ہَوا ہے گو تُند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے

محترم آغا جہانگیر بُخاری صاحب گوناگوں صلاحیتوں کے حامل ہمہ جہت شخصیت ہیں اور بہت سے ایسے کام کر رہے ہیں جن کی افادیت آج سے زیادہ آنے والے زمانوں میں محسوس کی جائے گی، اٹک کے نام سے آغا صاحب نے ایک نئی ویب سائٹ بنائی ہے جس کا عنوان زمین، زندگی، زمانہ  ہے ؛ علمِ تاریخ کے یہی تو بنیادی ترین مآخذ ہیں
لفظِ تاریخ عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مصدر ,, اَرَخَ ،، ہے، جس کے معنی ہیں دِن، عرصہ/وقت کو لکھنا ، لکھنے والے کو مؤرخ اور لکھی گئی تحریر کو تاریخ کہتے ہیں ، ہر دور کی موجودہ نسل اپنے زمین یعنی علاقے؛ زندگی اور زمانے میں وقوع پذیر ہونے والے انفرادی و اجتماعی حالات و واقعات کو لکھتی ہے اور وہی آنے والی نسلوں کے لیئے قیمتی سرمایہ اور تاریخ بن جاتی ہے، فائدہ اس عمل کا یہ ہوتا ہے کہ آنے والی نسلیں گذشتہ نسلوں کے انفرادی و اجتماعی تجربات سے آگاہ ہوتی ہیں، سود مند تجربات سے استفادہ اور نقصان دہ تجربات سے عبرت پکڑتے ہوئے زندگی کا یہ کارواں ترقی و تمدن کے ساتھ رواں دواں رہتا ہے
ماضی میں تاریخ کے ساتھ ایک ظُلم یہ ہُوا کہ ملوک و بادشاہانِ وقت نے اپنے وقت کے علمائے تاریخ سے دھونس اور دولت کے ذریعے زبردستی اپنی مرضی کہ تاریخ لکھوائی، مگر ساتھ ہی ساتھ حق گو علمائے تاریخ نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہوئے سچ بھی لکھا، مگر تاریخ مخلوط ہونے کی وجہ سے سچ تک رسائی مشکل ہو گئی ، حقیقی تاریخ کو قصہ گوئی یا افسانہ نگاری سے مبری ہونا چاہیے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیئے آئینہ اور درسِ عبرت بن سکے اور انسانی تمدن جمود کا شکار ہوئے بغیر ترقی کا سفر جاری رکھ سکے؛ یہاں یہ بات بھی دُکھ کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اسلامی تاریخ کو بہت زیادہ مسخ کیا گیا ؛ جس کی وجہ سے اسلامی معاشرے ممکنہ حد تک ترقی نہ پا سکے  بلکہ آج بھی تنزلی کا شکار ہیں
جو حالات و واقعات بقیدِ وقت لکھے جاتے ہیں؛ مؤرخ خُود مشاہدہ کر کے قلمبند کرتا ہے وہ زیادہ قابلِ بھروسہ تاریخ ہوتی ہے، اور آغا جہانگیر بُخاری صاحب کی کاوش آئندہ آنے والے زمانے کو زیادہ مستند اور قابلِ بھروسہ تاریخ دے گی جس پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کیا جا سکتا ہے؛ گزشتہ صدیوں کی تاریخ بھی مرتب کی جائے جو کہ ہمارے اجداد لکھنے سے قاصر رہے مگر مؤرخ پر اخلاقی فریضہ بنتا ہے کہ سینہ بہ سینہ ملنے والی روایات کو علمی قرائن پر پوری طرح پرکھ لے، راوی قابلِ بھروسہ ہوں؛ مؤرخ کا اپنا علم و کردار اور شخصیت بھی ہر لحاظ سے قابلِ اعتماد ہو، مجھے مکمل یقین ہے کہ آغا جہانگیر بُخاری صاحب  پوری پرکھ اور بھروسے کے بعد زمین؛ زندگی اور زمانے کی تاریخ اپنی ویب سائٹ پر لگائیں گے ، اور آنے والے زمانے اور زندگی کو قیمتی تاریخ دے کر جائیں گے؛ اِن شَآء اللہ ؛ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو؛ آمین
                                                                      سید مُونِس رضا 
   ٦/١١/٢٠٢٠   

در بارہ مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

یہ بھی دیکھیں

نسخہ

بیادرفتگان

خوش اخلاق, خوش لباس، خوبصورت، باوقار اور درویش صفت انسان کو 53 سال کی عمر میں وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں رات کی تاریکی میں شہید کر دیا گیا-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: