کرکٹ جمہوریہ پاکستان

کرکٹ جمہوریہ پاکستان

Cricket Republic of Pakistan

تجزیہ :

سیدزادہ سخاوت بخاری

ہمیں بچپن سے یہی بتایا اور سمجھایا گیا کہ ، پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور یہی سوچ لیکر ہم بچپن سے لڑکپن اور جوانی سے ہوتے ہوئے بڑھاپے کی دھلیز تک آگئے ۔ سچ بات تو یہ ہے کہ ہمارے بچپن سے جوانی تک یا یوں کہئیے کہ 1965 کی پاک بھارت جنگ تک پاکستان واقعتا ایک اسلامی جمہوری ریاست تھی ۔ شیعہ ، سنی ، وھابی ، دیوبندی ، اھلحدیث ، ھندو ، سکھ اور عیسائی سب موجود تھے لیکن کبھی بھی مذھب اور مسلک کی بنیاد پر جھگڑا ہوا اور نہ ہی کوئی تفریق دیکھنے کو ملی ۔

65 کی جنگ کو اس لئے حد فاصل قرار دیا کہ اس 17 روزہ جنگ کے دوران قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے جو مظاھر دیکھنے کو ملے ، آج ان کا تصور بھی ممکن نہیں ۔ سن 65 میں میری عمر تقریبا 16 برس ہوگی لیکن مجھے اس جنگ کا آنکھوں دیکھا حال اور  پاکستانی قوم کی طرف سے حب الوطنی کے جذباتی کردار کی پوری تفصیل یاد ہے ۔ اس وقت ملک کی آبادی شاید 12 کروڑ تھی لیکن اسلام ، پاکستانیت ،  بھائی چارے اور حب وطن نے ہمیں ایک جسم اور جان بنا رکھا تھا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی 18 سال ہوئے تھے ۔ کوئی

 ن لیگ تھی نہ پیپلزپارٹی ، تحریک انصاف تھی نہ ایم کیو ایم  لبیک پاکستان تھی نہ  سپاہ صحابہ اور نہ تحریک طالبان ۔ کسی کو کافر کہا جاتا تھا نہ غدار ، بلکہ ھلکی پھلکی ، پرامن سیاست اور مکمل مذھبی

 ہم آھنگی پر مشتمل معاشرہ ، تعمیر پاکستان میں مگن نظر آتا تھا ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔ وسائل کم  مگر معاشرہ پرامن اور مطمئن نظر آتا تھا ۔ مزدور کی دیہاڑی 2 سے 3 روپے ، راج مستری 5 روپے ، نچلے درجے کے ملازمین کی تنخواہ 80 روپے ماھانہ ، دیسی گھی 8 سے 9 روپے فی سیر ، سیمنٹ کی بوری 7 روپے ، چائے کا کپ دو آنے ، ہمارے شھر اٹک سے لاھور کا کرایہ ایک روپیہ چودہ آنے ( یاد رہے ایک روپے میں 16 آنے ہوتے تھے ) اور  سائیکل دو آنے فی گھنٹہ کرائے پر مل جاتی تھی۔ 

یہ سطورلکھتے ہوئے شوکت واسطی کا شعر یاد آگیا ۔ وہ کہتے ہیں ،

شوکت ہمارے ساتھ بڑا حادثہ ہوا

ہم رہ  گئے  ہمارا  زمانہ  چلا  گیا

بات یہ ہورہی تھی کہ اس زمانے میں مالی وسائل کم ہونے کے باوجود لوگ زندگی سے مطمئن اور خوش نظر آتے تھے اور وہ اس لئے کہ انہیں روزی روٹی کے علاوہ کوئی فکر نہ تھی ۔ نہ کسی جلوس میں جانے کی فکر نہ راستے بند ہونے کا ڈر ، نہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب اور نہ ہی ٹریفک جام کا مسئلہ ۔ غرضیکہ پاکستان ، برطانوی دانشور 

سر تھومس مور  کی خیالی جنت      “یوٹوپیا ” ( Utopia )  سے کم نہ تھا ۔

 یہ نقشہ ایوب خان کے عھد تک کا ہے۔ وہ گئے ، جمہوریت آئی ، آزادی ملی اور ایسی ملی کہ جس کے من اور منہ میں جو آیا کہتا اور کرتا چلا گیا ۔ اسلام کی وہ رسی جس میں بند کر ہم نے الگ وطن حاصل کیا تھا اسے پہلے شیعہ سنی کی قینچی سے کاٹا گیا اور جب اس سے بھی کام نہ چلا تو علاقائی اور لسانی نفرتوں کے بیج بوکر قومی یکجہتی اور بھائی چارے کی چادر کو تار تار کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی ۔ یہ تماشا ابھی جاری تھا ۔ مذھبی ، مسلکی ، علاقائی اور لسانی فتنے تھمے نہ تھے کہ موجودہ سیاسی پارٹیوں نے اپنی کوتاھئیوں  ، چوری ڈاکے اور لوٹ مار کو ملکی ترقی اور خوشحالی کا ضامن قرار دیکر جھوٹ اور فریب کا ایسا جادو  چلایا کہ  لوگ ملک و ملت کو بھول کر ان کے دیوانے بن گئے ۔ اب آج حالت یہ ہے کہ

ن لیگ کے دیوانے تو ہیں

پی ٹی آئی کے پروانے تو ہیں

جماعت اسلامی کے چاھنے والے تو ییں

ملاں فضل رحمان کے سپاہی تو ہیں

الطاف حسین کے بھائی تو ہیں

یا پھر

شیعہ ، سنی ، وھابی ، دیوبندی ، اھلحدیث تو ہیں

مگر  مسلمان ، صرف مسلمان اور پاکستانی کوئی نہیں ۔

اقبال نے کہا تھا ،

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رھا

ایک تو یہ کہ ہمارا سب کچھ لٹ چکا  اس پہ دکھ کی بات یہ کہ ہمیں اپنے لٹنے کا احساس تک نہیں ۔

اغیار کی سازشوں سے ہمارے اپنے ہی لوگوں نے ہم سے ہمارا دین چھین کر ہمیں مسلکی خانوں میں بانٹ دیا ۔ یہی ایک رسی تھی جس میں ہم سب نے  بندھ کر الگ وطن حاصل کیا   ، اس کے ٹکڑے کرنے کے بعد ، پاکستانیت پر وار شروع ہوئے ، ہم مسلمانی سے تو نکلے ہی تھے اب پاکستانیت سے بھی باھر نکل آئے ۔

درج بالا دو مضبوط دائرے توڑنے اور ہمیں تتر بتر کرنے کے بعد اب آخری وار ہماری فوج پر کیا جارہا ہے ۔ گزشتہ کئی برس سے ایک مخصوص لابی نے افواج پاکستان کے خلاف اسقدر مکروہ پروپیگنڈہ کیا کہ اب آپ کو اکثر سادہ لوح پاکستانی فوج پر تنقید کرتے نظر آئینگے ۔ وہ نہیں جانتے کہ یہ زھر  دراصل پاکستان مخالف لابی نے پھیلایا ہے تاکہ پاکستان کو خدانخواستہ صفحہ ھستی سے مٹایا جاسکے ۔ دشمن ہمارے پہلے دو مورچے فتح کرچکا ہے یعنی ہمیں مسلمان سے شیعہ ، سنی ، وھابی وغیرہ بنایا پھر پاکستانی سے پنجابی ، سندھی ، پٹھان ، بلوچ اور مہاجر تک لے آیا اور اب ملک کی حفاظت کی آخری دیوار فوج نشانے پر ہے ۔

اس تکلیف دہ اور پریشان کن صورت حال میں امید اور روشنی کی جو کرن نظر آتی ہے اس کا نام ہے کرکٹ کا کھیل ۔ یقین نہ آئے تو میری باتوں پر ٹھنڈے دل سے غور کرکے دیکھ لیں ۔ خیبر سے کراچی تک کہیں بھی  اسلام اور پاکستان کے نام پر اس طرح لوگ اکٹھے نہیں ہوتے ، جسطرح کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے سنی ، شیعہ ، وھابی ، پنجابی ، سندھی اور مہاجر ایک چھت تلےجمع ہوجاتے ہیں لھذا بہتر ہوگا اگر ہم ملک کا نام

کرکٹ جمہوریہ پاکستان

رکھ دیں کیونکہ اب اتحاد اور یگانگت پیدا کرنے کا یہی ایک ذریعہ باقی بچا ہے ۔

SAS Bukhari

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

پرانی کہانی سے نکلتی ہوئی اک نئی کہانی

ہفتہ نومبر 13 , 2021
اس نے اپنے باپ کو قتل کر کے قبیلے کی سرداری حاصل کی تھی اور بیٹھتے ہی اعلان کر دیا تھا کہ ،جس کسی نے میرے خلاف بغاوت کی اس کو موت کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا
Ibn Aasi