مقبول ذکی مقبول کی کتاب اعتراف فن

مقبول ذکی مقبول کی کتاب اعتراف فن

اعتراف فن: پروفیسر عاصم بخاری کی شخصیت و فن پر مقبول ذکی مقبول کی کتاب

“اعتراف فن” مقبول ذکی مقبول کا تحریر کردہ پروفیسر عاصم بخاری کی کثیر جہتی ادبی خدمات اور ان کی شخصیت پر مبنی بہترین تحقیقی کتاب ہے۔ یہ کتاب پروفیسر عاصم بخاری کی زندگی اور کام کے متنوع پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے، جو اس ممتاز ماہر تعلیم، شاعر اور ادیب کے بھرپور علمی اور ادبی سفر کے بارے میں معلومات سے بھر پور کتاب ہے۔

کتاب کا تعارفی حصّہ جسے مقبول ذکی مقبول نے خود لکھا ہے، میں کتاب لکھنے کا مدعا بیان کیا گیا ہے، مقبول ذکی مقبول نے بعد کے ابواب میں عاصم بخاری کی زندگی اور شخصیت کا خوبصورتی سے خاکہ پیش کیا ہے، ان کے اعزازات کی تفصیل دیتے ہوئے، بخاری کی ادبی صلاحیتوں کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا ہے۔

کتاب کی اہم جھلکیوں میں سے ایک بخاری کی شاعری میں حمد اور نعت کی پُرجوش تحقیق پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ مذہبی موضوعات پر لکھنے میں بخاری کی مہارت کو واضح طور پر بیان کرتا ہے، خاص طور پر کربلائی شاعری میں ان کی گہری تحقیق، ان کی شاعری میں گہرائی اور تعظیم کا اضافہ کرتی ہے۔

مقبول ذکی مقبول کی کتاب اعتراف فن

اس کتاب میں عاصم بخاری کی شاعری اور نثر کو باریک بینی سے الگ کیا گیا ہے، جس میں مقامیت، خواتین کی تصویر کشی، اور اصلاحی نظریات کو شامل کرنے میں ان کی مہارت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ اپنے فن کو مکمل کرنے کے لیے بخاری کی لگن خاص طور پر ان کے منفرد شاعرانہ اسلوب میں، جسے ‘کرچی کرچی’ کہا جاتا ہے، اور واقعاتی مضامین کے ساتھ ان کے شاعرانہ اسلوب سے چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
ڈاکٹر مزمل حسین کتاب کے پس ورق پر اپنی رائے کا “بڑے آدمی کے فن کا اعتراف” کے عنوان سے یوں اظہار کرتے ہیں”اعتراف ِ فن “ایک بڑے آدمی کے فن کا اعتراف، ایک دوسرے بڑے آدمی کے قلم سے ، یقیناً یہ انفرادیت کا باعث ہے ۔ عاصم بخاری ضلع میانوالی کا وہ عظیم سپوت ہے جس کے عقب میں” کالاباغ “کے روہ ، سامنے بہتا سندھو بادشاہ اور تھوڑے پرے ہٹ کے “تھل ” کی صحرائی وادی موجود ہے، یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری اور نثر میں ایک وسعت و گہرائی موجود ہے۔جدید تنقید میں کسی بھی تخلیق کار کی ” مقامیت” اور اس کا وسیبی ” لینڈ سکیپ” اس کی ذہنی تشکیل میں ایک نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔ عاصم بخاری کو قدرت نے یہ لینڈ سکیپ عطا کر رکھا ہے ، فطرت کی یہی رفاقت اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی اور وہ آۓ روز کبھی شاعری ، کبھی کالم نویسی تو کبھی افسانہ نگاری اور کبھی اپنی تحقیق و تنقید سے قاری کو متحیر کرتا رہتا ہے، اس تناظر میں بلاشبہ بخاری صاحب اردو شعر و ادب کا ایک اہم اور نمایاں نام ہیں۔ زیر ِ نظر کتاب ” اعتراف ِ فن “عاصم بخاری کے طویل اور پختہ ادبی تجربات کی بدولت قاری کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔ اس کتاب کے مصنف مقبول ذکی نے 23 مضامین کو یکجا کر دیا ہے۔ جنھیں انھوں نے مختلف اوقات میں تحریر کیا تھا اور ان میں سے اکثر مطبوعہ ہیں ، کہنے کو تو یہ متنوع مضامین ہیں مگر جس عمدگی سے انہیں ایک عنوان سے منصہء شہود پر لایا گیا ہے وہ ہر اعتبار سے قابل ِ ستائش ہے۔عاصم بخاری کی شخصیت اور فن کے حوالے سےمقبول ذکی مقبول نے اردو نثر میں زبردست اضافہ کیا ہے۔ مقبول ذکی مقبول خود بھی ایک تھلوچڑ ہے اس لیے اس کے علمی ، ادبی اور سماجی رویوں میں بڑی وسعت اور کشادگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔انھوں نے اس کتاب کو ایک تہذیب ، ترتیب اور انتقادی حوالوں سے شاہکار بنا دیا ہے۔اس پس منظر میں عاصم بخاری کے ہاں جو وسیبی تہذیب و ثقافت اور ” مقامیت”کے عناصر ہیں انھیں نہایت فنی چابکدستی اور غیر جانبدارانہ انداز میں اجاگر کیا ہے۔عاصم بخاری اور مقبول ذکی دونوں ھی تھلوچڑ تہذیب کے نمائندے ہیں اور دونوں نےاس تہذیب اور اس دھرتی کے مخلص سپوت ہونے کا ثبوت دیا ہے”۔
مزید برآں کتاب مختلف موضوعات کے ساتھ بخاری کی مصروفیت کو باریک بینی سے بیان کرتی ہے – ادیب کے ساتھ جمالیاتی پہلو سے لے کر توصیف جمال اور عصری شعور کی باریک بینی تک ہر قسم کا مواد کتاب میں موجود ہے، عاصم بخاری کی شاعری میانوالی کے جوہر سے پردہ اٹھاتی ہے، رومانیت کو جنم دیتی ہے۔

