نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت
تحریر سدرہ منور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاتم النبیین پر لاکھوں درود و سلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
ترجمہ:
"تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والدین اوراس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔” یہ ہے اہل ایمان سے نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت سے محبت کا تقاضا
اب محبت کا تقاضا ہے کہ ہم نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے طریقے کو اختیار کرے ان کی باتوں کو دل و جان سے قبول کریں اور انہی کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں ۔مگر ہمیں یہاں اپنے رویوں میں اپنے عمل میں اپنے کردار میں ایک عجیب چیز نظر محب رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہونے کا دعوی کرتے ہیں ہم عاشقان رسول نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہونے کا دعوی کرتے ہیں ۔مگر ہمارے کسی عمل سے یہ چیز ظاہر نہیں ہوتی ۔ہم نے اپنے اپنی محبت کے اظہار کے لیے 12 ربیع الاول کا دن مخصوص کر لیا جس طرح سے نصاری نے 25 دسمبر کو مخصوص کیا اب تعصب کی فرقہ واریت کی ہر عینک کو اتار کے ایک سائیڈ پر رکھیں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یہود و نصاری کی پیروی کرنے سے منع فرمایا ، ہم نے خود انہی کے بعض طریقوں کو اپنے دین کا حصہ سمجھ کر اختیار کرنا شروع کر دیا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ثُمَّ جَعَلْنَاكَ عَلَىٰ شَرِيعَةٍ مِّنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾
"پھر ہم نے آپ کو دین کے معاملے میں ایک شریعت پر قائم کیا، پس آپ اسی کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔”
(سورۃ الجاثیہ: 18)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ…»
"تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں کی پیروی کرو گے، بالشت بہ بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ۔”
صحابہؓ نے عرض کیا: "یہود و نصاریٰ؟”
آپ ﷺ نے فرمایا: "تو اور کون؟”
(صحیح البخاری: 7320، صحیح مسلم: 2669)
آج اگر ہم کرسمس کو دیکھیں تو عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں ان کی پیدائش کی سالانہ مذہبی تقریب کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ بعد کے ادوار میں یہ ایک سلسلہ شروع ہوا باقاعدہ مذہبی تہوار کی صورت اختیار کر گیا اور آج عیسائیت میں اسے ایک اہم مذہبی تہوار اور عبادت کا دن سمجھا جاتا ہے۔ کوئی بھی بدعت جس پر اس قدر عمل کیا جاتا ہے تو بعد میں انے والی نسلیں اس کو دین کا حصہ مان لیتی ہیں
اب یہی کام ہم نے کیا 12 ربیع الاول کے دن کو اب جس کو جس طرح سے منایا جا رہا ہے کیا یہ دین کے منافی ؟
اج کرسمس اور عید ملاد النبی میں اپ خود دیکھ لیجیے کہ کس قدر مماثلت شامل ہیں عیسائی کرسمس کی ڈیکوریٹ کرتے ہیں عمارتوں پہ چراغاں کرتے ہیں اور یہی سب کام ہم نے کرنے شروع کر دیے ۔ اگر یہ تہوار ہمارے مذہب کا حصہ ہے اگر یہ دین کا حصہ ہے تو اس کا ثبوت ہمیں نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی سنت سے کیوں نہیں ملتا صحابہ کرام کے طریقے سے کیوں نہیں ملتا کیونکہ نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت نے دین کے ہر ہر معاملے کو عملی صورت میں ہمارے سامنے پیش کیا
کیا نبی کریم ﷺ نے اپنی ولادت کا سالانہ جشن منایا؟
کیا آپ ﷺ نے صحابۂ کرامؓ کو ایسا کرنے کا حکم دیا؟
کیا خلفائے راشدینؓ نے اسے منایا؟
کیا امہات المؤمنینؓ کی زندگی میں اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟
کیا تابعین اور تبع تابعین نے اسے منایا؟
نہیں۔
نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد آنے والی ابتدائی بہترین نسلوں میں بھی نبی ﷺ کی ولادت کے لیے ایسی سالانہ مذہبی تقریب کا اہتمام معروف نہیں تھا۔ بعد کے زمانوں میں میلاد کی باقاعدہ محافل اور سالانہ تقریبات کا رواج پیدا ہوا۔
یہاں اصل سوال کسی کی نیت پر حملہ کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ:
جو کام نبی کریم ﷺ، صحابہؓ اور خیر القرون نے دین نہیں کیا، ہم اسے دین کا لازمی حصہ اور باعثِ ثواب کس دلیل سے قرار دے رہے ہیں؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾
"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا۔”
(سورۃ المائدہ: 3)
جب دین مکمل ہو چکا تھا تو ہمیں دین میں اپنی طرف سے کسی نئی عبادت یا مذہبی رسم کا اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
جب دین مکمل ہو گیا تو پھر تو پھر ہم کوئی بھی نیا کام جو دین کا اس سے پہلے حصہ نہیں وہ بدعت ہے اگر ہم یہ کام کرتے ہیں تو پھر ہم اس ایت کے انکاری ہیں کیا ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل دین ہم تک نہیں پہنچایا اللہ اور اللہ کے رسول نے دین میں نعوذ باللہ کوئی کمی چھوڑ دی جو ہم اضافی باتیں شامل کر کے دین کو مکمل کر رہے ہیں ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سنت سے احادیث سے ہمیں جن دو عیدین کا ثبوت ملتا ہے وہ عید الفطر اور عید الاضحی ہے اس کے علاوہ کوئی تیسری عید اس دین کا حصہ نہیں ہے اور ایک بات یاد رکھیں جو اصل دین ہے وہ دنیا کے ہر کونے میں ایک جیسا نظر ائے گا اور جو بدعت ہے وہ صرف انہی مخصوص جگہوں پہ نظر ائے گی جو جس جگہ کی پیداوار ہے ۔ عید الفطر اور عید الاضحی دین کا حصہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے عمل سے شامل ہیں تو دنیا کے ہر کونے میں مسلمان یہ عید مناتے ہیں ۔جبکہ عید م
میلاد نبی صرف چند مخصوص ملکوں میں ہی منایا جاتا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ دین کا حصہ نہیں
نبی کریم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت نے اپنی پیدائش کے دن پر روزہ رکھا تو اس سنت پر عمل کریں کتنے لوگ ہیں جو روزہ رکھتے ہیں ہم بدعت کے اس کام میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے ہیں اپنا مال اور اپنی توانائیاں ثواب کی نیت سے خرچ کرتے ہیں جبکہ سنت سے لا علم ہے ۔اتنے بڑے بڑے جلوس نکلتے ہیں جبکہ مسجد میں جا کے دیکھ لیں وہاں کتنے لوگ کھڑے ہوں گے نماز کے لیے ۔اللہ تعالی ہم سب کو ہدایت دے اور صحیح دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے میرا مقصد کسی بھی فرقے کی دل ازاری نہیں ہے نہ ہی میں کسی فرقے کی کو مانتی ہوں میرا مقصد صرف اصل حقائق کو سامنے رکھنا ہے تاکہ ہم خالص دین اپنی نسلوں تک پہنچائیں ایسا نہ ہو یہود و نصاری کی طرح وہ بدعت کو دین کا حصہ سمجھ لیں
اپنی نسلوں کو قران و حدیث کے زیور سے اراستہ کریں تاکہ وہ کسی گمراہی کا شکار نہ ہو اور اصل دین کو خود پہچان سکے جب تک ہم دین کی اصل تعلیمات سے دور ہیں ہم حق کی پہچان نہیں کر پائیں گے.

سدرہ منوّر النور انٹرنیشنل (Al-Noor International) اور المرصوص اسلامک انسٹیٹیوٹ (Al-Mersus Islamic Institute) کے ساتھ بطور Qur’an Volunteer وابستہ ہیں۔ بقول سدرہ منوّر ” میں قرآن و حدیث کی طالبہ ہوں، اور مختلف موضوعات پر لکھنے کا شوق اور رکھتی ہوں۔ تعلیمِ قرآن، دینی علم کے حصول اور اپنے علم و صلاحیتوں کو مثبت اور بامقصد انداز میں دوسروں تک پہنچانا میری ترجیحات میں شامل ہے۔”
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں