علی شاہ کی کتاب ‘ نومی کی شرارتیں ‘
تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
نام کتاب : نومی کی شرارتیں
مصنّف : علی شاہ
اشاعت : مارچ 1999ء
انتساب !
منکیرہ اور اہلِ منکیرہ کے نام
بچوں کا ادب تخلیق کرنا ایک مشکل ترین کام ہے ۔ اندر کے بچہ کو بیدار رکھنا اِس سے بھی کہیں زیادہ مشکل کام ہے اور اِس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہمارے ملکِ پاکستان میں بچوں کے ادب پر بہت کم کام ہوا ہے ۔ اتنا ادب تخلیق نہ ہو سکا جتنا ہونا چاہئے تھا ۔ بہرکیف ہر دور میں اہلِ قلم نے بچوں کے ادب پر لکھا ہے اور وہ اس حوالے سے بہت ہی زیادہ خوش قسمت ہیں کہ ان کا ادب زیادہ پڑھا جاتا رہا ہے ۔ کیونکہ بچوں کا ادب سدا بہار ادب ہوتا ہے ۔ بچہ جب تک بچہ ہوتا ہے اُس نے بچوں کے ادب کا مطالعہ ضرور کرنا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بچوں کا ادب لکھا کم اور پڑھا زیادہ جاتا ہے ۔
بچوں کے ادب پر کام کرنے والوں میں چند قلم کاروں کے نام ملاحظہ فرمائیں ۔
حکیم محمد سعید مرحوم ( کراچی )
نذیر انبالوی ( لاہور )
صادق شاہین ( لاہور )
ڈاکٹر محمد مشرف حسین انجم ( سرگودھا )
شیخ فرید ( کوئٹہ )
اختر ندیم ( چوک اعظم ، لیّہ )
پروفیسر عاصم بخاری ( میانوالی )
صفدر علی صفدر ( اُچ شریف )
ہمارے شہر منکیرہ ( بھکر ) سے ایک خوب صورت نام علی شاہ ( مرحوم ) کا بھی ہے ۔ انہوں نے اپنی تخلیقات کا آغاز بچوں کی کہانیاں سے کیا تھا ۔ اپنی کتاب ٫٫ نومی کی شرارتیں ،، اپنی بات کے عنوان سے اشاعت کے سلسلے میں لکھتے ہیں ۔
جہاں تک اس کتاب کی اشاعت کا تعلق ہے تو ہوا یوں کہ 1997 ء میں ایک تعلیمی کورس کے سلسلہ میں کچھ عرصہ اسلام آباد رہنے کا اتفاق ہوا جہاں اپنے مہربان دوست بلال مہدی ( وزارت تعلیم اسلام آباد ) کے دولت خانے پر چند ماہ ان کی رفاقت میں گزار نے کا موقع ملا ۔ بلال مہدی ایک علم اور ادب دوست انسان ہیں اور علاقہ پرستی کی وجہ سے اپنے حلقہ یاراں میں ایک خاص مقام اور پہچان رکھتے ہیں ۔ بلال مہدی کا مشغلہ بلکہ اوڑھنا بچھونا مطالعہ ء کتب ہے ۔ بلال مہدی جس قدر کتابوں میں گم رہتے ہیں اس سے کہیں زیادہ کتابیں ان کے اندر محفوظ رہتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلال مہدی نے ہی مجھے ان کہانیوں کو یکجا کرنے کا مشورہ دیا اور صرف یہی نہیں بلکہ بھر پور معاونت بھی کی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مجھے بلال مہدی کی رفاقت اور معاونت میسر نہ آتی تو میری یہ کاوش کبھی منظرِ عام پر نہ آتی ۔ ( ص : 5 )
علی شاہ کی کتاب ٫٫ نومی کی شرارتیں ،، اِس میں بچوں کے لئے کہانیاں لکھی گئیں ہیں ۔ یہ وہ کہانیاں ہیں جو علی شاہ نے زمانہء طالب علمی میں تحریر کی تھیں ۔ علی شاہ کو راہِ عدم ہوئے دس برس سے زیادہ عرصہ بیت گیا ہے ۔ لیکن ان کی یادیں آج بھی ان کی یادیں ہمارے دلوں میں ہیں ۔ خوش اخلاق ، خوش مزاج ، خوش گفتار ، خوش شکل ، خوش لباس، خوش بیان ، وسیع القلب ، وسیع المطالعہ اور خوش روح انسان تھے ۔
