پاکستان میں بولی جانے والی زبانیں

سعدیہ وحید
(معاون مدیرہ: شعوروادراک ، خان پور)

ماہر لسانیات ڈاکٹر طارق عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ ڈاکٹر آتش درانی کا خیال ہے کہ یہ تعداد 76 ہے۔ تاہم دنیا بھر کی زبانوں پر تحقیق کرنے والی ایک ویب سائٹ’ ’ایتھنو لوگ‘ ‘کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کل 73 زبانیں بولی جاتی ہیں۔
وِیکی پیڈیا کے مطابق پاکستان میں رائج دوسری زبانوں اور لہجوں میں، آیر، بدیشی، باگری، بلتی، بٹیری، بھایا، براہوی، بروشسکی، چلیسو، دامیڑی، دیہواری، دھاتکی، ڈوماکی، فارسی، دری، گواربتی، گھیرا، گوریا، گوورو، ہریانی زبان، گجراتی، گوجری، گرگلا، ہزاراگی، ہندکو، جدگلی، جنداوڑا، کبوترا، کچھی، کالامی، کالاشہ، کلکوٹی، کامویری، کشمیری، کاٹی، کھیترانی، کھوار، انڈس کوہستانی، کولی (تین لہجے)، لہندا لاسی، لوارکی، مارواڑی، میمنی، اوڈ، ارمری، پوٹھواری، پھالولہ، سانسی، ساوی، شینا (دو لہجے)، توروالی، اوشوجو، واگھری، وخی، وانیسی اور یدغہ شامل ہیں۔ان زبانوں بعض کو عالمی طور پر خطرے میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ان زبانوں کو بولنے والوں کی تعداد نسبتاً نہایت قلیل رہ گئی ہے۔ وجود کے خطرات میں گھری یہ زبانیں زیادہ تر ہند فارس شاخ اور ہند یورپی زبانوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ پاکستان کے ضلع چترال کو دنیا کا کثیرالسانی خطہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے اس ضلع میں کل چودہ زبانیں بولی جاتی ہیں۔


انگریزی پاکستان کی سرکاری زبان ہے، تمام معاہدے اور سرکاری کام انگریزی زبان میں ہی طے کیے جاتے ہیں، جبکہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔پاکستان میں کئی زبانیں بولی، لکھی اور سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ چار صوبائی زبانیں اور بہت سے اور زبانیں بولی جاتی ہیں۔
’’ایتھنو لوگ‘‘ ویب سائٹ کی جانب سے 2016ء میں کی جانے والی ایک جامع تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 7 ہزار 4 سو 57 زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں سے 360 مردہ یا متروک ہو چکی ہیں۔بقیہ 7 ہزار 97 زبانیں جیتی جاگتی یا فعال زبانیں ہیں، تاہم ان میں سے کئی متروک ہونے کے خطرے کا شکار ہیں۔
اس ویب سائٹ پر پاکستان کی زبانوں کی درجہ بندی کرنے کے لئے جرمنی اور ناروے کے ماہرین لسانیات نے کام کیا۔’ ایتھنا لوگ ‘کے مطابق پاکستان کا لسانی تنوع نہایت حیرت انگیز ہے اور صرف شمالی علاقہ جات میں 30 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ان میں سے ایک زبان بروشسکی کو ماہرین لسانیات نے باقاعدہ زبان کا درجہ نہیں دیا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر زبانوں کے برعکس اس زبان کے الفاظ کسی دوسری زبان میں نہیں ملتے۔ خوش قسمتی سے کچھ عرصہ قبل ہی جامعہ کراچی کے تعاون سے ایک بروشسکی۔ اُردو لغت مرتب کی گئی ہے جسے نصیر الدین ہنزئی نے مرتب کیا ہے۔
اسلام آباد کا ایک غیر سرکاری ادارہ بھی یو ایس ایڈ کے تعاون سے گزشتہ 10 سالوں سے شمالی علاقہ جات میں بولی جانے والی زبانوں پر تحقیق کر رہا ہے۔فورم فار لینگویج انیشیٹیو نامی یہ ادارہ 5 زبانوں دمیلی، گورباتی، پالولا، یوشوجو اور یدغا کی بنیادی گرامر اور الفاظ کے اُردو معنوں پر کتابیں مرتب کر چکا ہے۔
ان کتابوں پر اپنی رائے دینے والے اسٹاک ہوم یونیورسٹی کے پروفیسر ہنرک لل جگرن بھی گزشتہ کئی سال سے ہندوکش قراقرم کے خطے میں بولی جانے والی زبانوں پر تحقیق کر رہے ہیںانہوں نے مذکورہ بالا تمام زبانوں کو شمالی علاقہ جات میں بولی جانیوالی دیگر زبانوں کے مقابلے میں چھوٹی زبانیں قرار دیا ہے ۔


