بی اڈی کھیڈ ایہی۔
لُڈو:۔
لُڈو تے اج وی کھیڈی وینی اس نا طریقہ بھی ہکا جیا ہی ہوناں۔ ہاں البتہ کوئی شرط ورط لا کے دوپرا کر گھنینا ایہا۔
ہڈی ہڈی”۔
ہڈی ہڈی بہوں دلچسپ تے چُست کھیڈ ایہی۔ اڈے گراں چار بَنھیِاں، ہِک تَلاء تے ہِک چوا ایہا۔ بابا حضرت حاجی امامؒ آلا چوا جساں اسی پِینے بھی ایہاں تے بروڑیاں نکلنے تے اس نے پانڑی ایں نال نہانے بی ایہاں۔ جس نال بروڑیاں دانڑیں تے پھنسیاں وَل ہو وَینیاں ایہاں۔ ۔ہِک قبرستاں آلی بَنھ تے دُوئی بالکل اڈے نے کول آلی روڈی بنھ تے تَلاء پیوڑیں واسے استعمال ہونا ایہا۔ جبکہ موچیاں آلی نالے میالاں آلی بَنھ نہاونڑیں دھونڑیں واسے استعمال ہونی ایہی۔
سکولو مڑ کے کم شم کر کے گرمیاں اِچ سارے سنگی رل کے بنھی تے ونج کے ہڈی ہڈی کھیڈنے ایہاں۔ بنھی اِچ ہک دوئے آں نپڑنا چُبی مار کے دوئے آں ہتھ لاونڑاں بڑا اوکھا ہونا ایہا کیوں جے دوآ جتھے پانڑی اِچ کھلا ویہا ہوناں ایہا ۔او بی چُبی مار کے اُتھوں ہٹ کے چھپ وینا ایہا۔ تیراکی نیں ماہر جاکت ای اس کھیڈاں اِچ جت وینے ایہے باقی تاں انجے گوتے کھینے راہنے اے۔
چٙھپن چھوت :۔
چٙھپن چھوت بہوں ہُگی وٙگی ویہی کھیڈ ایہی۔ جساں جاکتِیاں جاکت ہَکَلے وی تے رَل کے وی کھیڈنے ایہے۔ گلیاں اِچ سارے جاکت اکھٹے تھینے ایہے ۔تے ہک جاکت کَداں دیں منہ کر کے کھلنا ایہا تے دوئے چھپڑیں واسے نس وینے ایہے ۔ ہِک جاکت اُچی آواز دے کے آکھنا ایہا آ ونج ۔تے کَداں دیں مونہے آلا جاکت پچھاں مُڑ کے ڈُھوڈڑاں شروع کر دینا ایہا جساں ڈھوڈ گھینا ایہا۔ وت او دوئے جاکتاں سد کے پہلے آونڑ کرینے ایہے۔ یا انج بھی ہونا ایہا جے ڈھونڈڑیں آلا ساریاں جاکتاں ڈھوڈینا ایہا تے ساریاں گلیاں اِچ دھربا دھربا نی آواز آنی ایہی۔ نَس نَس کے ساریاں نی کِھپ نکل وینی ایہی۔ تھک تَرُٹ کے گھار مُڑنے ایہاں۔
پٙنج گِیٹُر :۔
پٙنج گِیٹُر زیادہ تر کُڑیاں کھیڈنیاں ایہاں اس وچ پنج گیٹے یا پنج چِدے جنہاں بنٹے بی آکھنِن استمال ہونے ایہے ۔اس نا طریقہ بی ہر گراں اِچ وکھرا وکھرا ایہا۔ اڈے گراں اِچ جاکتِیاں دوآں ہتھاں استمال کرینِیاں ایہاں ہِکی ہتھے نی شہادت آلی انگلی تے انگوٹھا زِمّیِ اُتے ٹیک دوِینا ایہا تے وِچوں وِتھ رَکھ کے دُوئے ہتھے نال پٙنج گِیٹُر زِمّیِ تے سٹ دینیاں ایہاں۔ ہِک گیٹا ہواو اِچ اِچھال کے دوئے زِمّیِ آلے آں فٹو فٹ دُوئے ہتھے تھوں لگاونڑیں پونے ایہے ۔نالے ہواو آلا گیٹا جَھڑَپڑاں پَونا ایہا۔ ہِنج واری واری سارے گیٹے زِمّیِ آلے ہتھے تھلوں گڈڑیں پونے ایہے۔ اگر ہواو آلا گیٹا تھلے ڈھے پوے آ اور نہ جَھڑَپِیوے آ تے دوئی کُڑی نی واری آ وینی ایہی۔
کُکڑاں ناں بھیڑ:۔
کُکڑ بھیڑے واسے وی لوگ رکھینے ایہے۔ جنہاں چوں اصیل کُکڑ وڈیاں چھڑاں آلے بہوں تَکڑے تے ڈاہڈے ہونے ایہے ۔کولَنگی نسل وی گزارے لائق ول ہی ہونی ایہی۔لوگ ککڑ چُگڑیں واسے گھروں باہر کَڈ چھوڑینے ایہے ۔تے اسی جاکت جس ویلے تک گھینے ایہاں۔ تے اُنہاں آپےاِچ بھڑا دینے ایہاں۔ جہڑا نَس وینا ایہا اس تے ہانگرے لگ وینے ایہے۔ کُکڑاں نی لڑائی اِچ سر پاٹ وینے ایہے ۔وَت وی اُنھ لڑائی چھوڑ کے نئیں نسنے ایہے ۔جس ناں کُکڑ زخمی تھی وینا ایہا اُساں تیل یا گھیو ساڑ کے زخماں اُتے لینے ایہاں تاں کجھ عرصے توں بعد او ول ہو وینا ایہا۔
پاکڑ وٹے:۔
گِراں توں باہر پاکڑ وٹے آسانی نال مل وینے ایہے۔کیونکہ اڈے گراں پٙڑ بی ایہے۔ ہک ہک وٹا چُنڑ کے انہاں آپس وچ بھڑا دینے ایہاں ۔جس نی پہلے واری ہونی ایہی او اس وقت تک وٹے آں وٹا مرینا راہنا ایہا جس وقتے تک اس ناں نشانڑاں گُھس نیں وینا ایہا۔ تاں وت دوئے نی واری ہونی ایہی۔ دیگری توں بعد وٹے بھڑینیاں بھڑینیاں دیہوں لہہ وینا ایہا۔ شامی وٹا تے وٹا لگنا ایہا تے وچوں اگی نے شعلے نکلنے ایہے۔ جہڑا اساں بہوں چنگا لگنا ایہا۔ ہکی دوئے نیں وٹے بھن کے سُکھ آنا ایہا۔ اس کھیڈاں اِچ ماؤُ پیُو نی پابندی بی ہونی ایہی کیوں جے وٹے نے چھوڈے بعض دفعہ اکھی اِچ لگ ونجنے ناں ڈر بی ہونا ایہا۔ لیکن جاکت کدن باز آنِن۔
تیر اندازی:۔
دھاگے آلی نلکی نے ہک پاسے سائیکلاں نے ٹَیرے آلی ٹُوپَاں نی ربڑ کَتر کے چنگا پِیڈا بَنھ کے کمان بنڑینے ایہاں ۔تیر سرُوٹاں نے ٹانڈے کپ کے فُٹ ڈیڈھ فُٹے ناں بنڑناں ایہا۔ اس نی ہِک نوکاں اتے سڑکاں بنڑاوڑیں آلی لُکاں نا ہِک مکئی نیں دانڑیں جتنا گولا لا دینے ایہاں ۔اساں ہواو اِچ وگینے ایہاں تے بھلا اُچا وینا ایہا۔ نشانہ پکاونڑیں واسے اس نے اگے لُکاں اُتے سُوئی یا کِکرے ناں وڈا کنڈا لا گِھینے ایہاں ۔کَچیاں کَدھاں یا درختاں اتے نشان لا کے مرینے ایہاں ۔تیر نشانے اتے لگ کے جس جاکتے ناں وی کُھب وینا ایہا او ماسٹر منا وینا ایہا۔ اس تیرے نال محلے نیاں درختاں توں دَھبُوکاں نِیاں کَھکھراں ڈھا کے وِچوں چینی کڈ کے کھینے ایہاں۔ تے کئی واری گھار منہ سُجے وے گِھن کےوینے ایہاں تے اماں نی وی کُٹ کھینے ایہاں۔ کیونکہ سکول سُجے وے مونہے نال کور وینا ایہا۔
گُلیل :۔
گلیلاں نی کھیڈ اج وی جاکت گرانواں اِچ کھیڈنِن۔ گلیلاں نال پہلے نشانہ پکینے ایہاں وت چڑیاں،گُھگھیاں،گیلڑے،بُلبُلاں تے لالڑیاں نی شامت ہونی ایہی حلال پرندے یعنی گُھگھیاں تے گیلڑے نالے کالے کالے تِلیر مار کے ذبح کر کے گھر وی پکینے ایہاں تے باہر سنگیاں نال دوپرے وے کرینے ایہاں۔ بالکل چڑی ایڈی ہِک راول طوطی ساوے رنگے نی ہونی ایہی جہڑی زیادہ تر بجلی نے تاراں اُتے اَجنی ایہی۔ اُس تے نشانہ مار کے بڑی چس آنی ایہی کیونکہ ہک واری نشانہ گُھس وی ونجے آ ۔ تے او اڈنی نئیں ایہی بلکہ جدھر گیٹا لگنا ایہا ادھر تکن لگ پونی ایہی یا تھوڑا جیہا اُڈ کے وت اُتھے ای اَج راہنی ایہی۔
زیادہ جٙھکُڑ جُھلے آ تے نال اگر طُفان وی آوے آ تے وت شکار کرنے نی چس آ وینی ایہی کیونکہ تیز بارشاں اِچ پکھیرُو درختاں اِچ چھپ کے اج وینِن۔ انہاں گلیلاں نال اڈاو تے اُنھ اُڈنِن تے انہاں نیں پر مینہے اِچ سج وینِن تے اُنھ ڈھے پونِن ۔ تیز بارشاں اِچ انہاں نپڑاں بہوں سوکھا ہو وینا ایہا۔
دانداں نی دوڑ:۔
اڈیاں ِگرانواں اِچ ہُن وی میلے شیلے لگنِن تے انہاں اِچ دانداں نی دوڑ وچ جوان جاکت حصہ گھینِن ۔ جہڑا داند جت ونجے اُساں اِنام بی ملنا تے لوگ بھنگڑا وی پینِن۔
تختی دواتاں نی لڑائی :۔
مانہہ اج وی یاد اے جے تختیاں بِھڑا کے دو ٹوٹے کرا گِھینے ایہاں۔ جِنہاں جاکتاں گِراں نیاں لوہاراں کولوں تختیاں بنڑوائیاں ویاں ہونیاں ایہاں۔ اُنھ بہوں پیڈیاں ہونیاں ایہاں تختی اتے تختی مار کے بھن دینے ایہے۔ بزارے آلی تختی گھن کے سیڈاں تے ٹینے نی پتری ہر کوئی اسے واسے لینا ایہا جے جلدی ناں بجھے ترٹے۔ اڈی تاں ای کھیڈ ایہی پر ما پیو سخت ناراض تھینا ایہا۔ کیونکہ انہاں ویلیاں اِچ بہوں غریبی ایہی۔ کور روز گِھن سکنا ایہا۔
بالکل انجے ای دواتاں نی بی لڑائی ہونی ایہی ۔عموما تِبت کریماں آلی شیشی یا ڈالر شاہی آلی شیشی اِچ کپڑے نے بُڑے رکھ کے وچ موچیا رنگ تے پانڑِیں پا کے شاہی بنڑنی ایہی۔ دواتاں فرشے تے رکھ کے ہکی دوئے نال ٹکرا کے بھن دینے ایہاں۔ جس نی دوات بچ وینی ایہی او جِت وینا ایہا۔
تھباکی :۔
سکول ٹاٹاں اُتے اَجھ کے پڑھنے ایہاں پنج جماتاں نیں سکول وچ دو ماسٹر ہونے ایہے۔ جس دیہاڑے ہک چھٹی تے ہونا ایہا اس دیہاڑے اڈیاں موجاں تکڑیں آلیاں ہونیاں ایہاں ۔ سکول نا کُھلا میدان جاکتاں نال بھرا ویا ہوناں ایہا۔ ماسٹر اری جس ویلے آپڑیں اردگرد جاکت کھلے کرینے ایہے انہاں جاکتاں اِچ آپ چھپ وینے ایہے۔ تے اڈی کھیڈ اکھیاں بچا کے شروع تھی وینی ایہی ۔کلاساں نیں سرے اتے جہڑا جاکت ایٹھا ویا ہونا ایہا او آپڑیں نال آکے جاکتے آں ہک زور نال مُکا مار دینا ایہا۔ یا چُونڈی پا دینا ایہا۔ اگلا جاکت بغیر احتجاج نے اگلے آں مُکا ٹھوک دینا ایہا۔ تے ای سلسلہ آخری جاکتے تک وینا ایہا۔ بعض دفعہ سخت مُکا لگنے تے جاکتاں نی ہائے نکل وینی ایہی۔ جہڑی ماسٹر سُنڑ گھینا ایہا ۔تفتیش اتے سارے چپ کر وینے اے تے ساریاں جاکتاں ماسٹر اری کَن نَپا دینے ایہے۔ اتوں تُوتے نی چِھمُک وسا دینے ایہے۔ اسی سی سی کر کے ہسنے ایہاں جہڑا دھباکی نی شَکیت لینا ایہا چھٹی تے سارے جاکت اساں کُٹینے بی ایہے ۔نالے کَھچاں بی مرینے ایہے۔ زِمداراں نے جاکت تاں مُکے نال ساہ کڈ گھینے ایہے۔ لیکن اڈے ہتھ وی ایڈے کچے نئیں ایہے۔ عموما کمزور جاکت گھر ونج کے شکیت لا دینے ایہے دوئے دیہاڑے اس نی ما یا پیو سکول ماسٹر اگے شکیت واسے آنے ایہے وت دوبارے کَن نپڑیں پونے ایہے۔ لیکن مُکا مارنے تے مُکا جَھلڑیں نی چَس بڑی آنی ایہی۔ اِس کھیڈاں جوانمردی سمجھا وینا ایہا۔
ڈھذے:۔
ڈَھزہ لوہے نے ہِک نَٹے اِچ چھیگ کرا کے نَٹے آں ہِک سری نال ویلڈ کرا کے وِچ ہِک میکھ یا کِل لا کے بنڑینے ایہاں ۔ کِل نال ہِک رسی یا مضبوط تار لوا کے سری نال وَل دَوِینی ایہی۔ اس نے چھیگے اِچ گندرس پٹاس یا تِیلیِاں نالوں رنگ لاہ کے پا دینے ایہاں ۔اتے کِل چاڑ کے تاراں فُل ٹَیٹ کر کے وَل دے کے کسی پکی کَداں فرشے وٹے یا اِٹاں اُتے زور نال مرینے ایہاں ۔تے زور نال دھماکا ہونا ایہا تے اڈیاں دوڑاں لگ وینیاں ایہاں۔ کیوں جے جتھے ڈَھزہ لگنا ایہا۔ اُنھ گھر آلے باہر آ کے بِزتی کرینے ایہے نالے مرینے ایہے۔ اس واسے پیرے نیں تیز جاکت بہوں کامیاب ہونے ایہے۔
مانہہ یاد اے کی اسی ماِچساں ناں درجن درجن گِھن کے شبراتی آلی رات گرائیں توں باہر پڑاں اتے اجھ کے ڈھذے مرینے ایہاں ۔جس ناں آواز اُچا ہونا ایہا اُوہا جاکت کامیاب ہونا ایہا ۔راتی چائے، تے ساوے قہوے ناں وی بندوبست ہونا ایہا۔ شٙمشُرلی، ڈَھذے تے کھیندوآں اتے مٹی نال تیل پا کے نالے اگ لا کے شبراتی آلی راتی ہواو اِچ وگینے ایہاں۔ سارے سنگی راتی ہانگرے مرینے ایہے۔ تے مزے گھینے ایہے ۔ساری ساری رات دھماکیاں نی آواز کولوں گِدڑ ، لومڑ تے پَگھیاڑ وی ڈر کے دو ترے دیہاڑے گراں اِچ نیں وڑنے ایہے۔ ڈَھذے گرانواں اِچ ہن وی کدرے کدرے جاکت مرینِن۔ تے لوکاں ناں تراہ کڈھینِن۔ لیکن بہوں گھٹ ان کیونکہ آبادیاں ودھ گیاں تے لوگ وی چڑچڑے تھی گئے ان۔
نیزہ بازی:۔
نیزہ بازی امیراں نی کھیڈ ایہی۔ جہڑی گھوڑیاں اتے چَڑ کے گھوڑے نَسا کے کِلہ پٹڑاں پونا ایہا جس وچ ملک عطا خاں کُھنڈے گِراں آلا پوری دنیا تے مشہور ایہا۔ تے دُوآ نیزہ اپڑیں موڈھے تے رکھ کے نسنا پونا ایہا تے کجھ فاصلے توں سامنے زور نال وگاونڑاں ہونا ایہا جہڑا سکولاں اِچ سکھایا وینا ایہا۔ اڈے پنڈیگھیب نے ہائی سکوں وچ نیزہ بازی نی پریکٹس وچ ہک ڈُھلیاں نا جاکت نیزہ جَھڑَپ گِھینا ایہا ۔ہک دیہاڑے ہکی جاکتے نیزہ زور نال وگایا تے ڈُھلیاں نے جاکتے جھڑپڑاں کیتا تے نیزہ اس نے ہتھے چوں سلپ ہویا تے اس نی منجاں اِچ لگ کے دُوئے پلو نکل گیا اس نال اُو جاکت مر گیا ۔او نیزہ ہن وی پنڈی گھیب سکول وچ پیا وے۔ جس اُتے اس غریبے ناں خون لگا پیا۔ اس واقعے توں بعد والدین نے بچیاں تے نیزہ بازی کھیڈڑیں نی پابندی لا دتی ایہی۔
چار کانی:۔
چار کانی کھیڈ سرُوٹاں نے کانیاں نی بنڑنی ایہی۔ ہک گِٹھ لمے کانے آں وچوں چیر کے دو بنڑا گھنینے ایہاں۔ اِنج ہِک ہور کانا چِیر کے ٹوٹل چار کانے بنڑ وینے ایہے۔ ان چار کانے زِمّیِ اُتے سَٹینے ایہاں۔ جنہاں نیاں زِمّیِ اُتے مختلف شکلاں بنڑ وینیاں ایہاں ۔کُجھ کانے دُوئے کانیاں اتے چٙڑ وینے ایہے تے کجھ کانے اگوں تنگ تے پِچھوں کُھلے زِمّیِ اُتے ڈھانے ایہے ۔کجھ کانے بالکل برابر ڈھانے ایہے۔ اِنھ شکلاں ہی مختلف نمبر شو کرینیاں ایہاں۔ دو بندے اساں کھیڈنے ایہے۔ تے ای کھیڈ نِکیاں وڈیاں وچ بہوں مقبول ایہی۔
ایجیاں ہور وی کئی کھیڈاں اِوّن پر ہُن اتنیاں ہی کافی ن۔ کیونکہ مضمون بہوں لماں تھی گیا۔ اِنہاں کھیڈاں اِچ ہر علاقے نی مٹی ناں فرق بی ہونا۔ ہر گرائیں ناں تھوڑا بوہتا فرق کوئی مسئلہ نہیں اے۔ صرف ہیجے مضموناں اُتے بہوں گھٹ لکھا وینا جہڑا آنڑیں آلی نسل واسے کئی تحقیق نے راہ کُھلیسی۔