عاصم بخاری کے طنز و مزاح کی کھوج، دلکش انٹرویو کا حصہ اور معروف ادیبوں کے نقطہ نظر نے اجتماعی طور پر بخاری کے ادب پر اثرات اور ان کے احوال و آثار کی ایک جامع تصویر کشی کی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ “اعتراف فن” پروفیسر عاصم بخاری کی ادبی میراث کی فراوانی اور استعداد کا ثبوت ہے۔ مقبول ذکی مقبول کی باریک بینی ایک ایسے شاعر کی زندگی، موضوعات اور ادبی کاریگری پر ایک زبردست لینز فراہم کرتی ہے جس کے الفاظ اپنے وقت سے کہیں زیادہ معتبر دکھائی دیتے ہیں۔ میں اعتراف فن کی اشاعت پر کتاب کے مصنف مقبول ذکی مقبول اور پروفیسر عاصم بخاری کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق چترال خیبرپختونخوا سے ہے، اردو، کھوار اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ آپ کا اردو ناول ''کافرستان''، اردو سفرنامہ ''ہندوکش سے ہمالیہ تک''، افسانہ ''تلاش'' خودنوشت سوانح عمری ''چترال کہانی''، پھوپھوکان اقبال (بچوں کا اقبال) اور فکر اقبال (کھوار) شمالی پاکستان کے اردو منظر نامے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں، کھوار ویکیپیڈیا کے بانی اور منتظم ہیں، آپ پاکستانی اخبارارت، رسائل و جرائد میں حالات حاضرہ، ادب، ثقافت، اقبالیات، قانون، جرائم، انسانی حقوق، نقد و تبصرہ اور بچوں کے ادب پر پر تواتر سے لکھ رہے ہیں، آپ کی شاندار خدمات کے اعتراف میں آپ کو بے شمار ملکی و بین الاقوامی اعزازات، طلائی تمغوں اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔کھوار زبان سمیت پاکستان کی چالیس سے زائد زبانوں کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا کیبورڈ سافٹویئر بنا کر عالمی ریکارڈ قائم کرکے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرنے والے پہلے پاکستانی ہیں۔ آپ کی کھوار زبان میں شاعری کا اردو، انگریزی اور گوجری زبان میں تراجم کیے گئے ہیں ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

نوابزادہ نصر الله خان کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

ہفتہ نومبر 25 , 2023
نوابزادہ کی غزل اظہار کی متضاد نوعیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں درد آسانی کے طور پر اندھیرے کو روشن خیالی کی طرح
نوابزادہ نصر الله خان کی شاعری کا تجزیاتی مطالعہ

مزید دلچسپ تحریریں