تکون – Triangle
صفدر علی حیدری
صبح کا آغاز ہمیشہ شور سے ہوتا تھا۔
ابھی اندھیرا پوری طرح ہٹا بھی نہیں ہوتا تھا کہ باورچی خانے میں برتنوں کی آوازیں گونجنے لگتیں۔ کبھی لوہے کی بالٹی زمین سے ٹکراتی، کبھی چولہے پر رکھے برتن کا ڈھکن کھڑکتا اور کبھی صحن میں کسی کے تیز قدموں کی چاپ سنائی دیتی۔ یوں لگتا جیسے اس گھر کی صبح سورج سے پہلے جاگ جاتی ہو۔
اس گھر میں تین لوگ تھے، مگر ہر ایک اپنی الگ دنیا میں رہتا تھا۔
میاں، بیوی اور گوالا۔
میاں خاموش طبع آدمی تھا۔ زیادہ بولنے کا عادی نہیں تھا۔ محلے والے اکثر اس کی خاموشی کو کمزوری سمجھتے، مگر جو اسے قریب سے جانتے تھے وہ جانتے تھے کہ وہ ہر بات کو پہلے تولتا، پھر بولتا ہے۔
بیوی اس کے بالکل برعکس تھی۔
وہ بات کو تولنے سے پہلے ہی بول دیتی تھی۔
اسے اپنی بات منوانے کا ہنر آتا تھا۔ کبھی نرمی سے، کبھی غصے سے اور کبھی ایسی معصومیت سے کہ سامنے والا اپنی ہی بات بھول جاتا۔
گوالا ان دونوں کے درمیان ایک عجیب سا کردار تھا۔
وہ روز صبح دودھ لے کر آتا، دودھ رکھتا، پیسے لیتا اور خاموشی سے چلا جاتا۔ اس کے چہرے پر ایک مستقل سکون رہتا۔ جیسے دنیا کی کوئی بات اسے جلدی میں مبتلا نہیں کر سکتی۔
ایک دن بیوی نے دودھ کا برتن دیکھا تو اس کے ماتھے پر شکن پڑ گئی۔
“یہ دودھ کم ہے۔”
گوالا خاموش رہا۔
“میں تم سے کہہ رہی ہوں، دودھ کم ہے۔”
گوالے نے برتن کی طرف دیکھا۔
“جتنا روز دیتا ہوں، آج بھی اتنا ہی ہے۔”
بیوی نے فوراً جواب دیا۔
“مجھے حساب مت سمجھاؤ۔ میں روز دودھ ناپتی ہوں۔”
گوالے نے کچھ کہنا چاہا، پھر رک گیا۔
میاں پاس ہی بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ اس نے اخبار سے نظریں نہیں اٹھائیں۔
بیوی نے اسے مخاطب کیا۔
“آپ بھی سن رہے ہیں؟”
“ہاں۔”
“تو پھر کچھ کہیں گے بھی؟”
میاں نے اخبار تہہ کیا۔
“کیا کہوں؟”
“یہ آدمی روز دودھ کم کر دیتا ہے اور آپ کو کوئی فکر ہی نہیں۔”
گوالے نے پہلی بار قدرے مضبوط لہجے میں کہا:
“بی بی، میں دودھ کم نہیں کرتا۔”
“تو پھر کیا دودھ خود کم ہو جاتا ہے؟”
گوالا خاموش ہو گیا۔
میاں نے دونوں کو دیکھا۔
“کل سے دودھ میرے سامنے ناپ لیا جائے گا۔”
بیوی کو جیسے یہی موقع چاہیے تھا۔
“دیکھا؟ میں کب سے کہہ رہی ہوں کہ حساب صاف ہونا چاہیے۔”
گوالے نے سر ہلا دیا۔
“ٹھیک ہے۔”
وہ چلا گیا۔
بیوی نے میاں کی طرف دیکھا۔
“آپ ہمیشہ اتنے خاموش کیوں رہتے ہیں؟”
میاں مسکرایا۔
“ہر بات کا جواب فوراً دینا ضروری نہیں ہوتا۔”
“اور اگر سامنے والا آپ کی خاموشی کو کمزوری سمجھ لے؟”
“تو اسے سمجھنے دو۔”
بیوی نے بےاختیار اسے دیکھا۔
وہ اپنے شوہر کو برسوں سے جانتی تھی، مگر کبھی کبھی اسے لگتا تھا کہ وہ آدمی اس کے سامنے موجود ہو کر بھی کہیں بہت دور کھڑا ہے۔
—
اگلی صبح دودھ ناپنے کا انتظام پہلے ہی کر لیا گیا۔
بیوی نے پیمانہ رکھا۔
گوالا دودھ لے کر آیا۔
اس نے برتن رکھا اور کہا:
“ناپ لیں۔”
بیوی نے دودھ ناپا۔
مقدار پوری تھی۔
وہ کچھ دیر خاموش رہی۔
پھر بولی:
“آج پورا ہے۔”
گوالا مسکرایا۔
“روز ہی پورا ہوتا ہے۔”
بیوی نے اسے گھورا۔
“زیادہ بات نہ کرو۔”
گوالا خاموشی سے چلا گیا۔
میاں نے یہ سب دیکھا مگر کچھ نہ کہا۔
دو تین دن تک یہی معمول رہا۔
دودھ پورا آتا رہا۔
پھر ایک صبح بیوی نے گوالے کو روک لیا۔
“تمہیں ایک بات پوچھنی ہے۔”
“پوچھیں۔”
“تم دودھ میں پانی تو نہیں ملاتے؟”
گوالا کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا۔
“نہیں۔”
“پکا؟”
“پکا۔”
“اگر مجھے پتا چل گیا کہ تم پانی ملاتے ہو تو؟”
گوالا مسکرایا۔
“تو پھر آپ دودھ لینا چھوڑ دیجیے گا۔”
بیوی کو اس کا جواب اچھا نہیں لگا۔
“تم بہت زبان چلانے لگے ہو۔”
گوالے نے سر جھکا لیا۔
“میں نے کیا غلط کہا؟”
میاں نے اس موقع پر پہلی بار مداخلت کی۔
“بس کرو۔”
بیوی خاموش ہو گئی۔
گوالا دودھ رکھ کر چلا گیا۔
کچھ دیر تک گھر میں خاموشی رہی۔
پھر بیوی بولی:
“آپ ہمیشہ اسی کی طرف داری کیوں کرتے ہیں؟”
میاں نے حیرت سے پوچھا:
“میں نے کب طرف داری کی؟”
“ابھی کی ہے۔”
“میں نے صرف تمہیں خاموش ہونے کو کہا ہے۔”
“یعنی میں غلط ہوں؟”
میاں نے جواب دینے کے بجائے پانی کا گلاس اٹھایا۔
بیوی سمجھ گئی کہ بات ٹال دی گئی ہے۔
مگر وہ ایسی عورت نہیں تھی جو بات آسانی سے چھوڑ دے۔
—
چند روز بعد اسے ایک اور بات معلوم ہوئی۔
گوالا صرف ان کے گھر دودھ نہیں دیتا تھا۔ محلے کے کئی گھروں میں بھی دودھ دیتا تھا۔ اس نے سوچا، اگر سب سے دودھ کی قیمت ایک ہے تو اس سے کچھ کم کیوں نہ لیا جائے؟
اس نے ایک دن گوالے سے کہا:
“دیکھو، تم روز دودھ دیتے ہو۔ ہم پرانے گاہک ہیں۔ کچھ رعایت کر دیا کرو۔”
گوالا بولا:
“بی بی، میرے لیے بھی گھر چلانا ہے۔”
“تو کیا ہم پر پیسے زیادہ کمانے کا حق ہے؟”
“میں نے ایسا نہیں کہا۔”
“پھر؟”
“جتنا مناسب ہے، اتنا ہی لیتا ہوں۔”
بیوی نے سوچا، یہ آدمی سیدھی بات سے نہیں مانے گا۔
اس نے طریقہ بدل لیا۔
کبھی اس کی تعریف کرتی، کبھی اس کے بچوں کا پوچھتی، کبھی اس کے گھر کے حالات جاننے کی کوشش کرتی۔ گوالا ہر بار مسکرا کر مختصر جواب دیتا۔
وہ اسے اپنی چال میں پھنسانا چاہتی تھی، مگر گوالا کسی ایک طرف جھکتا ہی نہیں تھا۔
اس کا ہتھیار صرف ایک تھا:
صبر۔
بیوی کا ہتھیار تھا:
چالاکی۔
اور میاں کا ہتھیار ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔
—
ایک دن بیوی نے گھر میں اعلان کیا:
“آج سے دودھ میں خود ناپوں گی اور پیسے بھی میں ہی دوں گی۔”
میاں نے پوچھا:
“کیوں؟”
“اس لیے کہ حساب میں کسی پر اعتبار نہیں کرتی۔”
“مجھ پر بھی نہیں؟”
بیوی ہنس پڑی۔
“آپ تو خود حساب نہیں رکھتے۔”
میاں خاموش ہو گیا۔
اگلے دن گوالا آیا تو بیوی نے دودھ ناپا۔ پھر اس نے پیمانے کو دوبارہ دیکھا۔
“ایک پیالی کم ہے۔”
گوالے نے کہا:
“دوبارہ ناپ لیں۔”
“میں نے ناپ لیا ہے۔”
“پیمانہ شاید ٹھیک نہیں۔”
“پیمانہ ٹھیک ہے۔”
میاں دور بیٹھا یہ گفتگو سن رہا تھا۔
اس نے کہا:
“پیمانہ مجھے دو۔”
اس نے پیمانہ اٹھایا، دودھ ناپا اور پھر کہا:
“دودھ پورا ہے۔”
بیوی چونک گئی۔
“آپ نے کیسے ناپ لیا؟”
میاں نے پیمانہ اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا:
“جس چیز کا حساب کرنا ہو، پہلے پیمانہ درست کرنا پڑتا ہے۔”
بیوی نے پیمانے کو دیکھا۔
پھر گوالے کو۔
پھر اپنے شوہر کو۔
اسے محسوس ہوا جیسے ایک معمولی سی بات کے اندر کسی نے اس کے سامنے آئینہ رکھ دیا ہو۔
—
دن گزرتے گئے۔
بیوی کی چالاکی کم نہ ہوئی۔
گوالے کا صبر بھی کم نہ ہوا۔
اور میاں کی خاموشی بھی قائم رہی۔
مگر ایک دن ایسا آیا جب معاملہ صرف دودھ کا نہیں رہا۔
گوالا ایک صبح دیر سے آیا۔
بیوی پہلے ہی غصے میں تھی۔
“آج اتنی دیر کیوں کی؟”
“راستے میں گائے بیمار ہو گئی تھی۔”
“یہ تمہارا مسئلہ ہے، ہمارا نہیں۔”
گوالے نے خاموشی سے دودھ رکھا۔
بیوی نے برتن دیکھا۔
“آج پھر کم ہے۔”
“نہیں، پورا ہے۔”
“میں نے کہا کم ہے۔”
“آپ ناپ لیں۔”
بیوی نے دودھ ناپا۔
اس بار واقعی مقدار معمول سے کم تھی۔
وہ فاتحانہ انداز میں میاں کی طرف مڑی۔
“دیکھا؟”
میاں نے گوالے سے پوچھا:
“گھر میں گائے بیمار ہے؟”
“جی۔”
“تو آج دودھ کم کیوں ہے؟”
