بہرائچ اردو ادب میں -1

جنید احمد نور | بہرائچ

            بہرائچ ہندو نیپال سرحد پرکوہستان ہمالیہ کی مینوسوادوادی میں آباد ایک چھوٹا سا ضلع ہے۔گھاگرا ،راپتی ندی،سرجو اور ان کی معاون ندیوں سے سیرابیہ زرخیر اور مردم خیز علاقہ تاریخ کے ہر دور میں ایک خصوصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔اس کے وسیع اور گھنے  جنگلات،اس کے سر سبز لہلہاتے ہوئے کھیت اورمعطر اور شاداب وادیاں باہر سے آنے والوں کے لئے سامان  دل فریبی اور سامائیہ سکون و راحت فراہم کرتی رہی ہیں۔بہرائچ ہی وہ سرزمین ہے جس کوحضرت سیدسالار مسعود غازی رحمہ اللہ(خواہر زادے سلطان محمود غزنوی)نے اپنے قیمتی خون کے قطروں سے سیراب کیا اور اپنے ہزاروں ساتھوں کے ساتھ اس سرزمین کو شہیدوں کا مسکن بنا دیا اور تاریخ میں بہرائچ کا نام درج کرادیا۔سید صاحب کے ساتھوں میں اکثر اولیاء اللہ تھے جو سرزمین بہرائچ میں جام شہادت نوش فرماکرسرخرو ہوئے۔

Old Mosque in Bahraich
بہرائچ کی ایک قدیم مسجد

            ماسٹر محمدنذیر خاں اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں:

            ’’بہرائچ کی مسلم تاریخ کا آغاز حضرت سید سالار مسعود غازیؒ کے ورود مسعود سے ہوتا ہے۔ سید صاحب موصوف صرف ایک جانباز مجاہد ہی نہ تھے بلکہ بہ حیثیت ایک روحانی پیشوا کے بھی ایک مقام بلند کے مالک تھے۔وہ حضرت شیخ الو الحسن خرقانی ؒ کے مسترشداور خلیفۂ مجاز تھے۔سید صاحب کے ساتھوں میں اکثر اولیاء اللہ تھے جو سرزمین بہرائچ میں جام شہادت نوش فرماکرسرخرو ہوئے۔ان کے انفاس گرم کی تاثیر سے بہرائچ کی مشرکانہ جامد فضائیں توحید کا تموّج اور اسلامی علوم و اخلاق کی تحریک پیدا ہوئی۔سہروردیہ،فردوسیہ کے سلسلہ کے مشہور صاحبِ تصنیف بزرگ حضرت سید افضل الدین امیرماہؒ کا مزار آج بھی وسط شہر میں عقیدت گاہِ انام بنا ہوا ،چشتیہ اور قادریہ خانوادہ کے حضرت سید اجمل شاہ بہرائچیؒ اور سید بڈھن شاہ بہرائچیؒ اسی سرزمین میں آسودۂ خواب ہیں۔شیخ عبد الحق محدث دہلویؒ کے پردادا حضرت فیروز شہید ؒ کا مزاردریا سرجو کے کنارے یہیں واقع ہے۔ان کا ذکر اخبارالاخیار میں قدر ے تفصیل سے موجود ہے۔حضرت مرزا جان جاناں شہیدؒ کے خلیفئہ ارشد حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ(مصنف معمولات مظہریہ ،بشارات مظہریہ بشارات مظہریہ (نسخہ برٹش میوزیم (لندن) میں محفوظ)،انفاس الاکابر)،حضرت شاہ غلام علی نقشبندی دہلویؒ کے خلیفہ بر حق حضرت شاہ بشارت اللہ بہرائچیؒ اور حضرت شاہ احمد سعید دہلویؒ کے خلیفہ مجاز حضرت شاہ ابو الحسن بہرائچیؒ کا وطن ہونے کا شرف اسی شہر کو حاصل ہے۔یہ اور ان کے علاوہ بے شمار علماء کرام اور صوفیائے عظام کی عملی کا وشوں اور عملی جد و جہد کی بدولت بہرائچ بغدادِ علم ،غرناطۂ تمدن اور شیرازِ ادب و تہذیب بن گیا۔‘‘

سید بڈھن شاہ بہرائچی کی مزار مبارک
سید بڈھن شاہؒ بہرائچی کا مزار مبارک

            اکابرصوفیا و علما ء نے یہاں کی سرزمن کو اپنی خاک سے منور کیا۔اس طرح یہاں پر خاص طور پر اردو ادب نے بہت ترقی پائی۔بہرائچ زمانہ قدیم سے ہی علم کا گہوارہ رہا ہے۔ سرزمین بہرائچ ادب اور شعر و شاعری کے سلسلے میں اس قدر مردم خیز ہے کہ یہاں ہر دور میں متعدّاساتذہِ اکرام اپنے اطراف میں تلامذہ کی ایک بھیڑ کے ساتھ نظر آتے تھے۔بہرائچ میں اردو ادب کی تاریخ تقریباً200 سال قدیم ہے۔میری تحقیق کے مطابق شاہ نعیم اللہ صاحب بہرائچیؒ کوبہرائچ کا پہلا اردو شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے۔شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ کا کلام آج بھی آپ کے خانوادے کے پاس محفوظ ہے۔

حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ :آپ  کی ولادت1153ھمطابق 1738ء میں موضع بھدوانی قصبہ فخرپورضلع بہرائچ میں ہوئی تھی۔شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒکی وفات 5؍صفر1218ھ مطابق1803ء کو ہوئی ۔آپ کی مزار احاطہ شاہ نعیم اللہ بہرائچی ؒ (گیند گھر)میں واقع ہے۔حضرت  شاہ نعیم اللہ صاحب کے استاذ مشہور صوفی بزرگ اور ارو ادب کے عظیم شاعر حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید ؒ تھے۔خانقاہ نعیمہ کے سجادہ نشین حضرت سید ظفر احسن بہرائچی صاحب لکھتے ہیں:۔

            ”خانقاہ حضرت مرزا مظہر جان جاناںؒ میں جہاں ایک طرف متصوّفانہ تعلیم وتربیت کا سلسلسہ جاری تھا ،وہیں دوسری طرف شعر وشاعری کے بھی چرچے ہوا کرتے تھے۔اس شغل میں قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی،ؒشاہ نعیم اللہ بہرائچی،شاہ غلام علی دہلوی ؒ،مولوی ثناء اللہ سنبھلیؒ،مولوی غلامیحیٰ بہاری ؒ،انعام اللہ خاں یقینؔ،خواجہ احسن اللہ بیانؔ، محمد فقیہ دردمندؔ، ہیبت اللہ خاں قلی حسرتؔ پیش و پیش تھے ۔حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ نے اپنے چار سالہ قیام دہلی کے دوران اپنے پیر ومرشد حضرت مرزا مظہر ؔجان جاناں سے تصوف کے رموزو نکات کے ساتھ شعر گوئی کی بھی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔آپ نے اردو میں معتدد مثنویاں کہی ہیں۔حضرت امام ربانی مجدد الفثانی   ؒ اورحضرت شاہ محمد عاقل سبزپوش چشتی ؒ کے قادریہ شجرہ کو فارسی میں نظم کیا ہے۔“ { آثار حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہیدؒ ص۳۰۵ }

            حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچی ؒ نے تقریباً 26 کتابیں لکھی اور جن میں معمولات مظہریہ ، بشارات مظہریہ،انفاس الاکا بر قابل ذکر ہیں۔ معمولات مظہریہ حضرت مرزا مظہرؔ جان جاناں شہیدؒ کی حیات مبارکہ پر سب سے پہلی کتاب تھی جو آج بھی   مقبول خاص وعام ہے اور جس کے متعدد ترجمہ شائع ہو چکے ہیں۔جبکہ بشارات مظہریہ قلمی ہے اور لندن میں محفوظ ہے۔انفاس الاکابر اب نایاب و نادر ہے۔

ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ میں بہرائچ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے :                                                                                         ’’بہرائچ ایک خوب صورت شہر ہے  جو دریائے سرجو کے کنارے واقع ہے  سرجو ایک بڑا دریا ہے جو اکژ اپنے کنارے گراتا  رہتا  ہے بادشاہ شیخ سالار(سید سالار مسعود غازیؒ) کی قبر کی زیارت کے لئے دریا  پار گیا ۔شیخ سالارؒ نے اس نواح کے اکژ ملک فتح کیے تھے۔اور ان کی بابت عجیب عجیب باتیں مشہور ہیں ۔‘‘

