ٹیلنٹ سرچ ڈے – Talent Search Day
ہر بچہ ہسپانوی فٹبالر لامین یامال جتنا خوش قسمت نہیں ہوتا۔ سات سال کی عمر میں جب لامین بارسلونا کے قریب ماتارو کے ایک غریب تارکین وطن محلے کی تنگ گلیوں میں ننگے پاؤں گیند دوڑا رہا تھا، اسے خبر بھی نہ تھی کہ چند سال بعد اسکے پاؤں سپین کو ورلڈ کپ 2026ء جتوائیں گے۔ اس کا باپ مراکش سے روزگار کی تلاش میں آیا تھا۔ گھر کے حالات کسمپرسی کا شکار تھے۔ والدین میں بھی علیحدگی ہو گئی تھی۔ مگر غربت اور بدتر گھریلو حالات نے اس بچے کے ٹیلنٹ کا راستہ نہیں روکا۔ 7 سال کی عمر میں ہی سپین کے نظام نے اسے ڈھونڈ لیا۔ ایک اکیڈمی نے اس کی نگرانی سنبھالی۔ کوچز نے اس کی صلاحیت کو آزمایا، تراشا اور دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا۔
آج وہی 19 سالہ لڑکا یورپی چیمپئن اور امسال فٹبال ورلڈ کپ کا ہیرو ہے۔ سوال یہ ہے: "لامین خاص تھا یا سپین کا نظام خاص تھا؟” حقیقت یہ ہے کہ لامین جیسے ہزاروں بچے ماتارو کی ہر گلی میں موجود تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ نظام نے لامین کو بھانپ لیا جبکہ باقی بچے گمنامی میں جوان ہو کر مزدوری کرنے لگے۔ یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔ ٹیلنٹ کبھی نہیں مرتا، اسے ہم مارتے ہیں۔
قدرت نے ہر انسان کے اندر کوئی نہ کوئی غیرمعمولی صلاحیت رکھی ہوتی ہے۔ لیکن صلاحیت کا بیج خود بخود درخت نہیں بنتا۔ اسے پانی چاہیے، دھوپ چاہیے، اور پنپنے کیلئئے زرخیز مٹی چایئے۔
ہم فخر سے کہتے ہیں: "پاکستان میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں”۔ یہ کھوکھلا نعرہ ہے۔ قدرت ٹیلنٹ بانٹتے وقت پاسپورٹ نہیں دیکھتی۔ فرق ٹیلنٹ کا نہیں، اسکے "بندوبست” کا ہے۔ سپین میں سات سال کا بچہ نظام کو نہیں ڈھونڈتا۔ نظام اس بچے کو ڈھونڈ لیتا ہے۔ ہمارے ہاں سترہ سال کا نوجوان نظام کو ڈھونڈتا ٹیلنٹ ہی کھو بیٹھتا ہے۔ مایوسی اور عدم مواقع انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔
یاد رکھیں: "غربت ٹیلنٹ کی قاتل نہیں، لاپرواہی قاتل ہے”۔ لامین کے گھر غربت تھی۔ لیکن غربت نے اس کے پاؤں نہیں باندھے کیونکہ معاشرے نے اسے موقع دیا۔ ہم ٹیلنٹ کو "چانس” سمجھ کر قسمت کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ٹیلنٹ کوئی قومی خزانہ نہیں جو زمین کھودنے سے نکل آئے۔ یہ بیج ہے۔ اگر آپ بیج نہیں بوئیں گے تو فصل کیسے آئے گی؟
یہ فطرت کا اصول ہے کہ ٹیلنٹ کی پہچان کے بعد اسکی آزمائش ضروری ہے۔ لامین کو صرف ڈھونڈا نہیں گیا، اسے آزمایا گیا۔ روزانہ کی ٹریننگ، ناکامی، مقابلے، دباؤ۔ ہم ٹیلنٹ دیکھ کر "واہ واہ” کر کے چھوڑ دیتے ہیں۔ نہ کوئی پلیٹ فارم، نہ کوئی استاد، نہ کوئی اگلا قدم۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صلاحیت اندر ہی گھٹ کر مر جاتی ہے۔
اس کا حل والدین اور اداروں کے ہاتھ میں ہے۔
والدین اپنے بچے کو پہچانیں۔ وہ کس کام میں گھنٹوں لگا رہتا ہے؟ اسے فورس نہ کریں کہ و9 "ڈاکٹر یا انجینئر” ہی بنے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اگلا عاطف اسلم ہو، اگلی عرفہ کریم ہو، اگلا لامین یامال ہو۔ وہ ڈاکٹر عبدالقدیر بھی تو ہو سکتا ہے۔ اداروں کو گلی محلوں تک جانا ہو گا۔ ٹیلنٹ ہنٹ کے کیمپ لگانے ہوں گے۔ غریب بچے کے لیے فیس معاف کرنی ہو گی۔
یہ کالم صرف بچوں کے لیے نہیں ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کے اندر کوئی صلاحیت ہے۔ "کاش میں بھی” سوچنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ دروازہ خود کھولنا پڑتا ہے۔ قسمت کبھی کبھار دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ اور کبھی کبھار آپ کو خود جا کر دروازہ توڑنا پڑتا ہے۔
آپکو یاد ہو گا مشہور گلوکار مہدی حسن کو ملکہ ترنم نور جہاں نے دریافت کیا تھا۔ یہی کہانی سائیں اختر اور ریشماں کی ہے کہ ان کے ٹیلنٹ کی پہچان دوسروں نے کی۔ ہمارا ملک سونا اگلنے والی زمین ہے۔ یہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، موقع کی کمی ہے۔ دوسروں کی ذہانت اور ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں آگے بڑھنے کا موقعہ دیں۔ اگر ہم نے آج فیصلہ کر لیا کہ ہر بچے کو اس کا میدان ملے گا، تو دس سال بعد دنیا پاکستان کو ٹیلنٹ ایکسپورٹ کرنے والا ملک کہے گی۔ ورنہ ہم نسلوں تک یہی نعرہ لگاتے رہیں گے اور ٹیلنٹ گلیوں میں "دفن” ہوتا رہے گا۔ صلاحیت اور زہانت کی دریافت کا فیصلہ ہمارا ہے کہ جس سے افراد اور معاشرے کی تقدیر بدلتی ہے۔ میں پھر کہتا ہوں "ٹیلنٹ کوئی قومی خزانہ نہیں جو زمین کھودنے سے نکل آئے، یہ بیج ہے جسے بونا اور سینچنا پڑتا ہے۔”
والدین اپنے بچوں کے شوق کو 90 دن تک آزمائیں، پھر فیصلہ کریں
سکول ہر ماہ "ٹیلنٹ سرچ ڈے” منائیں اور ان میں سے بہترین کو مینٹرنگ دیں۔ زندگی کے ہر شعبہ ٹیلینٹ کا محتاج ہے۔ اگر ٹیلنٹ سپین اور ارجنٹائن کی گلیوں میں ہے تو پاکستان کی گلیاں بھی ٹیلنٹ کی جگہیں ہیں۔ ہر شعبے میں بہترین افراد کے چناو کے لیئے حکومت ہر ضلع میں ٹیلنٹ سرچ کی اکیڈمیاں قائم کرے جو بچوں کو خصوصی شعبوں کیلیئے سفارشات کریں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |