مٹی دی ڈھیری
صفدر علی حیدری
” مجھے پتہ تھا تم یہیں ملو گے ۔۔۔
اب کام ختم ہو گیا ہو تو چلو ۔۔۔”
میں نے شاہد کی پیٹ تھپکتے ہوئے کہا تو اس نے بے اختیار منفی میں سر ہلا دیا ۔
” نہیں ۔۔۔۔ ابھی کہاں ۔۔۔؟
” آدھا گھنٹہ لگے گا ابھی ۔۔۔ تم چلو میں آتا ہوں ۔۔۔”
شاہد قبر پر پانی چھڑکتے ہوئے بولا ۔
” یار مجھے ایک بات تو بتا ۔۔۔ یہ تو روز کیوں آ جاتا ہے یہاں ۔۔۔۔؟
” ماں کو ملنے آتا ہوں اور کس لیے آتا ہوں ؟ امی کی یاد میں کبھی دل سے بھلا نہیں سکا اور نہ بھلانا چاہتا ہوں ۔”
” وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ قبر پر پانی مارنے کی کیا تک ہے ؟
” تم مجھے یہ بتاؤ کہ درخت کو پانی کیوں دیتے ہیں ۔۔۔؟
” تا کہ وہ ہرا بھرا رہے ۔۔ پروان چڑھتا رہے ۔۔۔ "
میں نے جلدی سے کہا
"تو بس میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ میرا اپنی ماں کی قبر سے رشتہ توانا رہے ۔۔”
"حیرت ہے ۔۔ واقعی حیرت ہے مجھے ۔۔۔
میرا دل کرتا ہے کہ تمھیں ایک واقعہ سناؤں ۔۔۔ "
” تو سناؤ ناں ۔۔۔۔۔! "
"پتہ کچی قبر کا فلسفہ کیا ہے ۔۔۔؟
اس لیے کہ کچی قبر کا ایک نہ ایک دن نشان تک مٹ جاتا ہے ۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو فرشتے اللہ کے حضور دست سوال دراز کرتے ہوئے کہتے ہیں
” اے ہمارے رب ۔۔ اب تو اس کو معاف کر دے کہ دنیا میں تو اس کی قبر تک کا نشان مٹ گیا ہے "
میری بات ختم ہوئی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا میرا دوست پھوٹ کر رونے لگا تھا ۔ کچھ دیر اس کی حالت متغیر رہی ۔ جب وہ سنبھل گیا تو میں نے کہا
” میں یہ نہیں کہتا کہ تم نہ آیا کرو ۔۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ جب تم بہت زیادہ مصروف ہو جاؤ گے تو روز کا معمول برقرار نہیں رہ پائے گا مگر ۔۔۔ ایک نہ ایک دن وہ دن ضرور آتا ہے جب فرشتے دعا کے لیے ہاتھ بلند کرتے ہیں کہ
” اے ہمارے رب اب تو اس مشت خاک کو معاف کر دو ۔۔۔ اب تو اس کا نشان بھی ۔۔۔۔۔ "
میں نے یہ کہا تو خود بھی رو پڑا ۔ میرا دوست تو پہلے ہی رو رہا تھا ۔۔۔

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں