آگے کنواں پیچھے کھائی

( ھندوستان میں کسان تحریک کیا رخ اختیار کریگی ۔ مودی جی کہاں کھڑے ہیں ۔ کیا خالصتان تحریک دوبارہ زندہ ہوچکی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں میرا آج کا کالم )

تجزیاتی تحریر :

سیدزادہ سخاوت بخاری

دنیاء بھر میں مختلف کھیل کھیلے جاتے ہیں اور ہر کھیل ( Game ) کے ماہرین نے ان کے لئے قواعد و ضوابط یا رولز و ریگولیشنز بنا رکھے ہیں تاکہ کھلاڑی مخصوص اور محدود حرکات کے دائرے میں رہ کر ہی کسی کھیل کو کھیل سکیں ۔ جہاں خلاف ورزی ہوئی ، سیٹی یا وسل کی زوردار آواز سنائی دیتی ہے ۔ جج اور ریفری اسی غرض سے مقرر کئے جاتے ہیں تاکہ کھیل کو اس کے لئے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق کھیلا جائے ورنہ افراتفری ، زور زبردستی ، چھینا جھپٹی اور جیت کے حصول کے لئے مار پیٹ تک نوبت پہنچ سکتی ہے ۔

کھیلوں کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے کچھ تو کھلاڑیوں کے بدن کی طاقت ، پھرتی اور چستی کے محتاج ہوتے ہیں مثلا ، ھاکی ، کرکٹ ، فٹ بال ، ٹینس ، بیڈ منٹن ، کشتی ، رسہ کشی ، اسکواش وغیرہ ، لیکن کچھ کھیل ایسے بھی ہیں جو زمین پر یا میز کے گرد بیٹھ کر فقط دماغ کے طاقت سے کھیلے جاتے ہیں ۔ ان میں تاش ، کیرم ، لڈو اور شطرنج کے علاوہ کئی روائتی اور علاقائی کھیل شامل ہیں ۔

کہتے ہیں کہ شطرنج کا کھیل پورے طور پر دماغ کی طاقت سے کھیلا جاتا ہے ۔ اس کے لئے تیز ترین دماغ اور دور بین نگاہوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ شطرنج کے کھلاڑی تھکا دینے والی خاموشی میں گم سم ، بساط ( Chess Board ) پہ نگاھیں جمائے ، گھنٹوں اس سوچ میں گم رھتے ہیں کہ کونسی گوٹی کو حرکت دی جائے تاکہ مد مقابل کی گوٹی بھی ھاتھ آجائے اور اسے بعد از آں حملہ کرنے کے موقع بھی نہ مل سکے ۔ دراصل ہر حرکت شہ یا شطرنج کے بادشاہ کو گھیرنے کی کوشش ہوتی ہے اور اگر شہ گھیر لیا گیا تو سامنے والے کو شہ مات ہوجاتی ہے ۔ وہ بازی ھار جاتا ہے ۔

golden temple near water in evening
Photo by Nav Photography on Pexels.com

استادان سیاست کا کہنا ہے کہ سیاست بھی ، شطرنج ہی کی طرح کا ایک کھیل ہے ۔ جس کھلاڑی یا سیاست دان نے بہترین چال چلی وہ بادشاہ یا مد مقابل کو گھیر کر بازی پلٹ سکتا ہے ۔ اس کھیل میں بھی دماغ کا تیز ہونا اور صحیح وقت پر صحیح چال چلنا ، شطرنج کے کھیل کی طرح اولیں شرط ہے ۔ یہاں یہ بھی جان لیں کہ ایک تاریخی روائت کے مطابق شطرنج کا کھیل برصغیر یا متحدہ ھندوستان میں ایجاد ہوا اور سنسکرت میں اسے ” چتو رانگا ” ” چترنگ ” یا چار کونوں والا کہا گیا لیکن جب یہ عربوں کے ھتھے چڑھا اور چونکہ عربی زبان کے حروف تہجی میں ” چ ” اور ” گ ” موجود نہیں لھذا انہوں نے چ کو ش اور گ کو ج سے بدل کر ، اسے چترنگ سے شطرنج بنادیا اور اسطرح اس کا نام ہمارے ھاں اردو وغیرہ میں شطرنج ہی لکھا اور بولا جاتا ہے ۔ بات طویل ہوجائیگی لیکن ذھن میں آگئی تو بتاتا چلوں کہ قوم مغل کا نام بھی دراصل منگول سے بگڑ کر مغل ہوا ۔ یہ چنگیز خان کا قبیلہ ہے لیکن عربوں کی مہربانی سے یہاں بھی گ کو غ سے بدل کر پہلے پہل مغول اور بعد میں مختصر کر کے مغل پکارا جانے لگا ۔

بات سیاست کی شروع ہوئی تھی کہ سیاست بھی شطرنج کے کھیل کی طرح کا ہی ایک کھیل ہے ۔ پہلے زمانے کا بادشاہ اسے کھیل ہی سمجھتے تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اور جوں جوں انسان کے علم اور مسابقت میں اضافہ ہوتا گیا ، سیاست ، کھیل کی حدود سے نکل کر سائینس میں داخل ہوگئی اور اب دنیاء بھر کے نظام ھائے تعلیم میں علم سیاسیات یا پولٹیکل سائینس ( Political Science ) ایک اہم مضمون کی حیثیت سے پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے ۔

چونکہ سیاست اب سائینس میں تبدیل ہوچکی ہے لھذا پڑھے لکھے اور ترقی یافتہ معاشروں میں اسے سائینسی اصولوں کے مطابق ، انسانی فلاح و بہبود اور عالمی امن و بھائی چارے کے فروغ کے لئے استعمال کیا حارھا ہے ، لیکن کچھ ملکوں کے سیاست دان اسے ابتک صرف کھیل سمجھے ہوئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دنیاء کے کچھ ممالک اندرونی طور پر انتشار و خلفشار کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ بعض دیگر اقوام سے بھی جنگ و جدل میں الجھ کر رہ گئے ہیں ۔ ھندوستان ہی کو دیکھ لیں ، ان کے سیاسی ذعماء کے غیر منطقی اور بچگانہ رویوں نے ابتک برصغیر کی اقوام کو مسائل کی دلدل میں پھنسا رکھا ہے ۔ اگر ہمارے باھمی جھگڑے سلجھ گئے ہوتے تو دفاع پر خرچ ہونیوالی خطیر رقوم معاشرے کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوتی اور آج ھندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش ، سری لنکا اور نیپال وغیرہ کے ان گنت شھری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر نہ کر رہے ہوتے ۔

یوں تو بھارت کی تمام سیاسی پارٹیاں شروع سے پاکستان مخالف رہی ہیں اور کسی نے بھی ہمیں چین سے رھنے نہیں دیا لیکن موجودہ برسر اقتدار پارٹی BJP یا بھارتیہ جنتا پارٹی نے تو اس دشمنی اور عداوت کو انتہاء تک پہنچادیا ہے ۔ ان سے پہلے والے بھی اگرچہ ھندو ہی تھے لیکن انہوں نے چہرے پر سیکولرازم کی نقاب چڑھارکھی تھی جبکہ بی جے پی اور بالخصوص مودی سرکار کے برسراقتدار آنے کے بعد ان کے اندر کا ھندو دیوتا بےنقاب ہوکر سامنے آگیا اور اب یہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ علی الاعلان ھندو راشٹر یا ھندو ملک بننے اور بنانے کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔

ھندیوتا ( Hinduism ) کا پرچار شروع ہونے سے ھندوستان بھر میں اقلیتیں ( Minorities ) بالخصوص مسلمان اور سکھ کمیونٹی کے لوگ زیر عتاب ہیں ۔ مسلمان تو شروع سے مار کھاتے چلے آرہے تھے جبکہ سکھوں کے خلاف نفرت کی پہلی جنگ ، بنگلہ دیش کی بانی ، اندرا گاندھی نے ، ان کے امرتسر میں واقع متبرک ترین مقام گولڈن ٹیمپل پر فوج کشی سے شروع کی اور بعد از آں اسی حملے کا بدلہ چکانے کے لئے ، اس کے محافظ سکھوں نے اسے قتل کردیا ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ کانگرسی لیڈر اندرا گاندھی کے 1984 میں قتل کے واقعے پر مشتعل ہوکر ھندو انتہاء پسندوں نے دلی اور اس کے گرد و نواع میں ھزاروں سکھوں کا قتل عام کیا ۔ انہیں زندہ جلایا گیا ۔ ان کی عورتوں اور عبادت گاھوں کی بے حرمتی کی گئی ۔ ٹائر جلا کر زندہ سکھوں کے گلوں میں ڈالے گئے ۔ پنجابیوں کی تاریخ میں دو قتل عام انتہائی کرب بھرے اور ناقابل فراموش ہیں ۔ تقسیم ھند سے قبل 1919 میں جلیانوالا باغ امرتسر میں بیساکھی کے تہوار کے موقع پر ، انگریز جنرل ڈائر کے حکم پر چلنے والی گولی جس سے سینکڑوں بے گناہ افراد لقمہ اجل بنے اور دوسرا 1984 میں ھندوں کے ھاتھوں سکھوں کی نسل کشی ۔

یہاں یہ بھی جان لیں کہ جنرل ڈائر کو ایک سکھ نوجوان نے جلیانوالہ باغ کا بدلہ لینے کے لئے لندن جاکر قتل کردیا تھا جبکہ اندرا گاندھی کو اکال تخت پر فوج کشی کے جرم میں خود اس کے اپنے سکھ محافظوں نے موقع پاکر وزیراعظم ھاوس دلی کے اندر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔

یہ کہانی سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ، ھندوستان میں موجودہ کسان تحریک ، جس میں اگرچہ ہریانہ ، یوپی اور دیگر ریاستوں کے کسان بھی شریک ہیں ، بہ ظاھر کسانوں کے حقوق کی آواز نظر آتی ہے لیکن میرے خیال سے ، یہ فقط آلو پیاز کی فصل بارے بننے والے قوانین کا ہی شاخسانہ نہیں ، بلکہ اس کے اندر سابقہ رنجشیں ، عداوتیں اور مودی جی کی طرف سے پھیلائی جانیوالی ھندیوتا وباء یا ھندو کٹڑ پن سے چھٹکارے کا عزم اور ارادہ بھی واضع نظر آرھا ہے ۔

یاد رہے اس تحریک کا آغاذ پنجاب سے ہوا اور اب دیگر صوبوں کے کسان بھی اس میں شامل ہوگئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس تحریک کی روح ، پنجاب ھریانہ اور یوپی کے سکھ ہی ہیں ، جو اب ذھنی طور پر ھندوں کی غلامی سے تنگ آچکے ہیں ۔ اگرچہ وہ اس وقت ، کھلے عام اپنے لئے الگ وطن خالصتان کی بات نہیں کررہے لیکن دلی حکومت اور بی جے پی ان پر یہ الزام تھونپ رہی ہے کہ یہ خالصتانی ہیں ۔ دھشت گرد ہیں ۔ پاکستانی ایجنٹ ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ یہی نہیں بلکہ اپنے الزامات کو صحیح ثابت کرنے کی غرض سے بی جے پی کی دلی شاخ نے اپنے زرخرید افراد سے ایک سازش کے تحت دلی کے لال قلعے پر سکھوں کا مذھبی پرچم

” نشان صاحب ” بھی لہرا دیا تاکہ انہیں ملک دشمن اور فسادی ثابت کیا جاسکے ۔

غور طلب بات یہ کہ ، آخر ان سکھ کسانوں پر خالصتانی ہونے کا الزام کیوں لگایا جارھا ہے ؟ وہ تو صرف ان قوانین کی منسوخی کے لئے نکلے ہیں کہ جو مودی حکومت نے کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لئے منظور کئے ۔ ضرور دال میں کچھ کالا ہے ۔ ھندوتا کے ان پجاریوں کو شاید احساس ہوچلا ہے کہ ہماری نفرت کی پالیسی کے نتیجے کے طور پر ، سکھ قوم اب میدان میں آچکی ہے اور کسان تحریک دراصل خالصتان تحریک ہے ۔ میرے خیال سے انہیں ان کا ضمیر یہ بھی باور کرا رھا ہوگا کہ تم بلوچستان میں جو کچھ کرتے آ رہے ہو یہ اس کا جواب بھی ہوسکتا ہے ۔ اسی لئے وہ سکھوں کو پاکستان کا ایجنٹ ، خالصتانی اور دھشت گرد قرار دے رہے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے ھندوتا پارٹی نے حالات کا صحیح اندازہ لگا لیا ہو کہ شطرنج کی بساط بچھ چکی ہے اور ہماری طرف سے چلائی جانے والی آذاد بلوچستان کی چال کا جواب اب ہمیں کسان تحریک کی صورت میں دیا جارہا ہے اس لئے وہ انہیں پرامن بھارتی شھری تصور نہیں کررہے ۔

یہ تحریک کہاں جاکر رکے گی ۔ شطرنج کی یہ بازی کون جیتے گا اور اس کے کیا نتائج برآمد ہونگے یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن ایک بات واضع ہے کہ مودی جی اور سکھ دونوں ہی ایک ایسی گھمبیر صورت حال سے دوچار ہوچکے ہیں کہ جس کا نتیجہ تباہ کن اثرات کا حامل ہوگا ۔ مودی اگر سکھوں یا کسانوں کے مطالبات مان لے تو اس کی سیاسی موت واقع ہوسکتی ہے ۔ اس کی ساری بدمعاشی اور اکڑ خاک میں مل جائیگی ۔ اگر کسان یا سکھ اپنے موقف سے پیچھے ھٹے تو وہ کہیں کے نہیں رھینگے اور تحریک کی ناکامی کی صورت میں سکھوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا جائیگا ۔ میری ناقص عقل کے مطابق اب دونوں کوآگے کنواں اور پیچھے کھائی نظر آرہی ہے ۔

مضمون کے آخر میں یہ بھی لکھتا چلوں کہ اگر سکھ اور مودی اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو بھڑنت یا تصادم ہوسکتا ہے ۔ خون بہہ سکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو اس کا نتیجے میں خالصتان تحریک کا ابھر کر سامنے آنا پولٹیکل سائینس کی روء سے کوئی حیرت کی بات نہ ہوگی ۔

سیّدزادہ سخاوت بخاری
،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین

در بارہ سیّد زادہ سخاوت بخاری

یہ بھی دیکھیں

iattock

مابولی – 21 فروری مادری زبان کا عالمی دن

زبان ایک ایسا سماجی عطیہ ہے جو زمانے کے ساتھ ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل کو ملتا رہتا ہے۔