کیکڑوں کی بالٹی
ہمارے معاشرے میں حسد خطرناک ذہنی اور نفسیاتی بیماری کے طور پر جڑ پکڑ چکا ہے۔ آپ خاندانوں، دفتروں اور دوستوں کی گفتگو کو سن کر دیکھ لیں یہ بیماری گہرائی تک پھیلی ہوئی ہے۔ ہماری اکثریت کسی کو ترقی کرتے دیکھ کر فخر محسوس نہیں کرتی۔ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ دوسروں کو آگے بڑھتے دیکھ کر خوش ہونا کار فلاح ہے۔
دوسروں کو ترقی کرتے دیکھ کر جلنے کا عمل جہاں گناہ ہے وہاں حسد کرنے والے کے اندر کی صلاحیتیں بھی جل کر راکھ ہو جاتی ہیں۔ یاد رکھیں، حسد کرنے سے دوسروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ اس سے حسد کرنے والے ہی کا نقصان ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف انسان کا ضمیر مرنا شروع ہو جاتا ہے بلکہ حاسد احساس کمتری کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔
ایک مشہور تمثیل ہے کہ سمندر کنارے بیٹھا ایک مچھیرا "کیکڑے” پکڑ کر ایک کھلی بالٹی میں ڈال رہا تھا۔ اس کے پاس سے گزرنے والے ایک شخص نے حیرت سے پوچھا: "بھائی! آپ نے بالٹی پر ڈھکن کیوں نہیں رکھا، کیا یہ سارے کیکڑے باہر نہیں نکل جائیں گے؟”
مچھیرا مسکرا کر بولا، "ذرا غور سے بالٹی دیکھیں۔” وہ شخص دیکھتا ہے کہ جب بھی کوئی کیکڑا پوری قوت لگا کر بالٹی سے باہر نکلنے کیلیئے کنارے تک پہنچتا ہے، اور آزادی کے بالکل قریب ہوتا ہے، تو نیچے بیٹھے باقی کیکڑے اس کی ٹانگیں پکڑ کر اسے زور سے نیچے کھینچ لیتے ہیں۔ یوں کوئی بھی کیکڑا دوسرے کو باہر نکلنے نہیں دیتا۔
ماہرین نفسیات اس زہریلے رویے کو "کریب مینٹالٹی” Crab Mentality یا "کیکڑے کی ذہنیت” کہتے ہیں۔ اس ذہنیت کا ایک ہی خطرناک اصول ہے کہ "اگر میں کامیاب نہیں ہو سکتا، تو میں تمہیں بھی نہیں ہونے دوں گا۔” بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ ذہنیت عام ہو گئی ہے۔
روزمرہ کی زندگی پر غور کریں، آپ کو یہ کیکڑے نما انسان ہر جگہ نظر آئیں گے۔ گوروں کے دیس میں "کریب” ایک گالی ہے۔ ہمارے لوگ حسد کو کوئی برائی ہی نہیں سمجھتے۔ کوئی آگے بڑھنے لگے تو عموما اس کی دل شکنی کی جاتی ہے۔ جب آپ کوئی روایتی اور محفوظ نوکری چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کرنے کا سوچتے ہیں، تو سب سے زیادہ ڈرانے والے، ناکامی کے طعنے دینے والے اور ہمت توڑنے والے اکثر آپ کے اپنے جاننے والے ہوتے ہیں۔ جب آپ خود کو بہتر بنانے کے لیے کوئی نیا ہنر سیکھتے ہیں، کتابیں پڑھنا شروع کرتے ہیں یا وزن کم کرنے وغیرہ کی کوشش کرتے ہیں، تو آپ کے اردگرد موجود لوگ آپکا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ حسد سے کہتے ہیں: "بڑا آیا تبدیلی لانے والا!” جب آپ دفتر میں کوئی نیا آئیڈیا دیتے ہیں یا ایمانداری اور محنت سے کام کرتے ہیں، تو کام چور ساتھی آپ کے خلاف سازشیں کرنا شروع کر دیتے ہیں، تاکہ آپ ان سے آگے نہ نکل جائیں۔ یہ سب لوگ دراصل اسی بالٹی کے کیکڑے ہوتے ہیں، جو اپنی ناکامی، سستی اور احساسِ کمتری کا بدلہ آپ کو نیچے کی طرف کھینچ کر لینا چاہتے ہیں۔ انہیں اس بات سے اتنی تکلیف نہیں ہوتی کہ وہ خود بھی اسی "حاسد ماحول” کی بالٹی میں قید ہیں، انہیں اصل تکلیف اس بات سے ہوتی ہے کہ آپ وہاں سے باہر کیوں نکلنا چاہتے ہیں؟ دراصل وہ آپ کی اڑان اور امکانی کامیابی کو دیکھ کر خود کو معذور محسوس کرتے ہیں۔
اگر آپ زندگی میں کچھ نیا اور بڑا کرنا چاہتے ہیں، تو اس تلخ حقیقت کے لیئے ذہنی طور پر تیار رہیں کہ آپ کے اردگرد موجود لوگ آپ کی ٹانگیں ضرور کھینچیں گے۔
ذرا سوچیں، "ٹانگ کھینچنے کا محاورہ” (Leg Pulling) ہمارے ہی معاشرے میں کیوں مشہور ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ عموما سوچتے ہیں کہ کوئی ان سے زیادہ ترقی نہ کر جائے۔ حاسدوں سے بحث کر کے، لڑ کر یا انہیں اپنا نقطہ نظر سمجھا کر اپنی قیمتی توانائی بالکل ضائع نہ کریں۔ بالٹی سے باہر نکلنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اپنی محنت، توجہ اور رفتار کو اتنا طاقتور کر لیں کہ ان کی گرفت آپ کے قدموں کو چھو ہی نہ سکے۔ جب ایک بار آپ کامیاب ہو کر باہر نکل جائیں، تو اپنا حلقہ احباب بدل لیں۔ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھیں جو آپ کو اونچا اڑتا دیکھنا چاہتے ہیں، نہ کہ ان کے ساتھ جو آپ کو واپس کیکڑوں کی بالٹی میں گرانا چاہتے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں