وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
اصل "اچھا مال” ایمانداری، دیانت اور قوم کی خدمت ہے۔
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
تمثیلی اخلاقی کہانیاں دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔ بچپن میں والد صاحب نے ایک کہانی سنائی تھی جو آج بھی یاد ہے۔ اس کے مطابق اندھیری رات میں ایک باپ بیٹا چوری کرنے نکلتے ہیں مگر وہ بغیر چوری کیئے واپس پلٹ جاتے ہیں۔
پرانے زمانے میں "پیشہ ور چور” دیوار میں بے آواز سوراخ کر کے گھر میں داخل ہوتے تھے۔ اسے "سن لگانا” کہتے تھے۔ کچے پکے گھروں کی دیواریں توڑنے کیلیئے چور لوہے کی کلہاڑیوں، سبلوں، اور کدالوں کو اوزاروں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
ایک ادھیڑ عمر چور "رنگا کواڑی” بوڑھا ہو کر بیٹے کو اپنا پیشہ سکھانے نکلا۔ راستے میں ایک گھر میں دیا جلتا دیکھا۔ رنگا خوشی سے بولا: "بیٹا، یہ وہی گھر ہے جسے میں تین بار لوٹ چکا ہوں۔ آج چوتھی بار اچھا مال ملے گا۔”
بیٹا اچانک رک گیا اور بولا: "بابا واپس چلیں، چوری نہیں کرتے۔”
باپ حیران ہوا: "کیوں؟”
بیٹے نے کہا: "بابا جس گھر کو آپ تین بار لوٹ چکے ہیں، اس کا دیا آج بھی جل رہا ہے۔ مگر ہمارے گھر میں تو ابھی بھی اندھیرا ہے۔”
یہ کہانی، ہمارے پیارے "پاکستان” کی ہے۔ یہ صرف کہانی نہیں، یہ ہماری حقیقت بھی ہے۔ ہمارے مقتدر "چور” باری باری ملک کو لوٹتے رہے، مگر الحمدللہ پاکستان آج بھی قائم ہے۔
اللہ کو توبہ بہت پسند ہے۔ جب انسان بددیانتی، چوری، جھوٹ اور منافقت کی انتہا پر پہنچتا ہے تو ایک بار اس کا ضمیر ضرور "جاگتا” ہے۔ اگر وہ اس موقع پر رجوع کر لے تو اس کا درجہ بلند ہو جاتا ہے۔
یہ سبق فرد سے لے کر پوری اشرافیہ تک سب پر صادق آتا ہے۔ ہر بار غلطی پر انجان بننے سے نقصان بڑھتا جاتا ہے۔ گناہ جتنا بڑا ہو، آزمائش بھی اتنی سخت ہوتی ہے۔
توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم سمجھنا چایئے کہ ہم توبہ کے دروازے بند ہونے سے پہلے رجوع کر لیں۔ کائنات میں اندھیرے کے ساتھ روشنی بھی ہے۔ انسان کے اندر جتنی منفی قوتیں ہیں، اتنی ہی مثبت بھی ہیں۔
جس طرح ہماری اشرافیہ "سن لگا کر” چور دروازوں سے ملک کے وسائل لوٹ رہی ہے، اسے اب توبہ کر لینی چاہیے۔ اللہ رسی ڈھیلی کرتا ہے مگر ہر برائی کی ایک حد ہوتی ہے۔
اگر ہم اپنی منفیت کو "مثبیت” میں بدل دیں تو حالات سدھر سکتے ہیں۔ ورنہ انجام مخدوش ہو جائے گا۔ امیر مینائی نے کیا خوب کہا تھا:
"اچھے عیسیٰ ہو مریضوں کا خیال اچھا ہے
ہم مرے جاتے ہیں تم کہتے ہو حال اچھا ہے
تجھ سے مانگوں میں تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے
آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب
وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے
اصل "اچھا مال” ایمانداری، دیانت اور قوم کی خدمت ہے۔ ہمیں اپنی اخلاقی اقدار کی حفاظت کرنی چایئے، اسے سنبھال کر رکھنا چایئے، اور اپنی فلاح و ترقی کیلیئے اسی کو بروئے کار لانا چایئے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں