عاصم بخاری کی شاعری کا نفسیاتی جائزہ
تجزیہ کار راحت امیر نیازی
نفسیاتی جائزہ میں کسی بھی فن پارہ یا کسی فنکار شاعر ادیب قلم کار کی داخلی شخصیت، احساسات، محرکات اور ذہنی و جذباتی رجحانات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
اس میں شاعری کے نمایاں موضوعات اور اسلوب کو نفسیاتی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔شاعر کی شخصیت کا عکس بھی جھلکتا ہے۔ اس کی امید، مایوسی، خوف، محبت، تنہائی، محرومی، خودداری، انا اور حساسیت جیسے جذبات۔
لاشعور کی جھلک علامتوں، استعاروں اور خواب ناک کیفیتوں کے ذریعے باطنی احساسات کا اظہار بھی ملتا ہے۔
اس کے لیے فرائیڈ، یونگ یا ایڈلر کے نظریات کی روشنی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے
سماجی نفسیات میں معاشرتی ناانصافی، طبقاتی فرق، ظلم، بے حسی یا اجتماعی رویوں پر شاعر کا ردِعمل بھی ہمارے شاعر کی اجتماعی شعور سے وابستگی۔
کرداری اور اخلاقی رجحانات
انسان دوستی، برداشت، مزاحمت، خود احتسابی، امید یا اصلاحِ معاشرہ کا جذبہ علامتوں اور پیکروں کا نفسیاتی مفہوم دریا، سفر، اندھیرا، روشنی، آئینہ، زنجیر، پرندہ، درخت وغیرہ اگر شاعری میں بار بار آئیں تو ان کے نفسیاتی شاعر کی شخصیت اور شاعری کے نفسیاتی تاثر کا بھی شامل ہوتا ہے ۔اس شعر میں شاعر اپنے باطنی کرب کو تخلیقی اظہار میں ڈھالتا ہے۔ یہ کیفیت نفسیات کی اصطلاح میں تطہیرِ جذبات کہلاتی ہے، جہاں انسان اپنے دکھ اور دبے ہوئے احساسات کو فن کے ذریعے خارج کر کے ذہنی سکون حاصل کرتا ہے۔ عاصم بخاری کی شاعری کی اگر بات کی جائے تو اس میں بھی عدم تحفظ ، غیر یقینی صورت حال اور خوف کی کیفیت منظر کشی شعر میں کچھ ان لفظوں میں کرتے ہیں۔
بات بے بات مارے جاتے ہیں
بے گنہ روز میری بستی میں
یہ شعر شاعر کی مثبت نفسیات، عاصم بخاری کی شاعری میں دیکھیں
دوستی دشمنی، میاں والی
ہوتی ہے اپنی، انتہاؤں پر
اس شعر میں شاعر ایک علاقے کے اجتماعی مزاج کو نفسیاتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ "انتہاؤں” کا لفظ بتاتا ہے کہ یہاں جذبات اعتدال کے بجائے شدت اختیار کر لیتے ہیں۔ محبت ہو یا دشمنی، دونوں میں جذباتی وابستگی اور شدت نمایاں ہے۔ یہ شعر انسانی رویوں میں جذباتی انتہاپسندی کی عکاسی کرتا ہے۔
شعر
بیل کے جیسے، اپنی بستی کو
دشمنی نے لپیٹ رکھا ہے
اس شعر نہایت گہری علامتی معنویت رکھتا ہے۔ "امر بیل” ایک ایسی قوت کی علامت ہے جو آہستہ آہستہ زندگی کی توانائی کو ختم کر دیتی ہے۔ شاعر دشمنی کو ایک نفسیاتی اور سماجی بیماری کے طور پر پیش کرتا ہے، جو پورے معاشرے کی نشوونما کو متاثر کرتی ہے۔
شعر و نغمہ کی سرزمیں تھی یہ
کیا ہوا ہے یہ، میاں والی کو
اس شعر ماضی کی خوش گوار یادوں اور حال کی تلخ حقیقت کے درمیان نفسیاتی تصادم کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کا لہجہ حسرت ، دکھ اور اجتماعی شناخت کے بحران کی ترجمانی کرتا ہے۔
فائدہ کب، بخاری دریا سے
ہم تو نقصاں اٹھانے والے ہیں
اس شعر کا اگر نفسیاتی جائزہ لیا جائے تو اس میں محرومی اور بے بسی کا احساس نمایاں ہے۔ دریا، جو زندگی اور خوش حالی کی علامت ہے، شاعر کے تجربے میں نقصان کا استعارہ بن جاتا ہے۔ یہ اجتماعی صدمے اور احساسِ محرومی کی نفسیاتی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے۔
زندگی ویسے تلخ ہے عاصم
ہنس کے جینے کا ہی ہنر سیکھو
اس شعر میں مثبت نفسیات کی بہترین مثال ہے۔ شاعر زندگی کی تلخیوں سے انکار نہیں کرتا بل کہ ان کے باوجود مسکرا کر جینے کا پیغام دیتا ہے۔ اس سے شخصیت کی نفسیاتی پختگی، امید اور حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے۔
