عاصم بخاری کی شاعری میں یاد ِ رفتگاں کاپہلو
تجزیہ راحت امیر نیازی میانوالی
اردو شاعری میں یادِ رفتگاں (مرحوم شخصیات کی یاد، ان کے اوصاف، خدمات اور جدائی کے غم کا شعری اظہار) ایک قدیم اور اہم روایت ہے۔ یہ روایت عربی سے فارسی کےراستے بر ِ صغیر پاک و ہند میں اردو شاعری میں داخل ہوتی ہے
۔مشرقی اقدار اور روایات کی پاس داری کا بھی اس سلسلہ میں بڑا ہاتھ ہے۔اردو شاعری نے اسی روایت کو بڑے صحت مند اور جان دار انداز میں اپنایا اور نبھایا گیا او اسے اپنے سماجی و ادبی ماحول کے مطابق وسعت دی۔
جدید نظم میں یادِ رفتگاں بیسویں صدی میں شخصی اور تعزیتی نظم کا رجحان بڑھا۔ الطاف حسین حالی ، علامہ محمد اقبال ، جوش ملیح آبادی ، فیض احمد فیض ، احمد فراز ، ن۔م۔ راشد نے قومی رہنماؤں، ادیبوں، شاعروں اور عزیزوں کی یاد میں نظمیں لکھیں۔
اگر معاصر اردو شاعری آج کی اردو شاعری میں یادِ رفتگاں کی بات کی جائے تو اس میں دائرہ مزید وسیع ہو گیا اب شعرا صرف اہلِ خانہ ہی نہیں بلکہ:
ادیبوں، شاعروں، اساتذہ، سماجی شخصیات، شہداء،اور اپنے علاقے کی نمایاں شخصیات کو بھی منظوم خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ عاصم بخاری اسی سلسلہ کی عصر ِ حاضر کی اگلی کڑی اور تسلسل ہیں۔ جس نے صرف شاعروں ادیبوں کی کے جہاں سے جہاں سے رخصت ہونے کے بعد ان کے بارے ہی کلام نہیں کیا مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ممتاز و نمایاں لوگوں کے بارے مظوم۔اظہار ِ خیال کر کر کے ایک اچھی روایت کی بنیاد ڈالی ہے۔
بخاری نے سادگی اور سوز و گداز سےمرحوم شخصیات ، ان کی خدمات اور یادوں کا تذکرہ بڑی عقیدت اور احترام سے کیا ہے۔اس سلسلہ میں فکری کے ساتھ ساتھ فنی خوبی یہ غالب رہی ہے کہ جذبات کے اظہار توازن برقرار رہا ، جس کا عموما” فقدان ہوتا ہے
بخاری کی یہ خوبی ہے کہ اس نے یادِ رفتگاں کی روایت کو صرف غم کے اظہار تک محدود نہیں رکھا بل کہ یہ معاشرے کی تاریخی، ادبی اور ثقافتی یادداشت کو محفوظ رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بنایایا ہے۔ اس نے ایسا کر کے مرحوم شخصیات کی خدمات نئی نسل تک منتقل کی ہیں اور ان کی یاد کو زندہ و جاوید کیا ہے۔
اکرم عتیل عیسیٰ خیل سے تعلق رکھتے تھے۔شاعر تھے کاتب تھے خوش نویس تھے مجموعوں کے خالق تھے تذکرہ نگار تھے۔فروغ ِ ادب میں نمایاں کوششیں کیں۔ان کی ان خدمات کااعتراف بخاری صاحب یوں کرتے ہیں۔
ایک شعر
لفظ مرتے نہیں کبھی عاصم
زندہ اکرم عتیل لفظوں میں
***
بابائےتھل فاروق روکھڑی کندیاں رہتے تھے ریلوے میں ملازمت کی۔اردو سرائیکی کے کمال مترنم مشاعر تھے زندگی میں شہرتیں پائیں۔ان۔کی شخصی وشعری خدمات کااعتراف یوں منظوم صورت میں کرتے ہیں۔
قطعہ
مہماں نواز تھے بڑے ، حق مغفرت کرے
اک زندہ دل ادیب تھے فاروق روکھڑی
بابائے تھل کا پایا لقب شہرتیں ملیں
کتنے ہی خوش نصیب تھے فاروق روکھڑی
***
غلام حسن مجبور عیسیٰ خیلوی پاک ریلوے کے ملازم تھے۔ ماں بولی میں کمال گیت لکھے جنہیں عطا اللہ عیسیٰ خیلوی نے بڑی خوب صورتی سے گایا۔ہوا کے دوش پر عالمی شہرت یافتہ تھے۔انکی خدمات کا شعری اعتراف
آپ اپنی مثال ہیں عاصم
گیت مجبور کے زمانے میں
***
محمد حامد سراج صاحب خانقاہ سراجیہ کندیاں میانوالی سے تھے۔اٹامک انرجی کمیشن میں ملازمت کی۔برصغیر میں افسانے کے حوالے سے پاکستان کی پہچان تھے۔متعدد افسانوی مجموعوں کےخالق تھے۔ان کی خدمات کو شعری صورت میں بخاری صاحب یوں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
ایک شعر
افسانوی ادب کی اگر بات میں کروں
پہچان اپنی آپ ہی حامد سراج تھے
***
یاسین ثاقب مرحوم غنڈی میانوالی سے تھے دو شعری مجموعوں کے خالق اور خوش مزاج شاعر تھی۔بخاری صاحب ان کی اسی خوش مزاجی کویوں اپنا موضوع شعر بناتے ہیں۔
قہقہےبانٹتا تھا جوعاصم
چل دیا وہ جہاں سے ثاقب بھی
۔۔۔۔۔۔
یاسین ثاقب مرحوم۔کے نام ایک اور دعائیہ شعر
پہچان اپنی آپ تھا یاسین شور میں
حق مغفرت کرے وہی ثاقب بھی اب گیا
***
عاصم بخاری نے زندگی کے ہر شعبہ میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والی شخصیات کی خدمات کو سراہا ہے۔
سید عطا محمد نورنگا بھی جن میں سے ایک ہیں ۔شاہ صاحب علمی خدمات کازمانہ معترف تھا۔بخاری نے بھی انہیں خراج ِ تحسین پیش کرنے کا یہ انداز اپنایا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
تھے اک مدرس ،عظیم انساں، عطا محمد، عطا محمد
جہاں میں رکھتے تھے خاص پہچاں عطا محمد عطا محمد
۔۔۔
میاں کی بستی کا نام روشن کیا ہے تعلیم سے جہاں میں
سخی تھے درویش اس کا احساں، عطا محمد عطا محمد
بڑھائی ہر اک میں جس نے ہمت بتاؤں کیسے حنیف جیسے
تھے ایک نعمت ہاں مردِ میداں عطا محمد عطا محمد
۔۔۔۔۔
چراغ روشن کیے جو اس نے چہار سو ہیں جہان اندر
تھے پاس جس کے ہزار امکاں عطا محمد عطا محمد
۔۔۔۔۔
کنارے دریا کے ایک دنیا ادب کی جس نے بسائی عاصم
سبھی پہ جس کا برابر احساں عطا محمد عطا محمد
***
سید عطا محمد نورنگا کے نام اور نظم
ہر اک پہ مہرباں تھے سید عطا محمد
گویا کہ سائباں تھے سید عطا محمد
۔۔۔۔
قدر ان کی ہو نہ پائی افسوس ا س جہاں سے
جب تک کہ درمیاں تھے سید عطا محمد
۔۔۔
کتنوں کو منزلوں تک پہنچا کے دم لیا ہے
کب فرد اک جہاں تھے سید عطا محمد
۔۔۔۔
آخر تلک رہا ہے پڑھنا پڑھانا جاری
بوڑھے کہاں جواں تھے سید عطا محمد
۔۔۔۔
دیں گے گواہی اس کی اکثر حنیف ایسے
ہمت کا اک نشاں تھے سید عطا محمد
۔۔۔
قدر ان کی ہو نہ پائی افسوس اس جہاں سے
جب تک کہ درمیاں تھے سید عطا محمد
۔۔۔۔۔۔
ہے فیض جس سے پایادنیا جہاں نے عاصم
اک ایسا آستاں تھے سید عطا محمد
***
پروفیسر مسرور جاوید مرحوم ، غلام حسین مجبور عیسیٰ خیلوی کے فرزند تھے۔ملتان بھتیجے کی شادی میں شرکت کو گئے تھے رات اچانک شدید ہارٹ اٹیک ہوا۔ساری ڈاکٹرز قیملی باوجود کوشش کےان کی صحت یابی کے لیےکچھ نہ کر سکی۔اور عین جوانی میں وہ خالق ِ حقیقی سے جا ملے۔
ایک قطعہ مسرور جاوید کی موت پر
بابا کی سمت میں چلا ماں نے بلا لیا
کوئی خبر نہ جانے کی پیغام تک دیا
تم توگئے تھے شادی میں شرکت کے واسطے
مغموم کر کے چل دیے ، مسرور کیا کیا
***
پروفیسر فیروز بخاری مرحوم سادات ِ نورنگہ سے تھے۔عین جوانی کے عالم میں چلے گئے پختہ شاعر تھے۔ان کی شعری عظمت کااعتراف لفظ کی حرمت و عظمت کے پیرائے میں یوں کرتے دکھائی دیتے ہیں
ایک شعر
اپنے شعروں میں لفظ کی صورت
زندہ ہو آج بھی بخاری تم
۔۔۔۔۔۔۔
فیروز بخاری کی فروغ ِ ادب کی کاوشوں اور کوششوں کا تذکرہ یوں کرتے ہیں
نظم معرّیٰ / ثلاثی
۔۔۔۔۔۔
تُو نے شعر و ادب کے پودے کی
خون ِ دل سے ہے آبیاری کی
حرف زندہ ترے بخاری جی
***
سید خورشیدشاہ ڈھیر میانوالی سے تھے۔ماں بولی میں لاجواب دوہڑا لکھا۔جسے عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کی آواز میں دنیا نے سنا۔ان کی ان خدمات کا اعتراف اور خراج ِ تحسین بخاری صاحب قطعہ کی صورت یوں کرتے ہیں۔
قطعہ
ہر اک کادل ربا تھا خورشید شہ بخاری
کب فرد قافلہ تھا خورشید شہ بخاری
جس نے کمال لکھا اپنی زباں میں عاصم
دہڑے کا بادشہ تھا خورشید شہ بخاری
***
محمد محمود احمد ہاشمی میاں والی سے تھے۔ عالم ِ شباب میں چلے گئے۔لیکن جتناعرصہ انہیں مہلت ملی۔خوب لکھا ، کمال لکھا۔بخاری نے انکی شخصیت اور فن کے بارے بڑی خوب صورتی سے لکھا ہے۔انکے بارے پڑھتے ہوئے ان کا لہجہ ادائیگی اور جان دار و شان دار تخیل ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔
محمود احمد ہاشمی کے نام ایک نظم
حق کا علم سدا رکھا اس نے بلند ہی
قلمی جہاد کرتا تھا محمود ہاشمی
۔۔۔۔۔
لہجہ ادائیگی جدا سوچیں نئی نئی
زرخیز ذہن رکھتا تھا محمود ہاشمی
۔۔۔۔
دنیا تو چھوڑ جائے گا عالم شباب میں
قسمت میں ایسے لکھا تھا محمود ہاشمی
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی تو بس دعا یہی حق مغفرت کرے
اکثر درود پڑھتا تھا محمود ہاشمی
۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ منفرد ہی کر کے گزر جانا چاہیے
عاصم بخاری کہتا تھا محمود ہاشمی
۔۔۔۔
شعر و ادب کی دنیا میں عاصم ہے سچ تو یہ
تازہ ہوا کا جھونکا تھا محمود ہاشمی
***
ڈاکٹر آصف مغل مرحوم لاہور سے تھے اسکندر آباد میانوالی ایک مدت فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹر تھے۔پریکٹس خوب تھی لیکن اس کے باوجود انکی سماجی اور ادبی زندگی بھر ہور تھے۔بخاری نے ان کے بارے محاکاتی صورت میں ان کی شخصیت چلتی پھرتی اور ان کی خصوصیات کمال مہارت سے پیش کی ہیں۔
نظم
محفلوں کی جان تھے، ” آ صف مغل”
رکھتے اک پہچان تھے، ” آ صف مغل”
۔۔۔۔
کربلا سے تھا انہیں خاصا شغف
صاحب ایقان تھے ،”آصف مغل”
۔۔۔۔
محفل میلاد میں پایا انہیں
صاحب ایمان تھے، "آ صف مغل”
۔۔۔۔۔
بانٹتے خاک شفا نسخے میں تھے
ایسے اک لقمان تھے، ” آ صف مغل”
۔۔۔۔۔۔۔۔
شعر بھی کہتے بخاری خوب تھے
مغلیہ کی آ ن تھے ، "آ صف مغل”
۔۔۔
فن خطابت کا ملا ورثے میں تھا
دوستی کا مان تھے، "آ صف مغل”
۔۔۔۔
ایک مدت وہ ” میاں, والی” رہے
درد کا درمان تھے "آ صف مغل”
۔۔۔۔۔
میزبانوں کی طرح عاصم رہے
گرچہ اک مہمان تھے، "آ صف مغل”
۔۔۔۔۔
ہے دعا حق مغفرت عاصم کرے
اچھے اک انسان تھے, "آ صف مغل”

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں