قیامت کے بعد لکھی گئی نظم

خدا نے لاج جو رکھی مری سرِ محشر

مرے زمانے کو حیرت تھی میری بخش پر

کوئی کسی سے یہ کہتا تھا دیکھیے ایدھر

اسے نہ دیکھا کسی نے کبھی خدا کے گھر

یہاں پہ بیٹھے ہوئے ہیں جناب مسند پر

اِک اور جاننے والا بھی تھا بہت ششدر

وہ اس لیے کہ وہ رہتا تھا میرے ساتھ اکثر

اور ایک دشمنِ جاں کو بھی اختلاف ہوا

کہ یہ پلیدِ زمانۂ تھا کیسے صاف ہوا

وہی پکارا پتا تو کرو یہ کیا ہےبات!

جنابِ عالی کے دیکھے ہوئے ہیں معمولات

کہیں فریب سے آئے نہ ہوں یہ عالی جناب

وہاں بھی دنیا میں شہرت تھی اِن کی خاصی خراب

چنانچہ ایک فرشتہ وہاں بلایا گیا

او ر اُ س کے سامنے میرا سوال اُٹھایا گیا

تو اس نے اُن کو بتا یا قصیدہ گو ہے یہ

بہشت والے بھی سنتے تھے جس کو وہ ہے یہ

رسول پاکؐ کے یاروں کی بات لکھتا تھا

رسول زادیؑ کی ہر دم صفات لکھتا تھا

حسن ؑحسینؑ کے نانا کی نعت لکھتا تھا

اُنھیں کی لطف و عنایت کی اِس پہ بارش ہے

اِسے نہ چھیڑیے اِس کی بڑی سفارش ہے

نصرت بخاری

مدیر اعلی (اٹک ویب میگزین،آئی اٹک ڈاٹ کام)-- ایم فل --پروفیسر اردو --گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک

Next Post

جوئی بائیڈن اور کملا حارس کون ؟

منگل نومبر 10 , 2020
امریکہ میں کالا منتخب ہو یا چٹا ، اس سے ہماری سیاسی صحت پر کوئی اثر اس لئے نہیں پڑتا کہ امریکی قوم نے کم و بیش 3 سو سال کا سفر طے کرنےکے بعد ایک ہی بات سمجھی اور وہ یہ کہ ، ” ہمارا فائدہ کس بات میں ہے ” ان کی دوستی اور دشمنی اسی ایک اصول کے گرد گھومتی ہے ۔