آخر یہ کیوں ہوتا ہے ؟

یہ کہانی ہے رحمن اور آمنہ کی جو ہیں آپس میں پھوپھی زاد اور ماموں زاد ہیں۔ رحمن اپنے کام اور کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر  کاموں میں بھی مشغول رہتا ہے  جبکہ آمنہ نے ابھی انٹر کا امتحان پاس کیا ہے اور  اس نے اب شہر کے نسواں  ڈگری کالج میں بی ۔اے  کے سال اول میں داخلہ لیا ہے ۔کچھ ماہ بعد دونوں کے گھر والوں نے  دونوں کا رشتہ طے کر  دیا ہے ۔رحمن  کو نہیں معلوم تھا کہ کیا چل رہا اور اس کی زندگی کا فیصلہ ہو رہا تھا اور اس کو خبر نہ تھی خاندان کے دوسرے لوگوں کو خبر ہوئی اور ان لوگوں نے بھی رحمن سے کئی دنوں تک پوچھا تو رحمن نے کہا کہ مجھے کچھ نہیں معلوم لیکن وہ لوگ بار بار پریشان کرنے لگے تو ایک دن آخر اس نے اراردہ کیا اور رات کے وقت جب اس کی دادی کے پاس کوئی نہیں تھا پہنچ گیا اور دادی سے کہا کہ بھائی لوگ کئی دن سے پریشان کئے ہوئے  کیا یہ سچ ہے اور کہاں  کس سے معاملہ ہوا ہے۔تب دادی نے کہا کہ آمنہ سے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے ، رحمن چونک اٹھتا ہے کیونکہ اس کی زندگی کا اہم فیصلہ تھا اور اس کو بغیر بتائیں یا خبر کئے بڑوں نے خاموشی سے طے کر دیا تھا۔وہ ایک دم سے کھو جاتا ہے اور زمین پر بیٹھ جاتا ہے ، پھر کچھ دیر بعد وہ   اچانک بول  اٹھتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہےآمنہ کو تو میں نے گود میں کھلایا ہے اوروہ تو چھوٹی بہن ہےمیری،یہ کیسے ممکن ہے اس نےمایوسی سے  سوال کیا  جواب ملا کہ ممکن ہے شادی سے پہلے سب بھائی بہن ہی ہوتے ہیں ۔وہ مایوس چہرہ لیکر اپنے کمرے میں آگیا اور بستر پر لیٹ گیا سو گیا اور کئی دن تک اس کے چہرے سے مایوسی جھلکتی رہی ۔آخر کئی دنوں بعد اس نے ہاں کر دی اور کہا ٹھیک ہے ۔

            کئی ماہ بعد   اس کا جانا آمنہ کے گھر ہوتا ہے ایک دو مرتبہ ایک  صاحب کے ساتھ گیا اور اکثر ان کو وہ باہر سے ہی چھوڑ کر واپس چلا جاتا تھا لیکن دومرتبہ اس کو گھر کے اندر جانا پڑا ویسے وہ پہلے بھی جاتا رہا ہے لیکن اکیلے نہیں بلکہ انہیں  صاحب  کو پہوچانے گیا تھا  جہاں اس کو روک لیا جاتا ہے اورچائے وغیرہ پیش کی گئی اس کے بعد وہ وہاں سے واپس ہوا ۔ اکثر تیوہار کے موقع پر لیکن تب معاملہ دوسرا تھا لیکن جب سے شادی لگی تھی  تب سے وہ  احتیاط برتا تھا  اور اگر جاتا تھا تو گھر کے دروازے سے دور کھڑا ہوتا اوروہیں سے واپس ہو جاتا ۔ایک مرتبہ اس کی ایک عزیز نے دیکھا جب وہ  وہیں قریب میں کھڑا تھا اور صاحب کا انتظار کر رہا تھا ۔

عید  کا دن ہے وہ ہمیشہ کی طرح شام  کو وہاں پہونچا جس طرح وہ جاتا تھا لیکن اس بار اس کا من وہاں جانے کا نہیں تھا کہ لوگ کیا سوچیں  گے لیکن یہ سوچ کر گیا کہ جس طرح ہمیشہ جاتا تھا اس بار بھی جائے گا وہ پہونچتا ہے اور وہاں ماموں اور مومانی سے ملاقات ہوتی ہے اور ایک کمرے میں بیٹھ جاتا ہے جہاں اس کو ملا کر صرف تین لوگ ہی ہے  سب کو سلام کرتا ہے اور سب کا حال چال لیتاہے  اور مختلف باتیں کرتا ہے ۔اور آخر میں جب چلنےلگتا ہے وہ عیدی پاتا ہے اور سلام کر کے جیب میں رکھتا ہے اور وہاں سے اٹھ کر چھوٹے ماموں کی طرف چلا آتا ہے جبکہ آمنہ سمجھتی ہے کہ رحمن چلا گیا لیکن جب آمنہ اپنے چھوٹے ماموں کی طرف ڈورتی ہوئی  آتی ہے اور اچانک دیکھتی ہے کہ رحمن یہاں بیٹھا ہے تو وہ فوراً ہی الٹے پاؤ شرماتے ہوئے واپس ہو جاتی ہے جبکہ رحمن بھی سر کو جھکائے مسکرا رہا ہوتا ہے۔ وہاں تھوڑی دیر رک کر رحمن واپس گھر آجا تا ہے ۔

اسی طرح بقرعید کے موقع پر ماموں کے یہاں جاتا ہے  ایک کمرے میں بیٹھ جاتا ہے جہاں اس کو ملا کر صرف تین لوگ ہی ہے  سب کو سلام کرتا ہے اور سب کا حال چال لیتاہے  اور مختلف باتیں کرتا ہے ۔اور آخر میں جب چلنےلگتا ہے وہ عیدی پاتا ہے اور سلام کر کے جیب میں رکھتا ہے اور وہاں سے اٹھ کر چھوٹے ماموں کی طرف چلا آتا ہے جہاں تھوڑی دیر رک کر واپس ہو تا ہے۔

کچھ دنوں بعدرحمن کی چچی کی بھتیجی گھومنے آتی ہے جس کا نام رشیدہ ہے  اس کی عمر 15 سال کے قریب ہے وہ بارابار رحمن سے اصرار کرتی ہے کہ بھائی اس کو ماموں کے یہاں لے چلو پہلے تو وہ نہیں تیار ہوتا لیکن جب دیکھتا ہے کہ روز مطالبہ ہو رہا ہے تو وہ تیار ہو جاتا ہے ۔رشیدہ کو اس کی پھوپھی نے ہی اکسایا تھا کہ رحمن کے ساتھ جاؤ ۔ رحمن اس کو لیکر جاتا ہے جہاں لیکن  رحمن اور  آمنہ کی ملاقات نہیں ہوتی ہے رحمن سیدھے کمرے میں داخل ہوتا ہے اور مومانی کے پاس جا کر ایک کونے میں بیٹھ جاتا ہے جس سے کہ اس کا اور آمنہ کا سامنہ نا ہو آمنہ دوسرے  کمرے میں اور جب تک رحمن رہا وہ بھی سامنے نہیں آئی  تھی لیکن رشیدہ کے لہجہ سے لگتا تھا کہ وہ  یہاں آمنہ سے یا اس کی  امی سے ملاقات کرنے نہیں بلکہ کسی اور مقصد سے آئی  اور کسی بھی طرح کی بات کا جواب نہیں دیے رہی تھی جب کہ آمنہ کی امی اس سے برابر  بول رہی تھی لیکن وہ بات نہیں کر رہی تھی بلکہ اِدھر اُدھر ہی نظر ڈورا رہی تھی اور صرف ہاں یا نہ میں جواب دی تھی  اور لہجے سے روکھاپن جھلک رہا تھا ۔رحمن تھوڑی دیر رک کر اور ناشتہ وغیرہ کر کے وہ واپس آجاتا ہے ساتھ میں رشیدہ بھی۔

رحمن کے دوسرے ماموں زاد بھائی جس کا نام  یونس ہے  اور خالہ زاد بہن  جس کا نام رابعہ ہے کا رشتہ بھی بچپن سے طے ہے لیکن وہ دونوں اکثر ایک ساتھ دیکھے جاتے ہیں رابعہ بچپن سے ہی دوسرے صوبہ میں اپنے والد ین کے ساتھ رہی اور وہیں تعلیم حاصل کی ہے لیکن اب وہ واپس آ گئی ہے اور اکثر یونس کے یہاں جاتی رہتی ہے جہاں سے یونس ہی بیشتر رابعہ کو واپس اس کے گھر پہنوچاتا ہے ،سبھی کو معلوم ہے کہ یونس اور رابعہ کا رشتہ بچپن سے طے ہے لیکن اس پر کوئی روک ٹوک نہیں کرتا کہ ساتھ میں نہیں چلنا چاہئے ابھی  اسی طرح  یونس کے بڑے بھائی ظہیر کا رشتہ بھی اس کی خالہ زاد   شمیہ  سے طے ہے ۔شمیہ کے بھائی  خالد کی شادی یونس ظہیر کی بہن سے ہوئی ہے ۔ظہیر اکثر  شمیہ کو پہوچانے اس کے گھر ساتھ میں جاتا ہے اور کئی کئی دن وہاں رکتا ہے جبکہ یہاں بھی معاملہ بہت دنوں سے طے ہے ۔یہاں بھی کوئی  کچھ نہیں کہتا آخر کیوں؟ اس طرح یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ رحمن اور آمنہ کا یہاں کیا رول ہے جبکہ دونوں سے اس طرح کے  معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن پھر بھی انگلی ادھر ہی اٹھتی ہے۔

اسی طرح  رشیدہ کا رشتہ اس کی پھوپھی کے بڑے بیٹے ارسلان سے طے ہے ۔رشیدہ جب بھی آتی ہے ارسلان کے یہاں ہی رکتی ہے اور اکثر ارسلان ہی اس کو جہاں جانا ہوتا ہے موٹر سائکل سے لے کر جاتا ہے ۔ارسلان کی چھوٹی بہن  رقیہ کا رشتہ اس کے چھوٹی پھوپھی کے چھوٹے بیٹے ریحان سے طےہوا  ہے۔ریحان بھی اکثر جب بھی یہاں آتا ہے تو  وہ رقیہ کے یہاں ہی رکتا ہے وہ بھی کئی کئی دن قیام کرتا ہےاور رقیہ کی خالہ اور امی دونوں یہیں کہتی ہے کہ رقیہ کو کچھ نہیں معلوم جبکہ اس بات کا چرچا پورے خاندان میں ہے کہ رقیہ کی شادی طے ہو گئی ہے اور تقریباً 3 سال ہو گئے ہیں بات کو  ۔اسی طرح ارسلان  بھی برابر رشیدہ کے گھر یعنی اپنی نانی کے یہاں جاتا رہتا ہے اور کئی کئی دن وہیں قیام کرتا ہے۔ اس طرح یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ رحمن اور آمنہ کا یہاں کیا رول ہے جبکہ دونوں سے اس طرح کے  معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن پھر بھی انگلی ادھر ہی اٹھتی ہے۔۔ وہاں کوئی سوال نہیں آخر کیوں؟   

doubt
Image by ambroo from Pixabay

رحمن جب بھی رقیہ کے یہاں جاتا ہے رقیہ اور اس کی امی  اور رحمن کی خالہ فاطمہ اس سے اس کے موبائل کامطالبہ کرتی ہیں  اورکہتی ہیں کہ رحمن آمنہ کی تصویر دیکھاؤ۔رحمن کے پاس آمنہ کے بچپن کی تصویر تھی ایک مرتبہ اس نے  وہ تصویر  دیکھا دی  جودس بارہ سال پہلے گھر کی ایک شادی میں لی تھی  رحمن نے جب کہ اس وقت کسی کو وہم و گمان میں نہیں تھا کہ  رحمن کا رشتہ آمنہ سے ہوگا۔ اس تصویر کو دیکھ کر   رقیہ کہتی ہے بھائی یہ تو پرانی تصویر ہے اور بغل میں میں کھڑی ہوں اس میں اور فلاں ہے۔آجکل کی تصویر دیکھا ؤ بھائی۔جب اس کے موبائل میں تلاش کر کے تھک جاتی ہے تب موبائل واپس کر دیتی ہے۔اب یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ رقیہ اتنی بھی نہیں چھوٹی ہے کہ اپنی شادی کی بات نہ جانتی ہو اور  رحمن جب بھی جاتا ہے اس کو پریشان کرتی ہے کیا کوئی ناسمجھ  اس طرح کی حرکت کرے گا۔ وہاں کوئی سوال نہیں آخر کیوں؟   

لیکن اگر رحمن آمنہ کے گھر کی طرف سے نکل گیا یا  گھر کے قریب کسی شخص کے ساتھ جاتا ہے لیکن دروازہ  کو چھوڑ کر گھر سے پہلے یا پیچھے  ہی رک جاتا ہے جس سے لوگ کچھ کہہ نہ سکے کہ وہاں کیوں جاتے ہو   پھر بھی لوگ سوال کھڑے کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں میں نے کئی مرتبہ اس کو آمنہ کے گھر سے نکلتے کئی مرتبہ دیکھا ہے  جبکہ صرف  وہ وہاں پر تبھی رکتا ہے جب کسی نے بلایا ہو یا اس کو ساتھ میں لے گیا ہوں ۔وہ اکثر باہر سے ہی چھوڑ کر واپس ہو لیتا ہے۔پھر بھی لوگ اس کو کہتے ہیں کہ وہ برابر گھر میں جاتا ہے ملتا ہے ۔جبکہ حقیقت میں اس کی اور آمنہ کی ابھی تک کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے جب سے دونوں کا رشتہ طے ہوا  ہے نا ہی کوئی بات چیت ہوتی ہے۔ نا ہی فیس بک نا ہی واٹس ایپ کے ذریعہ۔

لیکن ایک بات ہے جب سے رحمن اور آمنہ کا رشتہ طے ہوا ہے کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہاکہ یہ رشتہ کیسے ہو گیا جس میں کچھ گھر والے ہیں کچھ باہر والے ۔آخر ایسا کیوں اگر رحمن آمنہ کے گھر چلا گیا تو برا ہو گیا جب کہ اور لوگ جن کا رشتہ پہلے سے طے ہے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں  ان پر کوئی سوال نہیں ۔  کسی نے بالکل صحیح کہا ہے کہ’’خود کریں تو ٹھیک ہم کریں تو غلط ‘‘۔

کیا اس لئے کہ رحمن اور آمنہ کے رشتہ طے ہونے سے ان کے کسی منصوبہ پر پانی پھر گیا یا وہ  رحمن کی کامیابی یا آمنہ کے والدکی کامیابی سے پریشان ہے یا ان کو اپنی کوئی بے وفائی ستا رہی ہے ؟ آخر کیوں ان کو اس رشتہ سے پریشانی ہے ۔سارا سوال کیوں رحمن اور آمنہ کو لیکر ہے جبکہ رحمن اور آمنہ خاندانی  روایات پر قائم ہیں اور آج تک اپنی اپنی حدود میں ہیں اور ۔اگر رحمن اور اس کے ماموں ایک ساتھ کسی کام سے کہیں جانے لگتے ہیں تو کیوں لوگوں کی نظریں ان کا پیچھا کرتی ہیں! آخر کیوں؟

رحمن کو بھی لگتا ہے کہ یہ سب تب تک چلتا رہے جب تک کی نکاح نہیں ہوگا اور جن لوگوں کو ہر چیز میں بتنگڑ کرنے کی عادت ہو ان کو ان کے ہال پر چھوڑ دینا چاہئے اور اپنے کام میں مگن رہنا چاہئے۔ اور وہ اکثر یہی کرتا ہے۔ جس سے لوگ اب اس سے محتاط رہتے ہیں۔   بقول اکبرؔ الہ آبادی                                      ؎ 

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بد نام
 وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

رحمن اور آمنہ کے گھر والے بھی ان دونوں کے ساتھ ہیں جو ان کے حاسدین کو  بھی موقع نہیں دیتا  کہ وہ کچھ کر سکے ۔رحمن کی دادی جو پورے خاندان کی سب سے بڑی اور محترم ہیں وہ بھی اس صورت حال سے واقف ہیں اور دونوں کے ساتھ ہیں جس سے ان لوگوں کو اور بھی پریشانی ہے  اور وہ سب موقع تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کب اور کیسے یہ دونوں غلطی کریں اور وہ بات کوبگاڑ سکے لیکن رحمن اور آمنہ  دونوں بھی محتاط ہی رہتے ہیں   اور ایک دوسرے سے سامنا نہیں کرتے ہیں ۔

Juned

جنید احمد نور

بہرائچ، اترپردیش

جنید احمد نور

Next Post

قلندر لاہوری اقبال ؒ

منگل نومبر 9 , 2021
ممتاز مذہبی و روحانی سکالر استاذالعلماء مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی دامت برکاتہم العالیہ نے قلندر لاہوری شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ کو خراج تحسین پیش کیا
Iqbal

مزید دلچسپ تحریریں