گاہ، منگالی اور حلوہ

 گندم کٹائی ، گہائی اور بھوسا کھلیان ( کھلواڑے) سے گھر پہنچانے کےلئے زیادہ بندوں کی ضرورت ہوتی تھی۔اس کے لئے مزدور نہیں ملتے تھے بلکہ امداد باہمی کے اصول کے مطابق ایک دوسرے کا ہاتھ بٹایا جاتا تھا۔اس رضاکار پارٹی کو منگالی کہتے تھے ۔ منگالی کو چھچھ اٹک میں حشری کہتے ہیں۔ -جس دن ’’گاہ ‘‘ ہوتا تھا یعنی گندم کے گٹھو ں سے بھوسہ اور دانے الگ کیے جاتے تھے‘گندم کے گٹھوں کو کھلیان میں پھیلا دیا جاتا تھا۔ ان پر بیل دوڑتے تھے  ‘ یوں کہ دانہ دانہ الگ ہو جاتا تھا۔تب تھریشر کی مشینیں نہیں تھیں ۔ گھر میں ایک خندق کھودی جاتی تھی جسے ’’چَر‘‘ ( چ پر زبر) کہا جاتا تھا۔ اس میں آگ جلتی تھی۔ اوپر درجنوں مٹی کے بڑے بڑے کٹوے ہوتے تھے ۔  منگالي کے لئے حلوہ اہتمام سے پکایا جاتا تھا۔ فضيل کا دادا بابا محمد چوکیدار حلوہ پکانے کا سپیشلسٹ تھا۔اور ایسے موقعوں پر کام آتا۔ ماما عبدا لخالق کھوکھر مکھڈی حلوہ پکانے کا ایسا ماہر ہے کہ دیگچے میں بھی پکا لیتا ہے۔ حالانکہ اس کو کڑاھی میں بھی پکانا مشکل کام ہے ۔2009 میں ہم لوگ واہ کینٹ میں تھے۔ماما اپنے بیٹے حافظ لطیف کے پاس آیا تو  ہمارے گھر کر چکر بھی لگایا اور ہمیں دیگچے میں مکھڈی حلوہ پکا کر کھلایا۔

گاہ، منگالی اور حلوہ
Image by Aamir Mohd Khan from Pixabay

  چھٹوں (    woolen twin sacs) میں ڈال کر گندم کھوتی پر لادتے اور گھر پہنچا دیتے ۔جستی چادر کے بنے ہوئے بھڑولے بھی نہیں تھے۔ مٹی کی بنی ہوئی سکاروں میں غلّہ ذخیرہ کیا جاتا تھا۔

   کھوتی پر  مختلف قسم کا سامان ڈھونےکی مختلف ٹیکنیک استعمال ہوتی ہے۔

   مٹی ، ریت اور نیچرل کھاد ( پاہ) ڈھونےکے لئے  انگریزی حرف ڈبلیو(w)  بورا ،  اینٹ اور پتھر کے لئے  ویسی انگریزی حرف ڈبلیو(w) کی شکل جیسی لکڑی کی جندری ،   بالن ،لکڑیاں ، بھوسہ اور دکان/ گھر کے سامان کے لئے نیٹ نما ترنگڑ/ سلیتہ۔ بھوسے سے لدی کھوتی کی چوڑائی ان اب صورتوں سے زیادہ ہوتی تھی ۔ گلی کی کم از کم چوڑائی loaded Donkey کے برابر رکھی جاتی تھی۔

 جب تندور میں روٹی پکتی تو بچہ پارٹی تندور کے پاس کھڑی ہو جاتی، پہلی روٹی اترتے ہی  روٹی روٹی کا شور مچاتی ۔ گرم روٹی کا ٹکڑا ہاتھ میں پکڑنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ مادر مہربان  روٹی کا ٹکڑا  تیلے کے اوپر فکس کر کے دیتیں ۔ اس کو کہتے تھے  جھنڈا  تیلے سے پکڑ کر روٹی کو چک ما رتے ۔ جس طرح آج لولی پاپ کو سٹک سے پکڑ کر  چوپتے   ہیں۔

  کبھی کبھار مادر مہربان ایک روٹی تندور میں چھوڑ دیتیں ۔ وہ ہلکی آنچ پر پکنے سے گھنٹے بعد مَرُکني روٹی بن جاتی اس تھن  کرسپ  روٹی کو پیشی کی چائے کے ساتھ بطور بسکٹ کھایا جاتا

  امی جان کبھی کبھار پیاز والی  روٹی بھی پکاتی تھیں زمانے کے ساتھ ساتھ پیازی  روٹی بھی ماڈرن ہو گئی اوراس نے  اپنا نام بدل کر پیزا ( pizza)  رکھ لیا ہے۔

سلسلہ خوراکاں کاچوتھا مضمون

ڈاکٹر عبدالسلام

Next Post

وزیر اعلیٰ پنجاب کی تلہ گنگ آمد

منگل اکتوبر 25 , 2022
20اکتوبر2022ء کا دن نومولود ضلع تلہ گنگ کے وسنیکوں کے لئے ایک تاریخی دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا
وزیر اعلیٰ پنجاب کی تلہ گنگ آمد