پروفیسر غلام ربانی فروغ کے لیے پنجابی سیوک ایوارڈ

اٹک (شہزاد حسین بھٹی سے) ملک گیر پنجابی تنظیم دل دریا پاکستان رجسٹرڈ اپنے قیام کے سات سال سے پنجابی زبان و ادب اور ثقافت کے میدان میں متحرک اور نمایاں افراد کو ہر سال پنجابی سیوک ایوارڈ پیش کرتی آ رہی ہے۔ امسال بھی یہ تنظیم پنجاب انسٹیٹوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کے باہمی تعاون سے “ستواں ورے وار ایوارڈ اکٹھ” 16 جولائی 2021 بروز جمعہ تین بجے پنجابی بیٹھک پلاک لاہور میں منعقد کر رہی ہے۔ جس میں پنجابی زبان و ادب، کلچر اور آرٹ کے میدان میں نمایاں کام کرنے والی شخصیات میں دل دریا پاکستان کی طرف سے ایوارڈز تقیسم کیے جائیں گے۔ ملک کے دیگر ممتاز لوگوں کے ساتھ ساتھ اٹک کی مہان علمی و ادبی شخصیت ممتاز ماہرِ تعلیم کئی کتابوں کے مصنف پروفیسر غلام ربانی فروغ پنجابی سیوک ایوارڈ کے لیے منتخب کیے گئےانہیں یہ ایوارڈ ان کی پنجابی کے لیے 50 سالہ ادبی خدمات اور ان کی مشہور پنجابی شاعری کی کتاب”وسنا رہوے گراں” پر دیا جا رہاہے۔

Professor Ghulam Rabbani Frogh
پروفیسر غلام ربانی فروغ پنجابی

آپ کو گورنمنٹ کالج پنڈی گھیب حضرو اٹک کے پنجابی کے پہلے پروفیسر کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ آپ اُردو اور پنجابی زبان بالخصوص کیمبل پوری لہجے کے منفرد شاعر ہیں۔ اُردو زبان میں لکھنے والے مقامی ادیبوں کو مقامی بولی مٰیں لکھنے کی تاکید کرتے رہتے ہیں۔معروف ادبی تنظیم “محفلِ شعرو ادب کے رُکن رہے ہیں۔ان کا ایک نعتیہ مجموعہ 2001 میں “حرف نیاز” کے نام سے شائع ہوا۔ علامہ اقبال اوپن یورنیورسٹی نے آپ کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ایک طالبہ مہرین مشتاق سے “غلام ربانی فروغ: فن اور شخصیت” پر مقالہ بھی لکھوا چکی ہے۔ سماجی و ادبی حلقوں کی طرف سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔اور دل دریا پاکستان تنظیم کی اس ادبی کاوش کو بھی سراہا جارہا ہے۔

iattock

شہزاد حسین بھٹی

ایم ایس سی ماس کیمونیکشن، ایل ایل بی
مصنف،صحافی و کالم نگار   لاہور

سیکرٹری انفارمیشن، پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ,پنجاب،

سابق ایڈیٹر ہفت روزہ “سین “

مصنف  “کمرہ نمبر 109” کالموں کا مجموعہ
ممبرنیشنل پریس کلب اسلام آباد،ممبرانٹرنیشنل پاور آف جرنلسٹس(آئی، پی، او ، جے)،
ممبر آل پاکستان جرنلسٹس کونسل(اے پی جے سی)،
ممبر ایمنسٹی انٹرنیشنل (اے آئی)

شہزاد حسین بھٹی

Next Post

ادبی دنیا کا گمنام روشن ستارہ ’’قمرالدین قمرؔ ‘‘جرولی

جمعہ جولائی 16 , 2021
قمر جرولی ؔکی شاعری سماجی اور معاشرتی عکاس کی ترجمانی کرتی نظر آتی ہے ،کیونکہ ان کے یہاںاردو، اودھی اور ہندی کے کلام ان کے وقار میں اضافہ کرتے نظر آتے ہیں۔
QAMAR JARWALI