آپ اپنی مثال ہے، عاصم
فطرتی حسن میں میاں والی
بخاری کی شاعری کا اپنی دھرتی سے جذباتی وابستگی کا اظہار ملتا ہے۔ اپنے علاقے کی قدرتی خوب صورتی پر فخر دراصل اس کی شناخت، وابستگی اور مثبت اجتماعی شعور کی علامت ہے۔ یہ احساس انسان کی نفسیاتی جڑوں اور اپنے ماحول سے گہرے تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔
ان اشعار سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ عاصم بخاری کی شاعری میں فرد کی داخلی کیفیات، اجتماعی نفسیات، علاقائی شناخت، احساسِ محرومی، امید، مزاحمت اور انسان دوستی بار بار سامنے آتے ہیں۔ یہی عناصر بخاری کی شاعری کو نفسیاتی تنقید کے لیے ایک موزوں اور قابلِ مطالعہ موضوع بناتے ہیں۔
عاصم بخاری میانوالی سے ہیں اور ان ارد گرد سے بے خبر نہیں دریا برد ہونے والے ایک گاؤں کے بارے ان کے احساسات کچھ ایسے بیان کرتےہیں۔وہ فرد کے نہیں قوم کے تناظر میں نفع و نقصان کو دیکھنے کے قائل ہیں۔
ایک شعر ملاحظہ ہو۔
ایک گاؤں کہاں بخاری جی
سمجھو تو سب وسیب ڈوبا ہے
عاصم بخاری کے اندر حساسیت بہت زیادہ پائی جاتی ہے۔چہرہ شناس ہیں مشکلات مسائل اور ان دیکھی اور ان کہی مجبوریوں کو بغیر اظہار کیے پڑھ لیتے ہیں۔اور کمال اظہار بھی کرتے ہیں۔ بہترین تصویر کشی کی گئی ہے اس شعر میں غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی کرنےوالے طبقے کی۔
شعر
بیری ہے جیسے”بیل” کی ، عاصم لپیٹ میں
ایسے غریب جکڑا ہوا ، مسئلوں میں ہے
عاصم بخاری کے ہاں گہری سوچ پائی جاتی ہے وہ سماج کے اندر پیش آنے والے نا خوشگوار واقعات کے محرکات پر غور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اور پھر اس نتیجے پر پہچتے ہیں کہ ان مسائل کے پیدا ہونے میں کسی حد تک سماج کو بھی اپنے رویے پر غور کرنے اور اپنی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔اپنے ہی گریبان میں جھانکنے کے حوالے سے شعر میں کچھ ایسے دعوت ِ فکر دیتے ہیں۔
شعر
تیرا مجرم سماج ہے قاتل
جو ترا حوصلہ، بڑھاتا ہے
اسی طرح قتل و غارت کی آئے روز بڑھتی وارداتوں میں بھی معاشرے کارویہ افسوس ناک ہے ہمیں اپنے طرز ِ عمل پر غور کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
شعر ملاحظہ ہو۔
ہوتی گل پاشیاں بخاری جی
دیکھ وقت ِرہائی ، قاتل پر
ہر عمل کے رد عمل کے قانون کا اطلاق بخاری کے ہاں شاعری میں بھی ہمیں ملتا ہے۔سوشل میڈیا اس فضا کے بننے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔اور سماج کا طرز عمل بھی شرمناک اور افسوسناک لیکن انسان کہ خود پہ غور کرنے سے قاصر
حقیقت کا ترجمان شعر جو نفسیاتی محرکات میں سے ایک ہے۔
شعر
پیر و مُرشد سے بھی ، زیادہ ہے
شہر تیرے میں قدر ، قاتل کی
عاصم بخاری کے ہاں فکری و فنی پختگی کے ساتھ نفسیاتی شعور بھی بدرجہء اتم ملتا ہے۔ لاشعوری طور پر ہمارے اعمال بھی معاشرے پر بہت بڑے اور گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ مثلا ان کا مبنی بر حقیقت یہ شعر
اپنی دہشت کے قصے بیٹوں کو
جب سناؤ گے ، قتل تو ہوں گے
ہمیں ان کے نوٹس دلاتے ہمدردانہ انداز کی تائید کرنی پڑتی ہے کہ واقعی ہمیں اس پہلو پر توجہ اور تربیت کی ضرورت ہے۔اسی نفسیاتی پہلو کا احاطہ کرتا اور شعر دیکھیں
پاتی آشیر باد ، نسل ِ نو
بربریت کی باپ دادا سے
لہذا بولنے سے پہلے ہمیں تولنے کی طرف توجہ کی اشد ضرورت ہے جس سے مثبت ، خوش گوار اور سازگار فضا پیدا ہونے کے امکانات واضح ہو سکتے ہیں۔
شعر ملاحظہ ہو۔
دادا جانی سناتے بستی میں
اپنی دہشت کے قصے پوتوں کو
***

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |