محبت کی حقیقت کیا ہے  ؟

محبت دراصل ایک کیفیت کا نام ہے؛ کسی مجسم شکل و صورت کا نام نہیں ، اور محبت کوئی ایسا دائمی نقش نہیں جو دکھائی بھی دے،  محبت تو محسوس کی جا سکنے والی ایسی کیفیت ہے جو بند آنکھوں بھی دکھائی دیتی ہے ، بند کانوں سُنائی بھی دیتی ہے ، پس ہمارے اندر کی کیفیت ہی محبت  کا تانا بانا بُنتی ہے ، دُکھی  ،  رنجیدہ اور مجروح لوگوں کے لیئے محبت اپنی گود کے حصار میں لے لینے والی بے حد مہربان اور نرم دِل ہوتی ہے، محبت تھکے ہارے اور مایوس لوگوں کے دل و دماغ اور روح کے ساتھ سرگوشیاں کرتی ہے، پس محبت خُودی کا آئینہ ہے ، محبت جب اپنا نقاب اُلٹ دیتی ہے تو پھر جکڑ لیتی ہے اور آگے ہی آگے لیئے جاتی ہے

جو محبت فقط سکون اور مسرت کی متلاشی ہو اُس کے لیئے واپسی کا راستہ ہوتا ہے , اس لیئے کہ صرف سکون و مسرت و لذت ڈھونڈنے والوں کو کبھی دائمی محبت مل ہی نہیں سکتی , جو محبت کو راستہ دکھلاتے ہیں وہ پیچھے ہٹتے ہیں محبت تو راہنما ہوتی ہے اور راہنما منزل بہ منزل آگے کی طرف راہنمائی کرتے ہیں , کبھی پیچھے نہیں ہٹتے

محبت تو روح کے پردوں میں متحرک ہوتی ہے , محبت کی راہیں ہمیشہ دشوار گزار ہوتی ہیں , نہایت ہی سخت اور کٹھن , یہ دشواری اور کٹھنائی ہماری ذات کی تکمیل کے لیئے ہوتی ہے , محبت کبھی قبضہ نہیں کرتی اور نہ ہی قبضہ کرنے دیتی ہے , بس محبت ہی محبت کے لیئے کافی ہوتی ہے ,

محبت فطری طور پر ہمیشہ مجاز سے جنم لیتی ہے , اور مرحلہ وار منکشف ہوتی ہے , ہر انکشاف زخمی کرتا ہے , خوابوں کو منتشر کرتا ہے , مگر پھر بھی اس کا یقین کر لینا ہی منزل بہ منزل آگے کی طرف بڑھاتا چلا جاتا ہے , اور پھر محبت اپنی اگلی منزل یعنی مودت میں داخل ہوتی ہے , مودت کی آسان ترین مثال یوں دے سکتا ہوں , جیسے سانسوں کی زندگی سے ,,,, مچھلی کی پانی سے ,,,

اور پھر یہ مودت بالکل ایک مالی کی طرح محبت کی کانٹ چھانٹ کرتی ہے , اور یوں محبت پھلتی پھولتی ہے , اس پر نئی کونپلیں , بالیاں , کھلتی ہیں , پھول اور پھل لگتے ہیں , یہ منزل محبت کو مجاز سے حقیقت میں بدلتی ہے ,

اور یوں محبت سے مودت اور پھر عشق کی منزل , اعلیٰ ترین منزل ملتی ہے , حیاتِ قلب کے رازوں سے پردے اٹھتے ہیں , حقیقتیں منکشف ہوتی ہیں , عشق کی مرضی سے سونا , جاگنا , کھانا , پینا , بلکہ میں نا ہی سب تُوں ,

عشق آپ وی اَوَلَّا ایدے کَم وی اَوَلّے

جیندے پیش پے جاوے کَکھ چھڈدا نئیں پَلّے

یہی عشق مسیحا بھی بناتا ہے , اور مصلوب بھی , یہی عشق سفینہءِ نُوح کا بادبان بنتا ہے , اور یہی عشق آتشِ نمرود میں بے خطر کُود پڑتا ہے , تین سو تیرہ ۳۱۳ کو ہزاروں پر غالب کر دیتا ہے , اور صرف بہتر ۷۲ کو لاکھوں کے سامنے صبر واستقامت کا کوہِ گراں بنا دیتا  ہے؛

یہ خالصتاً ذات بیتی رائے ہے سب کا متفق ہونا ضروری نہیں . میری راہنمائی کی جاسکتی ہے ,

                                      از قلم مونس رضا

در بارہ مونس رضا

ریٹائرڈ او رینٹل ٹیچر گورنمنٹ پائیلیٹ ہائر سیکنڈری اسکول اٹک شہر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: