باجرےکی روٹی، گُڑ اور ست رنگی کھکھڑیاں

باجرے کے سٹوں کا اپنا لطف تھا۔ کچا سٹا یا چھلی کی طرح بھونا ہوا سٹا تلی پرمروڑا جاتا ، پھونک مار تے تو بھوسی اڑ جاتی تلی پر دانے رہ جاتے ان کا پھکا مار لیتے۔باجرے کا قدرتی میٹھا آٹا ماتر بچوں کا پسندیدہ کھاجا تھا ۔زیادہ لاڈلے بچے باجرے کے آٹے میں چینی ڈال کرکھاتے تھے۔

1960 کے بعد باجرے، مکئی یا جوار کی روٹی ذائقہ بدلنے کے لئے پکاتے / کھاتے ۔اس سے پہلے بہت کم گھروں میں گندم کا سٹاک پورا سال چلتا تھا۔ سنا ہے کہ اکثر گھروں میں ساونی کی فصل کے بعد گندم کی جگہ مجبوری سے باجرے کی روٹی کھائی جاتی ۔ گھی / مکھن کے بغیر اس کو لسی کے زور پر گلے سے اتارا جاتا تھا۔ روزانہ باجرہ کھانے سے کچھ لوگوں کو قبض ہو جاتی ۔1952 میں چاچا ریاض کھوڑ ہائی اسکول میں پڑھتے تھے ان کو یہی تکلیف ہو گئی تو علاج کے لئے خالہ زاد عبدالقدوس کے پاس راولپنڈی آئے ۔ 1970 میں گندم کی کمی کی وجہ سے امریکی مکئی منگوائی گئی ۔ یہ مقامی مکئی سے تین گنا بڑی تھی ۔داڈھ والے ڈانٹ کی شکل کی تھی ۔اس کا ملہووالا میں ڈپو مستری عبدالخالق صاحب کے پاس تھا۔

باجرےکی روٹی، گُڑ اور ست رنگی کھکڑیاں

بچے گڑ يا اس قسم کی مزیدار چیز گھر بیٹھ کر نہیں کھاتے تھے ، بلکہ گلی میں جا کر دوسرے بچوں کو دکھا کر فخر سے کھاتے تھے۔ اس کو شاہں لا کے کھانا کہتے تھے ۔اس سے کھانے کا مزا بڑھ جاتا تھا۔

اَدھ پکی گندم کے دانے بھون کر کے کھائے جاتے تھے جسے بُھوٹی کہتے تھے۔ بزرگ ستوّ پیتے تھے بچہ پارٹی ستوّ پیتے وقت گلاس کو رکھ کر تھوڑا سا انتظار کرتی تاکہ ستو نیچے بیٹھ جائیں ، پھر اوپر والا شربت پی کر بھاگ جاتی ۔ بچے خشک ستوؤں میں گھی اور شکر ڈال کر کھاتے تھے۔

کھلری گاؤں کے ہر رنگ کے اور ہر نسل کے خربوزے ‘ گدھوں پر لدے آتے۔دھڑیوں کے حساب سے خریدے جاتے تھے۔ پانچ کلو کو دھڑی کہتے ہیں۔ خوشبو سے حویلی کیا‘گلیاں تک مہکتی رہتی تھیں۔ خربوزے کے باھر پھانکیں کا ٹنے کا پورا روڈ میپ ہوتا تھا۔ اب ریڑھیوں پر ایک جیسے خربوزے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ بھی شیور کے ہیں۔ یا لمبے فوجی حکومتی ادوار کی وجہ سے ایک قسم کی یونیفارم والے فوجی خربوزےہیں۔ ماضی کی ست رنگی سویلین کھکھڑیاں دیکھنے کو آنکھیں ترستیاں ہیں ۔ دوپہر کی روٹین کھکھڑی کے ساتھ کھائی جاتی تھی ۔ایک نوالہ روٹی کا اور ایک چق کھکھڑی کا۔سبزی اور خربوزے گھڑونجی پر رکھے جاتے تاکہ ٹھنڈے رہیں۔یعنی گھڑونجی ماضی کا فرج تھا۔ ہماری پانچ حسیں ہیں ۔ سننا،دیکھنا،ٹچ کرنا،سونگھنا، چکھنا کھلری کے خربوزے ان ساری حسوں کے ذریعے بندے کو خوش کر دیتے ہیں ۔


ملہووالے سے گنڈاکس پیدل جانے کے دو راستے تھے ۔ اوپر والا راستہ ماسی ہیتی (Heeti) کے کھوہ کے ساتھ سے گزرتا تھا ۔ ماسی ہمارے گھر سبزی لاتی۔کبھی کبھار گلاب کا پھول یا ڈوڑی / غنچہ لاتی۔اس ڈوڑی کو بچے گھڑے میں ڈال دیتے اور روزآنہ اس کے پھول بننے کی پراگریس دیکھتے. ماسی ہیتی چاچےشیرے ہیتے کی والدہ تھیں ۔گنڈاکس کے کاشتکار سارے علاقے کو سبزی سپلائی کرتے تھے (Market Gardening) کرتے تھے) ۔ملہووالے میں بازار میں سبزی بیچنا کم عقلی کی وجہ سے برا سمجھا جاتا تھا۔ایک دفعہ ایک باباجی سبزی لے کر گلی میں بیٹھ گئے ۔ان کے بچے ان کو زبردستی اٹھا کر لے گئے کہ اس سے ہم سردار/ ملک فیملی کی عزت پر حرف آتا ہے۔

سلسلہ خوراکاں کاپانچواں مضمون

ڈاکٹر عبدالسلام

Next Post

حافظ غلام شبیر کھوکھر اویسی

اتوار نومبر 6 , 2022
حافظ غلام شبیر کھوکھر اویسی یکم جنوری 1967ء کو گاؤں کوٹ حقنواز اڈا شیخ واہن نذر پلو شاہ ضلع رحیم یار خان میں پیدا ہوئے
حافظ غلام شبیر کھوکھر اویسی