44 سال قبل لکھی گئی کہانیوں میں فقط کہانیاں ہی نہیں ان کے اندر تہذیب ، ثقافت ، کلچر اور اُس دور کی مناسبت سے وہ منظر نگاری قاری کی آنکھوں کے سامنے گھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔ جو اُس وقت خاص پہچان رکھتی تھیں ۔ ٫٫ نومی کی شرارتیں ،، نومی ایک ہی نام اور کردار ہے ۔ ان کو ہر بار ایک نئی شرارت سوجھتی ہے اور ہر بار نقصان اٹھا نے پر گھر والوں سے اور دوستوں سے شرمندگی بھی اٹھانا پڑتی ہے اور ہمیشہ کے لئے توبہ بھی کرنی پڑتی مگر چند دنوں کے بعد نومی پھر سے ویسے کا ویسا شرارتی دکھائی دیتا ہے ۔ اس سے قاری کی دلچسپی مطالعہ اور بڑھ جاتی ہے ۔ یہ علی شاہ کے فنِ کہانی کاری اور مہارت ہے کہ بوریت کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ حسرت ، تجسّس ، سبق اور اپنے حصّار میں جکڑے رکھتی ہیں ۔ ایسی کہانیاں ایک زمانہ یاد دلاتی ہیں ۔
کتاب ٫٫ نومی کی شرارتیں ،، سے ایک اقتباس
٫٫ نومی بنا تیراک ،،
ان دونوں اسپین کے شہر بار سلونا اولمپک کھیل ہو رہے تھے ، دُنیا بھر سے ہزاروں کی تعداد میں مختلف کھیلوں کے کھلاڑی بار سلونا پہنچے ہوئے تھے ۔ ہر روز رات کو خبر نامہ کے بعد ٹیلی ویژن پر اولمپک کھیلوں کی جھلکیاں دکھائی جاتیں ۔ فٹ بال ، باسکٹ بال ، والی بال ، تھلیٹک اور جمنا سٹک وغیرہ کو روزانہ ٹی وی پر دکھایا جاتا نومی روزانہ یہ مقابلے ٹی وی پر دیکھتا ۔ یوں تو نومی کافی محفوظ ہوتا لیکن نومی کو سب سے زیادہ جس کھیل نے متاثر کیا وہ تھا تیرا کی ۔ صاف شفاف پانی میں رنگ برنگے نیکر پہنے صحت مند اور پھر تیلے تیراک نومی کو بہت بھلے لگتے ۔ ٹی وی پر تیراکی کے مقابلے وہ خصوصی طور پر دیکھتا ۔ جتنے دن اولمپک کھیل جاری رہے وہ باقاعدگی سے ٹیلی ویژن پر دیکھتا رہا ۔ اولمپک کھیل ختم ہوئے تو اس نے بھی تہیہ کر لیا کہ وہ بھی تیراک بنے گا اور ویسے بھی اس کے نزدیک تیراکی کوئی اتنا مشکل کام نہیں تھا ۔ ایک دن نومی نے دوستوں کے ساتھ ملکر شہر سے کچھ فاصلے پر موجود بڑی نہر میں نہانے کا پروگرام بنایا ۔ سب دوستوں نے مسئلہ یہ پیش کیا کہ چونکہ ان میں سے تیرنا کسی کو بھی نہیں آتا اس لئے نہر پر جانا فضول ہے لیکن نومی نے انہیں یہ بتا کر حیران کر دیا کہ نہ صرف وہ تیرنا جانتا ہے بلکہ انہیں بھی تیرنا سکھائے گا ۔ سو طے شدہ پروگرام کے مطابق وہ چھٹی والے دن عین دوپہر کے وقت نہر پر جا پہنچے ۔ باقی لڑکوں نے تو پانی کی تندو تیز لہروں کو دیکھ کر ہی نہانے سے انکار کر دیا لیکن نومی نے نہ صرف اکیلا نہانے کا فیصلہ کر لیا بلکہ باقی لڑکوں کی بزدلی کا بھی مذاق اڑایا ۔ اس نے نیکر پہنی اور بغیر سوچے سمجھے نہر میں چھلانگ لگا دی ۔ ارے یہ کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ وہ تو گہرے پانی میں نیچے ہی جارہا تھا اور نہر کی سطح آ ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ اب تو اس کا دم گھٹنے لگا اور سانس بھی ختم ہو رہی تھی وہ سخت پریشان ہو گیا اور اوپر نکلنے کے لئے زور لگایا لیکن پانی اسے نیچے لے جارہا تھا ۔ اب اس نے گھبرا کر دوستوں کو آواز دینا چاہی لیکن پانی میں اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی اس نے چلانے کیلئے جو نہی منہ کھولا بہت سا پانی اس کے منہ کے ذریعے اس کے پیٹ میں چلا گیا اب اسے اپنی بے وقوفی پر سخت پچھتاوا ہو رہا تھا لیکن یہ سوچنے کے لئے اس کے پاس موقع ہی کہاں تھا ۔۔۔۔۔۔۔ پھر کیا تھا ؟ وہ گہرے پانی میں ڈیبیاں کھانے لگا ۔ پانی منہ اور ناک کے ذریعے اس کے پیٹ میں بھر گیا تھا سب لڑکے سمجھ رہے تھے کہ نومی دانستہ طور پر پانی میں کلابازیاں کھا رہا ہے ۔ وہ نومی کی مہارت پر حیران ہو رہے تھے اور خوشی سے تالیاں بجا رہے تھے ۔ اب لڑکوں نے نومی کو آواز دی کہ باہر آ جاؤ اور ہمیں ساتھ لے جاؤ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ نومی کی آنکھیں بند ہیں ۔ وہ بے ہوش ہے اور غوطے کھا رہا ہے ۔ تو انہوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا ۔ ان کی چیخ و پکار سن کر دور کے ایک ڈیرے سے آدمی بھاگتا ہوا وہاں پہنچا تو لڑکوں نے اسے ساری صورتِ حال بتائی لیکن نومی اس دوران پانی میں غائب ہو چکا تھا ۔ وہ آدمی ماہر تیراک تھا اس نے پانی میں چھلانگ لگائی ۔ وہ آدمی نومی کو تلاش کرنے لگا ۔ کافی دیر بعد وہ نومی تلاش کرنے میں کامیاب ہوا اور اسے بالوں سے پکڑ کر کنارے پر لے آیا ۔ پیٹ میں بہت زیادہ پانی بھر جانے سے نومی کا پیٹ بہت زیادہ پھول گیا تھا اور چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا ۔ اس آدمی نے نومی کو پہلو کے بل لٹایا اور زور زور سے اس کا پیٹ دبانے لگا ۔ پانی نومی کے پیٹ سے پر نالے کے روپ میں نکلنے لگا ۔ کافی دیر بعد نومی کی حالت بدلنے لگی اور اسے ہوش آیا ۔ شام کے وقت دوست اسے گھر لے آئے ۔ نقاہت کی وجہ سے اس سے چلا بھی نہیں جا رہا تھا ۔ اب ایک تو دوستوں کے سامنے اسے شرمندگی اٹھانا پڑی اوپر سے امی نے بھی سخت برا بھلا کہا یہ تو شکر ہوا کہ ابو کچھ دنوں کے لئے گھر سے باہر گئے ہوئے تھے ورنہ ان کی مار بھی یقینی تھی اب تو نومی اگر کبھی غسل خانے میں بھی نہانے لگتا تو شاور کو اس ڈر سے مضبوطی سے پکڑ لیتا کہ کہیں غوطے آنا شروع نہ ہو جاہیں ۔ ( ص : 12 )
علی شاہ کی کہانیوں کا اسلوب خوب صورت انداز میں ہے اور کہانی کی روح اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے ۔ تحریر کے ساتھ انصاف کرنا ایک اچھے ادیب کی پہچان ہے ۔ ان سب خوبیوں سے مالا مال اور بھی بہت سی خوبیوں کی حامل علی شاہ کی کتاب ٫٫ نومی کی شرارتیں ،، ایک یادگار کتاب ہے ۔
نومی کی شرارتیں کے حوالے سے محمد ثقلین رضا ( ایڈیٹر ہفت روزہ سانول ) لکھتے ہیں ۔
بچوں کے لیے لکھنا بھی مشکل ہے کہ نہ صرف ان کی سطح پر آ کر لکھنا پڑتا ہے بلکہ بچے ان تحریروں میں وہی معصومیت ڈھونڈتے ہیں جو ان کی عمر کا تقاضا ہے ۔میرے خیال میں علی شاہ نے یہ فریضہ بخوبی سر انجام دیا ہے ویسے تو علی شاہ بے شمار خوبیوں کے مالک ہیں مگر ان کی یہ خوبی انہیں ممتاز کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے اندر کے بچے کو جوان نہیں ہونے دیا ۔ میرے نزدیک رویوں کا جو خالص پن یہ بچوں میں ہوتا ہے جوانی اسے کھا جاتی ہے علی شاہ نے کی منازل تو طے کر لیں مگر انہوں نے اپنے اندر کے بچے کی پرورش کو فراموش نہیں کیا ۔ ان کے اندر کا معصوم بچہ انہیں کبھی شرارتوں پر مجبور کرتا ہے اور کبھی ایسی خواہشیں کرتا ہے جسے ان کے باہر کا نوجوان بھی پورا کرتے ہوئے جھجکتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ علی شاہ کی ذات میں پہناں خوبیوں کی سربراہی کا حق دار دراصل ان کے اندر کا بچہ ہے جس کی حفاظت کرتے ہوئے کبھی کبھار علی شاہ بھی فخر محسوس کرتے ہوں گے ۔
میری نیک خواہشات علاقہ تھل کے اس نوجوان کے لیے تا عمر رہیں گی کہ ایسے نوجوان کسی بھی علاقہ کے قابلِ فخر سرمایہ ہوتے ہیں ۔ ( بیک ٹائٹل )
کہانیوں کے نام و عنوانات بھی توجہ کے شہکار ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں ۔
مہنگا شکار ، شوق کا انجام ، چوری سے توبہ ، وبالِ جان ، نومی بنا تراک ، سیٹی کی چوری ، نومی نے کرکٹ کھیلی ، کیسا بھوت ، مزاق یا قیامت ، نومی ان ایکشن ،
آخر میں دُعا گو ہوں اللّٰہ پاک علی شاہ کے درجات بلند فرمائے ۔ آمین ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں