برطانیہ کی نئی وزیراعظم کون ؟

Newly Elected PM of UK

( برطانیہ عظمی میں پیدا ہونیوالا سیاسی بحران ختم ہوا اور بالآخر وزیراعظم بورس جونسن کی جگہ ان ہی کی پارٹی کی ایک رکن اور سابق وزیر خارجہ مادام لز ٹرس نے گزشتہ روز بتاریخ 6 ستمبر 2022 , نئے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ اس حوالے سے ایک مختصر تحریر )

تحقیق و تحریر :
سیّدزادہ سخاوت بخاری

برصغیر پاک و ہند کے رہنے والوں کے لئے برطانیہ کا نام اس لئے جانا پہچانا اور معروف ہے ، کہ انگریز بہادر نے کم و بیش 170 سال تک اس پورے علاقے پر بلا شرکت غیرے حکومت کی اور یہاں کے باسیوں کو غلام بنا کر رکھا ۔ اس لئے ہم اپنی آنیوالی 7 نسلوں تک انہیں بھلا نہیں پائینگے لھذا وہاں کے سیاسی و سماجی حالات و واقعات سے آشناء رہنا اسلئے ضروری ہے کہ زلزلے کے بعد آنیوالے آفٹر شاکس کی طرح برطانوی بھی ، یہاں سے چلے جانے کے باوجود آج تک ہماری سیاسی اور سماجی زندگی پر اثر انداز ہوئے بغیر چین نہیں پاتے ۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں ۔

برطانیہ ، جسے ہماری پہلی نسل ولائت کے نام سے پکارتی تھی ، کو عرف عام میں یو کے ( UK ) کہا جاتا ہے جو ” یونائٹڈ کنگڈم آف گریٹ برٹین اینڈ ناردرن آئر لینڈ ” کا مخفف اور سرکاری نام ہے ۔ یورپ کے شمال مغرب میں واقع کئی چھوٹے بڑے جزائر پر مشتمل یہ ملک دراصل 4 الگ الگ قوموں اور ملکوں کے اتحاد کا نام ہے ۔ اس کے اندر شامل ریاستوں میں
انگلستان . . ( England )
سکاچستان ( Scotland )
ویلز. . . . . ( Wales )
اور
شمالی آئر لینڈ شامل ہیں ۔

برطانیہ کا دارالحکومت ، انگلستان کا شہر لندن اور طرز حکومت
آئینی بادشاہت
( Constitutional Monarchy)
ہے ۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ جمہوریت بیگم نے سر پر شاہی تاج بھی سجا رکھا ہے جسے تاج برطانیہ کہا جاتا ہے ۔ وہاں کی قوم نے ابتک اپنے سر پر سے تاج اس لئے نہیں اتارا کہ اسی تاج کی بدولت وہ سپر پاور بنے اور پوری دنیاء پر راج کیا ۔ آپ نے اکثر یہ سنا ہوگا کہ برطانیہ عظمی کی حکومت اتنی وسیع تھی کہ اس کی حدود میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا ، لیکن آج اس دور میں اپنی کمزوریوں ، کوتاہیوں اور ذاتی مفادات کی وجہ سے وہاں قائم ہونیوالی حکومتوں اور وزرائے اعظم میں سے بہت کم اپنا دورانیہ مکمل کرپاتے ہیں ۔ کبھی ایک وزیراعظم تو کبھی دوسرا ۔ یہی کچھ حال ہی میں ہوا ۔ قدامت پرست ٹوری پارٹی سے تعلق رکھنے والے نسل پرست بورس جونسن وزیراعظم تھے ۔ کورونا وباء کے دوران اکٹھے ہونے پر پابندیاں تھیں لیکن موصوف نے ایک تو کوویڈ کی پابندی کو محو کرتے ہوئے اور پھر ملکہ عالیہ کے مرحوم شوہر فلپ کی برسی والے دن اپنی رہائش گاہ
10 ڈاوننگ اسٹریٹ میں ایک پارٹی کرڈالی ۔ اس کے علاوہ بھی کچھ الزامات تھے لیکن خود ان کی پارٹی نے اس ایک بات کو جواز بناکر ان کے خلاف مہم چلائی اور انہیں قبل از وقت استعفی دینا پڑ گیا ۔

اس بحران کے دوران نئے وزیراعظم کی تلاش بھی جاری رہی اور بالآخر کنزرویٹو ( قدامت پرست ) پارٹی نے اپنے اندر سے ہی اپنی سابقہ وزیر خارجہ مادام میری الزبتھ ٹرس کو پارٹی اور حکومت کے سربراہ کے طور پر چن لیا ۔

برطانیہ کی نئی وزیراعظم کون ؟
Image Courtesy : UK Government

نئی وزیر اعظم کا تعارف کچھ اسطرح سے ہے :

نام : . . میری الزبتھ ٹرس
عرفیت : لز ٹرس ( یعنی عام طور پر انہیں لز کہا جاتا ہے )
عمر : 47 سال
جائے پیدائیش : آکسفورڈ
ازدواجی حیثیت : شادی شدہ
بچے : دو ( 2 )
تعلیم : آکسفورڈ گریجویٹ

حیران کن طور پر اتنی کم عمری میں 2010 سے ابتک وہ ڈیوڈ کیمرون ، تھریسا مے اور بورس جونسن کی کابینہ میں چار اہم وزارتوں پر متمکن رہیں ۔ یہی نہیں بلکہ اس سے پہلے پرائیویٹ کمپنیوں میں اعلی عھدوں پر کام کیا اور ممبر پارلیمبٹ منتخب ہونے کے بعد وزارت کے علاوہ کئی سرکاری ذمہ دارایاں نبھا چکی ہیں ۔ انہوں نے دو کتابیں اور کئی موضوعات پر پیپر لکھے ۔

SAS Bukhari

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

نسیم شاہ کون ہے ؟

جمعرات ستمبر 8 , 2022
قسمت کی دیوی 2022 میں اس پر مہربان ہوئی اور چند لمحوں میں اسے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیاء بھر میں کرکٹ سے محبت کرنے والوں کی آنکھ کا تارا بنا دیا
نسیم شاہ کون ہے ؟