ساغرِ سم سلطان محمودبسمل کی غزلیات کامجموعہ ہے۔ غزل اپنی ہیئت میں مختصر گوئی کاایسافن ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ اہمیت اور مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ جدیدسائنسی ایجادات کی وجہ سے فاصلے سکڑ رہے ہیں۔ نت نئی حقیقتوں میں شب وروز اضافہ ہورہا ہے اور ان کے اظہار کے لیے جس موزوں ذریعہ کی ضرورت ہوسکتی ہے، وہ غزل ہی کاسانچہ ہے جس کاکینوس اس قدروسعت حاصل کرچکا ہے کہ حسن وعشق کے لطیف جذبات واحساسات سے لے کرسیاسی اورنفسیاتی الجھنوں تک کے نئے نئے پہلوغزل کے اشعارمیںبڑی خوب صورتی سے ڈھل جاتے ہیں اور انسانی ذہن کے لیے مستقل جمالیاتی حظ کاذریعہ بنتے ہیں۔ جدیددور کے انسان کی ازحد مصروف زندگی میں اب پہلے جیسی طویل نثری وشعری تحریریں پڑھنے کے لیے فرصت کم سے کم ہوتی جاتی ہے مگر اس کم فرصتی کے باوجوداُردوغزل اپنی جاذبیت کوپوری طرح قائم رکھے ہوئے ہے۔
سردارسلطان محمودبسمل نے بھی غزل ہی کواظہار کے لیے موزوں خیال کیا ہے اور وہ ایسے دورمیں غزل کہہ رہے ہیں جس میںشعری ادب کی ہرروایت کوناقابلِ برداشت بوجھ سمجھ کرسرسے اتارپھینکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ موجودہ دور کے لکھاری کوشاید اس بات کاابھی کوئی احساس نہیں کہ ماضی سے کٹ کراسے کیانقصان اُٹھاناپڑے گا۔ بہرحال وہ اپنے جدیدتخلیقی رویے سے کئی خوب صورت الفاظ مسحورکن MYTHSٹکسالی تراکیب اور لطیف علامات سے محروم ہوچکا ہے۔ نئے موضوعات کے ساتھ ساتھ نئے الفاظ اورتراکیب کی بھرمارسے شعری ادب اپنی فطری ملائمت اور روانی کھوکراجنبی راہوں میں خاک بسر راہی دکھائی دینے لگا ہے۔ کوئی مابعدادبی روایت اگر تخلیقی اذہان کے لیے مسموم فضا پیدا کرتی ہے تو قلم برداشتہ جدت طرازی بھی بھونڈے تجرباتی رویے کوجنم دیتی ہے جس طرح بہتے پانی میں عکس دھندلے اورنقش بگڑے ہوئے نظرآتے ہیں۔ خشک تجرباتی فضا بھی زندگی کے لطیف جمالیاتی پہلوؤں کواپنے اصلی رنگوں میں پیش نہیں کرپاتی جس سے قاری اورقلمکار کے درمیان رابطے کی فضا فاصلوں میں بدل کر دھندلانے لگتی ہے۔
مگرسردارسلطان محمودبسمل نہ توکسی ادبی روایت کی غلامانہ پابندی کے قائل ہیں اورنہ مجرد جدیدیت کاسہارا لے کرشعرکہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل کے اشعارعام طورپر واضح رنگوں اورتھرکتی روشنیوں کاعکس دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کی غزل عام فہم اورہرقسم کے ابہام سے پاک ہے۔ بسمل اپنے قاری کوکسی قسم کے امتحان میں نہیں ڈالتے۔ اُن کے شعری مطالب الفاظ کی فطری سطح پرلکھے صاف پڑھے جاتے ہیں ۔تہہ میں کہیں کچلے یا مسلے ہوئے نہیں ملتے۔سردار سلطان محمودبسمل نہ توکانوں سے دیکھنے کاکام لیتے ہیں اور نہ کبھی آنکھوں سے سونگھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ علامت درعلامت الجھاؤ ان کی شاعرانہ طبیعت کے خلاف ہے۔وہ برملابات کہنے کے عادی ہیں اوریہی رویہ ان کی غزل میں نکھر کرسامنے آتاہے۔ سردار سلطان محمودبسمل آج تک کی اُردوغزل کی توانا روایت کاپورا احساس رکھتے ہیں اورجدید غزل کے شعری رجحانات سے بھی ناآشنا نہیں۔
ساغر سم سلطان محمودبسملؔ کی غزلیات کامجموعہ ہے۔ غزل اپنی ہیئت میں مختصر گوئی کاایسافن ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زیادہ اہمیت اور مقبولیت حاصل کررہا ہے۔ جدیدسائنسی ایجادات کی وجہ سے فاصلے سکڑ رہے ہیں۔ نت نئی حقیقتوں میں شب وروز اضافہ ہورہا ہے اور ان کے اظہار کے لیے جس موزوں ذریعہ کی ضرورت ہوسکتی ہے، وہ غزل ہی کاسانچہ ہے جس کاکینوس اس قدروسعت حاصل کرچکا ہے کہ حسن وعشق کے لطیف جذبات واحساسات سے لے کرسیاسی اورنفسیاتی الجھنوں تک کے نئے نئے پہلوغزل کے اشعارمیںبڑی خوب صورتی سے ڈھل جاتے ہیں اور انسانی ذہن کے لیے مستقل جمالیاتی حظ کاذریعہ بنتے ہیں۔ جدیددور کے انسان کی ازحد مصروف زندگی میں اب پہلے جیسی طویل نثری وشعری تحریریں پڑھنے کے لیے فرصت کم سے کم ہوتی جاتی ہے مگر اس کم فرصتی کے باوجود اُردو غزل اپنی جاذبیت کو پوری طرح قائم رکھے ہوئے ہے۔
سردارسلطان محمودبسملؔ نے بھی غزل ہی کواظہار کے لیے موزوں خیال کیا ہے اور وہ ایسے دورمیں غزل کہہ رہے ہیں جس میں شعری ادب کی ہرروایت کوناقابلِ برداشت بوجھ سمجھ کرسرسے اتار پھینکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ موجودہ دور کے لکھاری کوشاید اس بات کاابھی کوئی احساس نہیں کہ ماضی سے کٹ کر اسے کیا نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ بہرحال وہ اپنے جدیدتخلیقی رویے سے کئی خوب صورت الفاظ مسحورکن MYTHSٹکسالی تراکیب اور لطیف علامات سے محروم ہوچکا ہے۔ نئے موضوعات کے ساتھ ساتھ نئے الفاظ اورتراکیب کی بھرمارسے شعری ادب اپنی فطری ملائمت اور روانی کھو کر اجنبی راہوں میں خاک بسر راہی دکھائی دینے لگا ہے۔ کوئی مابعدادبی روایت اگر تخلیقی اذہان کے لیے مسموم فضا پیدا کرتی ہے تو قلم برداشتہ جدت طرازی بھی بھونڈے تجرباتی رویے کوجنم دیتی ہے جس طرح بہتے پانی میں عکس دھندلے اورنقش بگڑے ہوئے نظرآتے ہیں۔ خشک تجرباتی فضا بھی زندگی کے لطیف جمالیاتی پہلوئوں کواپنے اصلی رنگوں میںپیش نہیں کرپاتی جس سے قاری اورقلمکار کے درمیان رابطے کی فضا فاصلوں میں بدل کر دھندلانے لگتی ہے۔ مگرسردارسلطان محمودبسملؔ نہ توکسی ادبی روایت کی غلامانہ پابندی کے قائل ہیں اورنہ مجرد جدیدیت کاسہارا لے کرشعرکہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزل کے اشعارعام طورپر واضح رنگوں اورتھرکتی روشنیوں کاعکس دکھائی دیتے ہیں۔ اُن کی غزل عام فہم اورہرقسم کے ابہام سے پاک ہے۔ بسملؔ اپنے قاری کوکسی قسم کے امتحان میں نہیں ڈالتے۔ اُن کے شعری مطالب الفاظ کی فطری سطح پرلکھے صاف پڑھے جاتے ہیں ۔تہہ میں کہیں کچلے یا مسلے ہوئے نہیں ملتے۔سردار سلطان محمودبسملؔ نہ توکانوں سے دیکھنے کاکام لیتے ہیں اور نہ کبھی آنکھوں سے سونگھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ علامت درعلامت الجھاؤ ان کی شاعرانہ طبیعت کے خلاف ہے۔وہ برملا بات کہنے کے عادی ہیں اوریہی رویہ ان کی غزل میں نکھر کرسامنے آتاہے۔ سردار سلطان محمودبسملؔ آج تک کی اُردوغزل کی تواناروایت کاپورااحساس رکھتے ہیں اورجدید غزل کے شعری رجحانات سے بھی ناآشنا نہیں۔
کیمپبل پور کی سرزمین نے (میں نے جان بوجھ کر اٹک نہیں لکھا اس لیے کہ مجھے یہ نام کبھی اچھا نہیں لگا) پاکستان کو ہر میدان میں زندگی کے ہر شعبے میں نامی افراد دیئے ہیں، ادب کے حوالے سے بھی یہ سرزمین بہت زرخیز ہے یہاں ادب کی ہر صِنف میں اعلیٰ اور معیاری لکھنے والوں کی ایسی بڑی تعداد موجود ہے کہ ہم کیمپبلپور کو ایک دبستان کہہ سکتے ہیں، اسی دبستانِ کیمپبلپور میں ایک بڑا، معتبر اور اہم نام جنابِ سردار سلطان محمود خان بسؔمل مرحوم و مغفور کا ہے
میرے ہاتھوں میں اس وقت کلیاتِ بسؔمل ہے اور میں اس کے مطالعے میں بہ دل و جاں مگن ہوں، سردار صاحب کی زندگی میں شاید دو ہی کتابیں اشاعت آشنا ہوئی تھیں ساغرِ سم، اور زندگی کے میلے میں، اور اب اُن کی وفات کے 16 سال بعد اُن کے بیٹوں سردار ساجد خان اور سردار باقر رضا خان نے اپنے مرحوم والد کی غیر مطبوعہ تین کتابوں تلخاب، خواب میں جنگل اور نوائے دل سمیت کلیات چھپوانے کا اہتمام کیا کتاب کا نہایت خُوبصُورت سرورق آغا جہانگیر علی نقوی البُخاری نے تخلیق کیا اور طباعت کی ذمہ داری ادارہ جمالیات اٹک نے ادا کی قابلِ ستائش بات یہ ہے کہ سردار ساجد صاحب نے اپنے والد کا یہ خُوبصُورت کلام سنبھال کر رکھا اور ایک خطیر رقم خرچ کر کے چھپوایا، اس طرح نہ صرف کلام محفوظ ہوا بلکہ سردار سلطان محمود خان بسؔمل صاحب اور فرزندان کا نام بھی تاریخ میں زندہ رہے گا، اِن شآء اللہ
نہ میں شاعر ہوں اور نہ ادیب ، ہاں اچھے اور بامعنی و مفید ادب سے عشق کی حد تک محبت رکھتا ہوں، میں سردار سلطان محمود خان بسؔمل مرحوم و مغفور کا اور ان کے بیٹوں سردار ساجد خان اور سردار باقر رضا خان کی محبتوں کا مقروض ہوں، نہ میری نثر اچھی نہ میرا علم اور مشاہدہ کہ اتنی بڑی شخصیت اور اس کے فن پر کچھ کہہ سکوں مگر ان محبتوں کا کچھ تھوڑا سا قرض چکانے کے لیے قلم اُٹھا لیا ہے البتہ میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اپنی کم مائیگی کا احساس ہے مجھے،
سردار سلطان محمود خان کھٹڑ قبیلے کے ایک بڑے اور معروف زمیندار سردار محمد خان کے ہاں 31 جولائی 1933 کو پیدا ہوئے، ضلع کیمبل پور میں یہ قبیلہ اپنی مخصوص پہچان اور روایات رکھتا ہے، سیاسی حوالے سے بھی ایک مضبوط اور مستحکم تاریخ رکھتا ہے اور علمی و ادبی حوالہ بھی نہایت شاندار ہے بسؔمل صاحب بھی انہی اعلیٰ روایتوں کے امین تھے اور ان روایات کو زندگی بھر یوں نبھایا کہ اُن سے ملنے والا، اُن کی محفل میں بیٹھنے والا کوئی بھی شخص اُن کو آج تک بُھلا نہیں پایا، بہترین مہمان نواز اور شفیق ہستی ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک کھٹڑ سردار بھی تھے جس کا اظہار ان کی شاعری میں اکثر ملتا ہے مثال کے طور پر یہ شعر ملاحظہ فرمائیں
پوچھیں گے نہ وہ حال اگر اپنی زباں سے مر جائیں گے اظہارِ تمنا نہ کریں گے
سردار صاحب فطری طور پر شاعر تھے اور بہت بچپنے میں ہی شعر موزوں کر لیتے تھے میرے خیال میں شاعری ہے ہی خُدا داد صلاحیت کا نام، شاعر ہوتا ہے، شاعر بنا نہیں جا سکتا، اور جو بنتے ہیں اُن کی شاعری خُود بتا دیتی ہے، بسؔمل صاحب کی شاعری معانی و مطالب سے بھرپور مگر آسان اور عام فہم ہے، اور جو کچھ دیکھتے ہیں اسے بے ساختہ شعر میں ڈھال لیتے ہیں اور یہی فطری شاعر کا کمال ہوتا ہے دو اشعار بطور نمونہ پیش خدمت ہیں
کوئی تو ہو جسے سچ بولنے کا یارا ہو کہ اب تو جھوٹ کے پرچم اُٹھائے جاتے ہیں
جھوٹ کہنا ہے اک گناہِ عظیم سچ کا اظہار بھی مصیبت ہے
