آسانیاں بانٹتے رہو

شاہد اعوان، بلاتامل

مختار مسعود لکھتے ہیں ’’ ہر ملک کی تعمیرو ترقی میں تین قسم کے گروہ اس ملک کی ترقی اور مضبوطی میں کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی گروہ حکمت اور خدمت معاشرے میں پروان چڑھاتے ہیں پہلے گروہ کے لوگ ’شہید‘ کہلاتے ہیں، دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل ہوتے ہیں جنہیں’ محسنین ‘ کہا جاتا ہے ۔ اہلِ شہادت اور اہلِ احسان میں فرق صرف اتنا ہے کہ شہید دوسروں کے لئے جان دیتا ہے اور محسن دوسروں کے لئے زندہ رہتا ہے۔ تیسرا گروہ وہ ہے جو معاشرے کو تابندگی بخشتا ہے اس آخری گروہ میں شامل ہونے والے’ اہلِ جمال‘ کہلاتے ہیں۔ اہلِ جمال اور اہلِ احسان لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ زندگی کا روشن پہلو دیکھتے ہیں ‘‘۔ یہی طبقہ سوچتا ہے کہ سب کچھ دے کر جو ملتا ہے وہ سب کچھ لے کر نہیں ملتا، اس لئے جن کے پاس آج بہت کچھ ہے وہ خالی ہیں لیکن جو لوگ صاحبِ دل ہیں ان کے پاس گننے کو کچھ نہیں مگر دینے کو بے حساب ہے ۔ مولائے رومؒ وہ معلمِ اخلاق ہیں جو پوری دنیا کی رنگینیوں کو درویشانہ خلوص سے لیتے ہیں وہ لوگوں کی انفرادیت قبول کرتے ہیں۔ آپ کا فرمانِ عالیشان ہے اگر میں انسان سے محبت نہیں کر سکتا تو مجھ سے بہتر وہ جاہل ہے جو انسان سے محبت کرتا ہے ۔ یہی کشادہ دلی اور درد مندانہ و درویشانہ رویہ ہے جو ترکی میں سیکولر اور مذہبی لوگوں کو ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہے ۔ ایمان ذہنی تربیت کا نام ہے، دوسری طرف وطن عزیز میں مُلا کی کوشش ہوتی ہے کہ پوری کائنات کو اپنے رنگ میں ڈال لے جبکہ قرآن حکیم میں اللہ پاک پہلے پارہ میں فرماتاہے کہ سب سے بہتر اور نہ اترنے والا رنگ صرف اللہ کا رنگ ہے جو نہ پھیکا پڑتا ہے اور نہ اترتا ہے۔ بابا بلھے شاہؒ نے کیا خوب منظر کھینچا ہے:
کوئی رنگ کالا، کوئی لال گلابی کردا
بُھلے شاہ!ؔ رنگ مرشد والا کسے کسے تے چڑھدا
رنگ و بہار کی باتوں میں جس شخصیت اور نوجوان بیوروکریٹ کا ذکر مقصود ہے وہ چند روز قبل اسسٹنٹ کمشنر حسن ابدال کا چارج لینے والے محمد عارف قریشی ہیں۔ ان کے حسن ابدال آنے سے قبل ان کی ایک فائل فوٹو سوشل میڈیا کی زینت بنی جس میں وہ سفید پگڑی پہنے چہرے پر مخصوص مسکراہٹ سجائے ہوئے تھے، مسکراہٹ بھی کم کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ویسے بھی چہرہ انسان کا آئینہ ہوتا ہے۔ حسبِ دستور ان سے ملنے ان کے آفس پہنچا تو وہاں پرسکون ماحول نہ تھا کہ انہوں نے آتے ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ ان کے دفتر کے دروازے ہر خاص و عام کے لئے کھلے ہیں ۔ انہوں نے آتے ہی تحصیل خصوصاٌ شہر میں ایسی دھوم مچا دی ہے کہ پورے شہر کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے، ان سے قبل اسی قبیل کے ایک فرد راجہ عدنان انجم تھے جن کے لبوں پر ہمیشہ مسکراہٹ ہی دیکھی ہے۔ اے سی عارف قریشی نے اپنے سابقہ شعبہ کو ترجیح بنا کر کام کا آغاز کر دیا ہے کیونکہ وہ قبل ازیں محکمہ تعلیم میں درس و تدریس سے وابستہ رہ چکے ہیں لیکن ان کی بے چین روح انہیں کہیں ٹکنے نہیں دیتی سو وہ سول بیوروکریسی کا حصہ ہو گئے ۔ الصبح دفتر آنے کی ’’خو‘‘ نے آرام طلب دیر سے آنے والوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں ۔ موصوف سب سے پہلے سبزی منڈی کا رخ کرتے ہیں پھر8بجے ایجوکیشن دفاتر اور پھر سرکاری سکولوں کے ’’دوروں‘‘ سے بہت سے ’’آرام پسندوں ‘‘ کی آزادی سلب ہو کر رہ گئی ہے بہت سے لوگ چیں بچیں بھی ہیں مگر وہ پیچھے مڑ کر دیکھنے والوں میں سے نہیں ۔ دور دراز کے دیہات ہوں یا پٹوار سرکل، ہسپتال ہوں یا ان کی دسترس میں آنے والے دیگر محکمے وہ ہر ایک سے بڑی شائستگی اور رواداری سے پیش آتے ہیں کہ ڈانٹنا، چیخنا چلانا یا افسری جھاڑنا شاید ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان کے دفتر میں آنے والا اپنا مدعا یوں بیان کرتا ہے جیسے برسوں سے ان کا شناسائی ہو ان کا صبر و تحمل میں گندھا ہوا دھیما پن اور منکسر المزاج طبیعت نے عام آدمی کو شاد کام کر دیا ہے البتہ ان حلقوں میں شدید بے چینی ہے جو صرف یہ چاہتے ہیں کہ ہر کام ان کی منشا اور سفارش سے ہو ۔ قانونِ قدرت ہے کہ جو اللہ کی مخلوق کے لئے آسانیوں کا سبب بنتا ہے اللہ خود اس کے ہاتھ، کان اور زبان بن جاتاہے۔ دعا ہے اے سی عارف قریشی اسی طرح لوگوں میں آسانیاں بانٹتے رہیں کہ
آپ جن کے قریب ہوتے ہیں
وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں

Shahid-Bla-Ta-Amul

شاہد اعوان