            بہرائچ ہی وہ سرزمین ہے جہاںشہنشاہ غزل میر تقی میرؔنے اپنی مثنوی’’ شکار نامہ‘ تصنیف کی تھی۔ میر ؔنے بہرائچ کا ذکرکرتے ہوئے   لکھاہے کہ    ؎

چلے ہم جو بہرائچ سے پیشتر
ہوئے صید دریا کے واں پیشتر

انشااللہ خاں انشاؔبھی بہرائچ آئے تھے اور بہرائچ کی مقدس سرزمین پر اپنی قلم کا جادو بکھیرا ہے۔ اس کے علاوہ  آپ نے ٹھاکر ٹپررہا  اسٹیٹ ضلع بہرائچ کی شاہی مسجد کی تعمیر پر فارسی اور اردو میں تاریخی قطعات بھی کہے تھے جو کلیات میں موجود ہیں۔ آپ کا یہ شعربہت مشہور ہے جس میں آپ نے بہرائچ کی سرزمین کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔    ؎

دلکی بہرائچ نہیں ہے ترک تازی کا مقام
ہے یہاں پر حضرت مسعود غازیؒ کا مقام
ایک دوسرے شعر میں ا نشا اللہ خاں انشا ؔلکھتے ہیں کہ ؎
یو ں چلے مژگان سے اشکِ خو ن فشاں کی میدنی
جیسے بہرائچ چلے بالے میاں کی میدنی
لخت دل مسعود نیلے گہوڑے داغ ہی

جلوئہ انوار سے کرو بیان کے میدنی

ایک دوسرے شعر میں ا نشا اللہ خاں انشا ؔلکھتے ہیں کہ     ؎

یو ں چلے مژگان سے اشکِ خو ن فشاں کی میدنی
جیسے بہرائچ چلے بالے میاں کی میدنی
لخت دل مسعود نیلے گہوڑے داغ ہی

جلوئہ انوار سے کرو بیان کے میدنی
مصنف میلادِ اکبر و آئینۂ مسعودی خواجہ اکبرؔ وارثی میرٹھی نے بہرائچ کی سرزمین کا ذکر کرتے ہوئے یہ شعر قلم بند کیا ہے۔
چپے چپے پر مزاراتِ شہیداں دیکھئے
دید کے قابل ہیں بہرائچ کے میداں دیکھئے
ہر طرف ہے بارش انوار عرفاں دیکھئے
بارگاہ سیدِ سالارِ ذی شاں دیکھئے
مشہور ریختی شاعر میریار علی جانؔ نے حضرت سید سالار مسعود غازیؒ(بالے میاں) کے میلے پر یہ شعر کہا ہے جس کو آپ ریختہ پر پڑھ سکتے ہیں:
گیا تھا گنگا مہاجن آتے ہی پہنچا بالے میاں کے میلے
نہ ٹالے بالے بناؤ صاحب منگا دو بالے مرے چھڑا کر
شہنشاہ طنز ومزح حضرت شوقؔ بہرائچی درگاہ حضرت سید سالار مسعود غازیؒ پر لگنے والے سالانہ میلے کے پس منظر پر فرماتے ہیں:
ہر سمت جو جلاجل و قرنا کا شور ہے
غازی میاں کے بیاہ کا ساماں ہے غالباً

مصنف میلادِ اکبر و آئینۂ مسعودی خواجہ اکبرؔ وارثی میرٹھی نے بہرائچ کی سرزمین کا ذکر کرتے ہوئے یہ شعر قلم بند کیا ہے۔

چپے چپے پر مزاراتِ شہیداں دیکھئے
دید کے قابل ہیں بہرائچ کے میداں دیکھئے
ہر طرف ہے بارش انوار عرفاں دیکھئے
بارگاہ سیدِ سالارِ ذی شاں دیکھئے
مشہور ریختی شاعر میریار علی جانؔ نے حضرت سید سالار مسعود غازیؒ(بالے میاں) کے میلے پر یہ شعر کہا ہے جس کو آپ ریختہ پر پڑھ سکتے ہیں:
گیا تھا گنگا مہاجن آتے ہی پہنچا بالے میاں کے میلے
نہ ٹالے بالے بناؤ صاحب منگا دو بالے مرے چھڑا کر
شہنشاہ طنز ومزح حضرت شوقؔ بہرائچی درگاہ حضرت سید سالار مسعود غازیؒ پر لگنے والے سالانہ میلے کے پس منظر پر فرماتے ہیں:
ہر سمت جو جلاجل و قرنا کا شور ہے
غازی میاں کے بیاہ کا ساماں ہے غالباً
مشہور شاعر شکیل ؔبدایونی کے استاد اور مشہور شاعر حضرت ضیاء ؔالقادری بدایونی حضرت سید سالار مسعود غازیؒ اور بہرائچ کی عظمت کو اپنا سلام اس طرح پیش کرتے ہیں:
وہ جس کے فیض سے دارالفیوض بہرائچ
وہ جس کی ذات سے دارالاماں ہندوستاں

مشہور ریختی شاعر میریار علی جانؔ نے حضرت سید سالار مسعود غازیؒ(بالے میاں) کے میلے پر یہ شعر کہا ہے جس کو آپ ریختہ پر پڑھ سکتے ہیں:

گیا تھا گنگا مہاجن آتے ہی پہنچا بالے میاں کے میلے
نہ ٹالے بالے بناؤ صاحب منگا دو بالے مرے چھڑا کر
شہنشاہ طنز ومزح حضرت شوقؔ بہرائچی درگاہ حضرت سید سالار مسعود غازیؒ پر لگنے والے سالانہ میلے کے پس منظر پر فرماتے ہیں:
ہر سمت جو جلاجل و قرنا کا شور ہے
غازی میاں کے بیاہ کا ساماں ہے غالباً

شہنشاہ طنز ومزح حضرت شوقؔ بہرائچی درگاہ حضرت سید سالار مسعود غازیؒ پر لگنے والے سالانہ میلے کے پس منظر پر فرماتے ہیں:

ہر سمت جو جلاجل و قرنا کا شور ہے

غازی میاں کے بیاہ کا ساماں ہے غالباً

مشہور شاعر شکیل ؔبدایونی کے استاد اور مشہور شاعر حضرت   ضیاء ؔالقادری بدایونی حضرت سید سالار مسعود غازیؒ   اور بہرائچ کی عظمت کو اپنا سلام اس طرح پیش کرتے ہیں:

وہ جس کے فیض سے دارالفیوض بہرائچ
وہ جس کی ذات سے دارالاماں ہندوستاں

مشہور افسانہ نگار قرۃ العین حیدر نے اپنے افسانہ  ”آگ کا دریا “  میں بہرائچ کا ذکر اس طرح کیا ہے:              

بہرائچ کی چھوٹی سی آبادی میں پیلے رنگ کے کچے مکان اِدھر اْدھر بکھرے تھے، خاک آلود راستوں پر سے بیل گاڑیاں گزر رہی تھیں ،اور اْداسی کی سی بے رنگ بے نام کیفیت سارے میں طاری تھی۔ سنا تھا کسی زمانہ یہاں ایک عظیم الشان شہرآباد تھا۔جسے شراوستی کہتے تھے۔اس کے سوم ونشی بادشاہ بڑے جاہ وجلال والے تھے اور نجومیوں نے شراوستی کے سہیل دیو سے کہا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب اُتر سے دیوزاد بلندو بالاترک آکر تمہارا خاتمہ کر دیں گے اور غزنی کے محمود کا ایک سپہ سالار ادھر آیا جس کا نام مسعود غازی ؒتھا اور اس مسعود غازی ؒنے سوہل دیو کا خاتمہ کردیا۔                       

ساغر ؔمہدی نے دیوانجلی میں لکھا ہے کہ پروفیسر سید مسعودحسن رضوی ادیبؔ ، عصمت ؔچغتائی،عظیم بیگ چغتائی اور کیفی ؔاعظمی کی ابتدائی زندگی کا ایک دور یہاں گزرا ہے۔(دیوانجلی ،1973ءص 14)

پروفیسر سید مسعود حسن رضوی ادیبؔکے بارے میں جناب مرزا جعفر حسین نے اپنی کتاب ”مسعود حسن رضوی ادیبؔ :حیات و خدمات“ میں لکھتے ہیں۔ :                           

            پروفیسر سید مسعود حسن رضوی ادیبؔ کے والد کا وطن ضلع اناؤ میں نیوتی کا قصبہ تھا۔مگر علم کا شوق لکھنؤ کھینچ لے گیاتھااور آب ودانے کی کشش نے بہرائچ پہنچا دیا تھا،وہیں15؍محرم1311ھ بمطابق 29؍جولائی1893ء کو محلہ ناظر پورہ بہرائچ میں آپ کی ولادت ہوئی۔

            مشہور ادیب ،عید گاہ اور گودان جیسے بے مثل شاہکار لکھنے والے منشی پریم چند نے بھی شہر بہرائچ کو اپنی رہائش کا شرف بخشا ہے۔منشی پریم چند صاحب کی پیدائش3؍جولائی1880ءمیں ہوئی۔آپ صرف60 سال کی عمر میں ٹیچر کے عہدے پر فائز ہو گئے تھے۔ اس دوران2؍جولائی1900ءمیں آپ کا ٹرانسفر بہرائچ کے گورنمینٹ انٹر کالج میں20؍روپےماہانہ پرہوا۔جہاںپرآپ نےتین ماہ تک بطور ٹیچر کے تعلیمی خدمات انجام دی۔اوریہیں بہرائچ میں ہی اپنے ناول ” اسرار معابد“ کی شروعات کی تھی۔سابق پرنسپل گورنمینٹ انٹر کالج بہرائچ وی کیٹنڈن کے حوالہ سے ہندی روزنامہ امر اجالہ لکھتا ہیں : میرے وقت میں ایک کیٹلاگ منشی پریم چند کے ہاتھ کا لکھا ہوا ملا تھا جسے الماری میں محفوظ کرا دیا گیا تھا۔لیکن موجودہ پرنسپل ایم۔پی۔ سنگھ کے مطابق انہیں نا تو یہ کیٹلاگ ملا نہ ہی رجسٹر۔ البتہ موجودہ وقت کاغذات کی دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے دیمک چٹ کر گئے۔ (روزنامہ امر اجالہ،بہرائچ )

مشہور شاعر کیفی ؔ اعظمی کا بہرائچ سے گہرا تعلق تھا۔آپ کے بچپن کے دن بھی بہرائچ میں گزرے ہیں۔کیفیؔ صاحب نے اپنی پہلی غزل بہرائچ میں ہی پڑھی تھی۔جیسا کہ کیفیؔ صاحب خود اپنے مجموعۂ کلام ”سرمایہ“  میں لکھتے ہیں ۔:

کیفی اعظمی
کیفی اعظمی

            واقعہ یہ ہے کہ ابّا بہرائچ میں تھے۔نواب قزلباش اسٹیٹ(تعلقہ نواب گنج علی آباد بہرائچ) کے مختار عام یا پتہ نہیں کیا وہا ں ایک مشاعرہ منعقد ہوا اس وقت زیادہ تر مشاعرے طرحی ہوا کرتے تھے اسی طرح کا ایک مشاعرہ تھا۔بھائی صاحبان لکھنؤسے آئے تھے۔بہرائچ، گونڈہ،نانپارہ اور قریب دور کے بہت سے شعراء مدعو تھے۔مشاعرے کے صدر مانی ؔجائسی صاحب تھے ان کے شعر سننے کا ایک خاص طریقہ تھا کہ وہ شعر سننے کے لئے اپنی جگہ پر اکڑوں بیٹھ جاتے اور اپنا سر اپنے دونوں گھٹنوں سے دبا لیتے اور جھوم جھوم کے شعر سنتے اور داد دیتے۔اس وقت شعرا ء حسب مر اتب بٹھائے جاتے ایک چھوٹی سی چوکی پر قیمتی قالین بچھا ہوتا اور گاؤ تکیہ لگا ہوا ہوتا صدر اسی چوکی پر گاؤ تکیے کے سہارے بیٹھتا تھا جس شاعر کی باری آتی وہ اسی چوکی پر آکے ایک طرف نہایت ادب سے دو زانو ہوکے بیٹھتا ،مجھے موقع ملا تو میں بھی اسی طرح ادب سے چوکی پر ایک کونے میں دو زانو بیٹھ کے اپنی غزل جو طرح میں تھی سنانے لگا طرح تھی ” مہرباں ہوتا رازداں ہوتا “ وغیرہ میں نے ایک شعر پڑھا ۔

وہ سب کی سن رہے ہیں سب کو دادِ شوق دیتے ہیں

کہیں ایسے میں میرا قصئہ غم بھی بیاں ہوتا

مانی ؔصاحب کو نہ جانے شعر اتنا کیوں پسند آیا کہ انھوں نے خوش ہو کر پیٹھ ٹھونکے کے لئے پیٹھ پر ایک ہاتھ مارا تو میں چوکی سے زمیں پر آرہا۔ مانیؔ صاحب ا منھ گھٹنوں میں چھپا ہوا تھا اس لئے انھوں نے دیکھا نہیں کہ کیا ہوا جھوم جھوم کے داد دیتے اور شعر مکرّر مکرّرمجھ سے پڑھواتے رہے اور میں زمین پر پڑا پڑا شعر دوہراتا رہا،یہ پہلا مشاعرہ تھا جس میں شاعر کی حیثیت سے میں شریک ہو ا۔اس مشاعرہ میں مجھے جتنی داد ملی اس کی یاد سے اب تک کوفت ہو تی ہے۔بزرگوں نے داد دی اور کچھ لوگوں نے شک کیا کی یہ غزل کسی اور کی ہے اور میں نے اسے اپنے نام سے پڑھی ہے۔اس پر میں رونے لگا تب بڑے بھائی شبیر حسین وفاؔ جنہیں ابا سب سے زیادہ چاہتے تھے انھوں نے ابا سے کہا  انھوں نے جو غزل پڑھی ہے وہ انہیں کی ہے شک دور کرنے کئے لئے کیوں نہ ان کا امتحان لے لیا جائے اس وقت ابا کےمنشی حضرت شوقؔ بہرائچی تھے جو مزاحیہ شاعر تھے۔انھوں نے اس تجویز کی تائید کی مجھ سے پوچھا گیا امتحان  دینے کے لئے تیار ہو میں خوشی سے تیار ہو گیا۔شوقؔ بہرائچی صاحب نے مصرع دیا  ؏   

اتنا ہنسو کہ آنکھ سے آنسو نکل پڑے

بھائی صاحب نے کہا ان کے لئے یہ زمین بنجر ثابت ہوگی کوئی شگفتہ سی تجویز کیجئے لیکن میں نے کہا اگر غزل کہوں گا تو اسی زمین میں ورنہ امتحان نہیں دوں گا طے پایا کہ اسی طرح میں طبع آزمائی کروں اور تھوڑی دیر میں تین چار شعر کہے جو اس طرح تھے جسے بعد میں بیگم اختر نے اپنی آواز سے پنکھ لگا دیئے اور وہ ہندوستان ،پاکستان میں مشہور ہوگئی وہ غزل میری زندگی کی پہلی غزل ہے کو میں نے 11؍سال کی عمر میں کہی تھی۔

اتنا تو زندگی میں کسی کی خلل پڑے
ہنسنے سے ہو سکوں نہ رونے سے کل پڑے

جس طرح ہنس رہا ہوں میں پی پی کے گرم اشک
یوں دوسرا ہنسے تو کلیجہ نکل پڑے

کیفی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ اب اس غزل کو آپ پسند کریںیا نہ کریں خود میں بھی ابا ایسی غزل نہیں کہہ سکتا لیکن اس یہ افادیت ضرور ہے کہ اس نے لوگوں کا شک دور کر دیا اور سب نے یہ مان لیا کہ میں نے جو کچھ اپنے نام سے مشاعرے میں سنایا تھا۔وہ میراہی کہا ہوا تھامانگے کا اجالا نہیں تھا۔بہرائچ میںیہ غزل کہنے اور مشاعرے میں سنانے کے بعد لکھنؤ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

جنید احمد نور

اردو ویکیپیڈین/ بلاگر

بہرائچ، اتر پردیش

جنید احمد نور

Next Post

کیمبل پور سے اٹک تک- 6

اتوار مارچ 28 , 2021
کامل پور سیدان کی تنگ مگر صاف ستھری گلیوں میں روشنی کے لئے پرانی طرز کے چراغدان ( Lamp Posts)نصب تھے ۔ یہاں شھر کی قدیمی امام بارگاہ واقع ہے