لفظِ شعر کا منبع و ماخذ شعور ہے یعنی کسی شے کے بارے میں جاننا یا سوچنا، اور شاعری دراصل ایسا منظم کلام جس میں علم اور سوچ کا عمل دخل ہو، باشعور انسان ہی حساس بھی ہوتا ہے چنانچہ سلطان محمود بسؔمل صاحب کی شاعری حساسیت سے پُر ہے دو اشعار دیکھئے
بیتِ حوادث میں رہتا ہوں ہر دم وار نیا سہتا ہوں
زیست کےٹھکرائے لوگوں کی درد انگیز صدا سنتا ہوں
پُر اثر شاعری کے لیے سب سے بنیادی شرط کائنات اور موجودات کا علم ہے، آفاقی سچائیوں کو خاص انداز اور باریک بینی سے جانچنے کی صلاحیت ہے اور یہی چیز شاعر کے اندر منفرد تخیلات کو جنم دیتی ہے اور بسؔمل صاحب کے کلام میں یہ انفرادیت جا بجا ملتی ہے بطور مثال دو اشعار ملاحظہ کیجئے
محل کے سامنےاک شور تھا قیامت کا امیرِ شہر کو اونچا سنائی دیتا تھا
بِکنے لگا ہے پھر کوئی یوسف ستم زدہ سجنے لگا ہے مصر کا بازار دیکھنا
شاعری کی خُدا داد صلاحیت، علم اور تخیل کے ساتھ ساتھ موزوں الفاظ کا چُناؤ اور عمدہ بیانیہ بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، وہی شعر بہترین کہلانے کا حق دار ہو سکتا ہے جس میں علم کی بلندی، خیال کی پختگی، الفاظ کا ارفع چُناؤ اور انشاء پردازی بہ یک وقت موجود ہو اور اس کی مثال کلامِ بسؔمل میں دیکھیے،
وہی شہر ہے، وہی رہگزر، وہی لوگ ہیں، وہی بام و در جنہیں ڈھونڈتی ہے میری نظر وہ اُفق کے پار چلے گئے
نہ گِلے ہیں اب نہ شکایتیں، نہ تیرے ستم کی حکایتیں تیری بزمِ ناز کو چھوڑ کر ، تیرے دل فگار چلے گئے
کیوں تُجھ کو تعجب ہے میری کم سُخنی پر اِک عمر تغافل کا سزاوار رہا ہوں
اچھی اور معیاری شاعری انسان کے جمالیاتی ذوق اور احساسات کی پرورش کرتی ہے میں اکثر کہا کرتا ہوں کہ شاعر بعض اوقات دو مصرعوں میں ایسی بات کہہ جاتا ہے کہ اگر اس شعر کو کھولا جائے تو ایک پوری کتاب وجود میں آ جائے اور ایک فطری شاعر بعض اوقات ایسا تخیل مضمون میں ڈھال دیتا ہے جو وقت اور زمانے کی قید سے آزاد ہوتے ہیں اور بعض مراحل پر گزرے حالات و واقعات کو کچھ ایسے انداز میں بیان کر دیتا ہے کہ جیسے ابھی اس کے سامنے وقوع پذیر ہو رہے ہوں اور پڑھنے یا سننے والا اپنے آپ کو اس مقام پر محسوس کرتا ہے کہ جیسے وہ اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہے اور یہی خوبی نہ صرف شعر اور شاعر کے مقام و مرتبے کا تعین کرتی ہے بلکہ شاعر کو ہر دلعزیز اور مقبول بناتی ہے آئیے کلیاتِ بسؔمل میں سے کچھ اشعار ایسے تلاش کرتے ہیں
دماغ عرش پہ ہے اور سر ہے سجدے میں عجب سرور ہے طاری حریمِ کعبہ میں
سنائی دیتی ہے کانوں میں رات دن بسؔمل صدائے گریہ و زاری حریمِ کعبہ میں
دل میں رسولِ ؐپاک کی اُلفت لیے ہوئے پھر جا رہا ہوں شوقِ زیارت لیے ہوئے رشکِ چمن ہے شہرِ مدینہ کی ہر گلی ہر رہگذر ہے حُسنِ لطافت لیے ہوئے یہ بھی کرم ہے مُجھ پہ رسولِ ؐکریم کا میرا سخن ہے بحرِ فصاحت لیے ہوئے
خاکِ مقتل ہے جس کی خاکِ شفاء عجب اکثیر ہے حسینؑ کا نام اسم ہائے دعا ہیں پانچوں تن عجب اکثیر ہے حسین ؑکا نام درسِ عبرت ہے آج نامِ یزید وجہِ توقیر ہے حسینؑ کا نام
سردار سلطان محمود خان بسؔمل ایک نستعلیق شخصیت، بلند پایہ شاعر اپنے قبیلے کا ہر دلعزیز سردار 12 جنوری 2004 کو اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے اور اپنے بارے میں کیا ہی مبنی بر حقیقت کہہ گئے کہ
نہ جانے کب ملے گا پھر وہ بسؔمل بہاریں چھوڑ کر جو جا رہا ہے
اللہ تعالیٰ سردار بسؔمل صاحب کی بخشش فرمائے اور بہشت بریں میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین
میل کلومیٹروں میں بدلے تو جناب عبدالقادرحسن نے لکھا میٹرک نظام اوزان کے رواج پذیر ہونے سے جہاں تاجر طبقے کو ڈنڈی مارنے اور فوری فوائد حاصل کرنے کے مواقع میسر آئے ہیں۔ وہاں کچھ لوگوں کو فوری نقصانات کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ اور ان لوگوں میں محض صارفین ہی شمار نہیں ہوتے بلکہ وہ مورخین بھی شامل ہیں۔ جو جذبات واحساسات کی تاریخ لکھتے ہیں اورعرف عام میں شاعر کہلاتے ہیں اورمیٹرک نظام اوزان ے رائج ہونے سے نقصان انہیں یہ ہوا ہے کہ اب وہ اس طرح کے شعر نہیں لکھ سکیں گے۔
طے کرے گی چکور کیا ماجد چاند تک فاصلہ ہے میلوں کا
اس لئے کہ اب میلوں کی جگہ کلومیٹروں نے لے لی ہے۔وقت نے پانسہ پلٹا تو شہروں کے نام بھی بدل گئے۔ لائل پور، فیصل آباد ہوگیا۔ اور کیمبل پور، اٹک کہلانے لگا لیکن جس طرح ممکن نہیں کہ 1964ء میری زندگی میں دوبارہ آئے اورمیں لائل پور چلا جاؤں یا 1966ء میری زندگی میں لوٹ کر آجائے اور میں کیمبل پور کا رخ کروں۔ اسی طرح یہ بات بھی اب حد امکان سے باہر ہے کہ میں اپنے مذکورہ بالا شعر کوکیبمل پور کے نئے نام کی رعایت سے اسی لگن کے ساتھ از سر نو تخلیق کروں، جس لگن کے تحت یہ شعر کہا گیا تھا۔ تاہم میرے دیوان میں اس شعر کی موجودگی اس امر کی دلالت ضرور کرتی ہے کہ اٹک اور اہل اٹک سے میری وابستگی ایسی نہیں ہے جسے فراموش کیا جا سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ‘سرسنگیت’ شائع ہو یا ‘لہر لہر دریا’، ‘غیرعلامتی کہانی’ شائع ہو یا ‘کیہ جاناں میں کون ‘مجھے کیمبل پور سے چھپنے والے کسی بھی مجمو عہ نثرونظم کی اشاعت پر اتنی ہی طمانیت حاصل ہوتی ہے جتنی اپنی کسی کتاب کے چھپنے پر ۔ اور میری یہی نسبت ان رهروان راہ سخن سے ہے، جن کا تعلق اٹک سے ہے۔ لہذا طے ہے کہ سلطان محمود بسمؔل سے بھی میرا ناطہ دل و جان کا ہے لب و زبان کا نہیں۔
یہ اتفاق تھا کہ جن دنوں میں اٹک نہیں تھا۔ سلطان محمدبسمؔل یا تو اٹک سے باہر تھے۔ یا مجھ پر منکشف نہ تھے، اور ان سے میرا پہلا تعارف محبی آفتاب احمد شاه کے ذریعے تلہ گنگ میں ہوا۔ ان سے بعد میں جتنی ملاقاتیں بھی ہوئیں، مشاعروں میں ہوئیں اور اگر چہ ان ملاقاتوں کا دورانیہ کچھ زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ تاہم بسمؔل صاحب کی موثر شخصیت ذہانت اور فراخدلانہ میل ملاپ رفتہ رفتہ دل میں اترتے گئے اور اب کچھ مدت سے یوں ہے کہ بسمؔل صاحب اور میں ایک ہی شہرمیں ہیں لیکن دونوں جانب عالم کچھ ایسا ہے، جیسے میں انہیں ملوں تو میرے ہونٹوں پر یہ شعر ہوتا ہے۔
تلاش رزق سے ہٹ کر کہیں نہ چلنے دیں ضرورتیں کہ جو چھالا بنی ہیں پاؤں کا
اور وہ مجھے ملیں تو چھوٹتے ہی کچھ اس طرح کے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔
میں تیرے لئے ہوں مانتا ہوں مجھ کو غم روزگار بھی ہے
سلطان محمود بسمؔل کا کہنا ہے کہ شاعری سے ان کی نسبت ان دنوں سے جب وہ ضلع اٹک کے ایک گاؤں میں پرائمری جماعتوں کے طالب علم تھے اور ان کے صاحب ذوق ہیڈماسٹر انہیں اسمبلی میں اخلاق آموز نظمیں گانے کے لئے خصوصی طور پر تیار کرتے تھے۔ پھرجب وہ کالج میں آئے تو گورنمنٹ کالج اٹک میں ڈاکٹر غلام جیلانی برق اورسید ضمیر جفری جیسے اصحاب کی چھوڑی ہوئی ادبی روایات اور فتح محمد ملک، شورش ملک ،شفقت تنویر مرزا اور منو بھائی جیسے نوجوانوں کی کالج میں موجودگی ان کی شعری صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں بے حد ممد و معاون ثابت ہوئیں۔ ان کا کہناہے۔ کہ اسی دوران میں ان کی زندگی میں ایک ایسا جذباتی بحران پیدا ہوا جس کے باعث جوانی کے ان دنوں میں بھی جب ہرنظر مناظر کی تازگی اور ہر خیال حقائق کی دریافت کے لطف میں غرق ہو ہوجاتا ہے۔ زندگی کی رنگینی ان کے لئے بے معنی ہو کر رہ گئی اور جذباتی بحران ان کے ایک ہم جولی کی اچانک خودکشی کے واقعے سے سامنے آیا۔ اور ایک مدت تک آسیب کی طرح ان کے درپے رہا۔ لیکن اس بحران نے اتنا ضرور کیا کہ دنیاداری کے بے شمار قابل نفرت جذبات سے بسمل صاحب کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پلہ چھوٹ گیا اور وہ ایک آسودہ زندگی گزارنے لگے جس میں آلا ئشیں کم اور آسائشیں زیادہ ہوتی ہیں۔
سلطان محمود کی نکلتی قد و قامت اور غزالی آنکھیں ان کی چھیل چھبیلی جوانی کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھنے کی دعوت بھی دیتی ہے لیکن اگر اس شک کو الفاظ کا روپ مل بھی جائے تو وہ ایسے سوالات کو اپنی اس مخصوص مسکراہٹ کی کرنوں میں دبا دیتے ہیں جو مسکراہٹ کسی بھی صاف ستھرا ذہن رکھنے ولے شخص کے چہرے کا سنگھار ہوتی ہے۔
سلطان محود بسمؔل نے اپنے جذ بہ عشق کو کہیں آزمایا ہے یا نہیں ۔ لیکن انہیں اس جذبے سے یکسر عاری بھی نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس لئے کہ اس عظیم جذبے کی گرفت میں وہ اب بھی پوری طرح غرق دکھائی دیتے ہیں ۔ اضطراب ان کی طبیعت کا خاصہ اور سفر عشق ان کا مستقل نصیبہ ۔ وہ اپنے محبوبوں سے دور ہوں تو پارے کی طرح بے چین رہتے ہیں ۔ ان کا کھانا پینا اور ہنسنا مسکرانا حرام ہوجاتا ہے ۔ لیکن جونہی انہیں اپنے بندھنوں سے رہائی پانے میں کامیاب ہونے کا موقع میسر آتا ہے، زندگی کی کوئی بھی مصروفیت یا موسم کی کوئی بھی سنگینی ان کا راستہ نہیں روک سکتی اور احباب کی محفل ہو یا کسی مہربان کی دعوت ولیمہ، وہ ہر امرضروریہ کو پس پشت ڈال کر پیڑ کے بازوؤں سے پکے ہوئے پھل کی طرح نکل کر یہ جا وہ جا کسی کے ہاتھی نہیں آتے ۔ لیکن ان کا یہ عشق بھی ان کی طبیعت کی طرح قطعی جداگانہ نوعیت کا ہے۔ وہی عشق جو خون کے رشتوں کاعشق کہلاتا ہے اور عرف عام میں جسے شفقت پدری کا نام دیا جاتاہے۔
سلطان محمود بسملؔ صاحب اپنے پوتوں نواب علی اور علی عباس کو گود میں لئے ہوئے
سلطان محمودبسمؔل یاروں کے یار ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا کمال یہ بھی ہے کہ ان کے انہی یاروں میں ایک یار ان کامنصبی عہدہ بھی ہے۔ لہذاجس طرح وہ اپنے کسی حبیب سے آنکھ چرانے کے مرتکب نہیں ہوتے۔ اسی طرح وہ اپنے منصب سے بھی ہمیشہ یوں منسلک رہتے ہیں جیسے کسی کم بجلی والے علاقے میں الیکٹرک ریگولیٹری ٹی وی سیٹ یا ریفریجریٹر پیر کے ساتھ منسلک رہتا ہے اورکبھی کوئی نخرہ دکھانے کا چارہ نہیں کرتا۔
سلطان محمود بسمؔل کو غالب اور اقبال کے بعد فیض اور فراز جیسے شعرا سے بھی نسبت ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ جس طرح کسی اخبار کے ایڈیٹر کا مراسلہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہوتا اسی طرح فیض اور فراز کے نظریات سے ان کا متفق ہونا بھی ضروری نہیں۔
تاہم وہ بعض پہلوؤں سے اپنے شعری سفر میں ان سے اکتساب بھی کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فکری محفلوں سے دور رہنے کے باوجود ان کی اپنی شاعری میں بھی متعدد ایسے نقوش ابھرنے لگتے ہیں جن کا تعلق محض غم ذات سے نہیں ہوتا۔
سلطان محمود بسمؔل غزل اور قطعہ کو اپنے اظہار کا ذریعہ بناتے ہیں اورنظم کا پیمانہ وہ صرف اس وقت استعمال کرتے ہیں جب انہیں اپنے وطن یا اپنے عقائد کے حق میں کچھ کہنا ہو لہذا وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں اس میں محض سلاست اور روانی ہی نہیں ہوتی، معنوی گہرائی بھی ہوتی ہے اور کچھ ایسی پرتیں بھی جو کسی بھی شاعر کی انفرادیت کو ابھارتی اور اسے استوار کر تی ہیں اور اس کے شعروسخن کو ایک خاص ذائقه بخشتی ہیں اور جن کی گواہی ان کے آیندہ سطور میں دیئے گئے اشعار سے ہمیں جا بجا ملتی ہے۔
جنہیں اپنے اثاثوں کی پڑی ہے انہیں کہہ دو قضا سر پہ کھڑی ہے
یہ نکتہ جان لیں اہلِ گلستاں سزا جرمِ ضعیفی کی کڑی ہے
دشمنِ حرفت آدمی، آدمی دوستو! انتہائے ستم ہوگئی
پہلے دھرتی کے روگ ختم کرو پھر بسیرا کرو خلاؤں میں
وہ میرا کرب کیا جانے کہ جس نے مرا زخم جگر دیکھا نہیں ہے
جو پہلے تھا اب اس جیسا نہیں ہے یہ میرے باغ کا نقشہ نہیں ہے
حیات گردش پیہم کا نام ہے بسملؔ بچھڑ کے ملنا اور مل کے پھر بچھڑنا ہے
اُسی نے مجھ کو رُلایا بھی اور ہنسایا بھی وہ شخص جو میرا قاتل اور مسیحا بھی
ٹوٹ کے میں اُس دن رویا تھا جس دن مجھ سے تو بچھڑا تھا
یہ کون سی منزل ہے رہِ شوق میں یارو بے ساختہ رہزن کو دعا دینے لگے ہو
اک داغ تھا کہ جس کا نشاں تک نہیں رہا اک زخم تھا کہ گردشِ دوراں سے بھر گیا
کہتا ہے کہ حق بات کا اظہار کرے گا یہ دل مجھے رسوا سرِ بازار کرے گا
ذرّوں میں بھی ظہور ہے تیری ہی ذات کا مشکل یہ آپڑی ہے کہ سجدہ کہاں کروں
یہ امتیاز آقا و محتاج تا بہ کے یہ نفرتیں دلوں سے مٹاؤ تو بات بنے
اظہارِ حقیقت نہ ہوا آپ سے واعظ یہ کام تو ہم سا کوئی مے خوار کرے گا
ماجد صدیقی خیابان سرسیّد کالونی، راولپنڈی
یہ تبصرہ جناب ماجد صدیقی نے جناب سلطان محمود بسملؔ کی پہلی کتاب ‘ ساغر سم ‘ کے لئے لکھا تھا
نواحی دیھات اور آبادیوں کے ذکر کے بغیر ، پرانے کیمبل پور کی تاریخ ، ادھوری ، لولی ، لنگڑی ، پھیکی اور بے رنگ ہوگی ۔ اس شھر کی اسٹیج پہ سجنے والے ، زندگی کے ہر ڈرامے میں ، ان دیہات کے لوگوں نے اہم کردار ادا کئے ۔ پرانا اور ابتدائی شھر تو ایک ماسٹر پلان کے تحت وجود میں آیا لیکن دائیں بائیں کے محلے اور نئی آبادیاں خود رو پودوں کی طرح ، ایسا منظر پیش کرتی تھیں ، جسطرح کسی کسان نے ، ” چھٹا ” مارکر گندم بوئی ہو ، دو گھر یہاں تو چار وھاں ، بیچ میں خالی میدان ، پگڈنڈیاں ، کچےراستے اور گزرگاھیں ۔ اس دلکش اور خوبصورت پس منظر میں ، سویرا ہوتے ہی ،سورج دیوتا کی اولین اور ننھی منی کرنوں کے جلو میں ، مذکورہ دیہات سے لوگوں کے قافلے کیمبل پور میں داخل ہوتے۔ اکثریت پیدل چل کر آتی ، تاہم کچھ لوگ تانگوں ، بیل گاڑیوں ، سائیکل اور جانوروں پہ سوار ہوکر ، شھری زندگی کے اس میلے کا حصہ بنتے ۔دیہات سے آنے والوں میں طلباء و طالبات ، معلمین و معلمات سرکاری و نجی ملازم ، تاجر ، وکیل ، ھنرمند ، مزدور اور کورٹ کچہری میں مقدمات کی پیروی کرنے والوں سے لیکر سائیں ، ملنگ اور فقیر تک شامل ہوتے ۔ جن دیہات میں چاھی زمینں تھیں وہاں کے لوگ تازہ سبزیاں اور دیسی پھل ، کالا چٹا کے دامن میں بسنے والے ، جلانے کی لکڑی ، پہاڑ میں سے جمع کیا ہوا ، جانوروں کا سوکھا گوبر ، دیسی مرغیاں اور انڈے ، بھیڑ بکریوں کا دودھ ، دیسی بکرے ، موسم گرما کی سوغاتیں ، گنگیر ، میٹھے خربوزے اور دیگر اشیاء خورد نوش لاکر فروخت کرتے اور واپسی پر آٹا ، چاول ، مرچ مصالحے ، کپڑا ، جوتے وغیرہ ، حسب ضرورت خرید کر لیجاتے ۔ ذرائع ابلاغ نہ ہونے کے برابر تھے ، ریڈیو کم کم ، ٹیلیوژن ندارد ، ٹیلیفون کی لینڈ لائن شھر کی حد تک اور وہ بھی روساء کے پاس ، موبائل فون اور سوشل میڈیا ابھی ایجاد نہیں ہوئے تھے لھذا خبریں ، سینہ بہ سینہ گشت کرتی تھیں ، باھر سے آنے والے افراد اور قافلوں کو روک کر پوچھا جاتا تھا ، کہاں سے آئے ہو ، فلاں گاوں سے ، اچھا ، کرم دین بیمار تھا ، اس کا کیا حال ہے ، جی ، اب بہتر ہے ، فلاں پیر صاحب سے دم کروایا، اب روبصحت ہے ۔ فلاں شخص شھر نہیں آرھا ، خیریت تو ہے ، جی اس کا بھائی فوج سے چھٹی آیا ہوا ہے ، اس کی شادی میں لگے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح دیہات سے آنے والے یہ افراد ، شھر سے نئی معلومات اور سنی سنائی خبریں ساتھ لے جاتے تھے ۔ جسطرح آج ، ٹیلیوژن پہ ٹاک شوز ہوتے ہیں ، اسی طرح یہ پیدل چلنے والے ، راستے بھر مختلف موضوعات پہ بحث کرتے اور حصول معلومات کے ساتھ ساتھ سفر بھی بہ آسانی طے ہوجاتا۔ اطراف کی آبادیوں سے مالکان اور خان خوانین ، عام جنتا کے برعکس ، گھوڑوں پہ سوار ہوکر ، شھر تشریف لاتے ، صحتمند جسم ، سفید شلوار قمیص ، سفید شملے دار پگڑی ، پاوں میں قیمتی کھیڑی ، پوری شان و شوکت سے نمودار ہوتے ، راہ چلتوں سے سلام دعاء کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ۔ منزل پہ پہنچ کر گھوڑا سائے میں باندھ دیا , کام نمٹایا اور خان صاحب کی سواری واپس چل دی . موٹر کار خال خال نظر آتی تھی ، روساء نے اپنے استعمال کے لئے ذاتی تانگے رکھے ہوئے تھے جنھیں بوقت ضرورت جوت کر استعمال میں لایا جاتا تھا ۔ مثلا ، ہماری آبادی میں ایک تحصیلدار صاحب تھے ، سردار سلطان محمود خان بسمل مرحوم ، انہوں نے اپنے بچوں کے اسکول آنے جانے کے لئے ، ایک خوبصورت گھوڑی تانگہ رکھا ہوا تھا ۔ ہر صبح ان کا کوچوان انہیں لیکر جاتا اور چھٹی کے بعد واپس لاتا ۔
سردار سلطان محمود خان بسمل مرحوم
بات دیہات کی ہورہی تھی تو عرض ہے ، ایندھن کے حوالے سے ، وہ لکڑی اور کوئلے کے استعمال کا ذمانہ تھا ، مٹی کے تیل کا چولھا عام نہیں تھا ، گیس ابھی دریافت کے ابتدائی دور میں تھی لھذا کالا چٹا پہاڑ کی لکڑی کیمبل پور کے ایندھن کی ضروریات پوری کرتی تھی ۔ پہاڑ کے قریب آبادیوں کے لوگ جنگل سے لکڑی کاٹ کر شھر لاتے اور اس طرح شھروالوں کے چولہے جلتے ۔