یہ زبانیں کہاں بولی جاتی ہیں؟
پروفیسر ہنرک کے مطابق دمیلی ایک انڈو آریائی زبان ہے جو چترال کے جنوب مغربی علاقے دمل میں بولی جاتی ہے۔ اسے بولنے والے افراد کی تعداد لگ بھگ 5 ہزار ہے۔گورباتی بھی انڈو آریائی زبان ہے جو پاکستان اور افغان کے سرحدی علاقوں جیسے چترال ور افغانستان میں کنڑ میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کے افراد کے تعداد لگ بھگ 10 ہزار ہے۔
یوشوجو بھی انڈو آریائی زبان ہے جو سوات کے کچھ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ یہ زبان شمالی گلگت میں بولی جانے والی زبان شنا سے مماثل ہے۔یہاں یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ لسانیاتی لحاظ سے صوبہ خیبر پختونخواہ کا ضلع چترال نہایت متنوع علاقہ ہے۔ چترال میں 10 سے 12 زبانیں بولی جاتی ہیں۔
یدغا بھی اِنہی میں سے ایک ہے تاہم یہ زبان متروک ہونے کے خطرے کا شکار ہے۔ ضلع چترال کی مرکزی زبان کھووار ہے اور یدغا بھی اسی زبان سے مماثل ہے۔
’’ایتھنو لوگ ‘‘کی ویب سائٹ پر پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں کو انگریزی حرف تہجی کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا ہے جو یہ ہیں۔
۱ ۔ایر ۲۔ بدیشی
۳۔ باگری ۴۔ بلوچی، مرکزی
۵۔ بلوچی۔ مشرقی ۶۔ بلوچی۔ جنوبی
۷۔ بلوچی۔ مغربی ۸۔ بلتی
۹۔ بتری ۱۰۔ بھایا
۱۱۔ براہوی ۱۲۔ بروشسکی
۱۳۔ چلیسو ۱۴۔ دمیلی
۱۵۔ دری ۱۶۔ دیہواری
۱۷۔ دھٹکی ۱۸۔ ڈومکی
۱۹۔ گورباتی ۲۰۔ گھیرا
۲۱۔ گوریا ۲۲۔ گورو
۲۳۔ گجراتی ۲۴۔ گجاری
۲۵۔ گرگلا ۲۶۔ ہزارگئی
۲۷۔ ہندکو۔ شمالی ۲۸۔ ہندکو۔ جنوبی
۲۹ ۔جدگلی ۳۰۔ جندوارا
۳۱۔ جوگی ۳۲۔ کبوترا
۳۳۔ کچھی ۳۴۔ کالامی
۳۵۔ کالاشا ۳۶۔ کلکتی
۳۷۔ کمی ویری/کم کتویری
۳۸۔ کشمیری ۳۹۔ کٹی
۴۰۔ کھیترانی ۴۱۔ کھووار
۴۲۔ کوہستانی ۴۳۔کولی/ چھی
۴۴۔کولی/ پرکاری ۴۵۔ کولی/ ودیارا
۴۶۔ کنڈل شاہی ۴۷۔ لہنڈا
۴۸۔ لاسی ۴۹۔لارکئی
۵۰۔مارواڑی ۵۱۔ میمنی
۵۲۔اوڈی ۵۳۔ارماڑی
۵۴۔ پہاڑی/ پوٹھو ہاری
۵۵۔ پالولا ۵۶۔ پشتو۔ مرکزی
۵۷۔ پشتو۔ وسطی ۵۸۔ پشتو۔ شمالی
۵۹۔ پشتو۔ جنوبی ۶۰۔ پنجابی۔ مغربی
۶۱۔ سانسی ۶۲۔ سرائیکی
۶۳۔ ساوی ۶۴۔ شنا
۶۵۔ شنا۔ کوہستانی ۶۶۔ سندھی
۶۷۔ سندھی۔ بھل ۶۸۔ توروالی
۶۹۔ اُردو ۷۰۔ یوشوجو
۷۱۔ وگھاری ۷۲۔ وکھی
۷۳۔ ونسی ۷۴۔ یدغا
گو کہ اس فہرست میں پنجابی زبان کی کئی شاخوں کو شامل نہیں کیا گیا تاہم پاکستان کے لسانیاتی تنوع کو جاننے کے لئے یہ فہرست نہایت کارآمد ہے۔
بڑی زبانوں کی مردم شماری کی تاریخ کا چارٹ بشکریہ وِیکی پیڈیا ملاحظہ فرمائیں : (چارٹ1)

chart 1


درجہ بندی
نام زبان
مردم شماری 1951
مردم شماری 1961
مردم شماری 1981
مردم شماری 1998
مردم شماری 2017
1
پنجابی زبان
57.08%
56.39%
48.17%
44.15%
38.78%
2
پشتو زبان
8.16%
8.47
13.35%
16.42%
18.24%
3
سندھی زبان
12.85%
12.59
12.7%
14.1%
14.57%
4
سرائیکی زبان
*
*
9.54%
10.53%
12.19%
5
اُردو زبان
7.05%
7.57%
7.60%
7.57%
7.08%
6
بلوچی زبان
3.04%
2.49%
3.02%
3.57%
3.02%
7
دیگر
11.82%
12.49%
5.62%
4.66%
6.12%

  • 1951ء اور 1961ء کی مردم شماری میں سرائیکی کو پنجابی کے ساتھ شامل کیا گیا تھا۔(چارٹ2)
    زبان
    1998ء کی مردم شماری
chart 2

2008ء کی مردم شماری

بولنے والوں کے گنجان علاقے

1
پنجابی زبان

76,367,360
44.17%

58,433,431
44.15%
پنجاب
2
پشتو زبان

26,692,890
15.44%

20,408,621
15.42%
خیبر پختونخواہ
3
سندھی زبان

24,41,910
14.12%

18,661,571
14.10%
اندرون سندھ
4
سرائیکی زبان

18,019,61
10.42%

13,936,594
10.53%
جنوبی پنجاب
5
اُردو زبان

13,120,540
7.59%

10,019,576
7.57%
شہر ی سندھ
6
بلوچی زبان

6,240,540
3.59%

4,724,871
3.57%
بلو چستان
نوٹ: 1951ء اور 1961ء کی مردم شماری میں سرائیکی کو پنجابی زبان میں ہی شمار کیا گیا تھا جبکہ 1998ء میں اسے بطور الگ زبان شمار کیا گیا ہے۔
٭
(بحوالہ :مجلہ شعوروادراک ، شمارہ نمبر 1 (جنوری تا مارچ 2020ء) ،مدیر : محمدیوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، ص: 25)
٭٭٭

saadiaa

سعدیہ وحید

Next Post

20جنوری ...تاریخ کے آئینے میں

جمعرات جنوری 20 , 2022
بیس جنوری ...تاریخ کے آئینے میں
January 20 in History