ماں یا نوکری
علی دوڑتا ہوا ماں کے پاس پہنچا۔ ماں بےہوش تھیں۔
اس نے ماں کو گود میں لیا اور پانی کے چھینٹے چہرے پر مارتے ہوئے بولا:
"ماں… ماں اٹھو… ماں… ماں…”
ماں کو ہوش آنے لگا۔ ماں نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور کہا:
"بیٹا میں ٹھیک ہوں۔ تم میری فکر نہ کرو۔ تم اپنی نوکری کی فکر کرو۔”
علی نے کہا: "ماں نوکری جاتی ہے تو جائے۔ میرے لیے آپ سے زیادہ ضروری کچھ نہیں۔ چلیں ہسپتال چلتے ہیں۔”
علی نے ماں کو سنبھالتے ہوئے اٹھایا اور گاڑی میں بٹھایا۔ پھر ہسپتال لے گیا۔
ڈاکٹر نے بتایا: "ان کا BP بہت زیادہ کم ہو گیا تھا۔ اسی وجہ سے چکر آئے تھے اور یہ بےہوش ہو گئی تھیں۔ ابھی یہ بالکل ٹھیک ہیں۔ آپ گھر جا سکتے ہیں۔”
علی نے خدا کا شکر ادا کیا کہ اب ماں ٹھیک ہیں۔
علی جلدی سے ماں کو گھر لے کر آیا اور وقت دیکھا تو 9:45 ہو رہے تھے۔
علی نے سوچا: "آفس جانے میں 40 منٹ لگیں گے۔ اگر جلدی سے گاڑی چلاؤں تو بھی 30 منٹ لگ ہی جائیں گے۔ میں کسی صورت وقت پر نہیں پہنچ سکتا۔”
لیکن علی نے پھر بھی جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھا اور آفس کی طرف نکل گیا۔
علی تیز گاڑی چلاتے ہوئے 9:15 پر آفس پہنچ گیا۔
آفس پہنچتے ہی مینیجر بولا: "سر بلا رہے ہیں۔”
علی کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا۔ وہ سوچنے لگا "آج تو برخاستگی طے ہے۔”
علی ڈرتے ہوئے سر کے کیبن میں گیا۔
سر نے ایک لفافہ اس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کہا:
"یہ رہا تمہارا برخاستگی کا پروانہ کل سے تمہیں نوکری پر آنے کی ضرورت نہیں۔”
علی کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولا:
"سر مہربانی کریں۔ مجھےبرخاست نہ کریں۔ دو ماہ بعد میری بہن کی شادی ہے اور میری والدہ بھی اکثر بیمار رہتی ہیں۔ ان کی دوائیاں بھی لینی ہوتی ہیں۔ میں کہاں سے کروں گا یہ سب؟ صرف یہ نوکری ہی میرا سہارا ہے۔ پلیز میرے سہارے کو مجھ سے نہ چھینیں۔ میں کل سے پوری کوشش کروں گا کہ ہر حال میں وقت کی پابندی کروں۔ پر پلیز سر مجھے نوکری سے مت نکالیں۔”
لیکن علی کی باتوں کا سر پر ذرا سا بھی اثر نہیں ہوا۔
سر نے صرف دو الفاظ کہے: "تم جا سکتے ہو۔”
علی آنکھوں میں آنسو، ہاتھ میں استعفیٰ اور کئی فکروں کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔
اب گھر جانے کے بجائے علی…
جاری ہے…
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں