نا اہل اور سیلیکٹڈ مگر فتحیاب

نا اہل اور سیلیکٹڈ مگر فتحیاب

( Incapable + Selected but

Successful )

( 25 جولائی 2021 کے دن ریاست

آزاد جموں و کشمیر میں ہونیوالے انتخابات اور تبدیلی کی تحریک پر ایک عمومی تبصرہ)

تبصرہ نگار :

سیّدزادہ سخاوت بخاری

غالبا 1967 کی بات ہے جب میں نے مولوی فضل الرحمان کے والد ، مفتی محمود احمد مرحوم  کے زیر سایہ سیاست کا سبق پڑھنا شروع کیا ۔ مفتی صاحب  ،  نہ فقط فاضل دیوبند بلکہ جمعیت علماء ہند کے بنیادی رکن ، شعلہ بیان مقرر اور پاکستان بننے کے بعد ایک قد آور ، اور زیرک  سیاست دان کے طور پر جانے  پہچانے جاتے تھے ۔ ان کی شاگردی میں  ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا  کہ ملکی سیاست میں اچانک ایک بھونچال آگیا ۔

ہوا یوں کہ ایوب خان کے وزیرخارجہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو ، معاہدہ تاشقند کی بعض شقوں پر اپنے لیڈر اور محسن صدر ایوب سے اختلاف کرتے ہوئے سرکاری عہدے اور پارٹی ، مسلم لیگ ( کنونشن لیگ ) سے الگ ہوگئے ۔ یاد رہے ، مسلم لیگ ہی پاکستان اور پاکستانیوں کی ماں پارٹی تھی لیکن حضرت قائداعظم رحمة اللہ کی وفات کے بعد اسے کئی نام دئے گئے ۔ مثلا ،  کونسل لیگ ، کنونشن لیگ ، قیوم لیگ ، دولتانہ لیگ ، قائداعظم لیگ ، قاسم لیگ ، آل پاکستان مسلم لیگ ، فنگشنل لیگ ، عوامی لیگ وغیرہ وغیرہ ۔ اس طرح ایوب خان کی پارٹی کا نام کنونشن لیگ تھا ۔

بھٹو صاحب نہ فقط کنونشن لیگ سے الگ ہوئے بلکہ اپنی ایک نئی جماعت کھڑی کرکے اسے پاکستان پیپلز پارٹی کا نام دے دیا ۔ مجھ فقیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ جس رات لاھور میں ( نومبر 1967 ) ڈاکٹر مبشر حسن مرحوم کے گھر پارٹی کا قیام عمل میں آیا ، اس سے اگلی صبح میں نے اس کی بنیادی رکنیت حاصل کی اور اس طرح مولانا مفتی محمود کے سیاسی مدرسے سے نکل کر بھٹو صاحب کے انقلابی اسکول میں داخل ہوگیا ۔

 یہ کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے ،  کہ میری معلومات سنی سنائی نہیں بلکہ میں اس تاریخ کا حصہ رہا ہوں اور ایوب خان سے لیکر ذوالفقار علی بھٹو کے دوسرے دور تک پاکستان میں ایک متحرک سیاسی کارکن تھا ۔

اس تاریخی پس منظر کو جان لینے کے بعد ،  ہماری نوجوان نسل کو یہ علم بھی ہونا چاھئیے کہ ” تبدیلی ” کا جو نعرہ  آج عمران خان نے بلند کیا ، یہ نیا نہیں ،  بلکہ قیام پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو ، پہلے سیاسی راہنماء تھے کہ جنھوں نے سوشلزم کے نام پر تبدیلی اور انقلاب لانے کی بات کی ۔ مساوات محمدی کا نعرہ لگایا ۔ ان کے نعرے میں بے پناہ جاذبیت ، اور شخصیت میں اسقدر کشش تھی کہ جاگیرداروں ، سرمایہ داروں ، بھوک ، مفلسی ،بے روزگاری ، سماجی ناانصافی  اور ظلم و ستم کے ستائے ہوئے عوام دیوانہ وار ان کے پیچھے ہو لئے ۔

ذوالفقار علی بھٹو کو میں نے قریب سے دیکھا ، ان کے ساتھ کام کیا ۔ نہ صرف وہ خود ایک ذہین ترین اور طلسماتی شخصیت کے مالک تھے بلکہ قدرت نے انہیں ساتھی اور کارکن بھی ایسے مہیاء کردئے کہ جو اپنی مثال آپ تھے لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارا سپنا ، سپنا ہی رہا ، تعبیر نہ مل سکی  بلکہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ تمام جاگیردار اور وڈیرے ، کہ جن کے خلاف ہم نے تحریک چلائی ، سب کے سب اٹھ کر پیپلز پارٹی میں آگئے اور ہم جیسے نظریاتی کارکن منہ دیکھتے رہ گئے ۔

دل کے ارماں آنسووں میں بہہ گئے

ہم وفاء کرکے بھی تنہاء رہ گئے

معاشی انقلاب یا تبدیلی کے لئے اٹھنے والی اس اولین تحریک کی ناکامی کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، چلتے ہیں عمران خان کی طرف اور دیکھتے ہیں کہ ان دو شخصیات میں کیا فرق ہے ۔ بھٹو صاحب  سماج بدلنے میں کیوں ناکام ہوئے اور کیا خان اپنے مشن میں کامیاب ہوسکے گا ۔ یہ تجزیہ کرنا آسان کام نہیں لیکن ایک حقیر سی کوشش ضرور کی جاسکتی ہے ۔

عمران خان اور  ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیات میں پہلا اور بنیادی فرق  یہ کہ ، بھٹو صاحب ایک فیوڈل کلاس یعنی جاگیردار خانوادے سے تعلق رکھتے تھے اور اگر آپ نہیں جانتے تو اب جان لیں  کہ ،  جاگیرداری / فیوڈل ازم صرف دنیاوی اور مادی حیثیت ہی کا نام نہیں بلکہ ایک سوچ بھی ہے جسے بدلا نہیں جاسکتا ۔ سیاسی فائدے کے لئے عوام عوام کرنا الگ بات لیکن فیوڈل لارڈ / جاگیردار ،  عوام میں سے نہیں ہوتا ۔ اس کی تعلیم و تربیت میں حاکمیت اور فرعونیت کوٹ کوٹ کر بھر دی جاتی ہے ، اور یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے ، کہ اگر لارڈ ( Lord ) اور عوام کے درمیان کوئی فرق نہ ہو تو لارڈ  حاکم اور عوام ، عوام  کیسے ہوسکتے ہیں  ۔  اس فلسفے کو مزید سمجھنا ہو ،  تو برطانوی سیاست کو پڑھیں جنھوں نے برصغیر ( Subcontinent ) میں یہ کلاس پروان چڑھائی اور انہیں عوام پر حاکمیت کے گر( Art / Skill )  سکھائے ۔ 

قصہ مختصر ، ذوالفقار علی بھٹو  نے اگرچہ ,  بہ ظاہر عوام کی بات کی ، سوشلزم اور مساوات محمدی کا نعرہ لگایا لیکن اپنے جاگیردارانہ پس منظر کی زنجیروں  سےجان نہ چھڑا سکے اور

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

کے مصداق ، واپس جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے شکنجے میں پھنس کر غلطی پہ غلطی کرتے ہوئے ، غریب عوام کو بند گلی میں چھوڑ کر ، خود پھانسی کے پھندے پہ جھول گئے ۔

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

عوام کی حالت اور سماج تو نہ بدلا البتہ پاکستان , ایک ذہین و فطین سیاست دان سے محروم ہوگیا ۔ میرے ناقص خیال کے مطابق ، اس ناکامی کی وجہ صرف ان کا فیوڈل / جاگیردار  ہونا ہی نہ تھا ، بلکہ پاکستان بھر کے اکثر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے جب سوشلزم تحریک کے نتیجے میں ،   سماج کے اندر اٹھنے والی تبدیلی کی لہر اور اس کی شدت کو بھانپ لیا ،  تو ایک منصوبے کے تحت ،  جوق در جوق پیپلزپارٹی میں چھلانگیں لگانا شروع کردیں تاکہ عوامی انقلاب کا راستہ ، اندر سے روکا جاسکے اور وہ اپنے اس مشن میں کامیاب رہے ۔ اب یہاں یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے ، کہ ،  کیا ایک فیوڈل لارڈ واقعتا سوشلزم کا حامی اور جاگیرداری و سرمایہ داری کا خاتمہ چاہتا تھا ؟ 

جوابا صرف اتنا عرض کرونگا ،

 دلوں کے بھید اللہ جانتا ہے ۔ وہ سوشلزم نافذ کرنا چاہتے تھے یا نہیں لیکن ان کے دل و دماغ میں ماوزے تنگ اور معروف انقلابی گوریلا لیڈر  چی گویرا   بننے کی خواہش ضرور موجود تھی ۔

میں نے  ان کی تقریروں اور نجی گفتگو میں  متعدد بار  ان دو شخصیات کی تعریف اور ذکر سنا ۔

بھٹو صاحب یا ان کی تحریک ناکام ضرور ہوئی لیکن ایک بات واضح کرگئی ، کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت ، اس وقت سے لیکر آج تک نظام ( System ) کی تبدیلی اور انقلاب کی خواہش دل میں لئے گھوم رہی ہے ۔   یہی وجہ ہے کہ ایک طویل عرصے کے بعد جب عمران خان نے وہی بات دہرائی تو منزل کے متلاشی اس کے قدم سے قدم ملا کر چلنا شروع ہوگئے ۔ آئیے دیکھتے ہیں اب کی بار کیا ہونے والا ہے ۔

عرض ہے کہ ، موجودہ

” سماج سدھار ”  تحریک ، کے بانی عمران خان کا تعلق جاگیردار گھرانے سے نہیں بلکہ وہ اپر مڈل کلاس سے ابھرنے والا ایک ایسا شخص ہے ، کہ جس نے اپنی محنت سے یہ مقام حاصل کیا لھذا اس کی سوچ فیوڈل نہیں بلکہ عام آدمی کی سوچ ہے جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ جو کہہ رہا ہے کرکے دکھائیگا بشرطیکہ بھٹو مرحوم کی طرح وہ بھی ، بورژوائی یا سماج دشمن مافیاز کے چنگل میں نہ چلا گیا  ۔  یہاں تک تو سب اچھا ہے لیکن خان کی بدقسمتی کہ اسے بھٹو صاحب کی طرح قابل اور اچھے ساتھی میسر نہیں ۔ میرے خیال کے مطابق  اگر تحریک انصاف سے عمران خان کو منہاء ( Minus ) کردیا جائے تو ،  چند افراد کو چھوڑ کر ،  باقی سارا اسکریپ اور کاٹھ کباڑ ہی نظر آئیگا  ۔

Imran Khan

آپ نے غور کیا ، خان کیوں روز روز وزیر مشیر اور ان کی ذمہ داریاں بدلتا رہتا ہے ۔ اس لئے کہ جو جو اہداف وہ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ حاصل نہیں ہو پاتے لھذا نہ چاہتے ہوئے بھی اسے  گھوڑے بدلنے پڑتے ہیں ، اپنے ہی فیصلوں سے رجوع کرنا پڑتا ہے ۔ اب  آپ اسے یو ٹرن کہیں یا حصول اہداف کے لئے ایک مخلص انسان کی مسلسل  تگ و دو ( Struggle ) ,  یہ آپ کی مرضی ۔

ایک بات یاد رکھیں ، سماج ،  سماجی رویے ، عادات ، حالات ، رسومات ،  اور روایات کو بدلنا آسان کام نہیں ۔ صدیوں سے سماج کا خون چوسنے والی جونکیں اور  طاقت کے بل بوتے پر قائم مافیاز کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کرتے بلکہ ان کی طرف سے ہمیشہ شدید مزاحمت ( Resistance ) سامنے آتی ہے ۔ اصلاح کی بات کرنے والوں کو نہ صرف گالی گلوچ ، بد کلامی اور مار پیٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ جان تک دینی پڑ جاتی ہے اور یہی کچھ اس وقت عمران خان کے ساتھ ہورہا ہے کیونکہ وہ نظام کو بدلنا چاھتا ہے ۔

ممکن ہے کچھ  قارئین میری اس رائے سے اختلاف کریں ۔ ایسا کرنے کا انہیں حق حاصل ہے لیکن کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ ماضی کے تقریبا تمام حکمران کس لئے یکجاء ہوکر خان کی مخالفت کررہے ہیں ؟ جواب بڑا آسان ہے ۔ خان صاحب نظام بدلنے اور احتساب کا نعرہ ترک کردیں پھر کوئی مخالفت نہ ہوگی لیکن جب تک وہ اپنا مشن جاری رکھے گا , تبدیلی مخالف قوتیں کیونکر خاموش رہ سکتی ہیں ۔ آپ ان کے مفادات کو ٹھیس پہنچائیں ، انہیں احتساب کے کٹہڑے میں کھڑا کریں اور وہ آپ کو بخش دیں ایسا ممکن نہیں ۔

تبدیلی اور انقلاب مخالف ان قوتوں نے اپنے من پسند اور فرسودہ ( Outdated )  نظام کو بچانے کی خاطر مختلف محاذ کھول رکھے ہیں ۔ زرخرید صحافیوں اور بلاگرز کے ذریعے ، انداز حکمرانی پر تنقید کے ساتھ ساتھ خان صاحب کی ذات کو بھی ہدف تنقید و تضحیک بنایا جاتا ہے ۔

نااہل اور سیلیکٹڈ کے خطابات دراصل نفسیاتی حربہ ( Psychological Weapon ) ہے ، جس کی مسلسل گردان اور تبلیغ کے ذریعے وہ عام آدمی کو خان سے متنفر کرنا چاھتے ہیں لیکن وہ اپنے اس مشن میں اب تک کامیاب نہیں ہوسکے اور آنے والا ہر دن خان کے لئے کامیابیوں اور کامرانیوں کی نوید لیکر آرہا ہے ۔

قارئین کرام

اسے جادوگری کہیں ، کرشمہ ، کرامات  یا  غیبی مدد ، کہ جس شخص کو گزشتہ تین برس سے نا اہل ، سیلیکٹڈ ، نیازی ، یوٹرن کا بادشاہ اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا ، وہ اب تک ،

1. مرکز میں حکمران ہے

2. خیبر پختونخواہ میں حکمران ہے

3. پنجاب میں حکمران ہے

4. گلگت بلتستان میں حکمران ہے

5. اب کشمیر میں حکمران بنا

6. سینیٹ آف پاکستان میں سب سے بڑی پارٹی ، خان کی پارٹی بنی

7. سندھ میں قائد حزب اختلاف خان کا ورکر

8. بلوچستان کی مخلوط حکومت میں برابر کا حصے دار ہے ۔

یہ بات میری سمجھ سے بالا ہے کہ ایک نا اہل اور سیلیکٹڈ  نیازی یہ سب کامیابیاں کیسے سمیٹ رہا ہے ۔ اگر  نا اہل ہے تو فتحیاب کیوں ؟

اس کا ایک ہی روائتی جواب آئیگا  ، ان کامیابیوں کے پیچھے وردی ہے ۔ اسٹیبلشمنٹ ہے ۔ اگر یہ بات مان لی جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کشمیر کے حالیہ انتخابات میں فوجیوں نے سفید لباس پہن کر ووٹ ڈالے جبکہ وہاں حکومت ن لیگ کی ، الیکشن کمیشن  ان کا مقرر کردہ اور سول انتظامیہ بھی ان ہی کے وزیراعظم کے ماتحت تھی ۔

میرے خیال سے  کراچی تا کشمیر پاکستان کے عوام ایک مرتبہ پھر تبدیلی کی خواھش لیکر میدان میں نکل پڑے ہیں اور اگر عمران خان اپنے وعدے پر قائم رہے تو اس بار عوامی انقلاب کو روکنا ممکن نہ ہوگا ۔

میری رائے سے  اختلاف آپ کا حق ہے لیکن جو نکات میں نے اٹھائے ان پر غور کرتے رہیں ۔

SAS Bukhari

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سرپرست

اٹک ای میگزین

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

یومِ غدیر کی اہمیت

جمعرات جولائی 29 , 2021
حضرت عمرؓ کہہ رہے تھے: بخٍ بخٍ لكَ ياعليؑ اصبَحتُ مولاي ومولٰی كُلِّ مؤمنٍ ومؤمنةٍ۔، یعنی مبارک ہو اے علیؑ آپ ہر مؤمن مرد اور عورت کے مولا و سرپرست ہوگئے
غھادععر