حضور ﷺ آپ کے کوچے سے آئی ہے خوشبو
مشامِ جاں میں ہمارے سمائی ہے خوشبو
میں کم نمو اُسی دستِ سخا کا شیدا ہوں
خزاں رسیدوں میں جس نے لٹائی ہے خوشبو
زمیں مہکنے لگی، آسماں مہکنے لگا
جو زلفِ رحمتِ عالم کی آئی ہے خوشبو
میں خواب میں تری مجلس سے ہو کر آیا ہوں
سو مجھ کو چھوڑنے بستر تک آئی ہے خوشبو
ترا سحابِ عطا ہے محیط صدیوں پر
ترے حسابِ کرم کی اکائی ہے خوشبو
جھڑے ہیں شاخِ تکلّم سے حرفِ بے نکہت
بہ اذنِ احمدِ مختارﷺ پائی ہے خوشبو
میں خوشہ چینِ گلستانِ نعت ہوں یاور!
مرے شعور کی پہلی کمائی ہے خوشبو

اس ویب سائٹ پر شائع ہونے والی تحریروں میں بیان کردہ خیالات متعلقہ لکھاریوں کے اپنے ہیں۔ ضروری نہیں کہ iAttock.com کے مدیر یا انتظامیہ ان سے اتفاق کرتے ہوں۔