“بیماری کی وجہ سے دودھ کم نکلا ہے۔”
بیوی فوراً بولی:
“تو ہمیں کم کیوں دیا؟ پورے پیسے لے گا؟”
گوالا خاموش رہا۔
میاں نے کچھ دیر سوچا، پھر کہا:
“آج کے دودھ کے پیسے آدھے لے لو۔”
بیوی نے حیرت سے شوہر کو دیکھا۔
“آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟”
“جو دودھ ملا ہے، اس کے پیسے دیں گے۔”
گوالے نے سر اٹھایا۔
“نہیں صاحب، جتنے روز کے ہیں، اتنے ہی دے دیں۔”
میاں نے کہا:
“نہیں۔ آج تمہارا نقصان ہے، ہمارا نہیں۔”
گوالے کی آنکھوں میں پہلی بار نمی آئی۔
وہ کچھ کہے بغیر چلا گیا۔
بیوی دیر تک خاموش بیٹھی رہی۔
پھر اس نے آہستہ سے کہا:
“آپ عجیب آدمی ہیں۔”
میاں مسکرایا۔
“کیوں؟”
“آپ نے آج بھی حساب نہیں دیکھا۔”
“دیکھا ہے۔”
“پھر؟”
“حساب صرف پیسوں کا نہیں ہوتا۔”
بیوی نے اس کی طرف دیکھا۔
یہ جملہ اس کے اندر کہیں جا کر ٹھہر گیا۔
—
اس کے بعد گوالے کے ساتھ بیوی کا رویہ بدلنے لگا۔
وہ اب بھی باتوں میں تیز تھی، مگر ہر بات میں پہلے جیسی سختی نہیں رہی تھی۔
ایک دن گوالے نے بتایا کہ اس کی بیٹی بیمار ہے۔
بیوی نے فوراً پوچھا:
“ڈاکٹر کو دکھایا؟”
“پیسے کم پڑ گئے تھے۔”
بیوی کچھ لمحے خاموش رہی۔
پھر اندر گئی اور کچھ رقم لا کر اس کے ہاتھ میں رکھ دی۔
“یہ رکھ لو۔”
گوالا حیران رہ گیا۔
“بی بی، میں واپس کر دوں گا۔”
“جب ہوں تب کر دینا۔”
گوالا کچھ کہنے لگا تو بیوی نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا۔
“اور ہاں، کل دودھ ذرا دیر سے لانا۔ پہلے بچی کو ڈاکٹر کے پاس لے جانا۔”
گوالے نے اسے دیکھا۔
اس کے چہرے پر وہی پرانا سکون تھا، مگر آنکھوں میں تشکر آ گیا تھا۔
“اللہ آپ کو خوش رکھے۔”
وہ چلا گیا۔
میاں خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔
بیوی نے اسے دیکھ کر کہا:
“اب آپ کچھ کہیں گے؟”
میاں نے سر ہلایا۔
“نہیں۔”
“کیوں؟”
“آج کہنے کو کچھ نہیں۔”
بیوی مسکرا دی۔
“آپ کو واقعی بولنے کی عادت نہیں۔”
میاں نے جواب دیا:
“اور تمہیں خاموش رہنے کی۔”
دونوں ہنس پڑے۔
—
وقت نے تینوں کو بدل دیا تھا۔
بیوی نے سیکھ لیا تھا کہ چالاکی ہر جگہ کام نہیں آتی۔
گوالے نے ثابت کر دیا تھا کہ صبر کمزوری نہیں ہوتا۔
اور میاں نے یہ بتا دیا تھا کہ حکمت ہمیشہ بلند آواز میں نہیں بولتی۔
ایک شام گوالا حسبِ معمول دودھ دے کر جانے لگا تو بیوی نے اسے آواز دی۔
“سننا!”
وہ رک گیا۔
“کل سے دودھ کا حساب پہلے نہیں کریں گے۔”
گوالا حیران ہوا۔
“کیوں؟”
بیوی نے مسکرا کر کہا:
“کیونکہ اب تم پر اعتبار ہے۔”
گوالے نے میاں کی طرف دیکھا۔
میاں نے صرف سر ہلا دیا۔
گوالا چلا گیا۔
صحن میں شام اتر رہی تھی۔
تینوں اپنی اپنی جگہ موجود تھے، مگر ان کے درمیان پہلے جیسا فاصلہ نہیں رہا تھا۔
بیوی نے آہستہ سے کہا:
“پتا ہے، ہم تینوں کتنے مختلف ہیں؟”
میاں نے پوچھا:
“کیسے؟”
“میں ہر بات میں راستہ نکالتی ہوں۔”
وہ ذرا رکی۔
“وہ ہر بات برداشت کر لیتا ہے۔”
پھر اس نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا۔
“اور آپ ہر بات سمجھ لیتے ہیں۔”
میاں مسکرایا۔
“شاید اسی لیے گھر چل رہا ہے۔”
بیوی نے کہا:
“اگر ہم تینوں میں سے ایک بھی نہ ہو تو؟”
میاں نے کچھ دیر سوچا۔
پھر بولا:
“تو شاید تکون مکمل نہ رہے۔”
بیوی نے حیرت سے پوچھا:
“تکون؟”
میاں نے کہا:
“ہاں۔ ایک کونا چالاکی کا، ایک صبر کا اور ایک حکمت کا۔”
صحن میں خاموشی پھیل گئی۔
دور کہیں گائے کی گھنٹی بجی۔
گوالے کے قدم گلی میں مدھم ہوتے گئے۔
بیوی نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا اور مسکرا دی۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ زندگی صرف اس بات کا نام نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا۔
کبھی کبھی زندگی تین مختلف مزاجوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرکے ان سے ایک ایسی شکل بناتی ہے جس کا حسن اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب تینوں اپنے اپنے مقام پر قائم رہیں۔
چالاکی اگر صبر سے خالی ہو تو فریب بن جاتی ہے۔
صبر اگر حکمت سے خالی ہو تو خاموش اذیت بن جاتا ہے۔
اور حکمت اگر انسانیت سے خالی ہو تو محض حساب رہ جاتی ہے۔
مگر جب چالاکی کو صبر کا سامنا ہو، صبر کو حکمت کا سہارا ملے اور حکمت کے اندر انسانیت زندہ ہو، تو زندگی ایک ایسی تکون بن جاتی ہے جس کا کوئی ایک ضلع دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔
میاں اٹھ کر اندر چلا گیا۔
بیوی صحن میں کھڑی رہی۔
گلی کے آخری سرے پر گوالے کا سایہ بھی اب دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
صبح کا شور، دن کی تلخی، چھوٹی چھوٹی شکایتیں اور معمولی معمولی لڑائیاں—سب جیسے وقت کے کسی خاموش کمرے میں جا کر بیٹھ گئی تھیں۔
اور اس گھر کے اندر ایک نئی خاموشی جنم لے چکی تھی۔
ایسی خاموشی جس میں تین کرداروں کی تین الگ آوازیں صاف سنائی دیتی تھیں:
چالاکی۔
صبر۔
اور حکمت۔
شاید یہی زندگی کی وہ خاموش تکون تھی، جس کے تینوں زاویے الگ تھے، مگر جس کی تکمیل ایک دوسرے کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

میرا نام صفدر علی حیدری ہے ۔ پیدائش علی پور ضلع مظفر گڑھ کی ہے لیکن پلا بڑھا اوچ شریف میں ہوں اور رہائش بھی اسی شہر میں ہے ۔ایم فل اردو ہوں ایک استاد ہوں اور پچھلے تیس سال سے پڑھا رہا ہوں ۔ لکھنے کا آغاز بچپن سے کیا ۔ کالم نگاری بھی کی نامہ نگاری بھی ،پھر افسانہ نگاری اور افسانچہ نگاری کی طرف متوجہ ہوا ۔اب تک میری بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں پچیس کتب زیر طبع ہیں شائع شدہ کتب کی تفصیل حسب ذیل ہے میری ایک کتاب کالمز پر ہے ” شہر خواب ” ایک ناول ہے ” عمران بٹہ عمران ” چار کتابیں ادب اطفال پر ہیں ” گھڑی کی ٹک ٹک ” ” ایک پہیے کی سائیکل” ” کمزور چوزا ” ” منٹو میاں ” چار افسانوں پر ہیں "مٹھی میں کائنات” ” ناقابل اشاعت ” ” من و سلویٰ ” ” الف سے یے تک ” ایک افسانچوں پر ہے ” ایک صفحے کے افسانچے ” میری تمام کتابوں پر ایم فل ، ایم اے اور بی ایس کی سطح پر کام ہو چکا ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں