گیسو ترے ہیں ابر تو چہرہ مہ تمام

گیسو ترے ہیں ابر تو چہرہ مہ تمام
اب صبح میری صبح ہے اب شام میری شام
اب میری مئے کشی کو یہ حاصل ہوا مقام
ہر لمحہ چشم مست کے ملتے ہیں مجھکو جام
آتی ہے تیری یاد تو لیتا ہوں تیرا نام
چر چا ترے شباب کا کرتا ہوں صبح و شام
بیدار ہو شعور تو انسان کے لئے
ہر سانس زندگی کی نئی رکھتی ہے پیام
حاصل نہ ہو جو انکا کرم تو سمجھ لو فیضؔ
جینا ترا حرام ہے مرنا ترا حرام

faiz bahraichi

فیض بہرائچی

فیضؔ بہرائچی

Next Post

ورق ہوا ہے خوشبو خوشبو

اتوار نومبر 14 , 2021
بظاہر نعت کا موضوع سہل معلوم ہوتا ہے لیکن در حقیقت مجموعی اعتبار سے نعت گوئی کا فن بہت دقیق ہے ۔اس میں قلم کی ہلکی سی جنبش پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے
khushboo khushboo